خان صاحب اب بس کریں

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ

خان صاحب اب بس کریںخان صاحب اب بس کریں

مارچ 2007ء کو ملک کے تین بڑے حساس اداروں کے سربراہان نے اس وقت کے صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کو ایک رپورٹ پیش کی۔ جس میں بتایا گیا تھا کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری پر ہلکا سا بھی دباؤ ڈالا جائے گا تو وہ مستعفی ہو جائیں گے۔ مگر 9 مارچ کو تمام منصوبہ بندی دھری کی دھری رہ گئی اور معاملہ الٹ ہو گیا۔ انٹیلی جنس رپورٹ کے برعکس افتخار محمد چوہدری مستعفی ہونے کے بجائے اصولوں پر ڈٹ گئے۔ اسی طرح 17 فروری 2008ء تک فوجی صدر کو یہی رپورٹیں دی جا رہی تھیں کہ ملک بھر سے مسلم لیگ (ق) بھاری اکثریت سے کامیاب ہو جائے گی مگر ساری منصوبہ بندی کی حقیقت پرویز مشرف کے سامنے 18 فروری کی شام کو سرکاری ٹی وی کے نیوز روم میں اس وقت آشکار ہوئی جب ہر حلقے سے (ق) لیگ کے امیدوار کی شکست کے نتائج نیوز روم کو موصول ہو رہے تھے اور پرویز مشرف پریشانی سے بار بار اپنا پسینہ صاف کر رہے تھے۔ پریشانی کے عالم میں پرویز مشرف اور تو کچھ نہ کر سکے پر ناکام منصوبہ بندی پر میجر جنرل نصرت نعیم کو جھاڑ پلا کر واپس ایوان صدر چلے گئے۔

قرآن کریم میں اللہ فرماتا ہے ایک چال تم چلتے ہو اور ایک چال ہم چلتے ہیں مگر کامیاب صرف ہم ہی ہوتے ہیں۔ مگر نہ جانے کیوں ہمارے ارباب و اختیار قرآن کی اس آیت کو بھول جاتے ہیں۔ ملک میں اب بھی حالات ماضی سے کچھ مختلف نہیں ہیں۔ ایک مرتبہ پھر کسی نے منصوبہ بندی کی کہ علامہ طاہر القادری اور عمران خان کے ذریعے اسلام آباد پر لشکر کشی کی جائے تو منتخب وزیر اعظم کو مستعفی کرایا جا سکتا ہے۔ مگر منصوبہ بندی ناکام تو اس وقت ہوئی جب دونوں رہنما اپنے اپنے قافلوں کے ہمراہ دارلحکومت میں داخل ہوئے تو استقبال کے لئے لاکھوں کا دعوی کرنے والے قائدین کو محض چند سو افراد نے خوش آمدید کہا۔ آبپارہ میں جلسہ گاہ میں پہنچے تو کپتان کے پاس تو صرف چند سو افراد تھے البتہ علامہ قادری کے پیروکاروں کی تعداد ہزاروں میں تھی۔ پھر منصوبہ بندی تھی کہ ملک کے سب سے اہم حساس علاقے ریڈ زون پر چڑھائی کا کہیں گے تو انتظامیہ سخت ردعمل کے طور پر لاٹھی چارج کرے گی اور مقصد حاصل ہو جائے گا۔ مگر رب کریم کی چال کچھ اور تھی۔ عمران کے آزادی اور علامہ قادری صاحب کے انقلاب مارچ کا کوئی نتیجہ نکلے نہ نکلے مگر دونوں کے اس پیدا کردہ بحران نے ملک کی حقیقی دائیں اور بائیں بازو کی دو جماعتوں میں نئی روح پھونک دی ہے۔ اس سارے بحران میں جماعت اسلامی اور پیپلز پارٹی کا نیا جنم دکھائی دے رہا ہے۔ قاضی حسین احمد کے بعد جو خلا پیدا ہوا تھا آج جماعت اسلامی میں پُر ہوتا نظر آ رہا ہے جبکہ پیپلز پارٹی واقعتا ملک کی حقیقی اپوزیشن بن کر ابھری ہے۔

وفاقی دارلحکومت پر واقع شاہراہ دستور پر دھرنوں کی حالیہ صورتحال کچھ یوں ہے۔ عمران کا جنون شام کو موسیقی سے لطف اندوز ہونے کے لئے دارلحکومت کے پوش علاقوں سے نمودار ہو جاتا ہے ، جبکہ علامہ قادری کے مریدین بھی آہستہ آہستہ کھسک رہے ہیں۔ گریڈ 17 سے لے کر سپریم کورٹ کے معزز جج صاحبان تک سب دھرنے کے توسط سے پیدل چل کر دفتروں میں داخل ہوتے ہیں۔ مگر دھرنا دینے اور کروانے والے شاید اس بات سے بے نیاز تھے کہ دھرنوں کا بالواسطہ نقصان میاں نواز شریف کو نہیں بلکہ ملک کی معیشت کو ہو گا۔ ان سارے حالات کا ملک کی معیشت پر گہرا اثر پڑا ہے۔ مختلف اشاعتی و نشریاتی اداروں کے محتاط اندازے کے مطابق اب تک 7 کھرب روپے کا نقصان ہو چکا ہے۔ برطانوی جریدے کی رپورٹ کے مطابق اگر یہ دھرنا مزید ایک ہفتہ جاری رہا تو پاکستان 5 سال پیچھے چلا جائے گا. موجودہ حکومت نے بھی اس مسئلے کو سنجیدگی سے حل کرنے کی کوششیں نہیں کیں۔ وزیر اعظم نے اپنی دوم کیٹگری کے وزراء کو یہ ذمہ داری سونپے رکھی اور معاملہ یہاں تک پہنچ گیا۔

وہ رمضان المبارک میں بھی اس مسئلے کو حل کر سکتے تھے۔ مگر انہوں نے عمرے کی وجہ سے آخری عشرہ سعودی عرب میں گزارنے کو ترجیح دی او ر ملکی حالات کی نزاکت سے بے نیاز عید کر کے وطن واپس لوٹے۔ پیپلز پارٹی کو بھی اپنے اقتدار کے آخری مہینوں میں علامہ قادری سے نبرد آزما ہونے کا شرف حاصل ہوا تھا۔ مگر آصف زرداری نے سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملک کے بڑے رئیل اسٹیٹ ڈیولپر کو ذمہ داری سونپی اور بالآخر معاملے کو سلجھا لیا۔ حالانکہ اس وقت حکومت پنجاب نے کہیں ناکے نہیں لگائے تھے، کسی رہنما کو گرفتار نہیں کیا تھا بلکہ علامہ قادری کو آزادی سے مارچ کی تیاریوں کی اجازت دی تھی۔ علامہ قادری سے شریف خاندان کے بہت پرانے تعلقات ہیں اور میاں نواز شریف سنجیدگی سے ترجیحی بنیادوں پر اس مسئلے کو حل کرنا چاہتے تو بآسانی کر سکتے تھے۔ مگر رمضان المبارک سے ہی اس معاملے کو لٹکایا جاتا رہا۔

دوسری جانب عمران خان کی تنقید بھی بے جا نہیں ہے۔ اگر وہ کہتے ہیں کہ تمام عہدے خاندان میں ہی بانٹ لئے جاتے ہیں تو میاں نواز شریف خود اس روایت کو ختم کر سکتے ہیں۔ امریکہ کے پہلے صدر جارج واشنگٹن لگاتار دو مرتبہ صدر منتخب ہوئے اور امریکی عوام انہیں تیسری مرتبہ بھی صدر منتخب کرنا چاہتے تھے۔ سیاسی قوتیں بھی اس پر متفق تھیں ، تب تک امریکہ کے آئین میں ایسی کوئی پابندی بھی نہیں تھی مگر واشنگٹن نے صرف یہ کہہ کر تیسری مرتبہ منتخب ہونے سے انکار کر دیا کہ میں آنے والی نسل کو کیا پیغام دوں گا۔ اسی طرح فرینکلن روز ویلٹ امریکہ کے 32 ویں صدر تھے ۔انہیں تین دفعہ لگاتار صدر منتخب کیا گیا ،مگر انہوں نے پھر آئین میں ہی ترمیم کرائی کہ دو مرتبہ سے زیادہ صدر منتخب نہیں ہونا چاہئے وگرنہ موروثی سیاست کا نظام چل پڑے گا۔

عمران خان کے دھرنے اور دھونس سے وزیراعظم کا مستعفی ہونا کسی صورت نہیں بنتا مگر اس بحران سے نکلنے کے بعد میاں نوازشریف کو خود غور کرنا چاہئے۔ نوازشریف اس وقت بھی پاکستان کے سب سے مقبول لیڈر ہیں۔ آج بھی عام انتخابات کرا کر دیکھ لیں ،شاید چند سیٹوں کا فرق آ سکتا ہے مگر مسلم لیگ ن ہی حکومت بنانے میں کامیاب ہو گی۔ نواز شریف مسلم لیگ ن کے روح رواں ہیں ۔ان کے وزیر اعظم بننے یا نہ بننے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہر شخص جانتا ہے کہ مسلم لیگ ن کو ووٹ میاں نوازشریف کے نام کی وجہ سے پڑتا ہے۔ اس لئے مناسب ہو گا کہ آپ اپنی ہی جماعت کے دیگر قابل افراد کو یہ موقع دیں۔ گاندھی جی نے کبھی کوئی عہدہ نہیں لیا تو کیا بھارتی تاریخ میں گاندھی کی اہمیت کم ہو گئی۔ گورنر جنرل تک بننے کی آفر گاندھی نے ٹھکرا دی۔ لیڈر عہدے سے بالاتر ہوتے ہیں اور آپ تو پھر بھی وہ خوش قسمت پاکستانی ہیں جو دو مرتبہ وزیر اعلی اور اب تین مرتبہ وزیر اعظم بن چکے ہیں۔ شاید تاریخ یہ اعزاز پھر کسی اور کو نہ بخشے مگر اب آپ کو خود فیصلہ کرنا ہو گا۔ عمران خان کو بھی چاہئے کہ ملک کی سیاست میں جو ان کا بھرم بن چکا ہے اس کا خیال کریں۔ وزیر اعظم کا غیر آئینی طریقے سے استعفیٰ طلب کرنا انہیں زیب نہیں دیتا۔ آپ پر اولین ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ آنے والی پاکستانی قوم کو انتخابی اصلاحات دے کر جائیں۔بے شک حکومت سے بات چیت کر کے وزارت عظمی کی مدت چار سال کرا لیں ۔ مگر اس مرتبہ ایسا مت ہونے دیں کہ پھر کہا جائے کہ فوج آتی نہیں ہے بلکہ فوج کو تو بلایا جاتا ہے۔آپ نے وزیر اعظم ویسے ہی منتخب نہیں ہونا بہتر ہوگا کہ ملک میں جمہوریت کو ڈی ریل کرنے کی کسی بھی منصوبہ بندی کا مزید حصہ مت بنیں۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

Comment on this post