عمران خان کو کس کس نے دھوکہ دیا؟

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ

عمران خان کو کس کس نے دھوکہ دیا؟
عمران خان کو کس کس نے دھوکہ دیا؟

عمران خان کو کس کس نے دھوکہ دیا؟ اس سوال کا جواب عمران خان بہت جلد دیں گے لیکن فی الحال انہیں پارلیمینٹ ہائوس اسلام آباد کے باہر جاری دھرنے سے باعزت واپسی کا راستہ تلاش کرنا ہے۔ عمران خان نے 14 اگست کو لاہور سے لانگ مارچ شروع کیا۔ پاکستان کو نواز شریف کی حکومت سے آزادی دلانے کے اس سفر میں ڈاکٹر طاہر القادری، چوہدری شجاعت حسین، شیخ رشید احمد اور بہت سے دیگر "انقلابی" بھی ان کے ساتھ تھے ۔ 14 اگست سے 24 اگست کے دوران عمران خان کی تمام تقاریر کو سامنے رکھیں تو صاف نظر آتا ہے کہ ان کے اکثر دعوے سچے ثابت نہیں ہوئے۔ میں اس نکتے پر زیادہ زور نہیں دوں گا کہ وہ دس لاکھ لوگوں اور ایک لاکھ موٹر سائیکل سواروں کو اپنے ساتھ شامل نہیں کر سکے کیونکہ یہ بات کرنے پر ان کے حامیوں کی دل آزاری ہوتی ہے اور وہ غصے میں آ جاتے ہیں ۔ میں صرف یہ عرض کرنے کی جسارت کروں گا کہ عمران خان نے 16؍اگست کو اسلام آباد میں کہا تھا کہ 17؍اگست کو اتوار کی شام فائنل میچ ہو گا۔ اس شام کوئی فائنل نہیں ہوا۔ پھر انہوں نے 21؍اگست کو کہا کہ 23؍اگست کو ہفتے کی شام امپائر اپنی انگلی کھڑی کر دے گا۔ یہ شام بھی گزر گئی ۔ نہ کوئی امپائر سامنے آیا نہ ہم نے کسی کی انگلی دیکھی البتہ عمران خان ہر شام اپنے کنٹینر کی چھت پر دونوں انگلیاں اوپر اٹھا کر رقص کرتے رہے ۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ کون تھا جس نے عمران خان کو یقین دلا رکھا تھا کہ امپائر انگلی اٹھائے گا اور نواز شریف آئوٹ ہو کر میدان سے باہر چلے جائیں گے ؟ وہ کون تھا جس نے ایک ہی دن عمران خان اور طاہر القادری کی لاہور سے روانگی کا اہتمام کیا؟ وہ کون تھا جس نے ان دونوں کی ایک ہی دن اسلام آباد آمد کو یقینی بنایا اور وہ کون تھا جس نے ایک ہی دن اور ایک ہی وقت میں ان دونوں کی اسلام آباد کے ریڈ زون پر یلغار کو یقینی بنایا ؟ عمران خان کی تقاریر کو سامنے رکھا جائے تو صاف نظر آتا ہے کہ انہیں نواز شریف کے استعفے کا یقین تھا اور وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ مڈٹرم الیکشن اسی سال ہو جائے گا لیکن نواز شریف نے استعفیٰ دیا نہ ہی مڈٹرم الیکشن کے آثار نظر آ رہے ہیں ۔

پاکستان کی سول سوسائٹی، وکلاء تنظیموں، تاجروں اور پارلیمینٹ کے اندر موجود سیاسی جماعتوں کی اکثریت نے عمران خان کی طرف سے وزیر اعظم کے استعفے کے مطالبے اور سول نافرمانی کی اپیل کو مسترد کر دیا ہے ۔ کیا یہ عمران خان کی بہت بڑی کامیابی ہے ؟14؍اگست سے قبل حکومت نے عمران خان اور طاہر القادری کے مارچ کو روکنے کیلئے لاہور کے راستے بند کرنے شروع کئے تو میرا موقف تھا کہ دونوں کو پرامن احتجاج کا حق ملنا چاہئے۔ جب یہ دونوں اسلام آباد پہنچ گئے اور دونوں نے ریڈ زون جانے کا اعلان کیا تو وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ ریڈ زون میں داخلہ ممنوع ہے ۔ اس موقع پر میرا موقف تھا کہ ریڈ زون میں پرامن احتجاج کی اجازت دینے میں کوئی حرج نہیں ۔ میرا موقف سن کر تحریک انصاف کے ایک رہنما نے مجھ سے رابطہ کیا اور کہا کہ پاکستان کی تقدیر بدلنے میں چند گھنٹے باقی ہیں آپ بڑے محتاط انداز میں ہمارے احتجاج کی حمایت کر رہے ہیں آپ کو چاہئے کہ وزیر اعظم نواز شریف کے استعفے کی بھی حمایت کر دیں تاکہ تاریخ میں آپ کا نام ان صحافیوں کے ساتھ لیا جائے جو نئے پاکستان کی تشکیل میں عمران خان کے ساتھ کھڑے تھے۔ یہ سن کر اس خاکسار نے تحریک انصاف کے اس رہنما کو ایک مشترکہ دوست کے ہاں ملاقات کیلئے بلا لیا۔

میں نے اس رہنما کو کہا کہ اسلام آباد کے گرین زون یا ریڈ زون میں احتجاج آپ کا آئینی حق ہے اس لئے میں آپ کو برحق سمجھتا ہوں لیکن جب آپ شیخ رشید احمد اور چوہدری شجاعت حسین کے ساتھ مل کر وزیر اعظم سے استعفیٰ مانگیں گے تو پھر یہ سوچنا میرا حق ہے کہ کیا 19؍اپریل کو میرے جسم کو اس لئے گولیوں سے چھلنی کیا گیا کہ چند ماہ کے بعد بندہ ناچیز اسلام آباد میں بارش میں بھیگتی لڑکیوں اور ان کے اردگرد رقص کرنے والے نوجوانوں کے ساتھ مل کر ’’گو نواز گو‘‘ کے نعرے لگائے اور عمران خان کے دائیں بائیں کھڑے پرویز مشرف کی کابینہ کے وزیر ان نعروں پر جھومتے رہیں؟ تحریک انصاف کے رہنما نے مجھے جواب میں کہا کہ آپ نے خود 2013ء کے انتخابات میں دھاندلی کو بے نقاب کیا اور آپ آج بھی اس دھاندلی کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں پھر اس دھاندلی کی پیداوار حکومت کا ساتھ کیوں نہیں چھوڑتے ؟ میں نے کہا کہ دھاندلی صرف پنجاب میں نہیںچاروں صوبوں میں ہوئی سب سے زیادہ دھاندلی بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں ہوئی آپ اس دھاندلی کا ذکر کیوں نہیں کرتے؟

تحریک انصاف کے اس رہنما نے کہا کہ شائد آپ کو شک ہے کہ ہماری اس تحریک کا اصل مقصد پرویز مشرف کو پاکستان سے باہر بھجوانا ہے اسلئے آپ ہمارا ساتھ نہیں دے رہے ۔میں نے اپنے اس مہربان کو بتایا کہ میری مشرف صاحب کے ساتھ کوئی ذاتی لڑائی نہیں ہے۔ عدالت انہیں پاکستان سے باہر جانے کی اجازت دیدے تو میں کیا کر سکتا ہوں میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ عمران خان آئین کے اندر رہ کر آئینی طریقے سے آئندہ انتخابات میں دھاندلی کا راستہ روکیں ۔ اچانک اس مہربان نے اپنے موبائل فون کی بیٹری نکال دی اور مجھے کہا کہ اپنا آئی فون کمرے کے باہر رکھ آئو۔ پھر اس نے سرگوشی کرتے ہوئے کہا کہ 23؍اگست کو پیپلز پارٹی ہمارے ساتھ آملے گی اور نواز شریف کو استعفیٰ دینا پڑے گا میں 23؍اگست کو رات دس بجے آپ کو فون کروں گا اور انشااللہ کچھ ماہ میں عمران خان وزیر اعظم ہوں گے لیکن یاد رکھئے گا ہم حکومت میں آ کر جیو ٹی وی کو نہیں چھوڑیں گے۔

23؍اگست کی صبح کا آغاز کچھ یوں تھا کہ سابق صدر پرویز مشرف کے ساتھیوں نے پارلیمینٹ ہائوس کے باہر دھرنا دینے والوں کیلئے ایک پرتکلف ناشتے کا اہتمام کیا ۔ اس ناشتے میںحلوے کی مٹھاس شامل کی گئی تھی شائد حلوے کا اہتمام کرنے والوں کو بھی یقین تھا کہ 23؍اگست نواز شریف حکومت کا آخری دن ہے ۔ اسی دوپہر کو پیپلز پارٹی کے رہنما آصف علی زرداری نے لاہور میں نواز شریف کے ساتھ ملاقات کی اور انہیں اپنی حمایت کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ وہ دھرنا دینے والوں کے ساتھ ڈائیلاگ کریں۔ یہ درست ہے کہ کچھ لوگوں نے آصف علی زرداری سے رابطہ کیا تھا اور یقین دلایا تھا کہ اگر پیپلز پارٹی عمران خان کی حمایت کرے تو سندھ میں اسکی حکومت دوبارہ آ سکتی ہے لیکن پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم نے اپنے آپ کو اس کھیل سے دور رکھا ۔ دونوں جماعتوں کو نواز شریف حکومت سے کئی شکوے شکائتیں ہیں لیکن ان دونوں کا خیال تھا کہ پنجاب کے سیاست دانوں کو کچھ ایسے لوگ آپس میں لڑا رہے ہیں جن کی دور کی نظر بہت کمزور ہے اور انہیں یہ پتہ نہیں کہ جمہوری نظام کے اوپر نیچے ہونے سے پاکستان میں کیا حالات پیدا ہونگے ۔ 23؍اگست کی شام تک نواز شریف کا استعفیٰ تو نہیں آیا البتہ عمران خان کا یہ اعلان ضرور سامنے آگیا کہ وہ اسلئے نیا پاکستان بنانا چاہتے ہیں تاکہ شادی کر سکیں ۔ یہ معلوم نہیں کہ نئے پاکستان میں شادی کی شرط بھابی نے عائد کی یا کسی اور نے۔

23؍اگست کی رات تحریک انصاف کے مہربان دوست نے مجھ سے دوبارہ رابطہ کیا اور پیپلز پارٹی پر دھوکہ دینے کا الزام لگا دیا۔ آج صبح ان کا پھر فون آیا ۔ کہنے لگے اب سمجھ آئی کہ یہ سارا کھیل عمران خان کو وزیر اعظم بنانے کیلئے نہیں بلکہ سونیا گاندھی بنانے کیلئے تھا ۔ میں نے حیرانگی سے پوچھا کہ کیا مطلب؟ فرمانے لگے کہ ہماری جماعت میں وزارت عظمیٰ کے دو تین امیدوار ایک دوسرے پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ ایسے ہی ایک امیدوار نے دوسرے پر الزام لگایا ہے کہ اسی نے عمران خان کو یقین دلایا تھا کہ 23؍اگست تک نواز شریف حکومت گر جائے گی، پھر مڈٹرم الیکشن سے قبل عمران خان کو آئین کی دفعہ 62 اور 63 کے تحت نااہل قرار دلوا کر موصوف نے خود وزیر اعظم بن جانا تھا اور عمران خان اپنے گھر بیٹھ کر سونیا گاندھی کی طرح حکومت کی رہنمائی کا فریضہ انجام دیتے ۔ ان صاحب نے اسمبلیوں سے استعفے بھی دلوا دیئے ہیں انہیں چاہئے کہ ایم کیو ایم کے رازق خان کے کیس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ پڑھ لیں۔ استعفے اسپیکر کے پاس چلے جائیں اور دستخط اصلی ہوں تو پھر واپس نہیں ہو سکتے۔ رازق خان کے ساتھ تو یہی ہوا تھا ۔

بہ شکریہ روزنامہ "جنگ 

 

Comment on this post