دھرنوں کا ایک ماہ اور جمہوریت دوستوں کے لیے سبق

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ

دھرنوں کا ایک ماہ اور جمہوریت دوستوں کے لیے سبق

جمہوریت کو آج کے جمہوری ملکوں میں کم از کم نظری اعتبار سے ایسا تقدس اور تحفظ حاصل ہے کہ اس کے بارے میں منفی، مبنی بر بیزاری اور مایوس کن خیالات کا اظہار ایسے ہی جیسے کوئی مغربی دنیا میں رہتے ہوئے '' ہولو کاسٹ '' کے بارے میں کچھ ایسا کہہ ڈالے جو یہودیوں کے موقف سے ہٹ کر ہو۔ مغربی مفکرین سے زیادہ مغرب کے ''جمہوریت پسند '' حکمران اور دنیا میں اپنی پسند کی جمہوری اقدار و ثقافت کے فروغ کے لیے کوشاں طبقات اس کے بارے میں کوئی دوسری رائے سننے کو تیار نہیں، ادھر کسی نے جمہوریت کے بارے میں اپنا جمہوری حق استعمال کرنے کی کوشش کی، ادھر وہ راندہ درگاہ ، جمہوریت دشمن اور قابل گردن زدنی ٹھہرا۔

اس سے بھی دلچسپ معاملہ یہ ہے کہ اس جمہوری لبادے میں لپیٹ کر کوئی کچھ بھی بیچتا خریدتا رہے۔ جدید جمہوریت کے تخلیق کاروں اور پیش کاروں کو اس سے کوئی تعارض نہیں ہوتا۔ مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں جمہوری عقیدے سے انحراف کا کھلا کھلا اظہار کیا جائے یا اسے اپنے دینی عقائد، معاشرت و سیاست اور اقدار کے تابع کرنے کی کوشش کی جائے۔ ایسا کرنا عالمی سطح پر بالعموم اور مغربی نظریات و معاشرت کے حامل ملکوں میں بالخصوص ناقابل قبول بلکہ ناقابل معافی سمجھا جاتا ہے۔ صرف اسی حد تک نہیں بلکہ جمہوریت کے بارے میں ایسے کلمات، نطریات اور اقدامات کا نتیجہ کبھی اقتصادی ہتھیار کے استعمال اور کبھی بارودی اسلحے کی یلغار کی صورت برآمد ہو سکتا ہے۔

یہ معاملہ صرف مغربی ممالک تک محدود نہیں وہ ملک جہاں ابھی مغربی جمہوریت کی اپنی اقدار، رویے اور روایات صرف نام کی حد تک موجود ہیں وہاں بھی جمہوریت کے بارے میں پسندیدگی نہ رکھنے والوں کے لیے گنجائش نہ ہونے کے برابر ہے۔ یہ اور بات ہے کہ مصور پاکستان علامہ محمد اقبال اس جمہوریت کے ناقدین میں شامل رہے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود پاکستان ایسے معاشرے میں جمہوریت سیاسی نعرہ بازی، گفتگو، منشور اور دستور کی حد تک ایک لازمے کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ جمہوریت کے ساتھ ایک عقیدے کے قالب میں ڈھلنے والی عقیدت ان معاشروں کی ضرورت تو ہو سکتی تھی جو صدیوں تک بادشاہتوں کے تسلط میں رہے اور اب بھی ان کے ہاں بادشاہتوں کا عکس کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے۔

ان معاشرتوں میں بھی اس کا اہتمام ضروری تھا جہاں خدا بیزار افکارو تمدن، بے خدا سیاست اور ایمانی فکر وفلسفے سے عاری سرمایہ دارانہ معاشی نظام کار فرما تھا، یا کیا جانا ہدف تھا۔ ایسے سبھی معاشروں کے لیے ضروری تھا کہ وہ جمہوریت کو ایک عقیدے کے طور پر مارکیٹ کرتے تاکہ بندگی خدا کے فلسفے کو ذہنوں سے کھرچ ڈالنے سے پیدا شدہ خلا کو پر کرتے ہوئے عامتہ الناس کو اپنے نئے معاشی و سیاسی نظریات کے ساتھ باندھا جا سکے۔ سو یہ کام بدرجہ اتمام ممکن بنایا گیا۔ لیکن وہ معاشرے جہاں کی سماجی اقدار اعلی و ارفع اور روایات، شاندار ایمان و فلسفہ سے منسلک ہوں، یا کم از آج بھی عقائد کی حد تک اور کتابی صورت میں موجود ہوں ان میں جمہوریت پر نقد و نظر کی گنجائش ہو سکتی ہے۔ اس سے جمہوریت کو فائدہ بھی ہو سکتا ہے۔ نتیجتا ایک بہتر، موثر، قابل عمل ہی نہیں بامعنی انداز کا نطام وضع کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ جس میں انسانوں کی توقیرو اکرام اور حقوق و تحفظ زیادہ جگہ پا سکتا ہو۔ جس کی بدولت جمہوریت عملا نیابت الہیہ کے درجے کو پا سکتی ہو۔

پاکستان ایسے معاشرے کی نظریاتی اور اسلامی اپج کو مد نظر رکھا جائے تو اس امر کی گنجائش ضرور موجود ہے کہ ایک نوزائیدہ نوعیت کی جمہوریت جسے بدقسمتی سے شروع سے ہی کئی بیماریوں اور کمزوریوں کا سامنا رہا ہے کی نک سک درست کرنے کا داعیہ بروئے کار رہے۔ اس میں بھی کجی اس وقت رہ جاتی ہے جب پاکستانی جمہوریت کو لاحق رہنے والے صرف ایک عارضے یعنی فوجی آمریت کا تذکرہ کیا جاتا ہے اور باقی سب عارضوں سے شعوری طور پرچشم پوشی کر لی جاتی ہے۔ پاک جمہوریت کو جہاں طالع آزما جرنیلوں سے خطرات رہے وہیں جاگیر دارانہ اور موقع پرستانہ پس منظر رکھنے والی سیاسی جماعتوں اور شخصیات سے بھی ضرر پہنچتا رہا۔ یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ اس کے اثرات اس پہلو سے فوجی آمریتوں سے بھی زیادہ ہیں کہ فوجی آمریت جب بھی قائم ہوئی ان دونوں نے آگے بڑھ کر کندھا پیش کیا۔

جاگیر داروں اور موقع پرستوں سے نجات کے لیے ہی جمہوریت سامنے آئی تھی، لیکن پاکستان میں یہ دونوں طبقے جمہوریت کے کبھی سابقے اور کبھی لاحقے کی صورت موجود رہے۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے ان عناصر کو اپنی جیب کے کھوٹے سکے قرار دیا تھا لیکن سچی بات یہ ہے کہ پاکستانی جمہوریت کا یہی سکہ شروع سے آج تک رائج ہے۔ اگر کبھی اس میں کمزوری کا امکان ہونے لگا تو سیاسی جماعتوں میں موروثیت کے رواج اور جاگیردارانہ و بادشاہانہ ذوق نے جگہ لے کر کمی پوری کر دی۔ لہذا پاکستان میں دستیاب جمہوریت کی اصلاح، بہتری، جمہور کے لیے نتیجہ خیزی، افادے اور کار آمدی کا امکان بڑھانے کی کوششیں جمہوریت دوستی پر محمول کی جانی چاہییں۔

یہ امر اس پہلو سے اور زیادہ ضروری ہے کہ جمہوریت بیزاری پر مبنی دلائل و رجحانات رکھنے والے طبقات کے اعتراضات کا ازالہ ہوتا رہے اور ان کے مثبت نکات کو اپنے جمہوری خزینے میں شامل کرکے پاکستانی معاشرے میں مشترکات کا دامن وسیع کیا جا سکے۔ عوام کی شرکت کے بڑھنے سے نہ صرف جمہوریت پھلے پھولے گی بلکہ وفاق پاکستان مضبوط تر ہو گا اوراس نوع کی بیزاری پر مبنی علامتی سوچ کو روک لگے گی

'' یہ میرا پاکستان ہے نہ تیرا پاکستان ۔۔۔۔ یہ اس کا پاکستان ہے جو صدر پاکستان ہے ۔''

مذکورہ بالا گذارشات کو مد نطر رکھا جائے تو حالیہ دھرنا سیاست کے دوران زیر بحث لائے جانے والے اعتراضات اور مجوزہ اصلاحات کی گنجائش مزید بڑھ جاتی ہی۔ اس کی عملی دلیل یہ ہے کہ دھرنا دینے والوں کی اکا دکا نئی یا اضافی بات کے سوا یہ وہی پرانی تجاویز ہیں جو ما قبل پاکستان کی سنجیدہ سیاسی جماعتیں اپنے انداز میں پیش کرتی رہی ہیں۔

فرق یہ ہے کہ ان کی آواز صدا بہ صحرا رہی۔ کبھی ان کا مضحکہ اڑا دیا گیا ، کبھی انہیں حقارت سے ٹھکرا دیا گیا ، کبھی کچھ لو اور دو کی بنیاد پر وقت ٹپا لیا گیا اور کبھی ملک کو درپیش دیگر چیلنجوں کی آڑ اور اوٹ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ٹرخا دیا گیا۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس شدو مد ، تکرار، اصرار، اگر جسارت نہ سمجھی جائے تو ڈھٹائی کے انداز میں ان تجاویز کو پہلے کبھی پیش نہیں کیا گیا۔ کہ ماضی میں ملک کو اس ساخت اور لہجے کے سیاستدان میسر نہ تھے۔ نئے رجحان کو نعمت اور رحمت بھی سمجھا جا سکتا ہے اور ماضی میں یہی بات زیادہ معقولیت سے کرنے والی سیاسی جماعتوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے رویے کا وبال بھی۔ کہ اب کی بار مقابل دوسری نوعیت کے سیاستدان ہیں۔ لیکن خیال رہے کہ مسلسل بے اعتناہی پر مبنی رویے اور من چاپی حکومت و سیاست کے انداز کا نتیجہ بالآخر یہی ہو سکتا تھا۔

انہیں دھرنے والوں کو جہاں اتنے دنوں تک اسلام آباد کے ہر موسم میں ٹکے اور ڈٹے رہنے کا موقع رہا ہے وہیں یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے ببانگ دہل پیش کیے گئے مطالبات سے اصولی اختلاف کسی دوسری سیاسی جماعت کو بھی نہیں ہے۔ اختلاف صرف طریقہ کار کو طریقہ واردات میں تبدیل کردینے سے ہے۔ اب تک ایک ماہ تک دھرنا دینے کا ریکارڈ قائم کرنے والوں کو ایک یہ سہولت بھی بہر حال فراہم رہی ہے کہ یہ ایسے وقت میں باہر آئے ہیں جب عام آدمی ستم ہائے روزگار ہی نہیں مہنگائی اور بد امنی سے تنگ اور صحت و تعلیم ایسی بنیادی سہولیات کے حصول کے لیے آمادہ جنگ نظر آتا ہے۔ دھرنے والوں کو ''غیبی امداد'' حاصل ہے یا نہیں اس سے قطع نظر کہ یہ موضوع کسی نتیجے تک پہنچانے کی سہولت حکومت وقت کو زیادہ حاصل ہے، وہ اس بارے میں ابھی تک کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکی تو ہما شما کو اس بارے میں ٹکریں مارنے کی ضرورت نہیں ہے۔

البتہ اس جانب متوجہ کرنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان کی جمہوریت کو جمہور دوست بنانے کے لیے عملی، ٹھوس اور بامعنی اقدامات میں تاخیر نہ کی جائے۔ قانون سازی کا معاملہ ہو یا انتظامی فیصلوں کا ، معیشت کو بہتر بنانے کے لیے سوچ بچار ہو یا ملک کے انفراسٹرکچر کی کمزوریوں کا ازالہ کرنے کی تگ و دو، عام آدمی کی قلیل مدتی ضروریات اور طویل مدتی مفادات کو ہر گز نظر انداز نہ کیا جائے۔ مشکل فیصلے کرنے کا رواج تو ملک میں طویل عرصے سے بروئے کار ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ اس اسلوب کو تبدیل کرکے ایسے فیصلے کیے جائیں جس سے حکومتوں اور حکمران سیاسی جماعتوں کی مشکلات بڑھتی ہوں تو سو دفعہ بڑھیں لیکن عام آدمی کی مشکلات میں اضافہ نہ ہو۔ عوام پر اس قدر مشکلات پڑ چکی ہیں کہ اب ان میں مزید اضافہ خطرناک رد عمل کا باعث ہو سکتا ہے۔ حکومتی و سیاسی فیصلوں کی برکات اور ثمرات عام آدمی کے حق میں فوری طور پرسامنے آنا بھی ضروری ہے اور مستقبل بعید کے حوالے سے بھی اہم۔ اس کے علی الرغم سیاسی جماعتوں کے درمیان بقائے باہمی کے لیے مفاہمت یا دوستی اگر عوامی مفاد سے ماورا رکھنے کا کلچر آگے بڑھتا رہا تو سیاسی اور جمہوری طریقوں سے بنائے گئے اس ملک میں ان رجحانات کی جگہ شدت و حدت کے حامل رجحانات فروغ پانے کا خدشہ بڑھ جائے گا۔

نئے ماحول اور جمہوری ارتقاء کے سفر کو آگے بڑھانے کے لیے جمہوری عمل کے ذریعے منتخب ہونے والی سیاسی جماعتوں کو ماضی کی اس سوچ سے نجات پانا ہوگی کہ عوام نے انہیں حق حکمرانی یا حکمرانی کا مینڈیٹ دے دیا ہے۔ انہیں اب سمجھنا ہو گا کہ عوام نے انہیں اپنی خدمت کا فریضہ اور ذمہ داری تفویض کی ہے۔ وزیر اعظم میاں نواز شریف نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے دوران بجا طور پر کہا کہ'' حکمرانی پھولوں کی سیج نہیں ہے۔ بلاشبہ یہ بھاری ذمہ داری ہے۔ '' یہ ایک اعزاز میں تب بدلے گی جب حکومت کی طرف سے عوامی خدمت کے لیے کیے گئے اقدامات اجاگر کرنے کی خاطر میڈیا پر کروڑوں اربوں کی اشتہاری مہمات کا سہارا نہ لینا پڑے گا۔ بلکہ عام آدمی کو حکومت اور حکمرانوں کا عوام کے لیے اخلاص اپنے دائیں بائیں اور آس پاس عملی طور پر نظر آرہا ہو گا۔

سیاسی مخالفین کے خوف اور اگلی باری نہ مل سکنے کے ڈر کا ایک ہی علاج ہے کہ پارلیمنٹ میں منظور یا مسترد کیے جانے والا ہر قانون، کابینہ سے منظوری پانے والا ہر فیصلہ، ملک کے اندر آنے والی اور ملک سے باہر جانے والی ایک ایک پائی، کسی بڑے اور بااثر کے فائدے کے لیے نہیں عوامی بھلائی اور بہتری کے لیے ہو۔ حکومت عوام پر قرضے بڑھا بڑھا کر بوجھ لادنے والی مشین نہ بن جائے بلکہ عوام کے بوجھ میں کمی کی سبیل کرنے والی مشینری بنے۔

آئینی اور انتظامی اداروں کے احتساب سے بچاو کی بھی ایک ہی صورت ہے کہ عوام کے احتساب کو پانچ سال بعد ہونے والے انتخابات تک اٹھا رکھنے اور روکےرکھنے کا روایتی ہتھکنڈہ چھوڑ کر ہر روز عوامی احتساب کا سامنا کرنے کے لیے پوری خندہ پیشانی سے تیار رہا جائے۔ پاکستانی عوام کی گھٹی میں یہ سوچ موجود ہے کہ وہ امیرالمومنین کے کرتے کے بارے میں بر سر عام سوال پوچھے جانے کو بہترین جمہوریت اور بہترین حکمرانی سمجھتی ہے۔ اسی اسلوب حکمرانی کی بدولت کسی اور کے احتساب کا ڈر خوف باقی نہیں رہ سکتا۔ سیاسی جماعتوں کے اندر مفقود جمہوری عمل یا محض ضابطے کی کارروائی کے لیے اختیار کردہ جمہوری طریقے سے آگے بڑھ کر ہی جمہوریت کی مضبوطی کا امکان بڑھایا جا سکتا ہے۔ بصورت دیگر یہ جمہوری تماشہ تو ہو سکتا ہے جمہوریت نہیں۔ یہ تقاضا ہر اس جماعت کو نبھانا ہوگا جو جمہوری ہونے کا دعوی رکھتی ہے خواہ وہ اس وقت اقتدار کا حصہ ہے یا نہیں۔

مخصوص حالات کے استثناء کے ساتھ جمہوری حکومت کے لیے ایک عمومی پیمانہ یہ بھی ہے کہ اسے اور اس کے کار پردازوں کو عوام کی قربت میں آتے ہوئے اپنے جسم و جان کی حفاظت کے لالے نہ پڑے ہوں۔ جہاں ایسا ماحول موجود ہو سمجھ لینا چاہیے وہاں کی جمہوریت ابھی جمہور کے اعتماد کی حامل نہیں۔ اب تک ایک ماہ اسلام آباد میں گزارنے میں کسی بھی طرح کامیاب ہو جانے والے دھرنوں کے بعد سب جمہوریت کی دعوے دار جماعتوں اور شخصیات کے لیے سبق یہی ہے کہ پاکستان کی جمہوریت کو جمہور فرینڈلی نہ بنایا گیا تو جمہور کا راستہ الگ اور جمہوریت کی باتیں کرنے والی سیاسی جماعتوں اور حکمرانوں کا راستہ الگ ہو جائے گا۔

عوام نے اس ایک ماہ کے دوران موجودہ سسٹم کے بہت سارے ناسور زدہ گوشوں کو نسبتا قریب سے دیکھنے کے علاوہ سیاتدانوں جھوٹ، سچ اور قومی و ذاتی مفادات کے پیمانوں کو اچھی طرح ماپ تول لیا ہے۔ دھرنے کے اندر کتنا سچ ہے اور دھرنے کے باہر کس حد تک سچائی کی حکمرانی ہے سب کچھ عوام کے سامنے ہے۔ میڈیا کے سچ جھوٹ بھی خوب کھل کر سامنے آئے ہیں۔ اس لیے اگر کوئی مانتا ہے کہ جمہوریت میں اصل طاقت عوام کے پاس ہوتی ہے تو اسے کسی دھوکے میں نہیں رہنا چاہیے۔ وقت آگے بڑھ رہا ہے اسے روکا نہیں جا سکتا۔ ہاں اس کے لیے گوش بر آواز ہونے والوں کے لیے کامرانی امکانی ہے اور دوسروں کے لیے ناکامی یقینی۔

 

Comment on this post