آخر حد ہوتی ہے

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ

آخر حد ہوتی ہے

پیدائش میری ضلع مردان میں ہوئی لیکن بنیادی طور پر میں بھی بیت اللہ محسود، مولوی فقیر محمد اور عمر خالد خراسانی کی طرح ایک قبائلی ہوں۔ میری رگوں میں بھی وہی پختون قبائلی خون دوڑ رہا ہے جو احسان اللہ احسان جیسے لوگوں کی رگوں میں دوڑ رہا ہے۔ اسکول کے دنوں سے اسلامی جمعیت طلبہ سے وابستگی کی وجہ سے جہاد و قتال کے نظرئیے کا میں بھی قائل ہو گیا تھا اور جب میرا میٹرک کا نتیجہ آ رہا تھا تو میں افغانستان کے صوبہ کونڑ کے پہاڑوں میں بسیرا کر رہا تھا۔ بعدازاں کچھ ایسے پڑھے لکھے لوگوں سے ربط ضبط ہوا کہ میری سوچ میں تبدیلی آ گئی اور بندوق کی بجائے قلم و کتاب سے میرا رشتہ مضبوط ہونے لگا۔ قانون، آئین اور جمہوریت پر میرا اعتقاد مضبوط ہونے لگا۔ میدان صحافت میں آنے کے بعد ذہن کے دریچے مزید کھلتے گئے اور فکری ارتقاء کے مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے میں آج نظریاتی لحاظ سے جس مقام پر کھڑا ہوں، اس سے قارئین واقف ہیں۔ میری کوشش رہتی ہے کہ میں آخری حد تک قانون کی پاسداری کروں۔ الحمدللہ ٹیکس دیتا ہوں اور اسلحہ وغیرہ تو کیا ڈرائیونگ لائسنس تک جیسی چیزوں کا بھی پورا پورا خیال رکھتا ہوں۔ گنہگار انتہا کی حد تک ہوں اور انسانی کمزوریاں مجھ میں کسی بھی دوسرے انسان تو کیا شاید عمران خان سے بھی زیادہ ہیں۔

میرے ہاتھوں بہت سارے لوگوں نے دکھ بھی اٹھائے ہوں گے لیکن اللہ گواہ ہے کہ میں کبھی بھی کسی انسان کو تکلیف پہنچانے یا قانون توڑنے کی دانستہ کوشش نہیں کرتا۔ میری صحافتی زندگی میں آج تک میری کسی خبر کی بنیاد پر میرے خلاف کسی عدالت میں کوئی کیس رجسٹرڈ نہیں ہوا لیکن میرے قریبی لوگ جانتے ہیں کہ یہ فطری چیزیں میرے پس منظر کی وجہ سے میرے لئے غیرفطری ہیں ۔ میرا خون، میرا پس منظر اور میری رگوں میں دوڑنے والا خون مجھے ماضی کی قبائلیت اور انقلابیت کی طرف کھینچ رہے ہیں لیکن میں اپنے آپ سے لڑ کر اپنے آپ کو مہذب بنانے کی کوشش کر رہا ہوں۔ اپنے آپ سے اس لڑائی میں کسی حد تک کامیاب رہتا ہوں لیکن بعض اوقات اب بھی بے قابو ہو جاتا ہوں تاہم سوال یہ ہے کہ اب جبکہ اس ریاست کے ادارے، اس کی حکومت اور سیاسی لیڈر مل کر مجھے میرے ماضی اور اصل کی طرف دھکیلنا چاہتے ہیں تو میں کب تک اپنے آپ سے یہ لڑائی لڑتا رہوں گا۔ میں قانون اور آئین کے دائرے میں جنگ اور جیو کے ساتھ اپنی مزدوری کر رہا ہوں۔ اس کی تنخواہ لیتا ہوں اور سرکار کو ٹیکس کی ادائیگی میری تنخواہ سے پہلے سے ہو جاتی ہے۔ میں رپورٹنگ اور تنقید کا اپنا آئینی اور قانونی حق استعمال کر رہا ہوں۔ انسان ہونے کے ناتے اس میں مجھ سے غلطی ہو سکتی ہے۔ تجزئیے اور تنقید کے دوران تجاوز کا مرتکب ہو سکتا ہوں، مجھ پر جذبات غالب آسکتے ہیں اور مجھ سے اجتہاد کی غلطی ہو سکتی ہے لیکن میں اپنی آئینی اور قانونی حد کے اندر رہتا ہوں اور اگر کہیں اس دائرے سے نکلوں تو ہر کسی کے پاس میرے خلاف عدالت سے رجوع کرنے کا حق ہے۔

یقینا میں لاکھوں میں تنخواہ لیتا ہوں لیکن میں آج بھی کرائے کے مکان میں رہتا ہوں تاہم اس کے باوجود کبھی ایک پارٹی اور کبھی دوسری پارٹی کی جانب سے مجھ پر بھی ارب پتی ہونے کے الزام لگائے جاتے ہیں۔ میں اس شخص کو حرامی سمجھتا ہوں جو سیاست یا صحافت میں میچ فکسنگ کرے اور مجھ پر اللہ کی لعنت ہو کہ کبھی صحافتی زندگی میں کسی سے ایک پیسہ لیا ہو یا پھر فرمائشی صحافت کی ہو لیکن عمران خان صاحب نے اسٹیج پر کھڑے ہو کر صحافیوں پر نواز شریف حکومت سے کروڑوں روپے لینے کا الزام لگایا اور پھر ان کی پارٹی نے سوشل میڈیا پر جو جعلی فہرست جاری کی اس میں میرا نام بھی شامل ہے۔

ماں ہر کسی کو پیاری ہوتی ہے لیکن میری ماں میرے لئے کل کائنات ہے اور عمران خان کے حامی بعض کارندے گزشتہ 5 سال سے میری اس ماں کو سوشل میڈیا پر گالیوں سے نواز رہے ہیں۔ اب یا تو وہ مرد کے بچے بن کر میرے سامنے ہوتے تو میں ان سے حساب برابر کر لیتا لیکن سوشل میڈیا خفیہ ایجنسیوں کے کنٹرول میں ہے اور صرف ان کو پتہ ہے کہ یہ ذلالت کرنے والے کون ہیں۔ اب جب سے اسلام آباد میں دھرنے شروع ہوئے ہیں تو کوئی دن ایسا نہیں گزرتا کہ جب جیو کے کسی رپورٹر یا کیمرہ مین کی بے عزتی نہیں ہوتی۔ چند روز قبل جیو کے دفتر پر جب حملہ ہو رہا تھا تو اس سے ایک گھنٹہ قبل مجھے اطلاع ملی کہ عمران خان صاحب کے کینٹینر میں جیو کے دفتر کی طرف پیش قدمی کا فیصلہ ہو چکا چنانچہ میں نے اپنے بیورو چیف رانا جواد سے اور انہوں نے پولیس سے رابطہ کیا لیکن اس کے باوجود پولیس کوئی مدد نہ کر سکی اور انہوں نے آ کر دفتر کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ ہمیں نہیں معلوم کہ کس کے خلاف ایف آئی آر درج ہوئی اور کس کو گرفتار کر لیا گیا ۔ گزشتہ روز (اتوار) کو باقی دفتر کی چھٹی تھی ۔ چند رپورٹر اور ضروری اسٹاف ڈیوٹی پر تھا۔ مجھے سہ پہر 4 سے 6 بجے تک لائیو کرنا تھا اور پھر رات کو 10 سے 11 بجے تک اپنے ’’جرگہ‘‘ پروگرام کو کنڈکٹ کرنا تھا۔ شام کے وقت میرے پاس دو مہمان آئے ہوئے تھے کہ مجھے میرے اسٹاف نے بتایا کہ باہر پی ٹی آئی کے ورکر جمع ہو گئے ہیں اور آج ان کے ارادے پھر ٹھیک نہیں لگتے۔

پھر جب انہوں نے دفتر کے باہر توڑ پھوڑ شروع کی تو میں نے اپنے مہمانوں کو رخصت کیا۔ ساڑھے نو اور دس بجے کے درمیان میں ہم نے باقی فلورز کی لائٹیں بند کر دی تھیں لیکن جس فلور پر میں بیٹھتا ہوں وہاں روشنی تھی ۔ چنانچہ اس دوران ان لوگوں نے اس فلور کی طرف سنگ باری شروع کر دی ۔ دس بجنے سے تھوڑی دیر پہلے میرے پروگرام کے مہمان وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید اور پی ٹی آئی کے باغی ایم این اے گلزار خان پہنچے تو سنگ باری زور پکڑ گئی ۔ میں ان کو اسٹوڈیو لے گیا اور لائیو پروگرام کا آغاز کر دیا۔ اس پورے گھنٹے میں ہمارے دفتر پر پتھرائو جاری رہا لیکن پولیس نے کوئی حرکت کی نہ رینجرز وغیرہ کو کسی نے طلب کیا۔ پروگرام ختم ہوا تو پی ٹی آئی کے ورکروں کے ہاتھوں بے عزتی سے بچانے کے لئے اپنے سیکورٹی گارڈ کی مدد سے میں نے اپنے پروگرام کے مہمانوں کو وہاں سے رخصت کیا۔ یہ سب کچھ ہو رہا تھا تو اس وقت عمران خان صاحب خطاب کر رہے تھے لیکن انہوں نے نہ تو کسی کو روکا اور نہ اس کی مذمت کی۔ اللہ گواہ ہے کہ اس پتھراو کے موقع پر دو تین مرتبہ میرے اندر کے اصل سلیم صافی نے مجھے بے چین کیا ۔ دل میں کئی بار خیال آیا کہ اپنے سیکورٹی گارڈز سے اسلحہ لے کر خود چھت پر جا کر ان نام نہاد انقلابیوں سے حساب برابر کرلوں لیکن پھر اپنے غصے کو کنٹرول کر لیتا۔

اس موقع پر میں نے پرویز رشید صاحب سے کہا کہ میں آپ سے نہ جیو کو بچانے کی التجا کرتا ہوں اور نہ توقع رکھتا ہوں کیونکہ آپ اپنے پی ٹی وی کو نہیں بچا سکے تو مجھے کیا خاک بچا سکیں گے لیکن میرا اس ملک کے اصل محافظوں سے سوال ہے کہ مجھ جیسے لوگ آخر کب تک اپنے آپ سے لڑتے رہیں گے؟ ہم کب تک اپنے اصل کو قانون اور آئین کے دائرے میں بند رکھنے کی کوشش کریں گے؟ جب ایک طرح کی سول نافرمانی کرنے والے پختون طالبان یا بلوچ عسکریت پسندوں پر تو بمباریاں کی جاتی ہوں اور دوسری طرح کی سول نافرمانیاں کرنے والوں کا تماشا دیکھا جا رہا ہو۔ جب سول نافرمانی کرنے والے محبوب قرار پائے اور ہم جیسے قانون اور آئین پر یقین رکھنے والے قانون شکنوں کے رحم و کرم پر ہوں ، تو یہ ہم کب تک برداشت کرتے رہیں گے ۔ اللہ کا واسطہ ہم جیسوں کو ہمارے ماضی کی طرف لوٹنے پر مجبور نہ کرو۔ ہم جیسے دوبارہ پہاڑوں کی طرف جا کر انقلابی بن گئے تو پھر یہ ڈانسوں کے ذریعے انقلاب لانے والے دیکھ لیں گے کہ انقلاب کیا ہوتا ہے ؟

ہم جیسے سول نافرمانی کرنے پر اتر آئے تو جہانگیر ترین جیسے سرمایہ داروں اور شاہ محمود قریشی جیسے گدی نشینوں کو معلوم ہو جائے گا کہ سول نافرمانی کیا ہوتی ہے۔ میں تو ممکن حد تک اپنے آپ سے یہ جنگ جاری رکھوں گا لیکن یہ جو اپنے کارندوں اور گماشتوں کے ذریعے ہمیں ڈرانے دھمکانے کی کوشش کر رہے ہیں ان کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ میں نے اپنے عزیزوں اور دوستوں کو بتا دیا ہے کہ جس بھی گروہ یا ادارے نے میری جان یا عزت پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کی تو اس کے ورکروں یا کارندوں سے مقدمات میں الجھنے کی بجائے ان کے لیڈروں یا سربراہوں سے ہی حساب لیا جائے گا اور یاد رکھیں وہ پھر میری طرح قانونی راستے سے حساب برابر نہیں کریں گے بلکہ وہ قبائلی بن کر یہ انتقام لیں گے۔ اس سے انتقام نہ لے سکیں تو ان کی آئندہ نسلوں سے لیں گے۔ باقی انقلابیوں اور ان کے سرپرستوں کی مرضی ہے ۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ

 

Comment on this post