ٹائپ 2 ذیابیطس - Type 2 Diabetes

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ

ٹائپ 2 ذیابیطس - Type 2 Diabetesٹائپ 2 ذیابیطس - Type 2 Diabetes

 انسان علاج تو اسی لیے کرتا ہے کہ وہ صحت مند ہوجائے اور جلد از جلد ادویات کھانے سے چھٹکارا حاصل کرلے لیکن اب سائنس دانوں نے یہ بتا کر مریضوں کو اور بھی پریشان کردیا ہے کہ بعض مریضوں میں ٹائپ 2 ذیابیطس کے لیے لی جانے والی ادویات کے نقصانات ان کے فوائد سے زیادہ ہوتے ہیں۔

یہ تحقیق جریدے جرنل آف امریکن میڈیسن انٹرنل میڈیسن میں چھپی ہے جس میں یہ دلیل دی گئی ہے کہ ان ادویات کا سب سے کم فائدہ عمر رسیدہ افراد کو ہوتا ہے۔ جو ادویات کے مسلسل استعمال کے باوجود بیماری سے چھٹکارا حاصل نہیں کر پاتے لہذا یونیورسٹی کالج لندن کی ٹیم نے ڈاکٹروں سے کہا ہے کہ وہ اس بیماری کے خطرات کے بارے میں ذیابیطس کے مریضوں سے کھل کر بات کریں۔ برطانیہ کے فلاحی ادارے ذیابیطس یو کے کا کہنا ہے کہ ڈاکٹروں کو اس بیماری کا علاج تجویز کرنے کے دوران محتاط رویہ اپنانے کی ضرورت ہے۔

ٹائپ 2 ذیابیطس وہ بیماری ہے جس میں خون میں شکر کی مقدار قابو سے باہر ہو جاتی ہے جس کی بڑی وجہ خوراک  میں زیادتی اور موٹاپا شامل ہیں۔ لیکن خطرناک  بات یہ ہے کہ اس سے دل کی بیماری، گردوں کو نقصان، اعصاب کی خرابی یہاں تک کہ بینائی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ اس کے علاج کے لیے میٹ فورمن جیسی ادویات استعمال کی جاتی ہیں جو خون میں شکر کی مقدار کو کم کرنے کے علاوہ مرض کے دیگر اثرات کو بھی روک سکتی ہیں۔

یونیورسٹی آف مشی گن کی جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 45 برس کا شخص اگر اپنے خون میں شکر کی مقدار ایک فیصد تک بھی کم کردے تو وہ 10 ماہ تک صحت مند زندگی گزار سکے گا، لیکن اگر کوئی 75 سالہ شخص شکر ایک فیصد کم کرے تو اسے صحت مند زندگی کے صرف 3 ہفتے میسر آئیں گے۔ اس کے علاوہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ زندگی بھر ادویات لینے کے اپنے مسائل ہیں جن میں شوگر چیک کرنے کے لیے روزانہ خون کے ٹیسٹ، ادویات کے مضر اثرات، اور انسولین سے خون میں شکر کی مقدار میں خطرناک حد تک کمی واقع ہونا شامل ہیں۔

پروفیسر جان یوڈکن کاکہنا ہے کہ اگر آپ ٹائپ 2 ذیابیطس کے مریض ہیں تو یہ جاننا آپ کا حق ہے کہ عمر میں اضافے یا دل کے دورے میں کمی کے حوالے سے علاج کے فوائد کیا ہیں جس کے بعد آپ کو فیصلہ کرنے میں آسانی ہو گی۔ انھوں نے کہا کہ ڈاکٹر اپنی توجہ صرف شکر کی مقدار پر مرکوز کرتے ہیں۔ اس رپورٹ کے نتائج ٹائپ ون ذیابیطس پر لاگو نہیں ہوتے۔

 

Comment on this post