GWADAR - Largest Seaport in Indian Ocean

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ

GWADAR - Largest Seaport in Indian Ocean
GWADAR - Largest Seaport in Indian Ocean

پانی کی اہمیت کا اندازہ صرف اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ دنیا کی قدیم تہذیبوں سے لے کر جدید ترقی یافتہ تہذیبیں تک پانی کے کناروں پر آباد ہیں مثلاً قدیم تہذیبوں میںموہن جودوڑو اور ہڑپہ دریائے سندھ کی وادی میں آباد تھے۔

اگر آج کی تہذیبوں کو ہم دیکھیں تو لاہور دریائے راوی کے کنارے پر، کراچی، حیدر آباد، دریائے سندھ، ملتان دریائے چناب کے کنارے پر اور لندن جیسا ترقی یافتہ شہر دریائے ٹییمز کے کنارے پر آباد ہے۔ پانی نہ صرف زندگی کا وسیلہ ہے بلکہ اس سے کاروباری زندگی کا پہیہ بھی رواں دواں رہتا ہے۔ بالکل اسی طرح بندرگاہیں بھی قوموں کی ترقی میں غیر معمولی اہمیت کی حامل ہوتی ہیں کیونکہ بڑے پیمانے پر تجارتی سرگرمیاں ان بندگاہوں کی مرہون منت ہیں۔ آج جب دنیا کی تہذیبیں ترقی کے سب سے اوپر والے زینے پر کھڑی ہیں تو اس کی اہمیت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔ ہمارے وطن عزیز کی گوادر پورٹ دنیا کے کئی ممالک کی آنکھوں کا تارا ہونے کے بجائے ان کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح چبھنے لگی ہے اور اس کیلئے دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک میں کھینچا تانی شروع ہو چکی ہے۔ گوادر پورٹ سے ہمارے برادر ملک متحدہ عرب عمارات کی بندرگاہ دبئی کافی متاثر ہوسکتی ہے۔ اگر ہم اس کو ایک سٹریٹجک اثاثے کے لحاظ سے دیکھیں تو اس کی اہمیت اور کھل کر سامنے آجاتی ہے۔ سٹریٹجکلی پاکستان بحرہند میں سٹریٹ آف ہرمز کیلئے بہت اہم گیٹ وے ہے اور اسی سٹریٹ سے دنیا کے 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے، اس سے دو اسلامی ممالک ایران اور افغانستان کی سرحدیں بھی ملتی ہیں۔

گوادر پورٹ کے بننے سے پاکستان ایک معاشی مرکز کے طور پر ابھرا ہے۔ امریکہ اور چین کے ساتھ ساتھ بھارت اور خلیجی ممالک بھی رسہ کشی میں شامل ہوگئے۔ یہ رسہ کشی دو سطحوں پر جاری ہے۔ ایک تو اس پر کنٹرول حاصل کرنے کی دوسری اس کو ناکام بنانے کی۔ امریکہ اور چین قبضے کی تگ و دو میں لگ گئے جبکہ خلیجی ممالک اس کو ناکام کرنے کی ناکام کوشش کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ گوادر پورٹ کے ذریعے توانائی سے مالا مال وسط ایشیائی ممالک تک رسائی آسان ہونے کی وجہ سے اس کی سٹریٹجک اہمیت میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے۔اسی وجہ سے ایران اور متحدہ عرب عمارات اس کو مقابلے سے نکال باہر کرنے پر جت گئے ہیں۔ اگر ہم مغربی چین اور وسط ایشیائی ممالک کو دیکھیں تو یہ قیف کی مانند ہیں اور قیف کے چوڑے حصے پر گوادر پورٹ موجود ہے۔اگر ہم اس کی اہمیت فوجی لحاظ سے دیکھیں تو اس بندر گاہ سے بحیرہ عرب پر ہمارا تسلط قائم ہوتا ہے۔ خاص طور پر بھارت سے ہمارا فاصلہ 460 کلو میٹر بڑھ جاتا ہے۔ ہم بھارت کی آنکھوں سے دور اور وہ ہماری آنکھوں کے سامنے ہو گیا ہے کیونکہ گوادر پورٹ سے سی لائنز آف کمیونیکیشنز ( Sea Line of Communications )کو مانیٹر کرنے میں مدد ملے گی۔

اس صورت حال میں بھارت کیسے چاہے گا کہ گوادر پورٹ کامیاب ہو؟ اور وہ لوگوں کو غائب کرنے میں کیسے ملوث نہیں ہوگا اور وہ مسنگ پرسنز کے معاملے کو کیوں نہیں اچھالے گا؟ وہ کیوں نہیں چاہے گا کہ وہ ہمارے فوجی جوانوں کو اپنوں سے شہید کرائے؟ جبکہ بھارت خود 1990ء سے ایران کی چابہار بندرگاہ بنانے میں لگا ہوا ہے تاکہ وہ خطے میں اپنا تسلط قائم کر سکے۔ 12637 سکوائر کلومیٹرز پر مشتمل یہ وسیع بندر گاہ ہمارے ملک کا کاروباری مرکز بننے والی ہے۔ یہ بندرگاہ جہاں وسط ایشیائی ریاستوں اور چین کی آنکھوں کا تارا ہوسکتی ہے تو وہاں کچھ خلیجی ممالک کی آنکھوں کا کانٹا بھی ہوسکتی ہے۔ جہاں بحیرہ عرب میں امر یکہ کا پانچواں بحری بیڑہ موجود ہے وہاں چین کے نیوی کے اثاثے بھی موجود ہیں۔ تو کیا اس صورتحال میں گوادر کیلئے مقابلے سے بچا جا سکتا ہے؟کیا گوادر پورٹ کو آسانی سے چلنے دیا جائے گا؟ کیا اس کی اہمیت اس بات سے عیاں نہیں ہوتی کہ کہ اتنے سارے ممالک کے مفادات اس سے وابستہ ہیں؟ اگر امریکہ ملاکا سٹریٹ بند کردیتا ہے تو چین کیلئے بحرہند اورمغربی ایشیاکی تجارت صرف گوادر پورٹ سے ہی ممکن ہے۔

چین بھی اس لئے اس بندر گاہ  میں دلچسپی رکھتا ہے کہ اس سے نہ صرف وہ بھارتی نیوی کی نگرانی کرسکتا ہے بلکہ خلیج فارس سے اپنی توانائی کی 60 فیصد ضروریات بھی پوری کرسکتا ہے کیونکہ اس کا صفیانہ آئل فیلڈ دنیا کا سب سے بڑا آف شور آئل فیلڈ ہے۔ دوسرے الفاظ میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ گوادر پورٹ بنیادی طور پر مفادات کی جنگ کے شکنجے میں پھنس کر التوا کا شکار ہوتی رہی ہے۔ خلیجی ممالک اس بندرگاہ کو رقیب سمجھ کر اس کے پیچھے پڑ گئے ہیں کیونکہ ان کو خدشہ ہے کہ ان کی تجارت تقسیم ہو جائیگی اور آہستہ آہستہ چین کے مفادات کی وجہ سے تجارت کا زیادہ تر حصہ گوادر کی طرف منتقل ہو جائے گا۔ اس رقابت کی وجہ سے وہ بھات اور امریکہ سے مل کر اس کو ناکام بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔ اگر ہم ماحولیاتی لحاظ سے دیکھیں تویہ بندرگاہ ایک ایسے خطے میں واقع ہے جہاں خطرناک موسمی اثرات کم سے کم ہیں اور وسیع علاقہ ہونے کی وجہ سے کارگو کو محفوظ کرنے کیلئے خاصی جگہ دستیاب ہے۔ اس لئے اسے خلیجی ممالک اور متحدہ عرب عمارات کی بندرگاہوں پر فوقیت حاصل ہے۔ یہ بندرگاہ کرغیزستان اور قزاقستان کیلئے گرم پانیوں تک رسائی کا مختصر تریں راستہ ہے۔

علاوہ ازیں قزاقستان، ترکمانستان اور کرغیزستان اپنے تیل کے ذخائر پائپ لائن کے ذریعے یہاں سے آسانی سے منتقل کر سکتے ہیں۔ یورپی ممالک بھی روس سے گزرے بغیر متذکرہ بالا ممالک کے توانائی کے ذخائر سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ یورپی ممالک کو خطرہ ہے کہ روس کسی بھی وقت ان راستوں سے منتقل ہونے والے توانائی کے ذخائر کو روک سکتا ہے جیسا کہ پہلے وہ گیس روک کر کر چکا ہے۔ جن ممالک کے مفادات کو خطرہ ہے وہ اس کے خلاف مختلف طریقوں سے پروپیگنڈہ کرتے رہتے ہیں۔ ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس سے ماحولیاتی توازن بگڑے گا اور مختلف قسم کے موسمیاتی تغیرات رونما ہونگے۔ اگرچہ اس طرح کی ساری باتیں مفروضاتی ہیں لیکن ان کے ذریعے پروپیگنڈہ بھرپور انداز میں کیا جاتا ہے اور ایسا صرف اس کو کاروباری ہب بننے سے روکنے کیلئے ہے۔ چین کی اس بندرگاہ میں دلچسپی اس لیے ہے کہ وہ اس خطے میں امریکی اور بھارتی تسلط نہیں چاہتا اور خطے کی سب سے بڑی فوجی قوت بھی بننا چاہتا ہے۔

کافی عرصے سے لا پتہ افراد کا مسئلہ زیربحث ہے اور اسے خوب اچھالا جارہا ہے لیکن کوئی خاطرخواہ نتائج برآمد نہیں ہوئے۔ کئی سالوں سے سپریم کورٹ میں بھی یہ کیس زیرسماعت ہے ۔حکومت پاکستان کے معتبر ذرائع بارہا اس بات کی تصدیق کر چکے ہیں کہ بلوچستان میں گیارہ سے زائد غیر ملکی خفیہ ایجنسیاں مصروف عمل ہیں۔ بلوچستان میں غائب ہونے والے یا مبینہ طور پر اٹھا لیے جانے والے لوگوں کے بارے میں کئی طرح کے موقف سامنے آئے ہیں لیکن اس معاملے میں یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ جو غیر ملکی خفیہ ایجنسیاں یہاں سرگرمیوں میں مصروف ہیں ان کا مفاد اسی میں ہے کہ بلوچستان کے حالات خراب رہیں اور یہاں پر زندگی معمول پر نہ آئے، اگر صوبے میں استحکام ہوگا تو پھر ترقیاتی سرگرمیاں پورے زور و شور سے آگے بڑھیں گی۔

بلوچستان سے غائب ہونے والے افراد کی بازیابی کے لیے جاری احتجاج اپنی جگہ منطقی ہے لیکن اس معاملے کا ایک اور پہلو بھی ہے۔ یہ اطلاعات بھی ہیں کہ اصل میں غائب کم ہوئے جتنے بھیج دیے گئے اور ان کو مختلف ملکوں میں سکونت دے دی گئی۔ ایسا کرنے والوں میں مسلمان ملک پیش پیش ہیں کیونکہ ان کو اپنے برادر اسلامی ملک کی گوادر بندرگاہ ایک آنکھ نہیں بھاتی۔ لہٰذا یہ قدم پاکستان کو ڈبونے کیلئے ضروری تھا، وہ بھی گوادر میں اور لاپتہ افراد کے نام پر۔ ہمیں تو بس اتنا پتہ ہے کہ لاپتہ افراد ہیں لیکن ہمیں یہ نہیں پتہ کہ بعض اطلاعات کے مطابق بہت سے لاپتہ افراد کو خلیج کے کچھ ممالک نے شہریت دے دی ہے اور ان کو اپنے مقصد کیلئے استعمال کر رہے ہیں۔ لاپتہ افراد کی اگر کسی مخالفانہ سرگرمی میں حصہ نہ بھی لیں پھر بھی ان کا محض لاپتہ ہو جانا ہی ریاست کے لیے بہت بڑا مسئلہ ہے۔ اگر امریکہ اور بھارت کیخلاف کام کرنے والے افراد لا پتہ نہ ہوتے تو ان کا انجام کیا ہوتا یہ ہم سب جانتے ہیں۔ اگر ہم اس خطہ کو خالصتاً بلوچستان کے حوالے سے دیکھیں تو اس میں سونے کی دنیا کی بڑی کانیں موجود ہیں۔گوادر پورٹ اور یہ کانیں ہر کس دشمنوں کی آنکھوں میں چبھ رہ

اکنامک کوریڈور کا تصور

پاکستان اور چین کے درمیان گوادر پورٹ سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے دونوں ملکوں نے اکنامک کوریڈور قائم کرنے کا بھی فیصلہ کر لیا ہے جس پر چین 12 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔ اس منصوبے کا آغاز پہلے ہی ہو چکا ہے جبکہ باقی جزیات تیزی کے ساتھ طے کی جا رہی ہیں۔ اکنامک کوریڈور سے مراد گوادر اور چین کے علاقے کاشغر کو سڑک، ریل اور آپٹک فائبر کے ذریعے باہم منسلک کرنا ہے جبکہ تیل اور گیس کی پائپ لائنوں کی تعمیر بھی اس منصوبے کا حصہ ہوگی۔

گوادر میں ’’آئل سٹی‘‘ کا قیام بھی اس منصوبے کا حصہ ہے جس کے ذریعے خطے کی تیل کی ضروریات پوری ہوں گی۔ بھارت اور امریکا گوادر پورٹ کا انتظام چین کے حوالے کرنے کے اقدام سے ناخوش ہے اور اس منصوبے کو برباد کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ اہم تجزیہ نگار اس بات سے متفق ہیں کہ پاکستان میں جاری دہشت گردی اوراندرونی عدم استحکام کی وجوہات میں گوادر پورٹ بھی ایک بڑی وجہ ہے کیونکہ اگر پاکستان اپنے اندرونی معاملات درست کر لیتا ہے تو اس کی تمام تر توجہ تجارتی سرگرمیوں کو منظم کرنے پر مرکوز ہو جائے گی۔ ایک اندازے کے مطابق گوادر پورٹ اور اکنامک کوریڈور کام شروع کرتے  ہی چین کو سالانہ تیل کی درآمد کی مد میں 20 ارب ڈالر سالانہ کا فائدہ دینے لگیں گے جبکہ پاکستان کو محض محصول کی وصولی پر 5 ارب ڈالر سالانہ کا فائدہ ہوگا۔ گوادر میں لگنے والی آئل ریفائنری روزانہ 60 ہزار بیل تیل صاف کرنے کی صلاحیت کی حامل ہوگی۔ امریکا نے پاکستان کو اس بات پر مجبور کر رکھا ہے کہ وہ ایران سے تیل نہ خریدے جس کا مقصد توانائی کے سنگین بحران کے شکار پاکستان کو مکمل اقتصادی بربادی کی طرف دھکیلنا ہے، لہٰذا اس امریکی کوشش کا توڑ کرنے کے لیے پاکستان نے چین کو گوادر سے مغربی چین تک آئل پائپ لائن بچھانے کی پیشکش کی ہے جو اپنی تیل کی ضرورتوں کی تکمیل کے متبادل ذریعے کے بندوبست کی ایک بہترین کوشش ہے۔

چین کے انسٹی ٹیوٹ فار سکیورٹی اینڈ آرمز کنٹرول اسٹڈزی جو وزارت پبلک سکیورٹی سے منسلک ہے، کے ڈائریکٹر لی وئی کا کہنا ہے کہ شمال مغربی چین کے علاقے ژن جیانگ کو پاکستان کی گوادر بندرگاہ کے ساتھ اکنامک کوریڈور (سڑک، ریل اور آپٹک فائبر لنک) کے ذریعے منسلک کرنے کے منصوبے کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لیے پاکستان کو اپنے دو ہمسایہ ملکوں بھارت اور افغانستان کے ساتھ تعلقات بنیادی اہمیت کے حامل ہیں۔ خطے میں امن و امان اور سکیورٹی کی صورتحال سب سے اہم معاملہ ہے۔ چین کے نیشنل ڈویلپمنٹ اینڈ ریفارم کمشن کے ڈپٹی ژنگ ژاو کوینگ کی قیادت میں جس وفد نے وزیراعظم نوازشریف سے ملاقات کی تھی ’’لی‘‘ اُس وفد کا حصہ تھے۔ وفد نے پاکستانی حکام کو بتایا تھا کہ افغانستان سے مکمل امریکی انخلاء خطے پر منفی اثرات مرتب کرے گا۔ ان کا خیال تھا کہ خطے میں سیاسی مفاہمت کے عمل میں پاکستان، چین، روس اور بھارت کی شمولیت ضروری ہے۔

ی ہیں۔

Comment on this post