Pakistan Womens Rights

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ

Pakistan Womens Rights
Pakistan Womens Rights

گزشتہ دنوں خواتین کا عالمی دن منایا گیا۔ یہ دن خواتین کی جہد مسلسل کی علامت ہے اور ہر سال یہ دن خواتین کی سماجی، سیاسی اور معاشی میدان میں تحریک و ترقی کی حوصلہ افزائی کے لیے پورے اہتمام کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ اس دن کی تاریخ ان محنت کش خواتین سے منسلک ہے جو 1908 میں تنخواہوں میں اضافے، ووٹ کے حق، ڈیوٹی کے طویل اوقات کار اور غیر انسانی و غیر اخلاقی حالات کے خلاف صف آرا ہوکر سراپا احتجاج ہوئیں اور انتھک و جہد مسلسل کے بعد بالآخر اپنے حقوق کو منوا لیا۔

ان کے حقوق کے لیے قانون سازی کی گئی اور اقوام متحدہ نے خواتین سے امتیازی رویوں، حق تلفی اور ہتک آمیز سلوک کے خاتمے نیز تمام عالم اور خود خواتین کے بہتر مستقبل کے پیش نظر 8 مارچ کو خواتین کا عالمی دن قرار دیا اور خواتین کو ہر سطح پر برابری کا درجہ اور مساوی حقوق نیز ان کی فلاح و بہبود کو مد نظر رکھتے ہوئے سیڈا CEDAW تشکیل دیا نیز تمام ممالک کے لیے ضروری قرار دیا کہ وہ خواتین کے حقوق کی پاسداری اور بالادستی کے لیے کنونشن سیڈا کے مطابق قانون سازی کریں۔ حکومت پاکستان نے بھی نہ صرف سیڈا کنونشن منظور کر رکھا ہے بلکہ ملینیم ڈیولپمنٹ گول کے حصول کا عزم کر رکھا ہے۔ تاہم افسوس صد افسوس پاکستانی عورت آج جس امتیازی سلوک، ناہموار رویوں، حق تلفی اور ہتک آمیز صنفی تعصبات کا شکار ہے اس کے پیش نظر ببانگ دہل یہ کہا جاسکتا ہے اگر ہماری حکومتوں نے خواتین کی ترقی اور فلاح و بہبود کے لیے جلد ازجلد درست سمت میں راست اقدام نہ اٹھائے اور ترجیحی بنیادوں پر خصوصی توجہ نہ دیتے ہوئے بہتر عملی اقدام نہ کیے تو یقینا ہمیں گول حاصل کرنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں لہٰذا یہ صورت حال حکومت وقت کی خصوصی توجہ کی طالب ہے۔

خواتین کے حقوق کے ضمن میں ہمارے معاشرے کا ایک چشم کشا حقائق پر مبنی المیہ یہ بھی ہے کہ 90 فیصد قتل کی جانے والی خواتین رپورٹ نہیں ہوتیں، 2013 میں ملک بھر میں غیرت، زیادتی اور دیگر وجوہات کی بنا پر 1601 خواتین کا قتل ہوا، جنوری 2013 سے دسمبر 2013 تک ملک بھر سے اکٹھے کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق 370 خواتین کے ساتھ زیادتی جب کہ 185 کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی گئی۔ 2133 عورتوں پر تشدد ہوا۔ 887 خواتین پولیس کے تشدد کا نشانہ بنیں۔ 608 اغوا جب کہ 406 کی جبری شادیاں کی گئیں جن میں 176 وہ بچیاں بھی شامل ہیں جو ونی کی گئیں، 217 عورتیں زیادتی کے بعد قتل ہوئیں، 220 عورتوں کو کاروکاری کے الزام میں قتل کیا گیا، 1164 عورتیں مختلف وجوہات کے سبب قتل کی گئیں، 452 خواتین نے خودکشی کی جب کہ 193 عورتیں زندہ جلادی گئیں۔ 205 عورتیں اسمگل ہوئیں، 220 خواتین مختلف مسائل اور وجوہات کی بنا پر گھر سے بھاگ گئیں، مددگار نیشنل ہیلپ لائن کی خصوصی رپورٹ کے مطابق 2013 میں ملک بھر میں خواتین کے خلاف ہونے والے ان واقعات کی کل تعداد 6516 ہے۔ جن میں سب سے زیادہ 2602 واقعات پنجاب میں، 1883 سندھ میں، 1181 خیبرپختونخوا اور 846 واقعات بلوچستان میں ریکارڈ کیے گئے۔

پاکستان میں 95 فیصد خواتین گھریلو تشدد کا شکار ہیں، ملک میں 15 سے 49 سال کی خواتین بیماریوں اور حادثات کے باعث موت اور معذوری کا اتنا شکار نہیں ہوتیں جتنا جسمانی تشدد کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ پوری دنیا میں 1.3 بلین آبادی غربت کا شکار ہے اس میں عورتوں کی تعداد زیادہ ہے اور غربت کی بنا پر لاکھوں کام کاج کرکے اپنا پیٹ پالنے والی خواتین کو کوئی قانونی تحفظ بھی نہیں صرف دو ماہ کے اندر پانچ سے زائد گھریلو ملازمہ خواتین تشدد کے باعث موت کے منہ میں چلی گئیں، اگرچہ ان کی موت کا مداوا کسی صورت ممکن نہیں تاہم حکومتی سطح پر بھی عملی ٹھوس اقدام کی بجائے ہمیشہ ہی زبانی کلامی بیانات ہی سامنے آتے رہے ہیں۔ پاکستان جیسے غریب ممالک میں غربت اور خواتین ماؤں میں ڈپریشن کی شرح دونوں ہی زیادہ ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ری پروڈاکٹو ایج کی40 فیصد خواتین ڈپریشن اور دیگر ذہنی و نفسیاتی مسائل کا شکار ہیں۔ جناح اسپتال کے شعبہ نفسیات کی ایک رپورٹ کے مطابق مریضوں میں مردوں کے مقابلے میں خواتین کی تعداد دگنی تھی اور عمر میں20 سے 40 سال کے درمیان تھیں۔ کراچی یونیورسٹی کے شعبہ نفسیات کی ایک رپورٹ کے مطابق 212 مریضوں میں سے 65 فیصد خواتین تھیں اور 65 فیصد میں سے 72 فیصد شادی شدہ تھیں ان خواتین کے ذہنی امراض، نفسیاتی مسائل اور ڈپریشن، اداسی و ذہنی تناؤ کی زیادہ تر وجہ شریک حیات کا رویہ اور سسرالیوں کے ساتھ جھگڑا تھا متاثرہ خواتین کی اکثریت گریجویٹ تھی، اکثر کی شادیاں گھر والوں کی مرضی سے ہوئیں اور وہ دو چار بچوں کی مائیں بھی تھیں۔

بہرحال یہ ایک مسلمہ حقیقت اور تسلیم شدہ عالمگیر صداقت ہے کہ دنیا میں صرف وہی معاشرے ترقی کرتے ہیں جن میں خواتین کی اہمیت تسلیم کرتے ہوئے انھیں مساویانہ بنیادوں پر تمام حقوق حاصل ہوں، دنیا میں جہاں بھی صنفی برابری ہے وہاں معاشی ترقی، غربت میں خاطر خواہ کمی اور معاشرتی و خاندانی اور انسانی حالات میں بہتری رونما ہوئی ہے، باشعور، تعلیم یافتہ اور خودمختار عورت ہی مثبت ارتقا اور اعلیٰ ترقی کی علامت اور عالمگیر صداقت ہے۔ پاکستان میں خواتین آبادی کا 52 فیصد ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے اس 52 فیصد آبادی کو تمام مسائل ذہنی و جسمانی تشدد، ظالمانہ رسم و رواج، غربت تعلیم سے محرومی دوہری ذمے داریوں اور ملکی ناموافق و نامساعد حالات میں مذہبی و معاشرتی انتہا پسندی سے خاطر خواہ بنیادوں پر جلدازجلد ٹھوس مثبت اقدامات کرکے نجات دلائی جائے اور ان کے حقوق، خوداعتمادی اور عزت نفس کو حقیقی معنوں میں بحال کیا جائے۔

ہمارا دین اسلام درحقیقت دین فطرت ہے۔ اسلام ہی وہ واحد دین ہے جس نے عورت کو دنیا میں سب سے پہلے اور وسیع ترین حقوق دیے اس سے قبل عورت کو انسانی معاشرے میں وہ اہمیت وحیثیت اور وقعت حاصل نہ تھی جو بعدازاسلام خواتین کو حاصل ہوئی۔ خالق کائنات نے عورت کو صنف نازک بنایا وہ جتنی نازک ہے اتنی ہی قیمتی بھی ہے۔ ایک مرتبہ رحمۃ اللعالمینؐ نے دیکھا کہ ساربان (اونٹ چلانے والا) اونٹوں کو تیز دوڑا رہا تھا جب کہ اونٹوں پر خواتین سوار تھیں تو آپؐ فکر مند ہوئے اور اسے اونٹ تیز دوڑانے سے منع کیا، فرمایا ’’یہ قواریر ہیں‘‘ (یعنی خواتین کو آبگینے “Crystals” یعنی موتی قرار دیا کہ یہ موتی کہیں ٹوٹ نہ جائیں) اس خوبصورت مثال سے نبی رحمتؐ نے خواتین کی حفاظت، اہمیت و حیثیت اور قدر و منزلت کو بخوبی واضح فرمایا ہے اور ماں کے قدموں تلے جنت کی بشارت دی اور دنیا میں سب سے زیادہ حسین سلوک کا حقدار و مستحق ماں کو قرار دیا اور دنیا کی نعمتوں میں سے بہترین نعمت نیک بیوی کو قرار دیا اور نکاح کے پاک رشتے کے بعد مہر کی ادائیگی بیوی کا اولین حق قرار دیا اور جو جان بوجھ کر مہر ادا نہ کرے اسے ’’زناکار‘‘ قرار دیا اور جو شخص اپنے گھر والوں کے ساتھ خوش اخلاق اور بہترین سلوک کرنے والا ہو اسے بہترین انسان قرار دیا یہ بھی فرمایا کہ بیوی بچوں پر خرچ کرنا بھی صدقہ ہے۔

بیٹی کو زندہ درگور کرنے سے روکا، تعلیم کا حق دیا، دو یا ایک بیٹی کی اچھی پرورش کرنے والے کو جنت کی بشارت دی، وراثت میں حصہ اور اپنی جائیداد کو اپنی ملکیت میں رکھنے کا حق دیا، مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں کو بھی نیک اعمال کا پورا پورا اجر ملنے اور حق تلفی نہ ہونے کی بشارت سنائی، حجۃ الوداع کے موقع پر رسول کریمؐ نے عورت کو مکمل تحفظ دیتے ہوئے فرمایا کہ ’’عورتوں کے بارے میں (اللہ سے) ڈرو‘‘ حقوق نسواں کا دراصل محافظ اسلام ہی ہے یہ اور بات ہے کہ آج کا مسلمان خود ان روشن احکام سے دور ہے اتنی جگمگاتی ہدایات اور واضح تعلیمات کے بعد بھی یہ کیسا عجب المیہ ہے کہ ہمارے ہی معاشرے میں عورت کی قدر مسلسل روبہ زوال اور عبرت کدہ ہے، ہمارے دیگر معاشرتی مسائل کی طرح چراغ تلے اندھیرے کی۔ پر یہ بھی ایک غور طلب اور سبق آموز و عبرت انگیز مثال ہے جس کی وجہ سے ہمارا سر دنیا کی دیگر نام نہاد مہذب اقوام کے سامنے شرم سے جھک جاتا ہے جن کے پاس اسلام جیسا مکمل کوئی ضابطہ حیات نہیں لیکن پھر بھی وہ تہذیب و شائستگی، اخلاقیات اور انسانیت میں ہم سے بہت آگے ہیں اور قابل تعریف بھی۔

Comment on this post