حقیقی انقلاب کے سیلاب اُمڈ پڑے تو ؟

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ

حقیقی انقلاب کے سیلاب اُمڈ پڑے تو ؟

میرے وسیب کے لوگ ڈوب رہے ہیں اور وارثان تخت لاہور کو ُچلو بھر پانی بھی میسر نہیں کہ ڈوب مریں۔ سرائیکی کے وہ لہجے جو کانوں میں رس گھولتے تھے ،آج ان کی دلدوز آہیں سماعتوں پر ہتھوڑے برساتی ہیں۔ جنوبی پنجاب کے مکینوں نے بھی کیا خوب قسمت پائی ہے کہ بارشوں کے مزے تو لاہور والے لیں اورسیلاب کا عذاب ملتان والے چکھیں۔ بزرگوں سے سنا تو تھا کہ ’’پانڑی جھکی جا تے ویندے‘‘(یعنی پانی نشیبی علاقے کا رُخ کرتا ہے) مگر اس کی حقیقت اب اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ یہاں کے ریستورانوں میں کھابوں کی محفلیں سجتی دیکھتا ہوں تو خیال آتا ہے اگرسیلابوں میں پھنسے کسان دھان کی فصل کاشت کرنا چھوڑ دیں تو رائس کی منفرد ڈشیں کیسے بنیں گی؟

اگر یہ دیہاتی اناج کے خوشوں کے ساتھ ہی غرق ہو گئے تو گندم کیسے دستیاب ہو گی؟یہ دھتکارے اور قسمت کے مارے لوگ سبزیاں اُگاتے ہیں تاکہ شہروں میں آباد رُئوسا چکن اور مٹن کھا کر اکتا جائیں تو منہ کا ذائقہ بدل سکیں۔شجاع آباد اور جلال پور پیر والا کے علاقے جو سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں ،یہیں آموں کے باغات ہیں ۔ یہ ’’مینگو پیپل‘‘ کپاس کو سنڈیوں سے بچاتے ہیں کہ اس کے ریشوں سے کپڑے ُبُنتی ملوں کا پہیہ رواں دواں رہے، بھلے ان کی بچیاں تار تار کو ترسیں۔مٹی کے کچے گھروندوں میں اپنی قسمت پر قانع یہ لوگ صبح لسی سے روٹی کھاتے ہیں اور دوپہر کو پیازکی ڈش سجاتے ہیں ۔ہم اپنے عزیز و اقارب کو فون کریں تو موسم کا حال پوچھتے ہیں ،ملکی حالات پر بات ہوتی ہے،بچوں کی شرارتیں زیر بحث آتی ہیں مگر میرے گھر کام کے لئے آئی ایک خاتون نے اپنے بھائی کو فون کیا تو میں دم بخود رہ گیا،اس کی گفتگو کا محور انسانوں کے بجائے جانور تھے۔وہ پوچھ رہی تھی کہ گائے کتنا دودھ دیتی ہے،وہ بھینس جو بیمار تھی اس کا کیا حال ہے،بکریاں دھوپ میں تو نہیں کھڑی رہتیں ۔

ٹی وی چینلوں پر تجزئیے کرنے والے دانشوران قوم جب حقارت سے کہتے ہیں کہ انتظامیہ کیا کرے ،یہ لوگ کسی صورت اپنے گھروں کو چھوڑنے کے لئے تیار ہی نہیں ہوتے۔انہیں کون بتلائے کہ ان خانماں برباد اور قسمت کے ماروں کا واحد اثاثہ ان کے مویشی بھی کھو جائیں تو زندگی بے معنی ہو جاتی ہے۔یہ لاچار و بے بس لوگ ہر سال اجڑتے ہیں اوران کی لاشیں نوچنے کے لئے سب گِدھوں کی مانند منڈلانے لگتے ہیں۔ ہیلی کاپٹروں میں جانے والے ارباب اختیارفوٹو سیشن کرواتے ہیں، ٹسوے بہاتے ہیں اور یہ کہتے ہوئے واپس آ جاتے ہیںکہ قدرتی آفات پر کسی کا اختیار نہیں۔ تقدیر کو کوسنے والو، بتائو تو سہی تم نے کیا تدبیر کی؟یہ ایک دریا سنبھالا نہیں جاتا ،گر برداشت کے پشتے ٹوٹ گئے اور واقعی انقلاب کے سیلاب اُمڈ پڑے تو کیا کرو گے؟ان معمولی اسکرپٹ رائٹروں کے لکھے پر یہ ہنگامہ برپا ہے تو کاتب تقدیر کے اسکرپٹ پرکیا عالم ہو گا؟ انتظامیہ کی بد نیتی و نا اہلی کے درمیان واحد استثنیٰ رضا کار ہیں جو امید کا استعارہ بن چکے ہیں۔ اگر ہماری حکومتیں NDMA اور PDMA جیسے اداروں پر اربوں روپے خرچ کرنے کے بجائے یہ وسائل فلاحی رضاکاروں کے سپرد کر دیں تو سیلاب زدگان کی تقدیر بدل جائے۔

وزیر اعظم جنہیں دھرنا دینے والوں نے لندن، نیویارک، استنبول اور جدہ کے بجائے سیالکوٹ، جھنگ، ملتان اور آزاد کشمیر کے دورے کرنے پر مجبور کر دیا تھا ایک بار پھر غیر ملکی دورے پر روانہ ہونے کو ہیں۔اس بار امریکہ کا قصد ہے جہاں انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 69 ویں سیشن سے خطاب کرنا ہے۔ان کے غیر ملکی دوروں پر تنقید کرنے والے سیاسی مخالفین کو یقینا کسی ماہر نفسیات سے علاج کرانا چاہئے کہ عالمی تعلقات کے ضمن میں یہ دورے ناگزیر ہیں مگر کیا ان دوروں پر قومی خزانے سے گلچھرے اڑانا بھی لازم ہے؟

 ستمبر سے 26ستمبر تک کے اس مختصر غیر ملکی دورے کے لئے معاون چیف پروٹوکول آفیسر طاہر وسیم سلہری نے چیف اکائونٹس آفیسر کو جو مراسلہ تحریر کیا ہے اس میں چار روزہ دورے کے محض لاجسٹک اور ایڈمنسٹریٹو انتظامات کی خاطر چار کروڑ روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے۔ وزیر اعظم اپنے وی آئی پی طیارے سے براستہ لندن امریکہ روانہ ہونگے ۔بیگم کلثوم نواز اور مریم نوازجو چند روز قبل لندن روانہ ہو چکی ہیں، وہیں سے ان کے طیارے میں سوار ہوں گی۔تیسری مرتبہ وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد اس سے پہلے بھی نواز شریف دوبار امریکہ یاترا کے لئے جا چکے ہیں۔جب وہ گزشتہ برس جنرل اسمبلی کے 68 ویں اجلاس میں شرکت کے لئے گئے تو ہفت روزہ دورے پر 80.7 ملین روپے کے اخراجات آئے۔وہاں قیام و طعام کے اخراجات جو پاکستانی قونصل خانے نے کئے وہ اس کے علاوہ ہیں مثلاً روزویلٹ ہوٹل میں جو ڈنر دیا گیا صرف اس پر چار لاکھ ڈلر اڑا دیئے گئے۔اگلے ماہ یعنی اکتوبر میں وہ اوباما کو ملنے گئے تو چار روزہ امریکی دورے پر 35ملین روپے خرچ ہوئے۔اور قومی اسمبلی کو فراہم کی گئی معلومات کے مطابق گزشتہ برس میں تین ماہ کے دوران وزیراعظم کے 7غیر ملکی دوروں پر 168.1 ملین روپے کے اخراجات آئے۔

  اکتوبر 1999ء کو جنرل پرویز مشرف کے ٹیک اوور کرنے سے چند ماہ قبل بھی نواز شریف نے امریکہ کا شاہی دورہ کیا تھا۔یادش بخیر اس امریکی دورے میں پاکستانی وفد 120 افراد پر مشتمل تھا۔جب اس حوالے سے کسی رپورٹر نے سوال کیا تواسحٰق ڈار نے یہ تاویل پیش کی کہ ہم سے پہلے والی حکومتیں تو مراثیوں اور ناچنے والوں کو بھی ساتھ لایا کرتی تھیں۔اس وقت پی آئی اے کا ایک طیارہ جو دس دن تک امریکہ میں کھڑا رہا،صرف اس کے لینڈنگ چارجز کے طور پر ڈھائی کروڑ روپے کا بل ادا کیا گیا۔ خدا نہ کرے کہ جمہوریت پر ایک بار پھر شب خون مارا جائے اور یہ نواز شریف کا آخری دورہ ثابت ہومگر ہم کیسے یقین کر لیں کہ انہوں نے ماضی کے تجربات سے کچھ سیکھا ہے۔وزیر اعظم چاہیں تو اس دورے کے لئے خصوصی طیارے کے بجائے عام پرواز سے بھی جایا جا سکتا ہے۔ نیویارک کے پاکستانی ملازمین پر بھی اکتفا کیا جا سکتا ہے اور روزویلٹ ہوٹل کے لگژری سوئیٹ کے بجائے پاکستانی قونصلیٹ میں بھی قیام کیا جا سکتا ہے۔ایک طرف آفت زدہ عوام کی حالت زار ہے تو دوسری طرف حکام کے چونچلے،دل دھک دھک کرنے لگتا ہے اور خوف آتا ہے کہ واقعی کسی دن لوگ بغاوت پر آمادہ ہو گئے تو کیا ہو گا؟ یہ سیلاب تو نشیب کا رُخ کرتا ہے مگر ضبط کے پشتے ٹوٹ گئے ،آہوں ،سسکیوں اور آنسوئوں کا سیلاب اُمڈ آیا توبالا خانے اس کی زد میں ہون گے اور سب غرق ہو جائیں گے اسکرپٹ لکھنے والے ہی نہیں اداکار بھی۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ

 

Comment on this post