ایک تماش بین قوم

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ

ایک تماش بین قوم

سمجھ میں نہیں آتا کہ مبارکباد کس کس کو دوں؟ میں نے اپنی سی کر لی، دل کی حسرتیں نکال لیں۔ سب فاتح ہیں اور سب کامیاب و کامران۔ حکومت بھی، اپوزیشن بھی، پارلیمانی بھی اور دھرنے والے بھی۔ اس سارے ہنگامے میں اگر کوئی ناکام ہوتا دکھائی دیتا ہے، تو وہ ہیں قائد اعظم اور ان کا پاکستان۔ جن کی روح قبر میں بھی تڑپ اٹھی ہو گی اور وہ یقیناً سوچ رہے ہوں گے کہ یہ ناشکری قوم اس نعمت غیر مترقبہ کی مستحق تھی بھی یا نہیں۔ اور کہیں پاکستان بنا کر وہ کوئی غلطی تو نہیں کر بیٹھے۔ قائد نے جب جہاں فانی سے کوچ کیا تھا تو پاکستانی روپیہ امریکی ڈالر کی ہمسری کر رہا تھا۔ دونوں سپر پاور اس کی بلائیں لے رہی تھیں۔ دنیائے اسلام قیادت کیلئے اس نو آزاد مملکت کی طرف پرامید نظروں سے دیکھ رہی تھی۔ مشکلات و مسائل اپنی جگہ مگر قوم جذبہ تعمیر سے سرشار تھی اور ہر کوئی پاکستان کے شاندار مستقبل کی نوید دے رہا تھا۔ یہ کس کی نظر لگی ہے؟ اور یہ کس کس کی بداعمالیوں کا نتیجہ ہے کہ ہم ذلت کی اتھاہ گہرائیوں میں گرتے جارہے ہیں۔

آزادی کو 70 برس ہونے کو آئے، دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی اور ہم مسلسل ریورس گیئر میں ہیں اور نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ ناکام ریاستوں کی فہرست میں پاکستان کا نام بتدریج اوپر آتاجارہا ہے۔ شاید سنگل ڈجٹ میں پہنچ چکے۔ دہائی خدا کی۔ بے پناہ نعمتوں سے مالا مال اور مسلم دنیا کی واحد جوہری طاقت کا شمار سوڈان، صومالیہ، کانگو اور چاڈ کے ساتھ ہورہاہے۔ ذرا اندازہ فرمائیں کہ عراق، شام، ایتھوپیا، یوگینڈا اوربرما وغیرہ ہم سے کہیں کامیاب و کامران ریاستیں ہیں۔ ہماری یہ عزت افزائی بے وجہ بھی نہیں۔ اگر ان دنوں آپ کا گزراسلام آباد کی نامی گرامی شاہراہ یعنی کانسٹی ٹیوشن ایونیو کی طرف ہو تو اس کی حالت زار اور اطراف و اکناف میں پھیلا ’’نیاپاکستان‘‘ دیکھ کر آپ گواہی دیں گے، کہ نمبر لگانے والوں نے ہاتھ اب بھی ہولا رکھا ہے کہ ہمیں نویں۔ دسویں نمبر پر رکھا، ورنہ ہم نے تو فرسٹ پوزیشن میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اس قسم کے مناظر تو سوڈان، صومالیہ، کانگو اور چاڈ کی شاہرائوں پر بھی دکھائی نہیں دیتے۔

زمانہ جانتا ہے کہ بین الریاستی معاملات بے حد نازک ہوتے ہیں۔ اس میدان میں قدم پھونک پھونک کر اور احتیاط کے ساتھ رکھا جاتا ہے۔ مگر نہ جانے ہم کس مٹی کے بنے ہوئے ہیں کہ شیشہ گری کے اس کاروبار کی نزاکتوں کا بھی احساس نہیں کرتے۔ صدر ژی جن پنگ کے دورے کا ملتوی ہونا کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے۔ آٹھ برس بعد کوئی چینی صدر، سرکاری وزٹ پر پاکستان آرہا تھا۔ اس قسم کے پروگراموں کی منصوبہ بندی اور تیاریوں میں مہینے اور سال لگ جاتے ہیں اور ہم نے جس بے دلی کے ساتھ اس اہم وزٹ کو سبوتاژ کیا اس کی نظیر شاید کہیں اور نہ مل سکے۔ اس جرم میں دھرنے والوں کے ساتھ ساتھ حکومت بھی برابر کی شریک ہے۔ ہماری روایتی تماش بینی یہاں بھی غالب رہی اور سب نے مل ملا کر اس نازک سفارتی معاملہ کو دنگل کا رنگ دے دیا۔ ہر کوئی سفارت کاری اور بین الریاستی امور کا ماہر بن بیٹھا۔ جس کے منہ میں جو آیا، کہتا رہا اور کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی۔ متعلقہ لوگ خاموش اور غیر متعلقہ پرجوش تھے۔ فی الحقیقت یہ فارن آفس کا کام تھا۔ جہاں ایک نہیں ماشاء اللہ دو دو مشیر ہیں اور ان پر نظررکھنے کیلئے قائد اعظم بنفس نفیس خود بھی موجود۔ دورہ ملتوی ہوا تھا، یا منسوخ یا معطل، اصولی طور پر اعلان ان تینوں میں سے کسی ایک بزرگ کی طرف سے ہونا چاہئے تھا۔ پلاننگ اور ڈیولپمنٹ کے وفاقی وزیر احسن اقبال نہ جانے بیچ میں کہاں سے آگئے اور وہ بھی ٹویٹر کے ذریعے۔ ایک تو یہ سوشل میڈیا ہماری جڑوں میں بیٹھ گیا ہے۔ مس انفارمیشن اور ڈس انفارمیشن کے علاوہ بھی ایسی ایسی ناشدنی چھوڑی جارہی ہے کہ قوم ذہنی مریض بن کر رہ گئی ہے۔ خیر سوشل میڈیا کے حوالے سے یہ تو جملہ ہائے معترضہ تھے۔ واپس وزٹ پر آتے ہیں جس کی بھد دھرنے والوں نے بھی خوب اڑائی۔ پہلے تو یہ کہا کہ جم جم آئیں، مہمان ہمارے سر ماتھے پر۔ ہم انہیں سیکورٹی بھی دیں گے اور راستہ بھی۔ پھر کہا گیا کہ وزٹ کا تو وجود ہی نہیں تھا، تننسیخ کہاں سے آ گئی؟ سرکار جھوٹ بول رہی ہے۔ مصنوعی سے لہجے والے ایک سابق وزیر خارجہ نے تو یہ تاثر دیا کہ ان کی بیجنگ میں بہت واقفیت ہے، کہہ سن کر حکومت چین کو دورہ برقرار رکھنے پر راضی کرلیں گے اور اس حوالے سے چینی سفیر کے ساتھ رابطہ میں بھی ہیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون سفارت کاری نے یہ دن بھی دیکھنے تھے۔

ادھر ان بچگانہ باتوں اور حرکتوں پر بیجنگ حیران و پریشان تھا کہ اسلام آباد والوں کو کیا ہو گیا ہے؟ کیسی کیسی بے پرکی اڑا رہے ہیں اور پھر ضابطے کی کارروائی ہوئی۔ دونوں کیپٹلز سے مشترکہ بیان جاری ہوا کہ اسلام آباد کی سیاسی صورت حال کے سبب چینی صدر کا دورہ ملتوی ہو گیا ہے۔ دراصل معزز مہمان پاکستان کے علاوہ بھارت، سری لنکا اور مالدیپ بھی جارہے تھے باقی جگہوں پر تو وہ اب بھی جائیں گے مگر ہمالیہ سے بلند، سمندروں سے گہری اور شہد سے شیریں دوستی کا دعویدار پاکستان اس اعزاز سے محروم رہے گا۔ کھیل تماشے میں مشغول پاکستانیوں کو نہ جانے یہ احساس کیوں نہیں ہورہا کہ صدر ژی کا پاکستان نہ آنا ہمارے لئے ایک بڑا سفارتی دھچکہ ہے۔ جسے نئی دہلی میں باقاعدہ سیلی بریٹ کیا گیا۔ جہاں پہلے ہی یہ خواہش موجود تھی کہ بھارت کے دورہ کو پاکستان کے ساتھ نتھی نہ کیا جائے بھارت ہی کی خواہش پر چینی صدر کے وزٹ کی تاریخ میں تبدیلی بھی کی گئی۔ اصل پروگرام کے مطابق صدر ژی کو 15- 16 ستمبر کو آنا تھا مگر انہی تاریخوں میں بھارتی صدر پرناب مکھرجی کا دورہ ویت نام طے تھا چنانچہ 15- 16ستمبر کو پاکستان کو ایڈجسٹ کرکے بھارت کو حسب خواہش تاریخ دے دی گئی۔

4 بلین ڈالر کے خرچہ والا پاک ۔ چین اکنامک کاریڈور اور متعلقہ ترقیاتی منصوبہ جات جن کے تحت ایک زبردست قسم کی شاہراہ اور ریلوے ٹریک کاشغر سے شروع ہو کر گوادر تک جائے گا۔ گوادر کو گہرے سمندر والی دنیا کی سب سے بڑی بندرگاہ کے طور پر ترقی دی جائیگی اور انٹرنیشنل ائیرپورٹ بنے گا۔ آپٹک فائبر لائن بچھے گی، اور بعض پاور پروجیکٹس سمیت اور بھی کئی منصوبے شامل ہیں۔ تاہم ایک بات ہمیں اچھی طرح سے سمجھ لینا چاہئے کہ بین الریاستی تعلقات میں اول اہمیت قومی مفاد کو حاصل ہوتی ہے۔ باقی سب الفاظ کا ہیر پھیر ہوتا ہے۔ اگرچین یہ سب کچھ کرنے جارہا ہے تو پاکستان کی محبت میں نہیں۔ اپنی ضرورت کے تحت، کیونکہ پاکستان کے راستے مشرق وسطیٰ اور اس سے آگے کا تجارتی روٹ چین کی اہم قومی ضرورت ہے۔ جس کی تکمیل کی صورت میں اس کے بار بردار جہاز 12 ہزار کلومیٹر کے اضافی بحری سفر سے بچ جائیں گے۔ فی الحال ہم اس بحث میں نہیں پڑیں گے کہ 34 بلین ڈالر کے خرچہ کے یہ پروجیکٹس سرمایہ کاری کی ذیل میں آتے ہیں یا عطیہ ہیں یا پھر قرض۔ مگر ایک بات طے ہے کہ تعبیر مل جانے کی صورت میں یہ خواب چین کے ساتھ ساتھ پاکستان کی تقدیر بدلنے کی بھی پوری اہلیت رکھتا ہے۔ لہٰذا مطمئن رہیں۔ چینی صدر کا دورہ بھی ری شیڈول ہو جائے گا۔ مجوزہ 38 عدد معاہدات اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط بھی ہوجائیں گے۔ کیونکہ یہ سب دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے۔ مگر ہمارا حقیقی نقصان شاید کبھی پورا نہ ہوپائے، وہ یہ کہ ہم نے عالمی برادری کو انتہائی غیر ذمہ دار، غیر مہذب اور غیر سنجیدہ قوم ہونے کا سندیسہ بھیجا ہے، اور خواہ مخواہ کی سبکی خریدی ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ

 

 

Comment on this post