Nawaz Sharif and Privatisation by Shahnawaz Farooqi

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ

Nawaz Sharif and Privatisation by Shahnawaz Farooqi
Nawaz Sharif and Privatisation by Shahnawaz Farooqi

پاکستان کا حکمران طبقہ کوئی کام بھی ’’میرٹ‘‘ پر نہیں کرتا۔ اسے یا تو کسی کام کا بخار چڑھتا ہے یا پھر کسی کام کے سلسلے میں آقائوں کی طرف سے ہدایات موصول ہوتی ہیں۔ چنانچہ پاکستان میں فوجی آمریت ہی نہیں جمہوریت بھی ایک بخار اور غیر ملکی ایجنڈے کے طور پر نازل ہوتی ہے۔ ہمارے حکمرانوں کو ’’جہاد‘‘ کا ’’حکم‘‘ ملتا ہے تو وہ جہاد کرنے لگتے ہیں۔ انہیں جہاد کے کلچر کو کچلنے کی ہدایت موصول ہوتی ہے تو وہ جہاد اور جہادیوں کی جان کے درپے ہوجاتے ہیں۔ بھٹو صاحب نے 1970ء کی دہائی میں اداروں کو قومی تحویل میں لیا تھا تو انہوں نے اس سلسلے میں کسی تحقیق کا سہارا نہیں لیا تھا۔ انہیں قومیانے کا عمل بخار کی طرح لاحق ہوا تھا۔ یہی معاملہ میاں نوازشریف کی نجکاری کا ہے۔ میاں صاحب دوسری بار اقتدار میں آئے تھے تو انہوں نے کہا تھا کہ نجکاری ہماری حکومت کی بنیادی پالیسی ہوگی، لیکن اس پالیسی کے سلسلے میں کوئی علمی بنیاد میسر نہ تھی۔ انہیں غیر ملکی مالیاتی اداروں کی طرف سے نجکاری کی ہدایت ملی تھی اور میاں صاحب نے ان کی ہدایت کے مطابق ہی اس عمل کو شروع کیا اور آگے بڑھایا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ نجکاری کا عمل اندھا دھند ہوگیا اورنجکاری کے سلسلے میں میاں صاحب اپنے وعدوں تک کی پاسداری نہ کرسکے۔ مثلاً انہوں نے فرمایا تھا کہ صرف ملک کے غیر منافع بخش ادارے نجی شعبے کے حوالے کیے جائیں گے، لیکن اسٹیل ملز اور پی ٹی سی ایل جیسے اہم اور منافع بخش ادارے بھی نجکاری کی زد میں آگئے۔ جس وقت پی ٹی سی ایل کی نجکاری کی گئی اس کا سالانہ منافع 14 ارب روپے تھا۔ نجکاری کے اندھا دھند ہونے کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ پاکستان اسٹیل ملز کا معاملہ سپریم کورٹ میں گیا تو معلوم ہوا کہ اُسے بھارت کا متل گروپ خرید رہا تھا، یہ الگ بات کہ اس کا نمائندہ یا Front Man کوئی اور تھا۔ چنانچہ سپریم کورٹ نے پاکستان اسٹیل ملز کی نجکاری روک دی۔

لیکن میاں نوازشریف تیسری بار اقتدار میں آئے تو انہوں نے نجکاری کے سلسلے میں پھر اسی طرح کی روش اختیار کی جیسے انہیں نجکاری کا بخار لاحق ہو۔ انہوں نے اس سلسلے میں ایک بار پھر نہ اپنے دلائل و براہین کو واضح کیا، نہ سیاسی جماعتوں اور ماہرین کو اعتماد میں لیا۔ اور وہ ایسا کیوں کرتے! انہیں آئی ایم ایف کی جانب سے نجکاری کی ہدایت موصول ہوئی تھی، اور آئی ایم ایف نے نجکاری کی شرط کو میاں صاحب کی حکومت کے ساتھ ہونے والے سمجھوتے کا حصہ بنادیا تھا۔ لیکن میاں صاحب اب بھی نجکاری کا ذکر اس طرح کرتے ہیں جیسے نجکاری کوئی ناگزیر فلسفہ اور اجتماعی زندگی کا ناگزیر تقاضا ہو۔ تو کیا نجکاری واقعتا کوئی فلسفہ ہے؟
نجکاری کا عمل مغرب سے آیا ہے۔ مغرب میں یہ عمل 1980ء کی دہائی میں شروع ہوا۔ لیکن مغرب کی ساری سائنسی اور تکنیکی ترقی اور معاشی خوشحالی نجکاری کے دور سے پہلے کی چیز ہے۔ یہ بات نجکاری کے خلاف سب سے بڑی شہادت ہے۔ گزشتہ پچیس سال میں چین صنعتی اور معاشی ترقی کا نیا نمونہ بن کر ابھرا ہے۔ اس نے 20 سال تک معیشت کو دس سے گیارہ فیصد کی شرح سے ترقی دی ہے اور اِس وقت اُس کے پاس تین ہزار ارب ڈالر کے زرمبادلہ کے ذخائر ہیں، اور وہ 2025ء تک دنیا کی سب سے بڑی معیشت بن جائے گا۔ یہاں کہنے کی اصل بات یہ ہے کہ چین کی یہ ترقی نجی شعبے میں نہیں سرکاری شعبے میں ہوئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ میاں نوازشریف چین کو دوست کہتے ہیں اور اس کی ترقی کو رشک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، مگر انہیں اس خیرہ کن ترقی کے حوالے سے معیشت کا چینی ماڈل کیوں پسند نہیں؟ لیکن ہمارا اصل سوال یہ تھا کہ مغرب سے آنے والا نجکاری کا رجحان کیا کوئی فلسفہ ہے؟
اس سوال کا جواب یہ ہے کہ اگرچہ نجکاری کے سلسلے میں مغرب کے ’’نیو لبرل ازم‘‘ کا حوالہ دیا جاتا ہے، لیکن اصل بات یہ ہے کہ نجکاری کی پشت پہ ایک ایسی سرمایہ دارانہ ذہنیت اور سرمایہ دارانہ تناظر موجود ہے جو صنعت اور تجارت کے سلسلے میں صرف منافع کی پوجا کرتا ہے۔ اس کے لیے معاشرے کی معاشی بہبود یا تو سرے سے اہم ہی نہیں ہے، یا اسے اگر اس کا خیال آتا بھی ہے تو منافع کے بعد۔ تاہم علمی اعتبار سے دیکھا جائے تو نجکاری کے دو پہلو ہیں: ایک سیاسی اور دوسرا معاشی۔ نجکاری کا سیاسی پہلو یہ ہے کہ سرمایہ دار اپنی ذات اور سرمائے کو ریاست کی مداخلت سے پاک کرکے خود ریاست بن جانا چاہتے ہیں۔ ان کے خیال میں محنت کشوں کی انجمنیں بھی ایک سیاسی مسئلہ ہیں، چنانچہ امریکہ میں صدر ریگن کے زمانے میں ایئر ٹریفک کنٹرولرز نے ہڑتال ختم کرنے سے انکار کیا تو صدر ریگن نے گیارہ سو ایئر کنٹرولرز کو ملازمت سے نکال دیا۔ اسی طرح مارگریٹ تھیچر کے دور میں برطانیہ کے کان کنوں نے اپنے مطالبات کے حق میں ہڑتال کی تو مارگریٹ تھیچر نے ان کے مطالبات کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا اور کان کنوں کو بالآخر اپنے مطالبات سے دست بردار ہونا پڑا۔ مغرب میں معاشی فلاحی ریاست کا تصور نجکاری کے تصور سے اصولی طور پر مختلف تھا، لیکن چونکہ فلاحی ریاست کے تصور کی پشت پر کمیونزم کا خوف موجود تھا اس لیے اہلِ مغرب نے نیولبرل ازم کے تقاضوں کے باوجود 1980ء کی دہائی تک نجکاری کے تصور کو منہ نہ لگایا، لیکن 1990ء کے اوائل میں سوویت یونین ختم ہوگیا، کمیونزم تحلیل ہوگیا، چنانچہ مغرب کے سرمایہ داروں نے ایک جانب محنت کشوں کی مراعات میں کمی شروع کردی اور دوسری جانب مغرب میں نجکاری کے عمل کو فروغ حاصل ہوا۔ نجکاری کے عمل سے مزدور انجمنوں کی طاقت کم اور کردار محدود ہوا اور ان کے بارے میں اس خیال کو عام کیا گیا کہ مزدور انجمنوں کی موجودگی میں ’’سستی محنت‘‘ یا Cheap Labour کا حصول دشوار ہے۔ لیکن مغربی معاشروں کا ایک پہلو یہ ہے کہ وہ اپنے تجربات سے سیکھتے بھی ہیں` چنانچہ مغربی ملکوں میں کئی ایسے ادارے ہیں جنہیں نجی شعبے کے حوالے کرنے کے بعد سرکاری شعبے میں واپس لیا گیا ہے۔ لیکن تیسری دنیا کا معاملہ یہ ہے کہ اس کے حکمران مغرب کے حکم پر یا اس کی نقل میں کچھ کرنا شروع ہوتے ہیں تو وہ پیچھے مڑ کر نہیں دیکھتے۔ حالانکہ مغرب میں نجکاری کے کئی چشم کشا مطالعے ہوئے ہیں۔ مثلاً برطانیہ میں 1997ء میں اسٹیفن مارٹن اور ڈیوڈ پارکر کے تجزیے سے یہ حقیقت سامنے آئی کہ برطانیہ کے گیارہ اداروں کی کارکردگی کے سلسلے میں ملکیت یا Owneship بنیادی چیز نہیں۔ مثلاً ان ماہرین کو گیارہ اداروں کے مطالعے سے معلوم ہوا کہ اگرچہ نجی شعبے میں جانے کے بعد ان کے بعض شعبوں میں بہتری ہوئی لیکن ان کی نمو اور پیداواری صلاحیت سرکاری شعبے میں زیادہ بہتر تھی۔ اس کی ایک مثال پاکستان میں بینکوں کی نجکاری ہے۔ بعض ماہرین نے نشاندہی کی ہے کہ نجکاری کے بعدمسلم کمرشل بینک کا منافع تو بڑھا ہے مگر معیشت کے سلسلے میں اس کی کارکردگی تیزی کے ساتھ خراب ہوئی ہے، یہاں تک کہ 1963ء کی سطح سے بھی نیچے چلی گئی ہے۔ مثلاً بینک نجی شعبے کو جو قرضے دے رہا ہے ان کی شرح جی ڈی پی کی نسبت سے صرف 16 فیصد ہے، جبکہ بھارت میں یہ شرح 50 اور ملائیشیا میں 112 فیصد ہے۔ اسی طرح مختلف شعبوں کے لیے قرضوں کے مختص کیے جانے کی صورت حال بھی ابتر ہوئی  ہے۔ مثلاً زراعت اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں کو ضرورت سے بہت کم قرض مہیا کیا جارہا ہے۔ چنانچہ اس صورت حال کا ملک کی مجموعی ترقی پر منفی اثر پڑ رہا ہے۔ لیکن نج کاری کے منفی اور تضاد آلود پہلوئوں کا معاملہ یہیں تک محدود نہیں۔
پاکستان میں نجکاری کا ایک گہرا تضاد یہ ہے کہ حکومت بیمار اداروں کو پہلے صحت مند بناتی ہے اور پھر انہیں نجی شعبے کے حوالے کرتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب حکومت کسی ادارے کو صحت مند یا اس لائق بناسکتی ہے کہ نجی شعبہ اسے خریدنے پر آمادہ ہوجاتا ہے تو پھر وہ خود ہی اس ادارے کو کیوں نہیں چلاتی؟ آخر حکومت کا اصل مسئلہ تو اداروں کو صحت مند اور منافع بخش بنانا ہے نہ کہ انہیں نجی شعبے کے حوالے کرنا۔ لیکن حکومت جس طرح اداروں کو صحت مند یا قابلِ خرید بناکر تاجروں اور صنعت کاروں کے حوالے کررہی ہے اس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس کا اصل مسئلہ اداروں کو صحت مند اور منافع بخش اور معیشت و ملک کے لیے سودمند بنانا نہیں بلکہ نجی شعبے کے حوالے کرنا ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو میاں نوازشریف نے نجکاری کو ایک مقدس چیز بنادیا ہے جس کی پاسداری ہر صورت میں ضروری ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہی ملک و قوم کی خدمت ہے؟ کہنے والے نجکاری کے سلسلے میں یہ بھی کہتے ہیں کہ معیشت کی بہتری ہی مقصود ہے تو نجی شعبے کو معیشت کے عمل میں زیادہ سے زیادہ شریک کرکے بھی یہ کام کیا جاسکتا ہے۔ مثلاً حکومت ملک میں اسٹیل کی صنعت کی ترقی چاہتی ہے تو نجی شعبے کو بھی اسٹیل ملز قائم کرنے کی اجازت دے دے۔ اس کی ایک مثال ملک کی ابلاغی صنعت ہے۔ ایک وقت تھا کہ ملک میں صرف پی ٹی وی تھا لیکن حکومت نے پی ٹی وی کو نجی شعبے کے حوالے کرنے کے بجائے نجی شعبے میں ٹیلی وژن چینلز کھولنے کی اجازت دے دی اور اس کے نتیجے میں اطلاعات پر سرکاری کنٹرول کی پہلی صورت باقی نہ رہی اور ابلاغی صنعت نے چند ہی برسوں میں اپنے دائرے کو وسیع کرلیا۔ اگرچہ پاکستان میں ابلاغی ذرائع کی ترقی ابلاغ کا دھماکا بن گئی ہے، مگر یہ اس مسئلے کا دوسرا پہلو ہے۔
پاکستان میں نجکاری نے پانچ چھ لاکھ لوگوں کو بیروزگار کیا ہے اور اس سے لاکھوں گھروں کی معیشت سنگین مسائل کا شکار ہوگئی ہے۔ اس سے حکومت کا مالی بوجھ یقینا کم ہوا ہوگا لیکن لاکھوں لوگوں کی بیروزگاری نے معاشرے میں لاکھوں خاندانوں کو نفسیاتی‘ سماجی‘ جذباتی اور اخلاقی مسائل میں مبتلا کردیا ہے۔ بدقسمتی سے نجکاری کا عمل معاشرے میں وسائل کی تقسیم کو بہتر بنانے کے بجائے سرمائے کو چند ہاتھوں میں مرتکز کرکے انہیں پہلے سے زیادہ امیر بناتا ہے۔ ترقی یافتہ کہلانے والے معاشروں کی معیشتیں مضبوط اور متنوع ہیں، چنانچہ وہاں اگر نجکاری کے عمل سے کچھ لوگ بیروزگار ہوتے ہیں تو معیشت کی مضبوطی اور تنوع ان کے لیے کہیں اور روزگار کے مواقع پیدا کردیتے ہیں۔ مگر ہمارے یہاں ایک بار بیروزگار ہونے کا مطلب ہمیشہ یا برسوں کے لیے بیروزگار ہونا ہے۔ لیکن میاں نوازشریف کے لیے بیروزگاری اور اس کے مضمرات کا تصور بھی محال ہے۔ وہ منہ میں سونے کا چمچہ لے کر پیدا ہوئے ہیں اور انہیں اگر کوئی بتائے گا کہ لاکھوں لوگوں کو کھانے کے لیے روٹی دستیاب نہیں تو میاں صاحب فرماسکتے ہیں کہ انہیں اگر روٹی میسر نہیں تو وہ کیک کھالیں۔

شاہنواز فاروقی

Comment on this post