عالمی سیاست میں تنہائی کی طرف بڑھتے قدم

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ

عالمی سیاست میں تنہائی کی طرف بڑھتے قدم
امر واقعہ یہ ہے کہ آزادی مارچ اور انقلاب مارچ نے پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ اُن کے مطالبات کتنی ہی صداقت پر مبنی کیوں نہ ہوں اور اُن کی شکایات کتنی ہی درست کیوں نہ ہوں مگر حاصل نتیجہ یہ ہے کہ پاکستان کو جہاں معاشی نقصانات ہوئے (جن کا تخمینہ کھربوں روپے میں ہے) وہیں انسانی تکالیف، معاشرتی مسائل نے بھی جنم لیا، معاشرہ اکھڑ کر رہ گیا ہے، توقعات ناامیدی میں بدل گئیں۔
یہ کسی قوم کے لئے بڑا دھچکہ ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ملک عالمی سیاست میں اپنا کردار ادا کرنے میں مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔ شاید یہ کسی کا حتمی منصوبہ ہو۔ میں دونوں دھرنوں کے رہنمائوں کو موردِ الزام نہیں ٹھہرا رہا ۔ البتہ یہ بتانا ضرور مقصود ہے کہ دُنیا بھر کے تھنک ٹینک پاکستان کے نوجوانوں میں جوہر دیکھ کر اُن کو محدود رکھنے کی ہر ممکن کوششیں ماضی میں بھی کرتے رہے ہیں اور یہ بھی اسی قسم کی ایک کوشش ہو سکتی ہے کیونکہ سری لنکا کے سربراہ نے اپنا دورہ ملتوی کیا تو مالدیپ کے سربراہ نے بھی۔ یہ دونوں پاکستان کے دوست ہیں اور اچھے بُرے وقت کے ساتھی، کوئی طاقت اِن کو پاکستان سے جدا کر کے بھارت کے ساتھ جوڑنا چاہتی ہے۔ پھر چینی صدر کا دورہ ملتوی ہوا۔ جو پاکستان پر کاری ضرب کہی جاسکتی ہے۔
ڈپلومیسی کے میدان میں بھارت کو خوش کرنے کا ایک اور موقع مل گیا۔ پھر 11 ستمبر 2014ء کو پاکستان کے وزیراعظم نے شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شریک ہونا تھا، جس میں وہ چینی، روسی، ایرانی اور کئی سربراہان سے مل سکتے تھے۔ یہ موقع بھی گنوا دیا گیا۔ صرف ایک غیرملکی اعلیٰ شخصیت روسی نیول چیف ایڈمرل ’’وکٹری شرکو‘‘ پاکستان کے دورے پر آئے اور اُن کے دورے سے پاکستان اور روس کے درمیان تعلقات بڑھے مگر اِس کے نتیجے میں شاید روس کو پیغام دینے کے لئے 6 ستمبر 2014ء کو کراچی نیوی کے ڈاکیارڈ پر دہشت گرد حملہ ہوا جس میں تین دہشت گرد مار دیئے گئے اور چار کو گرفتار کرلیا گیا۔ واضح رہے کہ کراچی کا یہ ڈاکیارڈ ایک مصروف ڈاکیارڈ ہے، اس میں تین نئے جدید بحری جہاز چین کے تعاون سے تیار کئے گئے جو سمندری پانی میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں اور جو ’’اورین‘‘ جیسے جدید طیاروں کی صلاحیتوں سے آراستہ ہیں۔ وہ سمندر میں دور تک دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ سطح سمندر کے نیچے چھپی آبدوزوں کو صحیح صحیح نشانہ بنا سکتے ہیں۔ اس وقت اِس ڈاکیارڈ میں ترکی کے تعاون سے ایک جدید اور بڑا جہاز تیار ہو رہا ہے اور اِس پر حملہ کرنے والوں میں اے آئی جی شبیر جکھرانی کا بیٹے اویس جھکرانی بھی ملوث تھا جو پہلے یہاں ملازمت کرتا تھا اور اُس کو اِس کی مشکوک سرگرمیوں کی وجہ سے نکالا گیا۔ گرفتاری کے بعد ملزموں سے جو معلومات حاصل ہوئیں اس کے بعد پاکستان کی فضائیہ نے دتہ خیل کی تحصیل میں ان کے مرکز پر حملہ کیا اور 65 دہشت گرد ہلاک کئے۔
پاکستان کو دہشت گردی کی سرگرمیوں سے ’’ضربِ عضب‘‘ کی وجہ سے جو ذرا سانس لینے کا موقع ملا تھا وہ اِن دھرنوں نے گنوا دیا۔ اِس سے پہلے پاکستان ذرا بہتر حالت میں آیا تو کراچی میں وہ خونریزی ہوئی کہ دُنیا نے کراچی جو دُنیا بھر کے ملکوں کے فضائی کمپنیوں کی قدرتی گزرگاہ تھی اس کو تبدیل کرکے دبئی کو فضائی گزرگاہ کا اہم مرکز بنا لیا۔ اس تاریخی حوالے سے معاملات کو دیکھا جائے تو لگتا ہے کہ پاکستان کو گہن لگائے رکھنے کی کوشش مسلسل جاری ہے۔ ایک تاریخی مقولہ ہے اور دانشوروں کا یہ کہنا ہے کہ اس وقت تک انقلاب کی کوشش نہ کی جائے جب تک اُس کی کامیابی کے سو فیصد امکانات نہ ہوں۔ میں خود انقلاب کا داعی رہا ہوں مگر پاکستان کے ایک بڑے دانشور خالد اسحاق نے مجھے نصیحت کرتے ہوئے دو باتیں کہی تھیں ایک تو یہ کہ انقلاب کا اصول یہ ہے کہ وہ سب سے پہلے اپنے بچے کھاتا ہے، دوسرے یہ کہ مخلوقِ خدا کو انقلاب کے لئے اس وقت تک ترغیب نہ دو جب تک اُس کی کامیابی کا دو سو فیصد یقین نہ ہو۔ اللہ کو یہ بات پسند نہیں ہے کہ مخلوقِ خدا کو بیجا تکلیف دی جائے۔ اب اگر دونوں دھرنوں کو دیکھا جائے تو وہ اپنی افادیت کھو بیٹھے ہیں۔ یہ درست ہے کہ ڈاکٹر طاہر القادری اپنی انتظامی صلاحیتوں کی وجہ سے اپنے مریدوں اور اپنے ماننے والوں کو جما کر بیٹھے ہیں مگر افراد کی جو تعداد اُن کے پاس ہے وہ انقلاب لانے کے لئے ناکافی ہے۔
عمران خان صاحب سے جو مذاکرات چل رہے ہیں وہ کسی سمت جا تو رہے ہیں وہاں حکومت کے تدبر کا امتحان ہے وہ عمران خان کی حالت کمزوری میں بھی اُن کو مراعات دے کر اِس معاملے کو رفع دفع کرے۔ خود اِن دونوں حضرات نے سیلاب کی صورتِ حال اور چینی صدر کے دورے کے حوالے سے دھرنے کو ختم کرنے کا جو مواقع ملے تھے ان کو گنوا دیا، جو معاشرتی بُرائیاں پھیل رہی ہیں۔ وہ ڈاکٹر طاہرالقادری کے دھرنے میں تو نہیں ملتیں البتہ عمران خان کے دھرنے پر سوالیہ نشانات ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ایک خاتون کو دھرنے میں شمولیت کی وجہ سے اُس کے شوہر نے قتل کردیا جبکہ ایک شوہر نے بیٹی کے دھرنے میں شریک ہونے کی وجہ سے اپنی بیوی کو طلاق دیدی۔ اگرچہ صحیح اور عوامی مفادات کے حامل انقلاب کی کامیابی کی صورت میں یہ بڑی قربانیاں نہیں ہیں مگر کامیابی کے امکانات دور دور تک نظر نہیں آتے۔ البتہ اِس کے جو اثرات مرتب ہورہے ہیں وہ خطرناک ہیں۔ فضا بن رہی ہے اور قادری اور عمران صاحبان کی شعلہ بیانیوں سے پاکستانی عوام پر جو اثرات مرتب ہو رہے ہیں وہ ایک دن رنگ لائیں گے اور حکومت وقت اگر اِس کا احاطہ نہ کر سکی تو وہ ملبہ اس پر گرے گا اور اس کا فائدہ تیسری قوت نہیں بلکہ کوئی اور قوت اٹھائے گی۔
تیسری قوت کے بارے میں کہا جاتا رہا ہے۔ جس کو ایمپائر کا نام دیا گیا تو کبھی کوئی اور کہ انگلی اٹھنے والی ہے اور وکٹ گرنے والی ہے مگر حکومت نے صبر سے کام لیا اس سے اُس کو فائدہ ہوا کہ تیسری قوت میدان میں نہیں آئی کیونکہ وہ اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں مصروف ہے اور حالات اتنے خراب نہیں ہوئے ہیں کہ وہ ملک کو بچانے کے لئے میدانِ عمل میں نکلیں۔ ہمارا تجزیہ یہ تھا کہ صورتِ حال تیسری قوت کو مجبور کردے گی کہ اقتدار پر قبضہ کرلے اور یہ غیرملکی منصوبہ کے عین مطابق ہو گا کہ جیسے وہ اقتدار پر قبضہ کرے ویسے ہی تمام سیاسی قوتیں اس کے خلاف صف آرا ہو جائیں اور مصر اور شام جیسی خونریزی شروع ہوجائے۔ یہ بات ہم نے ارباب بست و کشاد کے گوش گزار کرادی تھی کہ کسی ایسی صورتِ حال سے بچا جائے۔ ممکن ہے کہ انقلاب اور آزادی مارچ کرنے والے رہنما خود کو اقتدار میں لانے یا سچ مچ کا انقلاب لانے کا سوچ رہے ہوں اور ممکن ہے کہ وہ خود سے اس کو درست سمجھتے ہوں مگر اس کا نتیجہ اس آرائی پر جا کر منتج ہوگا جس کی کوشش اغیار پہلے سے کر رہے ہیں۔ مسلکی بنیادوں پر کراچی میں روزانہ قتل ہو رہے ہیں۔
کراچی کی پولیس کافی مستعد ہے وہ ان لوگوں تک پہنچ تو جاتی ہے مگر ایک آدھ واقعے کے بعد۔ پولیس کے حکام یہ کہتے سُنے گئے ہیں کہ یہ وارداتیں ایک ہی گروپ کر رہا ہے اور جو غیر ملکی ایجنڈے کو آگے بڑھا رہا ہے۔ دھرنوں کے معاملے میں بھی پاکستان کے حکمرانوں نے اب تک طاقت کے استعمال کی بجائے برداشت کا دامن پکڑے رکھا مگر ان کے جائز مطالبات ضرور مانے جائیں اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنایا جائے۔ دستور کے مطابق ہر ادارہ اپنا کام کرے اور ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرے۔ غیرملکی سفارت کاری کے معاملے میں یہ ضروری ہوگیا ہے کہ ایک کل وقتی وزیرخارجہ مقرر کیا جائے اور پاکستانی عالمی سیاست میں حالات کی بنیاد پر جو تنہائی کا منظرمہ بن رہا ہے اس کو توڑا جائے کیونکہ یہ تنہائی سم قاتل ثابت ہو سکتی ہے۔ اسی وجہ سے سابق وزیرخارجہ خورشید محمود قصوری کہا کرتے تھے کہ پاکستان کو عالمی بساط پر تنہا نہیں ہونے دیں گے اور بھارت اور دیگر ممالک کو یہ موقع نہیں دیں گے کہ ہمیں نقصان پہنچا سکیں۔

نصرت مرزا

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ

Comment on this post