ارسطو-Aristotle

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ

 ارسطو-Aristotle
 ارسطو-Aristotle

ارسطو کا اصل نام ارسطا طلیس تھا۔ وہ 385 قبل مسیح میں یونان کے ایک چھوٹے سے قصبے سیٹگیریسStagirus) (میں پیدا ہوا۔ سیٹگیرس جزیرہ نما کلیسڈیس (Chalcidic) کی ایک شہری ریاست تھی۔ کلیسڈیس اب بھی اپنے قدیم نام سے جانا جاتا ہے۔ ارسطو اسی ریاست کے ایک شہرایبویا(Euboea) میں باسٹھ سال کی عمر میں فوت ہوا۔ اس دور میں یونان کی شہری ریاستیں بہت ہی پر آشوب دور سے گزر رہی تھیں۔ کلیسڈیس کی پڑوسی ریاست مقدونیہ انتہائی انتشار کا شکار تھی۔ مقدونیہ کے شہزادے سکندر کو دنیا فتح کرنے کا بہت شوق تھا۔ ارسطو کے علم و فضل کا بہت شہرہ تھا اس لیے ارسطو کو مقدونیہ کے بادشاہ فلپ نے شہزادے سکندر کا اتالیق مقرر کیا۔ اسی تربیت کے نتیجے میں شہزادہ سکندر، سکندر اعظم کہلایا اور سکندر اعظم نے ایران کی عظیم سلطنت کو فتح کرکے ہندوستان میں جمنا کے کناروں تک یلغار کی۔ اس وقت عظیم فلسفی سقراط کو گزرے ہوئے پندرہ سال ہو چکے تھے۔ جبکہ افلاطون اپنی اکیڈمی میں فلسفہ اور دیگر علوم پڑھانے میں مصروف تھا۔ یونان کا شہر ایتھنز علم و فلسفہ کا گھر تھا۔ لیکن یونان کی کئی چھوٹی چھوٹی شہری ریاستیں اب بھی غیر مہذب اور علم و فلسفہ سے دور تھیں ان نیم مہذب شہری ریاستوں میں یک سری حکومتیں قائم تھیں جو کہ موروثی تھیں۔ اگرچہ کلیسڈیس کی شہری ریاست دنیا کی ابتدائی ریاستوں میں سے تھی، یہ شہری ریاست ایبویاEuboea) ( کی بڑی شہری ریاست کے ماتحت تھی۔ یہ شہری ریاستیں نیم مہذب اس لیے تھیں کہ کچھ لوگ تو مہذب اور تعلیم یافتہ تھے لیکن زیادہ تر لوگ غیر مہذب اور نیم وحشی بھی تھے۔ اس لیے یہ شہری ریاستیں عموماً ایک دوسرے سے برسرِپیکار رہتی تھیں اور بڑی ریاستیں چھوٹی ریاستوں کو اپنی نو آبادیاں بناتی رہتی تھیں۔ ان ریاستوں کے نیم مہذب لوگ (Barbarian) امن کی راہ میں بڑی رکاوٹ تھے۔ نیم مہذب حکمرانوں اور شہریوں کی وجہ سے کوئی تعلیمی نظام نہ تھا، اس لیے معاشرتی مسائل بھی بہت زیادہ تھے۔ ان ریاستوں میں کوئی خاص قوانین بھی نہ تھے بلکہ قدیم روایات اور رسم و رواج ہی ان کے قوانین تھے۔ کارنیتھ کی ریاست بھی اسی شمالی خطہ میں واقع تھی اور اس میں کافی حد تک تہذیب موجود تھی۔ یہ ریاست بھی کافی حد تک ایتھنز کے ماتحت تھی۔ چوتھی صدی قبل مسیح میں یہ شہری ریاستیں طاقتور ریاستوں سے آزادی حاصل کرنے کی جدوجہد میں تھیں لیکن سپارٹا کی طاقتور ریاست نے ان کی جدوجہد کو سبوتاژ کر دیا۔ ان دنوں ارسطو ابھی بچہ ہی تھا کہ تمام شمالی چھوٹی چھوٹی ریاستیں مقدونیہ کے ماتحت آ چکی تھیں۔ ان دنوں مقدونیہ کا بادشاہ فلپ تھا۔ ارسطو کے باپ کا نام نیکومیکس (Nicomachus) تھا۔ وہ مقدونیہ کے بادشادہ امینتاس (Amyntas) سوم کا درباری طبیب تھا۔ اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ ارسطو نے Asclepiadae حلقے میں ہی آنکھ کھولی، جوکہ طب کے حوالے سے اپنا مقام رکھتا تھا۔ (کتاب ’’ارسطو:حیات ، فلسفہ اور نظریات‘‘ مصنف:ملک اشفاق) ٭…٭…٭

 

Published on Aristotle, History

Comment on this post