مغربی میڈیا کی منفی قیاس آرائیاں

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ

مغربی میڈیا کی منفی قیاس آرائیاںمغربی میڈیا کی منفی قیاس آرائیاں

گزشتہ دنوں ہونے والی کور کمانڈر کانفرنس کے بعد فوج کی جانب سے یہ بیان جاری کیا گیا کہ: ’’فوجی قیادت جمہوریت کی حامی ہے اور ملک کی موجودہ غیر یقینی سیاسی صورتحال پر فوج کو تشویش ہے، اگر حکومت کی جانب سے مخالفین کے خلاف طاقت کا استعمال کیا گیا تو صورتحال مزید خراب ہوسکتی ہے، اس لئے وقت ضائع کئے بغیر مسئلے کا پرامن سیاسی حل نکالا جائے۔‘‘ پاک فوج کی جانب سے جاری اس بیان کو حکومت اور مخالفین نے اپنے اپنے حق میں لیا۔ حکومت کا کہنا تھا کہ فوج کی جانب سے جمہوریت کی حمایت کا اعلان یہ واضح کرتا ہے کہ فوج موجودہ صورتحال میں غیر جانبدار رہتے ہوئے کسی صورت بھی اقتدار پر قابض نہیں ہوگی جبکہ مخالفین کا کہنا تھا کہ فوج نے اُن کی حمایت میں بیان دیا ہے جس میں حکومت کو واضح الفاظ میں تنبیہ کی گئی ہے کہ حکومت طاقت کا استعمال کئے بغیر مسئلے کا فوری حل نکالے۔

پاکستان میں فوج کے بیان پر ابھی مختلف قیاس آرائیاں جاری تھیں کہ اسی دوران برطانوی خبر رساں ایجنسی ’’رائٹر‘‘ کے سنسنی خیز انکشاف نے ہر کسی کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا کہ موجودہ صورتحال اس حد تک سنگین ہوچکی ہے کہ فوج بھی اس معاملے پر منقسم نظر آرہی ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کی یہ خبر عالمی میڈیا نے نمایاں طور پر شائع کی تاہم پاکستانی میڈیا نے خبر کے حوالے سے محتاط رویہ اپنایا اور نمایاں طور پر تبصرے سے گریز کیا۔ ’’رائٹر‘‘ کی خبر میں انکشاف کیا گیا ہے کہ موجودہ سیاسی بحران کے عروج پر ہونے والی کورکمانڈرز کانفرنس میں شریک 11 میں سے 5 جنرل اس حق میں تھے کہ بگڑتی ہوئی صورتحال میں فوج کا غیر جانبدار رہنے کا جواز اب ختم ہوچکا ہے اور فوج کو سیاسی بحران کے حل کے لئے متحرک کردار ادا کرتے ہوئے مداخلت کرنا چاہئے تاہم آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے مذکورہ کورکمانڈروں کی جانب سے وزیراعظم کو عہدے سے ہٹانے کی تجویز سے اتفاق نہ کرتے ہوئے جمہوریت کی حمایت کا اعادہ کیا۔

خبر میں کہا گیا ہے کہ کئی ہفتوں سے جاری حکومت مخالف مظاہروں نے ان پانچوں جنرلوں کے لئے یہ جواز پیدا کیا کہ یہی وہ وقت ہے کہ مشکلات میں گھرے وزیراعظم کو مستعفی ہونے پر مجبور کیا جائے تاہم ان جنرلوںکی حکومت مخالف تجاویز کے باوجود آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کسی بھی مخالفت کو خاطر میں لائے بغیر موقف اختیار کیا کہ موجودہ صورتحال کو طاقت کے بجائے سیاسی طریقے سے حل کیا جائے کیونکہ ایسی صورتحال میں فوج کا کوئی بھی غیر آئینی اقدام ملکی مفاد میں نہیں ہوگا۔ رپورٹ میں دفاع سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر کا یہ بیان بھی شامل ہے جس میں وزیر موصوف نے کہا ہے کہ ’’کور کمانڈرز کانفرنس میں شریک 5 جنرلز کئی ہفتوں سے جاری سیاسی بحران کے حل کے لئے فوج کو فعال کردار ادا کرنے پر اصرار کررہے تھے لیکن چونکہ فوج ایک ریاستی ادارہ ہے، اس لئے فوج کی طرف سے آنے والی رائے میں جمہوریت کی حمایت کی گئی ہے۔‘‘

’’رائٹر‘‘ کی رپورٹ میں یہ تاثر دیا گیا ہے کہ فوج کے تمام کورکمانڈر آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی ٹیم کے نہیں اور حالیہ سیاسی بحران میں فوجی مداخلت کی حمایت کرنے والے مذکورہ پانچوں کورکمانڈر آئندہ ماہ ریٹائر ہوجائیں گے جن میں آئی ایس آئی کے سربراہ بھی شامل ہیں جس کے بعد جنرل راحیل شریف ان کی جگہ اپنی مرضی کے کور کمانڈر اور انٹیلی جنس چیف مقرر کرسکیں گے، اس طرح آرمی چیف کی فوج پر گرفت مزید مضبوط ہوجائے گی۔ رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ موجودہ صورتحال میں فوج نے نواز شریف کو مارشل لا نہ لگانے کی یقین دہانی کرائی تھی تاہم حکومت میں اپنا حصہ بھی مانگا ہے اور کہا ہے کہ (ن) لیگ اگر اپنی حکومت برقرار رکھنا چاہتی ہے تو اُسے اقتدار میں اسٹیبلشمنٹ کی شراکت یقینی بنانا ہوگی جس کے تحت حکومت اپنی تمام تر توجہ ملک کے روزمرہ امور اور داخلی معاملات پر مرکوز رکھے گی جبکہ ملک کی سیکورٹی اور خاجہ پالیسی کے معاملات فوج کے ذمہ ہوں گے۔ اس کے علاوہ پاک بھارت تعلقات، افغان پالیسی، دہشت گردی کے خلاف جنگ، پرویز مشرف کی رہائی اور جیو کی بندش جیسے معاملات پر بھی حکومت کو اسٹیبلشمنٹ کے تابع رہنا ہوگا۔ رپورٹ میں ’’رائٹر‘‘ نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ اس خبر کی تصدیق دو سینئر عسکری ذرائع نے بھی کی ہے۔

کسی بھی ادارے میں اختلاف رائے جمہوری عمل ہے مگر فوج جیسے منظم ادارے میں اختلاف رائے کی خبریں ادارے کے لئے کسی صورت بھی قابل قبول نہیں کیونکہ یہ عمل سراسر ملکی مفاد کے خلاف ہے جس کا مقصد فوج کو کمزور کرنا ہے۔ یہ امر قابل افسوس ہے کہ عالمی میڈیا پر کچھ پاکستانی سیاستدان کھلے عام یہ تاثر دے رہے ہیں کہ فوج کی اعلیٰ قیادت میں اختلافات پائے جاتے ہیں جس میں انہوں نے آئی ایس آئی کے سربراہ کو بھی ملوث کیا ہے۔ کچھ ماہ قبل ایسی خبریں منظر عام پر آئیں کہ وزیراعظم میاں نواز شریف کو اُن کے قریبی رفقاء نے بتایا کہ فوج میں 4 کورکمانڈر اور آئی ایس آئی چیف حکومت مخالف تصور کئے جاتے ہیں جس پر وزیراعظم نے کہا کہ کیا یہ ممکن ہے کہ ان حکومت مخالف کور کمانڈروں کی جگہ حکومت کے حمایت یافتہ جنرل متعین کئے جائیں جس پر وزیراعظم کو بتایا گیا کہ پاکستان آرمی، پاکستان پولیس نہیں جہاں وہ اپنی مرضی کا ایس ایچ او تعینات کرا سکیں۔

نواز حکومت کی یہ خوش قسمتی ہے کہ اسے راحیل شریف جیسا آرمی چیف میسر آیا جو پیشہ ور فوجی اور شہیدوں کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے قریبی ایک سینئر جنرل نے مجھے بتایا کہ: ’’اُن کا یہ یقین ہے کہ جب تک جنرل راحیل شریف آرمی چیف ہیں، جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں۔‘‘ میرا بھی یہ یقین ہے کہ اگر جنرل راحیل شریف کی جگہ کوئی اور فوجی سربراہ ہوتا تو صورتحال مختلف ہوتی لہٰذا حکومت کو چاہئے کہ وہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو امتحان میں نہ ڈالے اور مسئلے کا جلد از جلد پرامن سیاسی حل نکالے۔ حکومت کی یہ سوچ کہ حکومت مخالف جنرلوں کی ریٹائرمنٹ کے بعد خطرہ ٹل جائے گا، محض خام خیالی ہے کیونکہ پاکستان آرمی ملک کا منظم ادارہ ہے جو ملکی بقاء و سالمیت کا ضامن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف جاری مسلح افواج کے آپریشن ’’ضرب عضب‘‘ کو پوری قوم نے سراہا ہے اور حالیہ سروے کے مطابق فوجی آپریشن اور موجودہ صورتحال میں سیاستدانوں کے مقابلے میں پاک فوج کی مقبولیت میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے جو فوج پر قوم کے اعتماد کا مظہر ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ

 

Comment on this post