بے گھر لوگوں کا سنگین انسانی مسئلہ

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ

بے گھر لوگوں کا سنگین انسانی مسئلہبے گھر لوگوں کا سنگین انسانی مسئلہ

دنیا میں بے گھر لوگوں کی تعداد میں جس تیزی کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے وہ عالمی برادری کے لیے انتہائی تشویش کا باعث ہے۔ اس گمبھیر صورتحال پر ہمیں شاعر کا یہ خوبصورت طنزیہ شعر یاد آ رہا ہے جو حرف بہ حرف حسب حال ہے:

چین و عرب ہمارا ‘ہندوستان ہمارا

رہنے کوگھر نہیں ہے سارا جہاں ہمارا

سب سے زیادہ دکھ کی بات یہ ہے کہ ان میں آدھے سے زیادہ اجڑے ہوئے لوگوں کی تعداد بچوں پر مشتمل ہے۔ پناہ گزینوں سے متعلق اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر کے ادارے کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق دوسری عالمگیر جنگ کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ اتنی کثیر تعداد میں لوگ بے گھری کا شکار ہوئے ہیں جن کی مجموعی تعداد پانچ کروڑ سے تجاوز کرگئی ہے۔ بس جس کے سینگ جہاں سما رہے ہیں وہ وہیں پناہ لے رہا ہے۔ اس طرح یہ بے چارے دنیا کے مختلف ممالک میں بکھرے ہوئے ہیں اور زندگی کے دن قید بامشقت کی طرح کاٹ رہے ہیں۔

اٹھائیس ہزار نونہال ایسے ہیں جنھوں نے دنیا کے 77ممالک کو پناہ لینے کے لیے اپنی درخواستیں پیش کی ہوئی ہیں۔ ان میں سے کتنی درخواستیں منظور ہوں گی اور کتنی مستردکردی جائیں گی اس بارے میں یقین سے کچھ بھی کہنا ممکن نہیں ہے۔ سیدھی سی بات یہ ہے کہ یہ سب قسمت کا کھیل ہے۔ جو مقدر کا سمندر ہوتا ہے اسے پناہ مل جاتی ہے اور قسمت کی دیوی جس سے روٹھی ہوئی ہوتی ہے وہ در بہ در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہوتا ہے کیونکہ بہ قول شاعر:

تقدیر کے ہاتھوں میں کھلونا ہے آدمی

اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں کہ ان بے گھر نونہالوں کا تعلق ملک شام سے ہے جو آج کل شدید ترین انتشار اور خلفشار کا شکار ہے۔ اس ملک سے بے گھر ہونے والے بھولے بھالے بچوں کی تعداد 1.1 ملین کے لگ بھگ ہے۔ ایک عام اندازے کے مطابق ان میں سے 75 فیصد بچوں کی عمر 12 سال سے بھی کم ہے۔ نفسیاتی اعتبار سے یہ عمر انتہائی نازک ہوتی ہے اور اس عمر کے اثرات و مضمرات انسانی زندگی پر بڑے گہرے اور انمٹ نقوش ثبت کرتے ہیں جنھیں فراموش کرنے کی بڑی سے بڑی کوشش بھی بمشکل ہی کامیاب ہوتی ہے۔ یہ بناؤ اور بگاڑ کی عمر ہوتی ہے۔ آج دنیا بھر میں جتنے بھی پناہ گزین مصائب و مسائل سے نبرد آزما ہیں انھیں یکجا کرکے اگر ایک الگ ملک آباد کردیا جائے تو افرادی تعداد کے لحاظ سے وہ دنیا کا چوبیسواں گنجان آباد ملک ہوگا۔

یہ کتنا بڑا المیہ ہے کہ آج انسانوں کی ایک بہت بڑی تعداد ان بدنصیبوں پر مشتمل ہے جن کے پاس اپنا کوئی گھر نہیں ہے۔ ان مظلوموں کے ہونٹوں پر بس یہی صدا ہے:

اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے

مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے

بے گھر لوگوں کے دکھ کا اندازہ صرف وہی شخص کرسکتا ہے جو کبھی بذات خود اس کڑی آزمائش سے گزرا ہو۔ ہندی کی ایک بڑی مشہور کہاوت ہے کہ ’’گھائل کی گت گھائل جانے۔‘‘ قیام پاکستان کے وقت 1947 کے فسادات کا شکار ہونے والے ہم جیسے پناہ گزینوں کو بے گھر ہونے کی کیفیت کا خوب اندازہ ہے۔ اس حوالے سے ہمیں کسی شاعر کا یہ شعر اکثر یاد آجاتا ہے:

ہوا سے اتنی محبت کہ ہم نے بے سوچے

گھروںسے رکھ دیے لاکر چراغ صحرا میں

اپنا گھر کوئی اتنی آسانی سے نہیں چھوڑ سکتا خواہ یہ جھونپڑا ہی کیوں نہ ہو۔ دراصل حالات کا جبر اتنا بڑھ جاتا ہے کہ انسان اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔

نقل مکانی کی بھی کئی صورتیں ہوتی ہیں۔ بعض لوگ تلاش معاش کی خاطر اپنا گھر چھوڑ کر گاؤں دیہات سے شہروں کا رخ کرتے ہیں جب کہ بعض لوگ اسی غرض سے وطن عزیز سے دیار غیر چلے جاتے ہیں۔ مگر یہاں ہمارا موضوع بحث وہ لوگ ہیں جو گردش حالات سے گھبرا کر ترک وطن پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ اس وقت لبنان اور اردن وہ دو ممالک ہیں جہاں شام کے اجڑے ہوئے لوگ بڑی تعداد میں نقل مکانی کرکے پناہ حاصل کر رہے ہیں۔ اس سے قبل افغانستان اور عراق کی جنگ سے متاثر ہونے والے بے گھر لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد نے پاکستان اور ایران کا رخ کیا تھا۔

اب آپریشن ضرب عضب شروع ہونے کے نتیجے میں متاثرہ علاقوں کے لوگ اپنے گھر بار چھوڑ کر دوسری جگہوں کا رخ کر رہے ہیں۔ ایک سرسری اندازے کے مطابق یہ تعداد دو سے تین لاکھ کے لگ بھگ ہوگی۔ خیال ہے کہ میران شاہ اور میر علی کے شورش زدہ علاقوں کے تقریباً 80 فیصد لوگ اپنے گھر بار چھوڑ کر دوسرے علاقوں میں پناہ لے چکے ہیں۔ حکومتی اقدامات اور انتظامات کے باوجود اس نقل مکانی کے بھی اسی طرح بے شمار نتائج برآمد ہونے کا اندیشہ ہے جس طرح کے نتائج روس کے خلاف لڑی گئی افغان جنگ کے بعد برآمد ہوئے تھے۔

دنیا کی بڑی طاقتوں کے درمیان لڑی جانے والی خوفناک جنگوں کی مثال مست ہاتھیوں کی لڑائی کی طرح ہے جس کے نتیجے میں گھاس خواہ مخواہ روندی جاتی ہے۔ یہ بڑی طاقتیں اپنے اپنے مفادات کی خاطر چھوٹے ممالک کو اکھاڑہ تو بنا لیتی ہیں لیکن اس تصادم کے خوفناک اور ہولناک نتائج بالآخر چھوٹے ممالک کو ہی بھگتنے پڑتے ہیں اور یہ ایک لامتناہی سلسلہ بن جاتا ہے جو کبھی ختم ہونے میں ہی نہیں آتا۔ خود وطن عزیز عرصہ دراز سے افغان جنگ کے نتائج بھگت رہا ہے جن کی گتھی سلجھنے کے بجائے وقت گزرنے کے ساتھ مزید الجھتی ہی جا رہی ہے۔

سب سے بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ ’’لڑاؤ اور حکومت کرو‘‘ کی پالیسی پر گامزن دنیا کی بڑی طاقتیں انسانی ہمدردی کے نام پر متاثرین کی امداد کے لیے دنیا دکھاوے کی خاطر جو فنڈز فراہم کرتی ہیں ان کی حیثیت اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہوتی ہے۔ پھر اس امداد کے پیچھے بھی بہت سی مصلحتیں پوشیدہ ہوتی ہیں جن کا خمیازہ بھی وقتاً فوقتاً بھگتنا پڑتا ہے۔

امریکا نے افغانستان اور عراق میں جو گل کھلائے ہیں وہ کسی سے بھی پوشیدہ نہیں ہیں۔ ان دونوں ممالک کی سیاسی ابتری کا سارا نزلہ ان کے پڑوسیوں پر ہی آکر گرا ہے۔ گویا کرے کوئی بھرے کوئی اور۔ بڑی طاقتوں، خصوصاً امریکا کی بے حسی کا اندازہ صرف اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اقوام متحدہ نے امداد دینے والے ممالک سے اس سال متاثرین کی خاطر 16.9 بلین ڈالر کی امداد طلب کی تھی جب کہ اب تک اسے اس رقم کا صرف 30 فیصد حصہ ہی موصول ہوا ہے۔

امریکا نے عراق میں اب پھر ایک نیا شوشہ چھوڑ دیا ہے جس کے نتیجے میں وہاں ایک مرتبہ پھر ایک سنگین بحران پیدا ہوگیا ہے اور اس کے نتیجے میں وہاں نت نئی پیچیدگیاں جنم لے رہی ہیں۔ قصہ مختصر بے گھر شہری خواہ شام سے تعلق رکھتے ہوں یا دنیا کے کسی اور خطے سے، ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے اور ان کی آیندہ آنے والی نسلوں کا مستقبل انتہائی تاریک اور بالکل غیر یقینی ہے۔ وہ محض حالات کے رحم و کرم پر ہیں۔ حالات کے سیلاب کے تھپیڑے انھیں اور ان کی آنے والی نسلوں کو جس رخ پر بھی لے جائیں گے، انھیں اسی رخ پر جانا پڑے گا۔ کڑوا سچ یہ ہے کہ اقوام متحدہ کا ادارہ اپنے فرائض ادا کرنے میں بری طرح ناکام ہوچکا ہے اور دکھی انسانیت بے یارو مددگار کسمپرسی کی حالت میں بری طرح تڑپ رہی ہے۔

 

Comment on this post