اسکرپٹ کے پیچھے اصل اسکرپٹ

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ

اسکرپٹ کے پیچھے اصل اسکرپٹاسکرپٹ کے پیچھے اصل اسکرپٹ

شکرگزار ہوں ان پڑھنے والوں کا جنھوں نے گزشتہ کالم ’’آخر حد ہوتی ہے‘‘ پڑھ کرحوصلہ افزائی کرنے کی حد کر دی، دعائوں سے نوازا اور ہر قسم کے تعاون کی یقین دہانی کی ۔ مشکور ہوں ڈاکٹر حسین پراچہ جیسے ان اساتذہ اور سینئرز کا ، جنھوں نے جذبات قابو میں رکھنے کی نصیحتیں کیں اور ممنون ہوں ان دوستوں کا جنہوں نے حسب عادت ساتھ دے کر ساتھ دینے کا عزم ظاہر کر کے حوصلہ بڑھایا۔ خیرخواہ مطمئن رہیں کہ میں اس قدر آسانی سے حوصلہ ہارنے والا نہیں۔ مدعا ہر گز یہ نہیں تھا کہ تحریک انصاف یا عوامی تحریک کے لوگوں سے میری زندگی کوخطرہ لاحق ہے۔ خطرہ اگر ہے بھی تو ان کے اندرونی یا بیرونی سرپرستوں سے ہے ۔ وہ صرف ہم جیسوں کو نہیں بلکہ پورے ملک کو ہے، جمہوریت کو ہے اور اس ملک کی محافظ فوج کو ہے۔ غصہ مجھے اس بات پر تھا کہ جیو نیوز پر حملے کے وقت نہ صرف وہاں پولیس کھڑی تھی بلکہ جنگ بلڈنگ کے اپنے درجنوں مسلح گارڈ بھی موجود تھے لیکن آئی ایس پی آر کی پریس ریلیز کے بعد ان لوگوں کو حکومت کی طرف سے گولی تو کیا ڈنڈا چلانے کی بھی اجازت نہیں جبکہ دوسری طرف حکومت نے پی ٹی آئی اور پی اے ٹی کے ڈنڈا برداروں کو پارلیمنٹ، پی ٹی وی، جیو اور وزیراعظم ہائوس پر حملوں اور ممبران پارلیمنٹ اور جج صاحبان کی گاڑیوں کو روکنے اور تلاشی لینے کی اجازت دے رکھی ہے۔ اس کالم کا مدعا صرف اپنے غصے یا جذبات کا اظہار نہیں تھا بلکہ ریاست کے اصل والیوں کو یہ سمجھانا تھا کہ اس ملک کے نوجوان، طالبان، عسکریت پسند یا پھر عام جرائم پیشہ کیوں بنتے ہیں اور ریاست کو چیلنج کر کے بغاوت پر کیوں اتر آتے ہیں؟ جب کوئی یہ دیکھتا ہے کہ بجلی کا بل یا ہائوس بلڈنگ کے چند ہزار روپے ادا نہ کرنے کی وجہ سے تو وہ جیل میں جاتا ہے لیکن دوسری طرف سول نافرمانی کے اعلانات کرنے والوں کی نازبرداریاں کی جاتی ہیں ۔

جب وہ دیکھتا ہے کہ شریعت کا مطالبہ کرنے اور ایک لائبریری پر قبضہ کرنے والی لال مسجد کی طالبات کے خلاف تو ریاستی طاقت پوری قوت کے ساتھ استعمال کی جاتی ہے لیکن دوسری طرف ایک ضدی شہزادے اور ایک کینیڈین شہری کی ذاتی خواہشات کے لئے پورے شاہراہ دستور پر قابض لوگوں کے خلاف اگر آنسو گیس استعمال کی جاتی ہے تو اور تو اور پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے رہنما بھی آسمان سر پر اٹھالیتے ہیں ۔ انہی میاں نوازشریف کی حکومت میں اسی ڈی چوک پر مسنگ پرسنز کے اہل وعیال ایک خاتون محترمہ آمنہ جنجوعہ کی قیادت میںاور چند درجن کی تعداد میں اپنی فریاد اعلیٰ حکام تک پہنچانے کے لئے جمع ہوئے تھے۔ انہوں نے کوئی قانون توڑا تھا اور نہ کوئی گملا۔ وہ پولیس کی مقرر کردہ حد سے ایک انچ بھی آگے نہیں بڑھے تھے مگر مار مار کر ان لوگوں کا جو حشر کیا گیا، وہ سب نے ٹی وی اسکرینوں پر دیکھا ۔ جب لوگ دیکھتے ہیں کہ ایک طرح کے قانون شکنوں کے لئے ایک اور دوسری طرح کے لوگوں لئے دوسرا، ایک صوبے کے شہریوں کے لئے ایک اور دوسرں کے لئے دوسرا، ایک طرح احتجاج کرنے والے کے لئے ایک اور دوسرں کے لئے دوسرا، ایک ٹی وی چینل کے لئے ایک اور دوسرے کے لئے دوسرا قانون ہے، تو ریاست سے مایوس ہو کر وہ طالبان بنتے ہیں۔ عسکریت پسند یا پھر جرائم پیشہ اور میں نہیں چاہتا کہ میرے ملک کے نوجوان اس راستے پر گامزن ہوں ۔ آج بلوچستان کا ہر نوجوان یہ سوچتا ہوگا کہ پہاڑوں پر جانے والے ان کے نوجوانوں کو اس پیار سے کیوں پہاڑوں سے نہیں اتارا جاتا، جس لاڈ اور پیار کے ساتھ قادری صاحب اور خان صاحب کو وزیراعظم ہائوس اور سیکرٹریٹ سے واپس ڈی چوک لایا گیا ۔ آج سوات اور قبائلی علاقوں کے نوجوان یہ سوال اٹھا سکتے ہیں کہ بمباری کرنے کی بجائے اس لاڈ پیار سے سوات اور قبائلی علاقوں سے طالبان کو کیوں نہیں نکالا جاتا جس لاڈ پیار سے ایک کینیڈین شہری کے جانثاروں کو پی ٹی وی کی عمارت سے باہر نکالا گیا۔

میری فرسٹریشن کی بڑی وجہ یہ ہے کہ میں مجھے نواز شریف کی حکومت سے کوئی ہمدردی نہیں ۔ میں اسے نااہل ترین اور بدترین حکومتوں میں سے ایک سمجھتا ہوں ۔ سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا کی حکومتوں کے بارے میں بھی میری یہی رائے ہے لیکن وفاقی حکومت تو اپنی مثال آپ ہے ۔ بزدل اور خوفزدہ، نااہل اور کنفیوزڈ، دوغلے پن کی شکار اور سائینٹفک کرپشن کی ماہر، جمہوریت کے نام پر خاندانی آمریت اور کابینہ کے نام پر چہیتوں اور چاپلوسوں کی اکٹھ۔ یہ ہیں اس حکومت کے اوصاف ۔ اس سے مستفید ہونے والے چند مخصوص خاندانوں کے سوا اور کس کو اس سے ہمدردی ہو سکتی ہے ؟۔ یہ قوم ان لوگوں کو محسن تصور کرے گی جو جمہوری طریقوں سے دبائو ڈال کر شریفوں کو شریفانہ طرز حکومت پر مجبور یا رخصت کردیں لیکن یہ کام جمہوری اور شریفانہ طریقے سے ہونا چاہئے۔ ہم جیسے لوگ اللہ کی عدالت میں اس بنیاد پر بھی عمران خان صاحب اور ڈاکٹر قادری صاحب کا گریبان پکڑیں گے کہ انہوں نے ہم جیسوں کو کچھ وقت کے لئے ہی سہی، لیکن میاں نوازشریف کی حمایت پر مجبور کر دیا۔ میری فرسٹریشن کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ نوازشریف حکومت اپنی موت آپ مررہی تھی لیکن ان دھرنوں نے اس کو نئی زندگی بخش دی۔ دھرنوں سے پہلے میاں صاحب بدترین سیاسی تنہائی کا شکار تھے۔ پارٹی تو کیا اپنی کابینہ بھی ان کے ساتھ نہیں تھی لیکن آج جماعت اسلامی اور پیپلز پارٹی بھی ان کے ساتھ کھڑی نظر آتی ہیں۔ کل تک کابینہ کے بعض ارکان بھی ان کی رخصتی کے متمنی تھے لیکن آج قومی اسمبلی اور سینیٹ کے تمام ارکان کہہ رہے ہیں کہ کچھ بھی ہو جائے لیکن وہ مستعفی نہیں ہوں گے۔

دھرنوں کا فائدہ نواز شریف کو ہوا اور نقصان پاکستان کو اٹھانا پڑا ۔کھربوں روپے کا نقصان شریف خاندان کو نہیں بلکہ پاکستان کو ہوا ۔چین کے صدر کے دورے کا التواء معمولی واقعہ نہیں ۔ پی ٹی وی پر ایسے عالم میں چند بلوائیوں کے قبضے‘کہ ملکی وزیردفاع اس پر بول رہے تھے، کے بعد ہم دنیا کو کس منہ سے قائل کراسکیں گے کہ ہمارے ایٹمی تنصیبات محفوظ ہیں۔ جب سپریم کورٹ کے جج صاحبان اپنے آنے جانے کے لئے راستہ نہ کھلوا سکیں تو ہم دنیا کو کس منہ سے بتائیں گے کہ یہاں قانون کی حکمرانی ہے۔ میاں نواز شریف یا ان کے اہل خانہ کا تو بال بھی بیکا ہوا نہ کسی کی مصروفیات میں خلل آیا۔ ہو سکتا ہے میں غلط ہوں لیکن میری سوچی سمجھی رائے ہے کہ اس مہم جوئی کے پیچھے عالمی طاقتیں ہیں جن کا مقصد پاکستانی فوج اور سیاسی قیادت کے درمیان خلیج بڑھانا، پاکستان اور چین کے سٹریٹجک پارٹنرشپ کو خراب کرنا، خطے میں جہادی اسلام کے مقابلے میں لبرل اسلام کو فروغ دینا، پاکستان میں جمہوریت کا خاتمہ کر کے افغانستان میں اپنی مرضی کے بندوبست کے لئے پاکستانی فوج کو تعاون پر آمادہ کرنے کے لئے زیر دبائو لانا اور پاکستان کی ا یٹمی طاقت کے خلاف میدان ہموار کرنا ہے ۔ میری فرسٹریشن کی وجہ یہ ہے کہ نہ صرف تحریک انصاف کے ہزاروں مخلص اور محب وطن لوگ غیر شعوری طور پر نیک نیتی کے ساتھ نادانستہ اس مشق میں استعمال ہو رہے ہیں بلکہ بدقسمتی سے بعض اوقات پاکستان کے اصل محافظین کی ہمدردیاں بھی منصوبہ سازوں کے ساتھ نظر آتی ہیں۔ زندگی رہی تو مستقبل میں تفصیلات سپرد قلم کرنے کی کوشش کروں گا لیکن سردست چند اشاروں پر اکتفا کرتا ہوں۔

علامہ ڈاکٹر طاہرالقادری صاحب کا پاکستانی پاسپورٹ 2014ء تک کارآمد ہے لیکن انہوں نے لاہور ائرپورٹ پر اپنے کینیڈئن پاسپورٹ کے ساتھ امیگریشن کی ہے (دونوں پاسپورٹوں کی کاپیاں میرے پاس موجود ہیں)۔ گویا اس وقت پاکستان میں تکنیکی لحاظ سے ان کی حیثیت پاکستانی نہیں بلکہ کینیڈین مہمان کی ہے اور اگر انہیں کچھ ہوا تو ان کے لئے کینیڈا کی حکومت اسی طرح آواز اٹھائے گی جس طرح امریکہ نے اپنے شہری ریمنڈ ڈیوس کے لئے اٹھائی تھی۔

قادری صاحب کے مشن کے بارے میں میری وہی رائے ہے جو تحریک انصاف کی ترجمان ڈاکٹر شیریں مزاری نے 12 جنوری 2013ء میں ’’دی نیوز‘‘ میں شائع ہونے والے اپنے آرٹیکل میں بیان کی تھی یا پھر جس کا اظہار افواج پاکستان کے سابق سربراہ جنرل (ر) مرزا اسلم بیگ اپنے آرٹیکلز میں کر رہے ہیں۔

جہادی اسلام کے مقابلے کے لئے امریکی صدر بش نے خطے میں لبرل اسلام کو فروغ دینے کا جو منصوبہ بنایا اس کے تحت پاکستان میں صوفی کونسل قائم کی گئی۔اس منصوبے کے لئے فنڈنگ آسٹریلیا کی حکومت کررہی تھی ۔تب پاکستان میں اس کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین مقرر کئے گئے ۔ گزشتہ حکومت میں جب امریکیوں نے پاکستان اور افغانستان میں صوفی کانفرنسوں کے انعقاد کا منصوبہ بنایا تو افغانستان میں اس کے منتظم رنگین دادفر سپانتا جبکہ پاکستان میں شاہ محمود قریشی مقرر ہوئے ۔ افغانستان میں پہلی کانفرنس ہرات جبکہ پاکستان میں ملتان میں ہونی تھی لیکن پھر بوجوہ وہ کانفرنس نہ ہوسکی ۔مشاہد حسین سید چونکہ چین کے قریب اور پاک چائنا فورم کے سربراہ بھی ہیں ‘ اس لئے چوہدری شجاعت حسین کے پیش پیش ہونے کے باوجود یہ ان کا واحد پروجیکٹ ہیں کہ جس میں مشاہد حسین سید سرگرم عمل نہیں ۔ دوسری طرف شاہ محمود قریشی تحریک انصاف کی طرف سے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے ہیں اور پی ٹی آئی کی صفوں میں وہ واحد شخصیت تھے جو طاہرالقادری کے ساتھ مل جانے کی وکالت کررہے تھے ۔ یہ تو خیر اب تحریک انصاف کے مرکزی منتخب صدر جاوید ہاشمی صاحب بھی بتاچکے ہیں اور خود قریشی صاحب کے سگے بھائی بھی انکشاف کرچکے ہیں کہ اگر سازش کامیاب ہوجاتی تو مستقبل کے سیاسی بندوبست میں ڈرائیونگ سیٹ پر شاہ محمود قریشی صاحب نے بیٹھ جانا تھا۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ

 

Comment on this post