تحریک انصاف کا احتجاج اور نواز لیگ کی صورت حال

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ

تحریک انصاف کا احتجاج اور نواز لیگ کی صورت حالتحریک انصاف کا احتجاج اور نواز لیگ کی صورت حال

دو ماہ پہلے نواز لیگ کی حکومت شدید بحران کا شکار تھی ۔ جلد بازی اور گزشتہ تجربات سے نہ سیکھنے کی ریت گلے پڑ چکی تھی ۔ فوج ناراض تھی ۔ ذرایع ابلاغ دھنائی کر رہے تھے ۔ ایک میڈیا گروپ سے تعلقات پالنے کا لائحہ عمل گلے کا پھندا بن چکا تھا ۔ لوڈ شیڈنگ کے ستائے ہوئے عوام بڑے پرا جیکٹ پر اخراجات دیکھ کر سیخ پا ہو رہے تھے ۔ طالبان کے ساتھ جنگ تھی نہ امن ۔ حریف اور حلیف دونوں سوچ رہے تھے کہ یہ حکومت اب گئی کہ کب گئی ۔ پاکستان تحریک انصاف نے اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے حکومت مکائو مہم کا فیصلہ کر لیا۔

دو ماہ بعد نوازشریف حکومت اب بھی کئی مسائل سے دو چار ہے۔ انداز حکمرانی بھی وہی ہے اور بہت سے معاملات میں انداز فکر بھی پرانا ہے۔ بہترین انداز حکومت کے ثمرات حقیقت کم اور اشتہاری مہم زیادہ ہے۔ تحریک انصاف ، پاکستان عوامی تحریک ، پاکستان مسلم لیگ ق ایک بڑے حملے کی تیاری مکمل کر چکے ہیں ۔ حکومت کے جانے کی افواہیںگردش کر رہی ہیں ۔ مگر اس کے باوجود دو ماہ پہلے کی سی کیفیت نہیں ہے ۔

نواز لیگ نے ساٹھ دنوں میں اپنے قلعے کو مضبوط کرنے میں غیر معمولی پیش رفت کی ہے ۔ اس کی چند ایک وجوہات ہیں۔ پہلی اور بڑی وجہ فوج کے ساتھ معاملات کو سدھارنے کی شعوری کوشش ، آپریشن ضرب عضب نے راولپنڈی کے غضب کو کافی حد تک کم کر دیا ہے ۔ فوج کے ساتھ چوہدری نثار علی خان اور شہباز شریف کی ملاقاتوں نے تعیناتیوں ، وسائل کی فراہمی ، میڈیا میں کا فی زاویوں سے چلائی جانے والی تحریک اور جنرل پرویز مشرف کے مستقبل جیسے بہت سے مسائل پر پیدا ہونے والی زہر آلودہ فضا کو صاف کیا ہے۔

گزشتہ ہفتے ہونے والی قومی سلامتی کانفرنس کی تفصیلات مختلف ذرایع سے سامنے آ چکی ہے۔ آرٹیکل 245 پر اپوزیشن کے تحفظات کا جواب جنرل راحیل شریف نے خود دے کر اس تنازعے کو کافی حد تک کم کرنے میں مدد دی ہے ۔ چودہ اگست کو وزیر اعظم اور فوج کے سربراہ زیارت میں بانی پاکستان کی رہائشگاہ پر اکٹھے موجود ہوں گے ۔ یہ وہ دن ہے جب تحریک انصاف حکومت کو گرانے کے لیے اسلام ٓباد میں احتجاجی دستے اکٹھی کر رہی ہوگی۔

طاقت کے کھیل میں ایک تصویر و تردید شدہ جملے اور ان کے جاری کرنے کا وقت انتہائی اہم ہوتا ہے ۔ نواز لیگ کے سر پر سیاسی چیلنج کے بادل یقینا گہرے ہو رہے ہیں مگر فوج  کے ساتھ سدھرتے ہوئے معاملات اس کے لیے کچھ تقویت کا باعث یقیناً ہوں گے۔ یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ فوج حکومت کی ممکنہ یا متوقع بے وقوفیوں یا غلط فیصلوں کے دفاع پر بھی مائل ہو گی؟ بد قسمتی سے نواز شریف حکومت کے بارے میں یہ تصور بہت گہرا ہو چکا ہے کہ وہ مشکل وقت پڑنے پر سب کچھ مان لیتی ہے مگر حالات موافق ہوتے ہی پرانے طور طریقوں واپس آ جاتے ہیں۔

حکومت کی مشکلات میں کمی کی ایک اور وجہ تحریک انصاف کی پالیسیاں ہیں۔ انتخابات میں دھاندلی ، ایک خاص خاندان کی حکمرانی اور ملک میں پھیلی ہوئی بے چینی پر عمران خان کی تنقید نواز لیگ کے سیاسی مخالفین کو تحریک انصاف کی طرف مائل کرتی ہے۔ بہت سے غیر جانب دار حلقے اس کی حمایت بھی کرتے تھے ۔ مگر اس کے بعد عمران خان نے اپنی سیاست کا گیئر بدلا اور یک دم گردن توڑ رفتار پر گاڑی بھگا دی۔ انھوں نے یہ نہیں دیکھا کہ ان کے ساتھ آواز سے آواز ملانے والی کتنی قوتیں ان کا کتنا ساتھ دے سکتی ہیں یا دینا چاہتی ہیں۔

منصفانہ انتخابات اور دھاندلی کی ایف آئی آر کو انھوں نے اپنی جانب سے طے کیے ہوئے اس فیصلے میں تبدیل کر دیا کہ نواز شریف کی حکومت کو گرانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ۔ شاید اس منزل کو پانے کے لیے ان کے ساتھ کئی جماعتیں کھڑی ہو جائیں ۔ اگر انھوں نے تمام صوبائی اسمبلیوں کے خاتمے کوبھی اپنے ایجنڈے کا حصہ نہ بنایا ہوتا ’’ یہ سب دھاندلی کا نتیجہ ہے‘ اس کو جانا ہو گا ‘‘ ۔ عمران خان کے ان دو جملوں نے سب کے کان کھڑے کر دیے ، وہ جو ان کو تبدیلی کا ذریعہ بنا رہے تھے اب ان پر سیاسی فساد کا الزام لگا رہے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں اس کا جارحانہ پن سب سے خطرناک نظر آ رہا ہے۔

جماعت اسلامی اپنے تمام تر سیاسی تدبر، سیاسی ضبط اور عمل کے باوجود اپنے لیے علیحدہ راستہ سوچنے پر مجبور ہو گئی ہے ۔ سیاسی ثقافت اور اتحادیوں کے حقوق کو بالائے طاق رکھتے ہوئے جس طرح عمران خان نے امیر جماعت اسلامی سراج الحق پر دروازہ بند کیا ہے ، جماعت اسلامی اس کو بھی ہضم نہیں کر پائے گی ۔باوجود اس کے منصورہ سے جاری ہونے والا بیان انتہائی دھیما ہے مگر بڑھتے ہوئے اندرونی دباؤ کو بھاپنے کے لیے جماعت اسلامی کے صرف ایک دو عہدیداروں سے بات کرنا کافی ہے۔

دوسری جماعتوں کو بھی یہ پیغام دینا کہ ان میں سے کوئی سیاسی مفاہمت کے لیے عمران خان کے پاس نہ آئے۔ تحریک انصاف اکیلی اڑان کو مزید اکیلا بنا رہی ہے۔ طاہر القادری کے جارحانہ اور شہادت کے حیرت انگیز بیانات اور عمران خان کے ساتھ نظریاتی اور عملی اتحاد تمام مقتدر سیاسی جماعتوں کو تحریک انصاف سے کہیں دور لے گئے ہیں۔ ان کے بیانات نے ہر کسی کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ قومی سطح پر کوئی ایسا بحران پیدا ہو سکتا ہے جس سے یہ ملک عراق والی کیفیت میں چلا جائے ۔

تحریک انصاف نے قومی اتفاق رائے کی ضرورت کو چھوڑ دیا ہے ۔ عمران خان  یہ ورلڈ کپ جیتنے کا سہرا اپنے سر کرنا چاہتے ہیں، وہ جیتنے کی آخری تقریر اپنے حوالوں سے تحریر کرنا چاہتے ہیں۔ مگر سیاست کرکٹ نہیں ہے ۔ اس میں اپنے ساتھ کھیلنے والوں کو عاق نہیں کیا جا سکتا ۔ پاکستان میں کوئی سیاسی جماعت یا قیادت اتفاق رائے کے بغیر بڑی تبدیلی نہیں لا سکتی ۔ پاکستان جیسے ملک میں انفرادی کامیابی کی گنجائش بہت کم ہے۔

پاکستان تحریک انصاف نے اس حقیقت کو نظر انداز کر کے نواز لیگ کے لیے حالات بہتر کرانے میں مدد دی ہے ۔ اگر عمران خان تبدیلی کے نام پر خود کو مسلسل ایسے سیاسی احتجاجی کا داعی بنائے رکھیں گے جس کے نتیجے میں ملک عدم استحکا م اور غیر یقینی بڑھتی چلی جائے گی تو نواز لیگ کو کمزور نہیں بلکہ مستحکم بنائے گی ۔ فی الحال ان کا رویہ ایسا ہی ہے۔

حکومت گرائے بغیر نہ جانے کا فیصلہ تحریک انصاف کو اس نقطہ پر لے آیا ہے جہاں پر فوج کی پس پردہ ثالثی کے علاوہ دو اور رستے باقی ہیں ۔ عمران خان اور تحریک انصاف کے لیے سیاسی شرمندگی یا اسلام آباد میں ایسا جھگڑا جو فوج کو انتظامی باگ ڈور سنبھالنے پر مجبور کر دے ۔ یہ دونوں صورتیں تحریک انصاف کی سیاست کو نا قابل تلافی نقصان پہنچائے گی ۔ مخالفین کو ڈبونے کے ساتھ ، خود کو ڈبونے کا بندوبست دانش مندانہ سیاست کی مثال نہیں ہے ۔ مگر پھر دانش مندی کو حاصل کون کرنا چاہتا ہے یہاں پر ایک طرف معاملہ ہر صورت میں وزیر اعظم رہنے کا ہے یا دوسری طرف ہر صورت وزیر اعظم بننے کا ہے۔

طلعت حسین

 

Comment on this post