ہم سب کے لیے

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ

ہم سب کے لیے

ہمیں ماننا پڑے گا ہم سب غلطی پر ہیں، ہم سب مجرم ہیں اور ہمیں فوری طور پر اپنی اصلاح کرنا ہو گی ورنہ دوسری صورت میں ہم بے نام قبرستان کی بے نشان قبربن جائیں گے، میں سب سے پہلے میڈیا سے شروع کرتا ہوں، الیکٹرانک میڈیا کو فوری اصلاح کی ضرورت ہے، ہم ریٹنگ کی دوڑ میں ملک کو ایسی ’’سلوپ‘‘ پر لے آئے ہیں جہاں ہزاروں فٹ گہری کھائی ہے، ہم ملک میں ہونے والی ہر منفی سرگرمی کو ہزاروں گنا بڑا کر کے دکھاتے ہیں، ہماری اسکرینوں پر ڈپریشن، ٹینشن، شدت اور مایوسی کے سوا کچھ نہیں ہوتا، ہم نے ٹیلی ویژن کو کنفیوژن کی فیکٹری بنا دیا، لوگوں کے ڈپریشن میں اضافہ ہو رہا ہے اور ڈاکٹر اب مریضوں کو ٹی وی سے پرہیز کا مشورہ دیتے ہیں، ہم نے اپنی اسکرینوں کو خودکش اینکرز کے حوالے کر دیا ہے، یہ لوگ اپنے ساتھ ساتھ میڈیا اور معاشرے کو بھی تباہ کر رہے ہیں، ہماری گاڑیوں، کیمروں، رپورٹروں اور دفتروں پر حملے شروع ہو چکے ہیں، یہ حملے عوام کی اس فرسٹریشن کا نتیجہ ہیں جو ہم نے پیدا کی اور جس کو ہم روز ایندھن فراہم کر رہے ہیں۔

لوگ اب ہم سے صرف وہ سننا چاہتے ہیں جو یہ سننا چاہتے ہیں اور صرف وہ دیکھنا چاہتے ہیں جو یہ دیکھنا چاہتے ہیں اور ہم جس دن ان کی توقع پر پورے نہیں اترتے یا ہم انھیں تصویر کا دوسرا رخ دکھانے کی ’’غلطی‘‘ کر بیٹھتے ہیں، یہ اس روز ہماری گاڑیوں، ہمارے کیمروں اور ہمارے رپورٹرز پر حملے شروع کر دیتے ہیں، ہم اگر اب بھی نہ سنبھلے، ہم نے اگر عوامی نفسیات کو دیکھ کر پالیسی نہ بنائی اور ہم نے جذباتیت کی یہ دکانداری بند نہ کی تو ملک سے قبل ہم سب تباہ ہو جائیں گے، لوگ ہمارے اسٹوڈیوز پر قابض ہو جائیں گے اور یہ ہمیں گن پوائنٹ پر وہ دکھانے پر مجبور کریں گے جو یہ اور ان کے چاہنے والے دیکھنا چاہتے ہیں چنانچہ ہمیں عوامی خواہشات کا غلام یا مستقبل کے لیڈر ان دونوں میں سے کسی ایک کا فیصلہ کرنا ہو گا،ہمیں فوری طور پر میڈیا اصلاحات کرنا ہوں گی، ہمیں فیصلہ کرنا ہو گا ہم نے کون سی چیز دکھانی ہے اور کون سی نہیں، ہمیں اینکر پرسنز کے لیے بھی ’’کرائی ٹیریا‘‘ طے کرنا ہو گا۔

میڈیا کی طرح عوام بھی مجرم ہیں، یہ آج بھی نعروں، دعوؤں اور بیانات کو آسمانی صحیفہ سمجھ رہے ہیں، یہ آج بھی سمجھتے ہیں، روٹی، کپڑا اور مکان حکومتی ذمے داری ہیں، یہ سمجھتے ہیں کسان گندم مہنگی بوئے گا لیکن ہمیں سستی بیچے گا، بجلی 22 روپے یونٹ بنے گی لیکن ہمیں پانچ روپے یونٹ ملے گی، ہم خواہ پٹڑیاں اکھاڑ کر بیچ دیں لیکن ریلوے چلنی چاہیے، پی آئی اے کے جہاز 25 ہوں، ملازم 19 ہزار 4 سو 18 ہوں اور یہ ملازم خواہ تیل بیچ دیں اور پرزے نکال کر کباڑ مارکیٹ میں فروخت کر دیں لیکن پی آئی اے کو دنیا کی شاندار ترین ائیر لائین ہونا چاہیے۔

یہ سمجھتے ہیں یہ خواہ بچوں کو تعلیم نہ دیں، یہ بچوں کو ہنر نہ سکھائیں لیکن بچوں کو کم از کم ایم ڈی ضرور لگنا چاہیے، یہ خود دھرنے دے کر ملک بند کر دیں، دفتر، دکانیں، فیکٹریاں اور کارخانے بند ہو جائیں لیکن ان کی تنخواہوں میں اضافہ ہونا چاہیے، یہ بیمار خود ہوں لیکن علاج حکومت کرائے، یہ پوری زندگی ریاست کو دھیلا ٹیکس نہ دیں لیکن ریاست کینیڈا، ناروے اور جرمنی کی طرح ویلفیئر ہونی چاہیے، یہ پوری زندگی کام نہ کریں لیکن ملک کو ان کے ساتھ داماد جیسا سلوک کرنا چاہیے یہ سعودی عرب منشیات لے جائیں لیکن پھانسی سے بچانا ریاست کی ذمے داری ہے اور یہ خواہ ساری سرکاری املاک جلا کر راکھ کر دیں لیکن پولیس کو انھیں سیلوٹ کرنا چاہیے، کیا یہ ممکن ہے؟ اور کیا اس طرح یہ ملک چل سکے گا، عوام کو سمجھنا ہو گا ہم جب تک اپنا، اپنے خاندان، اپنے شہر اور اپنی ریاست کا مالی بوجھ نہیں اٹھائیں گے، یہ ملک نہیں چل سکے گا، ہم جب تک ملک کو گھر سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے، ہم ملک نہیں چلا سکیں گے، ہمارے عوام کو یہ سمجھنا ہو گا۔

ہماری حکومت اور سیاسی قیادت بھی مجرم ہے، یہ تیسری دنیا کے مرتے ہوئے ملک کے قائد ہیں لیکن ان کے انداز حکمرانی شاہانہ ہیں، یہ سیلاب زدہ علاقوں کے دوروں کے دوران بھی جوتوں کو کیچڑ نہیں لگنے دیتے، یہ خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے ملک میں سرکاری جہازوں میں سفر کرتے ہیں، یہ بچوں کو دوبئی، لندن اور نیویارک میں رکھتے ہیں اور یہ کاروبار باہر چلاتے ہیں، ملک میں صرف حکومت کرنے کے لیے آتے ہیں، یہ ’’اسٹیٹس کو‘‘ میں پھنسے ہوئے لوگ ہیں، یہ خاندانوں، برادریوں، دھڑوں اور سیاسی مفادات کا شکار ہیں، یہ اقتدار میں آ جاتے ہیں، نظام میں پیوند لگا کر وقت گزارتے ہیں اور عوام کو پہلے سے زیادہ خوفناک حالات میں چھوڑ کر چلے جاتے ہیں، ہمارے حکمرانوں اور سیاسی قائدین کو بھی عقل کے ناخن لینا ہوں گے، انھیں بھی خواب خرگوش سے نکلنا ہو گا اور ملک کو نئے سرے سے تعمیر کرنا ہو گا، عمران خان نے ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کر دیا، سیاسی قائدین یہ موقع غنیمت جانیں اور ملک کے اصل مسائل کے حل کے لیے تعمیری قانون سازی کریں، اداروں کو’’ری شیپ‘‘ کریں، پولیس اور عدلیہ کو آزاد بھی کریں اور وسائل بھی دیں، عوام کی انگلی پکڑیں تاکہ ملک میں صحیح معنوں میں تبدیلی آ سکے ورنہ اگلا حملہ پورے ملک کو اڑا دے گا۔

عمران خان اور علامہ طاہر القادری بھی غلط راستے پر چل رہے ہیں، آپ اگر خود قانون توڑیں گے، آپ سسٹم کے خلاف لوگوں کو خود سڑکوں پر لے آئیں گے، آپ جارحانہ زبان استعمال کریں گے، آپ ریاست کے اداروں کو سرے عام برا بھلا کہیں گے اور آپ اختلافات کرنے والے صحافیوں کو بکاؤ قرار دیں گے تو آپ کل خود کیسے حکومت کریں گے، آپ کل عوام سے حکومت کی رٹ کیسے منوائیں گے، میں آپ کے ورکروں کی ’’موبائل دہشت گردی‘‘ کا بہت بڑا ہدف ہوں، آپ کے ورکرزآپ سے اختلاف کو برداشت نہیں کرتے اور آپ کے باغیوں کو گالی دینا فرض سمجھتے ہیں، یہ پچھلے ڈیڑھ ماہ سے مجھ پر مہربانی فرما رہے ہیں، آپ پی ٹی آئی کی ویب سائیٹس دیکھیں، آپ کی ویب سائیٹس سے لوگوں کو میرے نمبردے کر مجھے گالیاں دینے کا ٹاسک دیا جاتا ہے، کیا یہ وہ تبدیلی تھی جس کا آپ دعویٰ کرتے ہیں؟ مجھے یقین ہے آپ جس دن اس نئے پاکستان کے حکمران بنیں گے اس دن آپ کے ساتھ اس سے بھی برا سلوک ہو گا، آپ کے لیے باہر نکلنا مشکل ہو جائے گا، کیوں؟ کیونکہ آپ لوگوں کو وہاں لے آئے ہیں جہاں لوگ صرف ہم زبانوں اور ہم خیالوں کو غیر جانبدار سمجھتے ہیں، آپ اگر انقلاب کے ساتھ ہیں تو آپ کے سات خون بھی معاف ہیں اور آپ نے اگر شاہی دربار میں چھینک بھی مار دی تو آپ غدار ہیں، خان صاحب لوگ خواہشوں کے گھوڑوں پر بیٹھ چکے ہیں، یہ اب لوگوں کے سر اتاریں گے اور جس دن یہ کھیل شروع ہو گیا اس دن یہ ملک ہاتھ سے نکل جائے گا، آپ ہوش میں آئیں۔

مجھے افواج پاکستان سے بھی چند گلے ہیں، پاکستان کی 68 سال کی تاریخ میں 32 سال فوجی حکومتیں رہیں، ہم اگر آج ملکی حالات کو رو رہے تو پھر ہمیں ماننا پڑے گا حالات کی اس خرابی میں آمروں کا ہاتھ ساٹھ فیصد ہے، ہم فیلڈ مارشل ایوب خان سے لے کر جنرل پرویز مشرف تک کسی آمر کو بری الذمہ قرار نہیں دے سکتے، ہمیں ماننا پڑے گا ایوب خان کی امریکا نواز پالیسی نے پاکستان کو روس امریکا جنگ کا میدان جنگ بنا دیا تھا اور ہم نے 60ء کی دہائی ہی میں آدھی دنیا کواپنا مخالف بنا لیا تھا، جنرل یحییٰ خان کی ضد نے ملک توڑ دیا تھا، بنگلہ دیش بنا تھا، جنرل ضیاء الحق کے جہاد نے ملک کو بارود کے ڈھیر پر بٹھا دیا تھا اور جنرل پرویز مشرف کی غلط پالیسی نے ملک کو دہشت گردی کے جہنم میں دھکیل دیا تھا، ہمیں یہ ساری غلطیاں ماننا ہوں گی۔

فوج کو یہ بھی تسلیم کرنا ہو گا، ملک کے ہر آمرانہ دور میں کرپٹ سیاستدانوں کی ایک نئی کلاس نے جنم لیا اور یہ کلاس ملک کو تباہ کرتی چلی گئی، آپ آج سیاست سے الگ ہیں، اچھی بات ہے لیکن آپ موجودہ بحران سے الگ نہیں رہ سکتے! آپ کو یہ بحران ختم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہو گا، آپ وزیر اعظم سے ملاقات کریں، غلط فہمیاں دور کریں، مستقبل کا لائحہ عمل تیارکریں اور دھرنے ختم کرائیں، یہ دھرنے جہاں ملک کو اندر اور باہر دونوں طرف سے کھوکھلے کر رہے ہیں وہاں آپ کی خاموشی اور لاتعلقی ملک کو مزید تباہ کر رہی ہے اور آخر میں میرے اندر بے شمار خامیاں ہیں، میں جاہل بھی ہوں، نالائق بھی، سست بھی اور عاقبت نااندیش بھی، اللہ تعالیٰ کے کرم اور محنت کے علاوہ میرے پاس کچھ نہیں، میں نے جولاہے کی طرح ایک ایک دھاگہ جوڑ کر اپنی زندگی کا غلاف بنا ہے اور راج مزدور کی طرح ایک ایک اینٹ رکھ کر اپنی ذات کی مسجد بنائی ہے، میں نے اس غلاف کو کبھی آلودہ ہونے دیا اور نہ ہی ذات کی مسجد میں کسی بے ایمانی کو قدم رکھنے دیا، میں نے بڑی مشکل سے آزاد سوچنا، آزاد بولنا اور آزاد لکھنا سیکھا ہے میں کسی کو یہ آزادی چھیننے دوں گا اور نہ ہی خریدنے دوں گا، کسی میں اگر گالی دینے کی ہمت ہے تو سامنے آئے، فرضی اور جعلی اکاؤنٹس کی چارپائی سے باہر آئیں، میں بکنے اور خریدے جانے والوں دونوں پر لعنت بھیجتا ہوں اور میرے جیسے آزاد لکھنے اور بولنے والوں کو گالیاں دینے والوں پر بھی۔ میں اس کے ساتھ یہ بھی سمجھتا ہوں عمران خان اور ان کی جماعت کو قائم رہنا چاہیے کیونکہ ملکی سیاست میں بہت بڑا ’’ویکیوم‘‘ موجود ہے، اگر عمران خان راستے سے ہٹ گیا تو یہ ویکیوم مذہبی شدت پسند پورا کریں گے اور یہ لوگ اگر آ گئے تو پاکستان عراق بن جائے گا اور ہم پاکستان کو پاکستان دیکھنا چاہتے ہیں عراق نہیں۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’ایکسپریس

 

Comment on this post