اسکاٹ لینڈ میں ریفرنڈم اور مسئلہ کشمیر و فلسطین

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ

اسکاٹ لینڈ میں ریفرنڈم اور مسئلہ کشمیر و فلسطین

آج کے عالمی معاشرے کا سب سے بڑا چیلنج اقوام کے حق خود ارادیت اور ایک ریاست کے شہریوں کے بنیادی حقوق کا حصول اور تحفظ ہے۔ اول الذکر حق کو بیرونی خطرات لاحق ہوتے ہیں (یا یہ ان کے چنگل میں سے جیسے کشمیر اور فلسطین) تو اندرون ریاست کوئی اندرونی منفی طاقت ہی اقتدار و اختیار کی اجارہ دار بن کر اپنے ہی شہریوں کے بنیادی حقوق کو غصب کئے رکھتی ہے۔ اس پر تو پرسوں 23؍ ستمبر کے ''آئین نو'' میں بحث ہو گی۔ آج کا موضوع عالمی سطح پر حقوق خود ارادیت کے حصول اور تحفظ کی جاری کیفیت کا جائزہ ہے۔ ''اسکاٹ لینڈ کے برطانیہ کے ساتھ رہنے یا آزاد ہو کر الگ ریاست بننے'' کے سوال پر اسکاٹ لینڈ میں گزشتہ روز ہونے والا ریفرنڈم زیر نظر تجزیئے کی طرف مائل کرتا ہے۔ انسانی تہذیب کے ہزاروں سال پر محیط ارتقائی عمل نے آج کے انسان پر یہ آشکار کر دیا کہ آنے والی صدیوں میں مطلوب ارتقاء کی دو ہی بنیادیں ہیں۔ ایک اقوام کا حق خود ارادیت دوسرے ایک آزاد ریاست میں شہریوں کو حاصل وہ بنیادی حقوق جو ان کی انفرادی اور اجتماعی نشو و نما کے لئے ناگزیر ہیں۔

انسانی تاریخ کا بہت بڑا حصہ تو بیشتر انسانی معاشروں کی حق خود ارادیت کو عسکری طاقت سے غصب کرنے کی ہی تاریخ ہے لیکن گزری 20 ویں صدی تاریخ انسانی کے اسٹیٹس کو کی ٹوٹ پھوٹ اور تہذیب انسانی کے تیز تر ہونے کی صدی ثابت ہوئی۔ یورپی سامراجی اقوام کے تراشے ہوئے کلونئیل ازم (استعماریت) کے مقابل جرمنوں کی ابھرتی طاقت سے ہونے والی پہلی اور دوسری جنگ عظیم، ''کمزور اقوام کے حق خود ارادیت کو غصب کر کے عسکری طاقت کے بل بوتے پر بالادستی قائم کرنے'' کے زمانہ قدیم سے جاری منفی انسانی رجحان کی انتہا تھی۔ اس کے بعد اقوام متحدہ کے قیام اور اس کے چارٹر کی عالمی قبولیت سے عسکری طاقت کی جگہ ''رائے عامہ'' کی نئی طاقت نے لینا شروع کی تو سیاسی آزادی و خود مختاری (ساورنٹی) کی بنیاد پر ''نیشن اسٹیٹ'' کا تصور واضح ہوتا گیا، جس سے جغرافیائی سرحدوں کے احترام، حق خود ارادیت اور اقوام کے بنیادی حقوق کی بڑی کاز کو تقویت تو ملی اور یہ ایٹ لارج ممکن بھی ہوا، لیکن حق خود ارادیت کے حصول، اس کے تحفظ، حصول کی کوشش اور اس کے خلاف منفی طاقتوں کی مزاحمت کے حوالے سے کیفیت کچھ یوں ہے۔ اطمینان بخش ہے کہ ایٹ لارج اقوام آزاد ہیں اور سیاسی آزادی و خود مختاط کی شکل میں انہیں حق خود ارادیت حاصل ہے اور کافی حد تک محفوظ بھی۔

دنیا کے مختلف خطوں کی کتنی ہی آزاد ریاستوں کے مخصوص علاقوں میں کسی مخصوص بنیاد پر ایک بڑی تعداد میں عوام کے ایک حصے نے اپنے الگ قوم ہونے کا دعویٰ کیا۔ اس پر اصرار کیا۔ اسکے خلاف مرکز اقتدار نے مزاحمت کی۔ مطالبات کا انکار کیا۔ جوابی مزاحمت ہوئی، تحریکیں چلیں، نیم مسلح جدوجہد ہوئی اور حکومتیں اندرونی اور بیرونی دبائو و تائید معاونت سے انکے حق خود ارادیت کو تسلیم کرنے پر مجبور ہو گئیں، ریفرنڈم ہوئے اور یہ آزاد ریاست بن گئے۔ ایسٹ ٹیمور کے انڈونیشیا کی مین لینڈ سے آزاد ہو کر اور جنوبی سوڈان کا خرطوم سے الگ ہو کر ریفرنڈم کی بنیاد پر الگ ریاستیں بننا تازہ ترین مثالیں ہیں۔ یہ بھی یاد رکھا جائے کہ ایک ریاست کی جغرافیائی حدود میں شامل کسی خطے میں ''علیحدہ وطن'' کا مطالبہ شدت پکڑ جانے کا مطلب یہ نہیں کہ وہاں الگ ریاست بنانا ضروری ہو گیا ہے، اصل میں مطلوب حق خود ارادیت کا ٹیسٹ ہے کہ اکثریت کا ارادہ کیا ہے، جسے رائے شماری یا ریفرنڈم سے ماپا جاتا ہے جو کسی ایک مخصوص سوال کی بنیاد پر ہوتا ہے، جو عوام کے مطالبے یا تنازع کے ریکارڈ سے اخذ کیا جاتا ہے۔ اسی ریفرنڈم کے نتیجے میں حتمی فیصلہ ہو کر تنازعہ ختم ہو جاتا ہے اور ہر دو فریقین استحکام کی کیفیت میں آ جاتے ہیں۔ سو، اسلحے کی طاقت کی جگہ رائے عامہ کی طاقت، جس سے حق خود ارادیت کا روپ دھارا ہی آج کی مہذب دنیا کا آئین نو ہے، جسکے خلاف طرز کہن کی طاقتیں مزاحمت کر رہی ہیں۔

موضوع کی تیسری کیفیت یہ ہے کہ حق خود ارادیت کا مطالبہ کرنے والے کسی ملک کے کسی خطے کے عوام طاقتور اور حق خود ارادیت سے انکاری مرکز اقتدار کے زیر تسلط ہیں، انکار اور مزاحمت کی کیفیت یہاں تک ہے کہ مطالبات کے حوالے سے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی بھی کوئی پروا نہیں کی جا رہی۔ حق خود ارادیت کے مطالبے اور جدوجہد کو عسکری طاقت سے کچلنے اور مسلسل دبائے رکھنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس کیفیت کے دو بڑے دیرینہ کیس مسئلہ کشمیر اور فلسطین ہیں۔ واضح رہے کہ فلپائن کی حکومت نے بھی مسلم اکثریت کے صوبے مورو میں بالآخر وہاں کی آبادی کے حق خود ارادیت کو تسلیم کر لیا، جسکے بعد مورو کو زیادہ سے زیادہ حد تک خود مختاری حاصل ہو گئی اور فلپائن کا ایک آباد حصہ خانہ جنگی کی کیفیت سے نکل آیا۔

انڈونیشیا ، سوڈان فلپائن اور برطانیہ کے برعکس بھارت اور اسرائیل کسی صورت کشمیریوں اور فلسطینیوں کو حق خود ارادیت دیتے معلوم نہیں دیتے اور قدیم استعماری ذہنیت کو جاری رکھے ہوئی تہذیب انسانی کے مطلوب ارتقاء میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کو ٹالنے اور کشمیر و فلسطین کے حق خود ارادیت کو دبانے اور کچلے رکھنے کی شیطانی بھارتی اور اسرائیلی صلاحیت دنیا کے دو بڑے خطوں جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ میں مسلسل بے چینی اور عدم استحکام کا باعث بنی ہوئی ہے۔ پاکستان اور بھارت کی ایٹمی صلاحیت کے پیش نظر تو سابق امریکی صدر کلنٹن مسئلہ کشمیر کو ''فلیش پوائنٹ'' قرار دے چکے ہیں، جس کا ہم پاکستانی کوئی فائدہ نہ اٹھا سکے کہ دنیا سے پوری شدت سے سوال کرتے کہ اس فلیش پوائنٹ کو کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق رائے شماری کا حق دے کر ختم کرنا یا دنیا کے گنجان آباد ترین خطے میں اس خطرے کو برقرار رکھنا ہے؟ جس کی شدت کی بہت صحیح تشریح امریکی صدر نے کی۔

آج تو پاکستانیوں کو یہ بھی نہیں معلوم کہ انکی پارلیمان کی کشمیر کمیٹی کا چیئرمین کون ہے؟ جو بھی ہے اسے ہوش نہیں کہ وہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اسکاٹش عوام کو ملنے والے حق خود ارادیت کی روشنی میں پاکستانی عوام کے ''منتخب فورم'' پر ایک قرار داد ہی منظور کرا دے کہ برطانیہ سکاٹش عوام کی طرح اپنے پیدا کئے گئے مسئلہ کشمیر حل کرانے کیلئے اور دنیائے فلیش پوائنٹ کو بجھانے کیلئے بھارت پر زور ڈالے کہ وہ رائے شماری کی طرف آئے۔ لیکن کشمیر کمیٹی کا جو بھی چیئرمین ہے، وہ تو تحفظ ’’جمہوریت‘‘ میں ہی مصروف ہو گا تو پھر کشمیر کہاں یاد رہتا ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ ''جنگ

 

Comment on this post