جب سٹیٹ رٹ کرین سے لٹک جائے

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ

جب سٹیٹ رٹ کرین سے لٹک جائے

اب بات چیت اور مذاکرات کا فیشن نہیں رہا۔ وہ دن گئے جب تبدیلی بذریعہ ٹینک آتی تھی۔ یہ مہذب اور جمہوری زمانہ ہے لہذا پہلے عوام کے پر زور اصرار پر الیکشن کے ذریعے ایک منتخب حکومت قائم ہونے دی جاتی ہے اور پھر اسی منتخب حکومت کے پیچھے ہارنے والوں کو لگا کر سٹیٹ رٹ دوبارہ قائم کر لی جاتی ہے۔

مثلاً مصر میں پہلے محمد مرسی کو انتخاب جیتنے دیا گیا اور جب محمد مرسی نے خود کو صدر بھی سمجھنا شروع کردیا اور اپنی محدود عقل استعمال کرتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ کو ری ڈیزائن کرنے کا کام شروع کر دیا تو پھر ایک ٹروجن ہارس بنا کر اس پر عوامی طاقت لکھا گیا اور اس ٹروجن ہارس کو ایک مجمع نے اپنے کندھوں پر اٹھا لیا اور صدارتی محل کے سامنے جا کے رکھ دیا۔

پھر یہ ٹروجن ہارس جادو کے زور پر زندہ ہوگیا اور اس نے محمد مرسی کے آمرانہ رویے کو اپنے سموں تلے کچلتے ہوئے لال سڑکوں اور اپنے جوتوں کو پانی سے دھو کر سٹیٹ رٹ دوبارہ سے قائم کردی اور یوں سب ایک بار پھر پہلے کی طرح ہنسی خوشی رہنے لگے۔

یہی سکرپٹ تھائی لینڈ میں بھی کام آیا۔ جب شناواترا خاندان نے بھٹو خاندان بننے کی کوشش کی اور اسٹیبلشمنٹ کی خواہشات کے برعکس تیسرا الیکشن بھی جیت لیا تو پہلے ہارنے والوں کو منتخب حکومت کا گھیراؤ کرنے کی کھلی چھوٹ دی گئی اور جب اس گھیراؤ سے سٹیٹ رٹ کمزور ہونے لگی تو فریقین سے کہا گیا کہ معاملات مذاکرات کے ذریعے حل کیے جائیں۔

’بارات تو ڈی چوک تک پہنچ گئی ہے اب سٹیٹ رٹ کے گھوڑے پر سوار دولہا بھی آتا ہی ہوگا‘

خوبرو وزیرِ اعظم محترمہ ینگلک شناواترا کی حکومت مڈٹرم الیکشن کروانے کے لیے بھی تیار ہوگئی مگر گھیراؤ کرنے والوں نے کہا کہ اب وقت اس کا بھی وقت گزر چکا ہے۔

اب تو پہلے کرپشن اور خاندانی آمریت کا اصطبل صاف ہوگا اس کے بعد کوئی بات ہوگی چنانچہ بادلِ نخواستہ سٹیٹ رٹ قائم کرنے کے لیے بادشاہ کی اجازت سے دل پر پتھر رکھ کے تھائی فوج کو اقتدار عارضی طور پر ہاتھ میں لینا پڑ گیا۔ تب سے وہاں سٹیٹ رٹ پوری طرح بحال ہے اور کسی کو بھی نئے الیکشن کی جلدی نہیں۔

امریکہ، یورپی یونین اور اقوامِ متحدہ وغیرہ کو ایسی حرکتیں بالکل پسند نہیں لیکن ان سب کی اچھی بات یہ ہے کہ جب سٹیٹ رٹ قائم کرنے والے اپنی مجبوری بتاتے ہیں تو عالمی محلے کے وضع دار بزرگ بھی یہ کہتے ہوئے مان جاتے ہیں کہ اب تو یہ حرکت کر لی، آئندہ ایسے مت کرنا ورنہ بہت کان کھینچوں گا۔ چل آ ہن چا پی لے میرے نال۔۔۔

مصر اور تھائی لینڈ میں سٹیٹ رٹ قائم کرنے کا یہ فارمولا اتنا مجرب اور کامیاب ثابت ہوا ہے کہ اب اسے کسی اور ملک میں دہرانے میں کوئی حرج نہیں۔

جب کل رات پاکستان کے تمام ٹی وی چینلز پارلیمنٹ کے قریب کرین سے لٹکے ہوئے لوگ دکھا رہے تھے تو مجھ جیسے دانشورانہ موتیے میں مبتلاؤں کو یوں نظر آیا جیسے سٹیٹ رٹ کرین سے جھول رہی ہے۔

مگر مجھے آئی ایس پی آر کے جاری کردہ اس بیان سے خاصا اطمینان ہوا کہ فریقین صبرو تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے بات چیت سے معاملات حل کرنے کی کوشش کریں۔

قاہرہ اور بنکاک کے آئی ایس پی آر نے بھی آخری دنوں میں ایسی ہی دردمندانہ اپیل کی تھی ۔

بارات تو ڈی چوک تک پہنچ گئی ہے اب سٹیٹ رٹ کے گھوڑے پر سوار دولہا بھی آتا ہی ہوگا۔( میرے منہ میں خاک )۔

 

Comment on this post