وزیر اعظم امریکی دورہ منسوخ کریں

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ

وزیر اعظم امریکی دورہ منسوخ کریں

اسلام آباد کے صرف ایک محدود سے علاقے میں چند ہزار افراد کے سونامی کی وجہ سے دنیا کی ایک سپر طاقت چین کے صدر نے پاکستان کا دورہ منسوخ کر دیا، یہ وہ ہمسایہ ہے جس کا کہنا ہے کہ پاک چین دوستی ہمالیہ سے بلند تر اور سمندروں سے گہری ہے۔ مگر پاکستان کا دو تہائی سے زیادہ حصہ قیامت خیز سیلاب سے شدید طور پر متاثر ہے، لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے، ان کے مکان، مال مویشی اور کھیت کھلیان سیلاب کی نذر ہو گئے، بھوک سے لاچار لوگ امدادی سامان کے ٹرکوں پر ٹوٹ پڑتے ہیں، وزیراعظم ان کو جھوٹا دلاسہ دینے جائیں تو وہ نعرے لگاتے ہیں، گو نواز گو، وزیراعظم سمجھتے ہیں کہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ وزیراعظم امریکہ کے دورے پر جائیںاور ان تباہ حال لوگوں کو قدرت کے رحم وکرم پر چھوڑ دیں تاکہ وہ وزیراعظم کے چھوٹے بھائی شہباز شریف کی طرف سے خونی انقلاب کی پیش گوئیوں کو درست ثابت کرنے کے لئے کچھ کر گزریں۔

روم کے بارے میں مشہور ہوا تھا کہ ملک میں آگ لگی تھی مگر اس کے ہر دلعزیز حکمران نیرو کو چین کی بانسری بجانے کی پڑی ہوئی تھی۔ امریکہ کا دورہ ہو اور وزیراعظم کو اس میں شرکت کر کے درجنوں سربراہان حکومت سے ملنے کا موقع میسرآ سکتا ہو اور ان میں سے چند ایک کے ساتھ بھی حسین نواز کو بزنس ڈیل کرنے کا موقع مل جائے تو پھر وزیراعظم یہ دورہ کیسے چھوڑیں گے، پچھلے دو ہفتوں میں جب اسلام آباد میں دہائی مچی ہوئی تھی تو وزارت اطلاعات کے پروٹوکول افسر صحافیوں کے اور وزارت خارجہ کے افسر حکومتی اہلکاروںکے دھڑا دھڑ امریکی اور برطانوی ویزے لگوانے میں مصروف تھے۔ اس سے تو یہ ظاہر ہوتا تھا کہ وزیراعظم کو دھرنوں سے کوئی پریشانی لاحق نہ تھی اور وہ اسے چائے کی پیالی میں طوفان سے زیادہ اہمیت دینے کے لئے تیار نہ تھے مگر ستم ظریفی یہ ہے کہ چناب کے

طوفان بلاخیز سے بھی وزیراعظم کی نازک جبیں پر کوئی شکن نمودار نہیں ہوئی۔ اسی دوران میں صحافت کے مرکز لاہور میں عرفان صدیقی، راﺅ تحسین اور درجہ بدرجہ وزارت اطلاعات کے افسروں کا جمگھٹا جاری رہا اور بالآخر وہ لاہوری میڈیا کو بذریعہ معدہ جیتنے میںکامیاب ہو گئے، لاہور میں اب چند سر پھرے باقی ہیں جو قادری ا ور عمران کے نعروں سے متاثر ہو کر لکھتے یا بولتے ہیں ورنہ باقی سب تو فنا فی الحکومت ہو چکے اور ٹی وی سکرین پر لائیو طعنے بھی سُن چکے مگر کروڑ روپے جیب میں ہوں تو ہزار طعنے بھی برداشت کئے جا سکتے ہیں۔

میں پچھلے ہفتے کے روز آواری ہوٹل سے باہر نکل رہا تھا کہ عرفان صدیقی، انہیں لوگ ڈپٹی وزیراعظم کہتے ہیں اور ریلوے کے پی آر او رﺅف طاہر اندر داخل ہو رہے تھے، رﺅف طاہر آوازے کسنے کے ماہر ہیں، مجھے مخاطب کر کے کہنے لگے کہ آج کل قادری اور عمران کے خوب چھوڈے اتار رہے ہو، عرفان صدیقی اس پر مسکرا دیئے، گویا یہ سمجھتے ہوں کہ قادری ا ور عمران پر برسنا اور ان کے لتّے لینا بھی انہی کی اجارہ داری ہے۔ انہیں میری یہ ادا بھی پسند نہیں۔ وزیراعظم کی واہ واہ کرنے اور قادری اور عمران پر برسنے کے جملہ حقوق انہی چند درباریوں کے نام محفوظ ہیں۔

میں نے قادری اور عمران کی مخالفت کی اور زوردار طریقے سے کی، صرف اس اصول کی بنیاد پر کہ کسی کو جتھے بندی کے ذریعے حکومت کا حق نہیں دیا جا سکتا، یہ اصول چل نکلا تو کل کو چند افراد کا گروہ مجھے میرے گھر سے نکال باہر کرے گا۔ مگر عرفان صدیقی اور رﺅف طاہر کو میری یہ اصول پسندی بھی گوارا نہیں تو حکومت جانے اور اس کے درباری دانشور جانیں۔ اس کا دفاع کرنے والے تنخواہ داروں کی کوئی کمی نہیں اور وہی قادری اور عمران کو اصولوں کا سبق بھی پڑھاتے رہیں۔

ملک میں سیلاب کی تباہی اور وزیر اعظم اور ان کے بھائی کی سیلاب زدگان سے غفلت کی وجہ سے میرے دل میں ان کے لئے اگر ذرا بھر ہمدردی تھی بھی تو اب ختم شُد! ان کی گورننس کا میں ایک سال سے سخت ناقد چلا آ رہا ہوں، اب سیلاب میں اس حکومت نے مجرمانہ تساہل کا ثبوت دیا ہے، وزیراعظم کو کوئی فکر تھی تو اپنا تخت بچانے کی، انہوں نے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کیا، اسے اس وقت تک جاری رکھا جب تک یہ یقین نہیں کر لیا کہ اچکزئی، خورشید شاہ، جاوید ہاشمی، فضل الرحمن، زاہد خاں وغیرہ وغیرہ کی تقریروں سے فوج کا اچھی طرح مکو نہیں ٹھپ دیا گیا۔ انہیں وہم یہ تھا کہ دھرنوں کے پیچھے فوج یا آئی ایس آئی کا ہاتھ ہے اور وہ انہی پر برستے رہے، اسی لئے جتنی گالیاں فوجی اداروں کو دی گئیں، ان کا ایک فیصد بھی قادری اور عمران کو نہیں پڑیں، ہر کوئی ایک اسکرپٹ کا ذکر کرتا تھا اور پھر شروع ہو جاتا تھا، کسی کو سیلاب زدگان کی فکر نہیں تھی، آئی ڈی پیز کی فکر نہیں تھی، ضربِ عضب میں قربانیاں دینے والے فوجی افسروں اور جوانوں کی فکر نہیں تھی، بس ایک دُھن سب پر سوار تھی کہ جمہوریت بچ جائے، جمہوریت سے ان کی مُراد وہ گلا سڑا نظام ہے جس کی بنیاد لوٹ مار پر ہے، دھاندلی پر ہے، استحصال پر ہے، ناانصافی پر ہے، قادری اور عمران نے اس نظام کو بدلنے کے نعرے تو لگائے مگر عوام کو ان سے امید نہیں کہ ان کے ذریعے یہ استحصالی نظام بدل سکے گا۔ لوگوں کو اندیشہ تھا کہ یہ لوگ زیادہ سخت گیر ڈکٹیٹر ثابت ہوں گے، اسی لئے قادری اور عمران کی دال نہیں گلی مگر انہوں نے ملک میں لوگوں کو ایک شعور دے دیا ہے اور اگر کل کو کوئی لیڈر اُٹھ کر یہ کہے کہ آج سے ٹریفک کی بتی کی پروا نہیں کرنی تو پورے ملک کے ہر شہر اور قصبے کی سڑکیں جام ہو جائیں گی۔

قادری اور عمران نے نواز شریف اور شہباز شریف سے استعفیٰ مانگا جس کی کسی نے حمایت نہ کی لیکن اگر یہی لوگ مطالبہ کرتے کہ حمزہ شہباز کو چیف منسٹری کے فرائض سے روکا جائے ا ور مریم صفدر کو ایک سو ارب روپے کے ڈھیر سے فارغ کیا جائے تو ہر کوئی ان کی آواز میں آواز ملاتا۔ یہ مطالبہ بھی کیا جا سکتا تھا کہ سمدھی اسحاق ڈار کو کسی اور محکمے کا اکاوئونٹنٹ لگا دیا جائے مگر وزارت خزانہ سے برطرف کیا جائے۔ یہ مطالبہ بھی جائز ہوتا کہ اسحق ڈار کے ذاتی دوست سعید احمد چمن کو سٹیٹ بنک کی ڈپٹی گورنری سے ہٹایا جائے، یہ مطالبہ بھی جائز ہوتا کہ ایفی ڈرین کیس والے حنیف عباسی کو پنڈی کی میٹرو بس کے منصوبے سے الگ کیا جائے، یہ مطالبہ بھی کیا جا سکتا تھا کہ لاہور میٹرو کے منصوبے پر خواجہ حسان کی جگہ کسی ماہر ٹرانسپورٹ کا تقررکیا جائے۔

یہ مطالبہ بھی کیا جا سکتا تھا کہ سرتاج عزیز کو مکمل وزیر خارجہ بنایا جائے اور یہ مطالبے تو ہر لحاظ سے جائز تھے کہ پاک فوج پر برسنے والے خواجہ آصف اور خواجہ سعد رفیق کی کابینہ سے چھٹی کروائی جائے مگر قادری اور عمران تو ستارے توڑنے کے لالچ میں پڑ گئے اور کچھ بھی حاصل نہ کر سکے، رہی سہی کسر قیامت خیز سیلاب نے پوری کر دی، عوام کی کمر ہمت ٹوٹ چکی ا ور وزیراعظم خوشی خوشی چند روز میں عازم امریکہ ہو جائیں گے، ان کے چہیتے گورنر پنجاب محمد سرور پہلے ہی طویل چُھٹی پر برطانیہ میں ہیں انہیں پنجاب کے سیلاب زدگان کی کیا پروا، انہیں ایک فکر لاحق تھی کہ وہ جس پارٹی کی ٹکٹ پر تین بار برطانوی پارلیمنٹ میں پہنچے اور اب ان کا بیٹا ان کی جگہ لئے بیٹھا ہے اور سکاٹش لیبر پارٹی کا ڈپٹی سربراہ بھی ہے، اس پارٹی کو سکاٹ لینڈ کے ریفرنڈم میں شکست نہ ہو جائے، گورنر سرور پنجاب کے عوام کو بے آسرا چھوڑ کر برطانیہ کی وحدت کی جنگ لڑنے لندن سدھار گئے، انہیں اپنے مشن میں کامیابی ہوئی، کاش! کوئی بڑی کامیابی وہ اس ملک کے لئے بھی انجام دیتے جہاں وہ پیرا شوٹ سے اُترے اور انہیں سب سے بڑے صوبے کی گورنری کا منصب سونے کی طشتری میں رکھ کر پیش کیا گیا۔ انہوں نے آتے ہی صاف پانی کے منصوبوں کا مژدہ سُنایا مگر ایک سال کے اندر لوگوں کو دریاﺅں کا گدلا پانی پینے کو مل رہا ہے اور ان کے سروں سے چھت بھی چھن چکی ہے۔ کہاں گیا، گورڈن براﺅن کا بے پناہ فنڈ، کب کام آئے گا،کس کے کام آئے گا۔

ان قیامت خیز لمحات میں میری وزی اعظم سے درخواست ہے کہ وہ امریکہ جانے کا قصد ترک کر دیں، ان اٹھارہ کروڑ عوام کے سروں پر ہاتھ رکھیں جن کے مینڈیٹ کی گردان کر کر کے اور ان کی دُہائی دے دے کر انہوں نے اپنی حکومت بچائی ہے۔ یہاں مجھے نوائے وقت ہی کی کالم نگار طیبہ ضیا کا یہ فقرہ رہ رہ کر یاد آ رہا ہے کہ وزیراعظم امریکہ کس منہ سے جائےں گے۔ میں یہاں مرزا غالب کے شعر کا اضافہ نہیں کرنا چاہتا۔ شاعر بڑا ہے مگر طعنہ زیب نہیں دیتا۔

بہ شکریہ روزنامہ "نوائے وقت

 

Comment on this post