کیا آرٹیکل 6 کا اطلاق حکمرانوں پر نہیں ہوتا

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ

 کیا آرٹیکل 6 کا اطلاق حکمرانوں پر نہیں ہوتا  کیا آرٹیکل 6 کا اطلاق حکمرانوں پر نہیں ہوتا

آئین کی اٹھارہویں ترمیم سے پہلے آئین کے آرٹیکل نمبر 6 کا دائرہ اختیار اور نفاذ آئین شکن آمر جرنیلوں تک محدود تھا مگر اٹھارہویں ترمیم میں اس آرٹیکل کے سکوپ یعنی دائرہ عمل کو وسیع کردیا گیا ہے۔ آرٹیکل نمبر 6 کا نیا متن سنجیدہ غور وفکر کا تقاضہ کرتا ہے۔ اس آرٹیکل کا متن یہ ہے۔
(1).Any person who abrogates or subverts or suspends or holds in abeyance, or attempts or conspires to abrogate or subvert or suspend or hold in abeyance, the Consitution by use of force or show of force or by other unconstitutional means shall be guilty of high treason.
(2).Any person aiding or abetting the acts mentioned in clause (1) shall likewise be guilty of high treason.
(2A).An act of high treason mentioned in clause (1) or clause (2) shall not be validated by any Court including the Supreme Court and a High Court.
(3).Majlis-e-Shoora (Parliament) shall by law provide for the punishment of persons found guilty of high treason.
آرٹیکل نمبر 6 کے مرکزی حصے میں دو نئے الفاظ شامل کئے گئے ہیںان میں ایک Suspend اور دوسرا Hold in Abeyance ہے۔ لغت کے مطابق Suspend کا مطلب ہے معطل کرنا، ملتوی کرنا، تاخیر کرنا، لٹکانا، غیر مو¿ثر کرنا، نافذ نہ کرنا، عارضی طور پر روک دینا۔ Hold in Abeyance کا مطلب ہے معرض التواءمیں رکھنا، زیر عمل نہ رہنا، کھٹائی میں پڑنا۔ آرٹیکل نمبر 6 کے پہلے دو الفاظ Abrogate یعنی منسوخ کرنا اور Subvert یعنی تخریب کرنا، روایتی نظام کو اکھاڑ دینا، محدود معنی اور مفہوم کے حامل تھے۔ جنرل پرویز مشرف نے 18 اکتوبر 1999ءکو آئین کے آرٹیکل نمبر 6 سے بچنے کے لیے آئین توڑنے کے الفاظ استعمال نہ کیے اور آئین کے کچھ آرٹیکلز کو ایک لحاظ سے Suspend معطل کردیا وہ خود مارشل لاءایڈمنسٹریر کی بجائے چیف ایگزیکٹو بن گئے۔ اٹھارہویں ترمیم میں اس راستے کو بند کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ نئے آرٹیکل کا اُردو مفہوم یہ ہے۔(1)۔”جو شخص طاقت استعمال کرکے یا طاقت دکھا کر یا کسی دوسرے غیر آئینی طریقے سے آئین کی تنسیخ کرے یا تخریب کرے یعنی اسے اُکھاڑ پھینکے یا اسے معطل کرے، ملتوی کرے، تاخیر کرے، لٹکا دے، غیر مو¿ثر کردے، نافذ نہ کرے ،اس پر عمل عارضی طور پر روک دے یا اسے معرض التواءمیں رکھے،زیر عمل نہ رہنے دے اور کھٹائی میں ڈال دے یا ان تمام اقدامات کی کوشش کرے یا ان کی سازش کرے وہ سنگین غداری کا مرتکب ہوگا“۔(2)۔”جو شخص شق نمبر ایک میں درج اقدامات میں معاونت کرے یا حوصلہ افزائی کرے یا شریک ہو اور خفیہ تعاون کرے وہ بھی سنگین غداری کا مرتکب ہوگا“۔ (2A)۔ ”آرٹیکل کی شق نمبر 1 اور نمبر 2 کے مطابق سنگین بغاوت کے اقدام کی سپریم کورٹ، ہائی کورٹس سمیت کوئی عدالت تصدیق یا توثیق نہیں کرے گی اور نہ ہی اسے جائز قراردے گی۔ (3)۔”پارلیمنٹ سنگین غداری کے جرم کی سزا کے تعین کے لیے قانون سازی کرے گی“۔آئین کے مطابق سنگین غداری کی سزا موت یا عمر قید ہے۔ اس متن کے مطابق آرٹیکل نمبر 6 کا دائرہ وسیع ہوچکا ہے اور اس میں اب حکمران بھی آتے ہیں۔
پاکستان کے صدر، وزیراعظم، گورنر، وزرائے اعلیٰ، وفاقی وزرائ، سینیٹرز، اراکین قومی و صوبائی اسمبلی اور عدلیہ کے جج جو حلف اُٹھاتے ہیں اس میں یہ جملہ بھی شامل ہے۔
"That I will preserve, protect and defend the constitution of the Islamic Republic of Pakistan".
”کہ میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کو محفوظ رکھوں گا اس کا تحفظ کروں گا اور اس کا دفاع کروں گا“۔
آئین کے آرٹیکل نمبر 5 کے مطابق ریاست سے وفاداری اور آئین و قانون کی اطاعت ہر شہری کا فرض ہے۔ آئین کے آرٹیکل نمبر 5، نمبر 6 اور حلف کے مطابق وفاق اور صوبوں کے حکمرانوں کا آئینی فرض ہے کہ وہ صدق دل اور خلوص نیت کے ساتھ آئین کے ہر آرٹیکل اور اس کی ہرشق پر عمل کریں۔ اگر وہ آئین سے انحراف کریں گے اس کے کسی حصے پر عملدرآمد نہیں کریں گے، اسے زیر التواءرکھیں گے تو کیا وہ آئین کے آرٹیکل نمبر 6 کی روح کے مطابق سنگین غداری کے مرتکب نہیں ہوں گے اور ان پر آرٹیکل نمبر 6 کا اطلاق نہیں ہوگا۔ یہ ہے وہ اہم سوال جس کا جائزہ حاضر سروس ججوں، ریٹائرڈ ججوں اور ماہرین قانون کو لینا چاہیئے۔پاکستان کے آئین کا بغور مطالعہ کرنے سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ حکمران آئین کے کئی آرٹیکلز پر عملدرآمد نہیں کررہے ان سے انحراف کررہے ہیں اور طاقت دکھا کر جانتے بوجھتے ہوئے آئین کے آرٹیکلز کو معطل یا زیر التواءرکھ رہے ہیں۔ آئین سے انحراف کی درجنوں مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں مگر کالم کی تنگ دامنی کی بناءپر صرف بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کا ذکر کیا جاتا ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ آئین بلدیاتی انتخابات اور مقامی حکومتوں کے قیام کے بارے میں کیا کہتا ہے۔
آرٹیکل نمبر 32 ”مملکت متعلقہ علاقوں کے منتخب نمائندوں پر مشتمل بلدیاتی اداروں کی حوصلہ افزائی کرے گی اور ایسے اداروں میں کسانوں ، مزدوروں اور عورتوں کو خصوصی نمائندگی دی جائے گی“۔ آرٹیکل نمبر 140/A ”ہر ایک صوبہ قانون کے ذریعے مقامی حکومت کا نظام قائم کرے گا اور سیاسی، انتظامی اور مالیاتی ذمے داری اور اختیار مقامی حکومتوں کے منتخب نمائندوں کو منتقل کردے گا“۔ پنجاب، سندھ، خیبرپختونخواہ میں گزشتہ چھ سال سے آئین کے مطابق مقامی حکومتوں کے قیام کے لیے انتخابات نہیں ہوئے۔ سپریم کورٹ کی ہدایات کے باوجود طاقت کی بنیاد پر آئین پر عمل نہیں کیا جارہا۔ عوام کا بنیادی حق سلب کیا جارہا ہے۔ بلدیاتی انتخابات کے انعقاد میں غیر معمولی تاخیر کرکے آئین کے آرٹیکلز کو معطل کیا جارہا ہے۔ ان کو زیرالتواءرکھا جارہا ہے۔ یہ اقدام بدنیتی پر مبنی ہے اور عوام کے خلاف سازش ہے۔ بادی النظر میں حکمرانوں کا یہ اقدام آئین کے آرٹیکل نمبر 6 کے زمرے میں آتا ہے۔ چاہے فوجی ہو یا سیاستدان ہو جو بھی آئین کو منسوخ کرے اسے معطل کردے یا اسے زیر التواءمیں رکھے اس پر آرٹیکل نمبر 6 کا اطلاق ہوگا۔ آئین کی حکمرانی میں یقین رکھنے والے محب الوطن وکلاءاس اہم قومی سوال اور مسئلے کو سپریم کورٹ میں لے کرجائیں تاکہ عدلیہ آئین کے آرٹیکل نمبر 6 کی تشریح کرسکے۔ وکلاءکا یہ اقدام یادگار قومی خدمت ہوگا جسے تاریخ میں سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔

  قیوم نظامی

Comment on this post