بھارت اور عدم برداشت کی تاریخ

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ

بھارت کے منظرنامے پر نظر ڈالی جائے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہاں عدم برداشت کی گنگا اور تشدد کی جمنا بہہ رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق یوپی کے ضلع میرٹھ کی ایک یونیورسٹی سے 65 کشمیری  طلبہ کو خارج کردیا گیا ہے۔ ان طلبہ پر الزام ہے کہ انہوں نے ایشیا کرکٹ کپ کے پاک بھارت میچ میں پاکستان کی فتح کا جشن منایا۔ اطلاعات کے مطابق انتہا پسند ہندو طلبہ نے کشمیری طلبہ پر تشدد کیا، ان کے کمروں میں توڑپھوڑ کی اور انہیں ساری رات ہراساں کرتے رہے۔ یونیورسٹی کی انتظامیہ نے نہ صرف یہ کہ طلبہ کے داخلے منسوخ کردیے بلکہ ان پر پانچ پانچ ہزار روپے جرمانہ بھی کیا۔ یونیورسٹی کی انتظامیہ نے کہا کہ کشمیری طلبہ کو بھارت کے بجائے پاکستان کی جامعات میں داخلہ لینا چاہیے۔
کشمیر بھارت کا حصہ نہیں ہے اس لیے کشمیری ابھی تک بھارت کے شہری نہیں ہیں، چنانچہ بھارت کشمیریوں پر زبردستی اپنی حب الوطنی مسلط نہیں کرسکتا۔ بھارت اگر اپنی جامعات میں کشمیری طلبہ کو داخلہ دیتا ہے تو وہ ایسا اخلاص کے ساتھ نہیں ’’سیاسی رشوت‘‘ کے طور پر کرتا ہے۔ ویسے بھی کرکٹ محض ایک کھیل ہے اور اس میں کوئی شخص کسی بھی ٹیم کی حمایت کرسکتا ہے۔

پاکستان میں لاکھوں لوگ ہیں جو سنیل گاواسکر اور ٹنڈولکر کو پسند کرتے ہیں۔ پاکستان میں کروڑوں لوگ ہیں جو بھارت کے فلمی اداکار دلیپ کمار اور امیتابھ بچن کے پرستار ہیں۔ لیکن اس بنیاد پر ان کا کبھی ’’سوشل بائیکاٹ‘‘ نہیں کیا جاتا اور نہ انہیں اس ’’جرم‘‘ کی پاداش میں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ بھارت میں جو عدم برداشت اور تشدد دیکھنے میں آرہا ہے وہ انتہا پسند ہندوئوں کا کیا دھرا ہے۔ جب یہ بات کہتے ہیں تو وہ دراصل یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہندو انتہا پسند جو کچھ کررہے ہیں وہ گویا ہندو ازم کی تعلیمات کا نتیجہ ہے۔ لیکن ایسا نہیں ہے۔
ہندو ازم میں برداشت کی بڑی روایت اور اس کی کئی بڑی بڑی مثالیں موجود ہیں۔ کرشن ہندو ازم کا مرکزی حوالہ ہیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ مہا بھارت پانڈوئوں اور کوروئوں کے درمیان لڑی گئی اور اس جنگ میں پانڈو خیر اور کورو شر کی علامت تھے۔ کرشن نے اس جنگ میں حصہ نہ لینے کا اعلان کیا تھا، تاہم کوروئوں سے ان کے سماجی مراسم تھے، چنانچہ کورو کرشن سے مدد مانگنے کے لیے آئے تو کرشن نے کہا کہ میں جنگ میں ہتھیار نہیں اٹھائوں گا البتہ تم چاہو تو میری فوج لے جائو۔ کورو طاقت پرست تھے۔ انہوں نے سوچا کہ کرشن جنگ نہیں کریں گے تو ہمارے کس کام کے! چنانچہ وہ کرشن کی فوج لے گئے۔ لیکن اس قصے کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ محض سماجی مراسم کی وجہ سے کرشن نے کوروئوں کو اپنی فوج دے دی۔ حالانکہ بعد کے حالات نے ثابت کیا کہ کرشن حق پرست تھے اور پانڈوئوں کے ساتھ تھے۔
ہندو ازم کا دوسرا اہم کردار رام ہیں۔ رام کی تاریخ یہ ہے کہ انہوں نے اپنے والد کے وعدے کی پاسداری کرتے ہوئے 14 سال جنگل میں بسر کیے۔ انہوں نے اپنے والد کے وعدے کا پاس کرتے ہوئے اپنے سوتیلے بھائی کی حکومت کو تسلیم کیا۔ یہاں تک کہ رام کے بدترین دشمن راون کے بھائی وبھیشن نے راون سے بغاوت کی تو رام نے کھلے دل کے ساتھ وبھیشن کو سینے سے لگایا۔ اگرچہ ہندو اسطور یا Mythology میں راون شر کی علامت ہے اور اُس نے رام کی شریکِ حیات سیتا کو اغوا کرنے کا بھیانک جرم کیا تھا، لیکن ہندوازم میں راون کے عالم اور دانشور ہونے کو کھلے دل سے تسلیم کیا گیا ہے۔ لیکن جدید بھارت کا ہندو ازم کی اس روایت سے کوئی تعلق باقی نہیں رہ گیا۔ چنانچہ بھارت کی حالیہ تاریخ عدم برداشت اور تشدد سے بھر گئی ہے۔
بلاشبہ پاکستان ایک سیاسی مطالبہ تھا لیکن اس کی پشت پر بڑے تہذیبی و تاریخی محرکات بھی کام کررہے تھے۔ اہم بات یہ تھی کہ بھارت کے مسلمانوں نے قیام پاکستان کے مطالبے کو تشدد کے ذریعے کانگریس کی قیادت پر مسلط نہیں کیا تھا۔ قائداعظم نے پاکستان کا مقدمہ دلائل و براہین کی بنیاد پر لڑا تھا، چنانچہ قیام پاکستان کا مطالبہ ایک عقلی اور علمی حقیقت تھی۔ لیکن کانگریس کی قیادت نے اس مطالبے کو عقلی اور علمی بنیاد پر تسلیم کرنے سے انکارکردیا، چنانچہ قیام پاکستان کے ساتھ ہی پورے بھارت میں مسلمانوں پر عرصۂ حیات تنگ کردیا گیا اور مسلم کش فسادات کی ایسی لہر اٹھی جو لاکھوں بے گناہوں کو نگل گئی۔ اس صورت حال کا مفہوم یہ ہے کہ ہندو قیادت نے ایک مذہبی، تہذیبی، تاریخی، سیاسی اور عقلی دلیل کا جواب عدم برداشت اور تشدد سے دیا۔ یہ وہ وقت تھا جب ہندوستان میں گاندھی جی کا فلسفہ یا ’’گاندھی واد‘‘ زندہ تھا اور گاندھی واد کا سب سے اہم پہلو اہنسا یا عدم تشدد تھا۔ اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ گاندھی جی کا فلسفہ اگر طاقت اور تشدد ہوتا تو پھر ہندوستان میں کیا ہوتا؟
گاندھی جی نے اگرچہ پاکستان کو تسلیم کرلیا تھا مگر وہ ہندوئوں کے جدید ہندوستان کی سب سے بڑی شخصیت تھے۔ ہندو انہیں صرف رہنما نہیں باپُو اور مہاتما کہتے تھے۔ گاندھی کی جڑیں ہندو ازم اور اس کی تاریخ میں پیوست تھیں اور وہ کبھی بھی ہندوستان کی دشمنی کی قیمت پر مسلمانوں سے دوستی نہیں کرسکتے تھے۔ ہندوستان اور ہندوئوں کے ساتھ ان کی وفاداری ہر شک و شبہ سے بالاتر تھی۔ لیکن اس کے باوجود نتھو رام گوڈسے نے گاندھی جی کو گولی مار کر ہلاک کردیا۔ نتھو رام گوڈسے ہندو اور آر ایس ایس کا کارکن تھا اور اس کا خیال تھا کہ گاندھی ہندوئوں سے غداری کے مرتکب ہوئے ہیں۔
بھارت میں سکھوں کا معاملہ مسلمانوں سے بہت مختلف ہے۔ مسلمانوں نے اپنی تاریخ کے ہر مرحلے پر ہندو سماج میں رہتے ہوئے بھی اپنے جداگانہ مذہبی اور تہذیبی تشخص کا دفاع کیا ہے، لیکن سکھ ہندوئوں سے الگ مذہب کے حامل ہونے کے باوجود ہندو معاشرے میں رچ بس گئے ہیں۔ وہ ہندوئوں کے تہوار مناتے ہیں، ان کی طرح کے نام رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قیام پاکستان کے مرحلے پر سکھوں نے ہندوئوں کے بازوئے شمشیر زن کا کردار ادا کیا، لیکن اس کے باوجود اندرا گاندھی نے گولڈن ٹمپل پر ٹینک چڑھادیے۔ حالانکہ گولڈن ٹمپل سکھوں کے دو اہم ترین مقدس مقامات میں سے ایک ہے۔ لیکن اندرا گاندھی نے گولڈن ٹمپل پر چڑھائی کیوں کی؟ اس کی وجہ بھنڈراں والا تھا۔ بھنڈراں والا اندرا گاندھی کی تخلیق تھا اور اندرا گاندھی نے اسے پنجاب میں سکھوں کی سب سے بڑی جماعت اکالی دل کی قوت توڑنے کے لیے تخلیق کیا تھا۔ طاقت ملتے ہی بھنڈراں والا اندرا گاندھی کے ہاتھ سے نکل گیا اور وہ اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ گولڈن ٹمپل میں محصور ہوگیا۔ اندرا گاندھی چاہتیں تو گولڈن ٹمپل کا محاصرہ کرکے بھنڈراں والا کو ختم کرسکتی تھیں، مگر انہوں نے طاقت کا راستہ اختیار کیا اور سکھوں کے مقدس ترین مقام کی اینٹ سے اینٹ بجادی۔ اس واقعے کے ردعمل میں اندرا گاندھی کے دو سکھ محافظوں نے اندرا گاندھی کو گولی مار کر ہلاک کردیا۔ ظاہر ہے کہ یہ صرف دو سکھوں کا فعل تھا اور سکھ برادری کا اس سے کوئی تعلق نہ تھا، لیکن اس کے باوجود ہندوئوں نے صرف دہلی میں ایک دن میں ڈیڑھ دو ہزار سکھوں کو قتل کرڈالا۔ اس قتل عام کی خاص بات یہ تھی کہ اس کی جڑیں نہ مذہب میں تھیں، نہ تہذیب میں، نہ تاریخ میں، نہ سیاست میں، نہ معاشرت میں، نہ معیشت میں۔ اس لیے کہ سکھ ان تمام دائروں میں سے کسی بھی دائرے میں ہندوئوں کے لیے پریشان کن نہیں رہے۔
بابری مسجد کی شہادت ہندوستان کی تاریخ کا ایک اہم المیہ ہے۔ اس المیے کے کئی پہلو اہم ہیں۔ اس المیے کا اہم ترین پہلو یہ ہے کہ بابری مسجد کا مسئلہ ہندوانتہا پسندوں نے ’’تخلیق‘‘ کیا تھا۔ یعنی یہ مسئلہ پہلے سے فطری طور پر کہیں موجود نہیں تھا۔ بابری مسجد ہمیشہ سے بابری مسجد تھی اور وہاں کبھی بھی مندر موجود نہیں تھا۔ بابری مسجد کا دوسرا اہم پہلو یہ تھا کہ عدالت نے اس مسئلے کا عدالتی حل تلاش کرنے کے بجائے سیاسی حل تلاش کیا۔ بابری مسجد کے مسئلے کا تیسرا اہم پہلو یہ ہے کہ حکومت چاہتی تو وہ آسانی کے ساتھ ہندو بلوائیوں کو روک سکتی تھی، مگر اس نے مسجد شہید کرنے والے لوگوں کو مسجد سے دور رکھنے کی رتی برابر بھی کوشش نہیں کی۔ چنانچہ مسلمانوں کی ایک عبادت گاہ کو پوری د نیا کے سامنے شہید کردیا گیا۔ یہاں بھی تشدد اور عدم برداشت کی کوئی عقلی توجیہہ موجود نہیں تھی۔
بھارت میں عیسائیوں کی آبادی نہ ہونے کے برابر ہے۔ عیسائیوں نے نہ کبھی پاکستان بنایا ہے اورنہ ہی ان میں کوئی سنیت جرنیل سنگھ بھنڈراں والا پیدا ہوا ہے، اس کے باوجود بھارت میں کئی مقامات پر عیسائیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا، گرجوں کو جلادیا گیا اور نز پر جنسی حملے کیے گئے۔ سونیا گاندھی اندرا گاندھی کے بیٹے کی بیوی ہیں اور وہ عرصے سے ہندوستان میں ہیں، مگر چونکہ وہ پیدائشی عیسائی ہیں اس لیے کانگریس کی سربراہ ہونے کے باوجود ملک کی وزیراعظم نہ بن سکیں۔
ایم ایف حسین بھارت کے ’’سیکولر مسلمانوں‘‘ میں سے ایک تھے، لیکن وہ بھارت میں نہ رہ سکے۔ ان کا جرم یہ تھا کہ انہوں نے ہندو دیوی دیوتائوں کی ’’قابلِ اعتراض‘‘ تصاویر بنائی تھیں۔ لیکن ایم ایف حسین ایک ایسے ملک کے شہری تھے جہاں ’’کام سوترا ‘‘جیسی کتاب لکھی گئی اور جہاں اجنتا اور ایلورا کے غار ہیں۔ ایم ایف حسین پر اگر ہندو انتہا پسندوں کا اعتراض اخلاقی تھا تو اس اعتراض کی زد میں کام سوترا بھی آتی ہے اور اجنتا اور ایلورا کے غار بھی۔ لیکن یہ مسئلہ یہیں تک محدود نہیں۔ جسونت سنگھ بی جے پی کے رکن اور بھارت کے سابق وزیر خارجہ ہیں مگر انہوں نے قائداعظم پر ایک کتاب لکھ ڈالی۔ اس کتاب میں انہوں نے قائداعظم کو اسلامی رہنما کے بجائے سیکولر رہنما ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن یہ کتاب بی جے پی کی قیادت سے ہضم نہ ہوسکی اور جسونت سنگھ کو پارٹی چھوڑنی پڑ گئی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جسونت سنگھ نے کتاب میں لکھا ہے کہ تقسیم برصغیر کے ذمے دار صرف جناح نہیں کانگریس کے بعض رہنما بھی ہیں۔ ارون دھتی رائے بھارت کی دانشور ہیں مگر ان کے مزاج میں انصاف پسندی بھی ہے۔ چنانچہ وہ کشمیر گئیں تو انہوں نے کشمیری عوام پر ہونے والے بھارتی مظالم کی مذمت کی اور سید علی گیلانی کے ہمراہ ایک جلسے سے خطاب کیا۔ چنانچہ ان کے خلاف طوفان برپا ہوگیا۔ ان کے گھر پر حملہ کیا گیا اور انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں۔ گجرات میں مسلم کش فسادات ہوئے تو بھارت کی ممتاز اداکارہ وجنتی مالا نے مسلمانوں کے لیے امدادی کیمپ لگایا، چنانچہ ان سے کہا گیاکہ مسلمانوں کی امداد بند نہ کی تو ان کو بخشا نہیں جائے گا۔ بھارت میں عدم برداشت اور تشدد کی گہرائی کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ نریندر مودی اسے گفتگو کی سطح پر بھی پوشیدہ نہ رکھ سکے۔ ان سے پوچھا گیا کہ کیا گجرات میں مارے جانے والے مسلمانوں کی ہلاکت پر انہیں کوئی افسوس نہیں ہے؟ اس سوال کے جواب میں مودی نے کہا کہ اگر آپ کی کار کے نیچے کتے کا پلا آجائے تو آپ کو دکھ ضرور ہوگا۔ مودی کے اس بیان کا مفہوم یہ ہے کہ ان کے نزدیک بھارت کے مسلمان اور کتے کے پلے میں کوئی فرق نہیں، اور ایک مسلمان کی پُرتشدد ہلاکت پر انہیں صرف اتنا دکھ ہوگا جتنا ایک کتے کے پلے کی ناگہانی موت پر کسی کو ہوسکتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس صورتِ حال کا مفہوم کیا ہے؟
اس صورتِ حال کا ایک مطلب یہ ہے کہ بھارت کرشن اور رام کا کیا، گاندھی کا بھارت بھی نہیں۔ اس صورتِ حال کا ایک مفہوم یہ ہے کہ بھارت کی اکثریت نے اقلیتوں کے لیے انصاف کیا ناانصافی کی بھی حد مقرر نہیں رہنے دی۔ لوگ کہتے ہیں بھارت کی سب سے بڑی زبان ہندی اور اردو ہے‘ مگر وہ غلط کہتے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ بھارت کی سب سے بڑی زبان عدم برداشت اور تشدد ہے۔

شاہنواز فاروقی

بھارت اور عدم برداشت کی تاریخبھارت اور عدم برداشت کی تاریخ

Published on India, Pakistan, Cricket, Kashmir

Comment on this post