اسلام آباد میں ماحولیاتی دہشت گردی

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ

اسلام آباد میں ماحولیاتی دہشت گردی

یوں تو پورا پاکستان اس وقت رواں صدی کے دو سب سے بڑے ماحولیاتی دہشت گردوں کے نرغے میں ہے لیکن وفاقی دارالحکومت اسلام آباد ان کا خاص نشانہ بنا ہوا ہے۔ ابتداء اس مہم کی کچھ یوں ہوئی کہ علامہ طاہر القادری صاحب کو 2012ء میں کینیڈا میں بیٹھے بیٹھے اچانک قوم کی خدمت کا خیال آیا۔ اس خیال کو عملی جامہ پہنانے کے لیے موصوف پاکستان تشریف لائے اور دسمبر میں لاہور میں ایک بڑے جلسہ عام میں "سیاست نہیں ریاست بچاؤ" کا نعرہ بلند کیا۔ سیاستدانوں نے اسے معلوم نہیں کس انداز میں لیا مگر لاہور میں علامہ صاحب اور ان کے کارکنان نے'' سیاست نہیں غلاظت پھیلاؤ''کے نعرہ پر بدرجہ اتم عمل کیا۔لاہور کے جلسے کے بعد حضر ت نے اسلام آبادمیں دھرنے کا اعلان کر دیا۔ جنوری 2013ء کے یخ بستہ دنوں میں قریباً25ہزار افراد کا جمِ غفیر لے کر اسلام آباد پہنچے، ڈی چوک میں دھرنا دے دیا اور یوں اکیسویں صدی کی ماحولیاتی دہشت گردی کا آغاز کر دیا ۔ آئین اور قانون کی بات کرنے والے علامہ صاحب اور ان کے کارکنان و مریدین نے اسلام آباد کے قدرتی حسن کا پردہ چاک چاک کر دیا۔یہ ہمارے سیاستدانوں کے منہ پر طمانچہ بھی تھا کہ ایک کینیڈین شہری نے پورے نظام زندگی کو تاراج کر نے کی ٹھان لی اور انھیں کوئی روکنے والا نہیں تھا۔ 18کروڑ کی اس ریاست کو تخت بغداد سمجھ لیا گیا اور ہر راہ چلتے ہلاکو خان کو شہ دی کہ جب چاہو اس ریاست کو تہہ و بالا کر دو ۔

پھر دیکھتے ہی دیکھتے ڈیڑھ ایک سال کا عرصہ گزر گیا اور 17 جون کو ماڈل ٹاؤن لاہور کا واقعہ ظہور پذیر ہوا جس کی آڑ میں علامہ صاحب اور ان کے احتجاجی اتحادی عمران خان صاحب اپنے لشکروں کو لے کر دنیا کےخوبصورت ترین شہروں میں سے ایک پر حملہ آور ہو گئے۔ سیاستدانوں ، سول سو سائٹی اور حکومتی مشینری کا وجود تک ختم ہو گیا۔دونوں لشکری ہر قانون اور آئین کو روندتے ہوئے شاہراہِ دستور پر پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے خیمہ زن ہو گئے۔ ایک ماہ ہوچکا مگر لشکری بضد ہیں کہ وہ اپنی بات کو منوا کر رہیں گے۔ اس ایک ماہ کے دوران دونوں دھرنوں کے شرکاء صرف ایک مربع کلومیٹر کے علاقے میں 25ہزار ٹن گندگی پھیلا چکے ہیں۔ اس میں 3ہزار ٹن انسانی فضلہ، 5ہزار ٹن پلاسٹک کے بیگز ، 5 سو ٹن پلاسٹک کی بوتلیں ،6ہزارٹن سڑا ہوا کھانا، اور 5لاکھ لیٹر پیشاب شامل ہے۔ پیشاب میں بڑی مقدار میں یوریا شامل ہوتا ہے جو زمین میں جذب ہو کر دیگر نامیاتی مادوں سے مل کر انتہائی بدبودار ہو جاتا ہے ۔زمین کی تیزابیت ہزار گنا بڑھ جاتی ہے جس سے زمین قریباً ناقابل کاشت ہو جاتی ہے اور کروڑوں سال سے وجود میں آنے والے نامیاتی مرکبات کا توازن بگڑ جاتا ہے جسے ٹھیک کرنے میں سینکڑوں سال لگ جاتے ہیں۔

انسانی فضلے کے مٹی میں جذب ہوکر زیر زمین چلے جانے سے میٹھے پانی کے زیر زمین ذخائر آلودہ ہو جاتے ہیں اور ان میں خطر ناک کیمیائی مرکبات شامل ہو جاتے ہیں۔ میٹھے پانی کے یہ ذخائر کروڑوں سالوں کے ارتقائی عمل سے گزرکر موجودہ حالت کو پہنچے ہیں، پانی کے ان ذخائر کا بہاؤ سست روی سے مگر مسلسل نچلے میدانی علاقوں کی طرف جاری رہتا ہے۔ یوں یہ آلودہ پانی سینکڑوں کلومیٹر دور کی آبادیوں کو متاثر کرتا رہتا ہے۔زمینی آلودگی سے پیدا ہونے والی غذائی اجناس، چارہ اور سبزیاں بھی آلودہ ہوجاتی ہیں اور ان میں خطرناک کیمیائی مادے شامل ہو جاتے ہیں جس سے مہلک امراض جنم لیتے ہیں۔

انقلابی لشکروں نے غلاظت ہی نہیں پھیلائی بلکہ دوسرا ظلم یہ کیا ہے کہ انھوں نے شاہراہِ دستور پر موجود سینکڑوں درختوں اور نمائشی و زیبائشی پودوں کو جڑسے اکھاڑ کر آگ لگا دی ۔ہزاروں ننھے پودوں کو پاؤں تلے روند دیا ۔انھوں نے جن درختوں کو اکھاڑا، ان پر سینکڑوں پرندوں نے آشیانے بنا رکھے تھے کیونکہ اگست میں پرندوں کی زیادہ تر اقسام اپنی افزائش نسل کرتی ہیں ۔برسات کے موسم کا اپنا ایک ماحولیاتی کردار ہے۔ اس موسم میں زیر زمین کیڑے مکوڑے ، حشرات الارض اور پتنگے بڑی تعداد میں نکلتے ہیں اور پھرخوراک وافر مقدار میں ہونے کی وجہ سے حشرات خور پرندے اور جانور افزائش نسل کرتے ہیں۔ اسلام آباد میں پورے ملک میں پائے جانے والے پرندوں کی 60 فی صد اقسام پائی جاتی ہیں۔ یوں وفاقی دارالحکومت کا علاقہ ماحولیاتی اعتبار سے ایک منفرد حیثیت کا حامل ہے۔

اسلام آباد کے ریڈ زون میں دھرنا دینے والے انقلابی لیڈروں نے اپنا پیغام عظیم پہنچانے کے لیے طاقتور سمعی و بصری آلات کا خاطر خواہ انتظام کررکھاہے۔ مجموعی طور پر ہزاروں واٹ کے بلب اور روشنی دینے والے دیگر برقی قمقمے اور آلات نصب کر رکھے ہیں جس سے روشنی کی آلودگی اور شور کی آلودگی سے شہری سخت نفسیاتی دباؤ کا شکار ہیں اور ارد گرد کے علاقوں کے مکین ذہنی و جسمانی عوارض کا شکار ہو رہے ہیں ۔ ان میں بلند فشارِ خون، ڈیپریشن ، سماعت میں کمی، اعصابی کمزوری اور کچھاؤ، چِڑ چڑاپن، سر درد اور عدم برداشت جیسے امراض شامل ہے۔ انسانی کان صرف مخصوص فریکونسی تک آواز سننے کی صلاحیت کے حامل ہوتے ہیں، لاکھوں گنا زیادہ شور سے سماعت پر مضر اثرات مرتب ہو تے ہیں۔ اس طرح انسانی آنکھ بھی صرف مخصوص روشنی میں ہی راحت محسوس کرتی ہے ۔زیادہ روشنی سے آنکھ میں موجود حساس عضلات متاثر ہوتے ہیں جس سے بینائی ختم ہوجانے کا اندیشہ ہوتا ہے۔

دونوں لشکری لیڈر اس پر بضد ہیں کہ وہ نیا پاکستان بنا کر جائیں گے ۔بھلے وہ اس آڑ میں پرانے ، سہانے اور پیارے پاکستان کو تہ و بالا کرگزریں۔اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان کے 18کروڑ عوام اکیسویں صدی کے ان دو بڑے ماحولیاتی ملزموں کو پکڑ کر قانون کے کٹہرے تک پہنچاتے ہیں یا نہیں۔ اگرآج ہم نے اسلام آباد کے ماحول کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے والوں کو ایسے ہی چھوڑ دیا تو کل کلاں ماحولیات کو تہ وبالا کرنے والے دوسرے شرپسندوں کو بھی اسی طرح شہروں پر چڑھ دوڑنے کی شہ ملے گی۔

 

Comment on this post