ہمارا مطالبہ اور دو درخواستیں

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ

ہمارا مطالبہ اور دو درخواستیں

آپ سے پہلی درخواست ہے کہ درج ذیل عبارت کو غور سے پڑ ھیئے۔

’’ہمارا مطالبہ: ہماری عظیم قوم غلام بن چکی ہے۔ ہمارے تمام حقوق اور اختیار ہم سے چھینے جا چکے ہیں۔ ہماری اکثریت پیسہ کمانے والے بین الاقوامی حیثیت کے غنڈوں کے سامنے محض مال بنانے کے ایک کارخانے سے زیادہ کی نہیں ہے۔ ہمارے ساتھ سب کچھ ہو رہا ہے باوجود اس کے کہ ہماری تاریخ تابناک ہے۔ کیا ہماری یہی قسمت رہ گئی ہے؟ کیا یہ قوم اس طرح کے حالات کا سامنا کرنے کے لیے ہی رہ گئی ہے؟ نہیں! ہرگز نہیں! اب اس شرمناک اور بدترین صورت حال کے خلاف جدوجہد کا آغاز ہوناتے ہو چکا ہے۔ صرف ان لوگوں کے پاس اقتدار ہو گا جو ان حالات کو بدلنے کے لیے اپنی ہمت اور استطاعت سے بڑھ کر ہر قسم کا راستہ اختیار کرنے پر تیار ہوں۔

ان گنت عوام نوکریوں اور کھانے پینے سے محروم ہیں۔ افسر شاہی، جس کا کام حالات واقعات کو صحیح انداز سے پیش کرنا ہے، وہ ان حقائق کو چھپانے میں مصروف ہے۔ ہم پر مسلط کیے ہوئے ان لوگوں کی بات سنیں تو یہ آپ کے سامنے بہتر اور بہترین کے دعوے کرتے ہیں۔ ظاہر ہے ان کم بختوں نے تو ایسا کہنا ہی ہے۔ ان کی پانچوں انگلیاں گھی میں اور سر کڑاہی میں جو ہوا۔ اصل مسئلہ ہم جیسے ایماندار لوگوں کا ہے۔ ہم پر پہاڑ گرا ہوا ہے۔ پچھلے کئی برسوں، بلکہ دہائیوں سے ہمیں جھوٹ و فریب کی داستانیں سنائی جا رہی ہیں کہ جیسے ہم نے اصل آزادی، ترقی اور طمانیت حاصل کر لی ہو۔ یہ سراب بھی اب غائب ہوتا چلا جا رہا ہے۔ اگر حالات یہی رہے اور حکمرانوں کی یہ پالیسا ں جاری رہیں تو یقین رکھیے ہمارا نام و نشان ہی مٹ جائے گا۔ تباہی ہمارا مقدر ہو گی۔

اب ہمارا کم سے کم مطالبہ اور ہدف یہ ہے کہ ہر شہری کے لیے نوکری اور ہر فرد مملکت کے لیے اچھی زندگی کے لوازمات کی ضمانت دی جائے اس سے کم پر کام نہیں چلے گا۔ ہماری بہادر افواج ہر محاذ پر لڑنے اور جاں نثار کرنے میں مصروف ہیں جب کہ سا ہوکاراور منافع خور بدعنوانی کا بازار گرم کیے ہوئے ہیں۔وہ لڑ رہے ہیں اور یہ طبقہ عوام کے چولھے ٹھنڈے کر کے ان کے منہ سے نوالے چھین رہا ہے۔یہ استحصالی طبقہ محلات میں براجمان ہے اور کام کرنے والے‘ اس ملک پر جان دینے والے ایسے گھروں میں کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں جن کو غار کہنا زیادہ مناسب ہو گا۔ یہ سب کچھ ایسا نہیں رہ سکتا۔

اس میں قسمت کا کوئی کھیل ملوث نہیںہے۔ یہ ایک ایسی بدترین ناانصافی ہے جس کی آہ پر آسمان بھی لرز رہے ہیں۔ یہ حکومت جو اس منظر نامے کو تبدیل کرنے میں ناکام ہو چکی ہے بلکہ اس کا حصہ بن گئی ہے، اب اس کے خاتمے کا وقت آن پہنچا ہے۔ یہ فضول نظام ہے۔ یہ جتنی جلدی ختم ہو گا اتنا ہی اس ملک کے لیے بہتر ہو گا۔ ان سب ظالموں کو، ان مسلط کی ہوئی مخلوق کو یہا ں سے بھگا دو۔یہ سرزمین، یہ خطہ ارض اب صرف یہاں کے اصل شہریوں اور قوم کے خالص باشندوں کے لیے ہو گا۔ اپنی آبادی کو دیکھئے اور ان ظالم حکمرانوں کے انداز پر نظر دوڑائیے۔ اگر ہم نے آج اصلاح نہ کی تو ہماری نسل ناکام ہو جائے گی۔ ہمارے آبائو اجداد کی محنت خاک میں مل جائے گی۔ ہمارا مشن ناکام ہو جائے گا۔

اس زمین میں سے ہم نے گندم کے خوشے اگانے ہیں۔ ہم نے اپنی اولادوں کو صحت مند اور خوش حال بنانا ہے۔ ہمیں ان ظالموں نے ایک طویل عرصے سے الو بنایا ہوا ہے۔ عجیب و غریب منصوبہ اور جناتی کہانیاں سنا کر ہماری عقل پر پتھر ڈال دیے ہیں۔ ہماری زمینوں پر قبضے کر کے ہمیں ہی آنکھیں دکھاتے ہیں۔ ہمیں کہتے ہیں کہ یہ اللہ کا کرنا ہے۔ کیسا سفید جھوٹ ہے یہ۔ یہ سب کچھ ان کا کیا دھرا ہے۔ انھوں نے نظام ایسا بنایا ہے کہ غریب کی پھٹی ہوئی جیب سے ایک ایک پائی نکل کر امیر کے حصے میں اس کی تجوری میں جا ٹکتی ہے۔ یہ نرا دھوکہ ہے۔ بدترین دھوکہ۔ ایک قومی اور نہ ختم ہونے والا ڈاکہ ہے۔

اور یہ حکومت، یہ ظالم حکومت، کسی کو منہ کھولنے نہیں دیتی۔ کہتی ہے اس سے امن خراب ہوتا ہے۔ قومی ترقی کی راہ میں ایسے احتجاج سے رکاوٹ پڑتی ہے۔ یہ تاریخ بتائے گی کہ یہ حکومت اس ملک کی نمایندہ ہے یا بیرونی ایجنٹوں کی غلام۔ ہم اس حکومت کو نہیں مانتے۔ ہمیں ایک صحیح اور خالص قومی حکومت چاہیے۔ ایسی حکومت جس میں مزدور بھی ہو اور سفارت کار بھی۔ ایسے لوگ ہوں جو اس ملک کے حقیقی مفاد سے وابستہ و واقف ہوں۔ اور جن کی زندگی کا واحد مقصد ایک عظیم ملک کی تعمیر ہو۔ ایسا نہ ہو جیسا آج کل ہے۔ جس کا دل چاہتا ہے گالی دے دیتا ہے۔۔۔ مگر اصل شہری کے منہ پر پٹی باندھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

عام شہری کا گلہ گھونٹ کر اسے خاموش کر دیا گیا ہے۔ اس کو کولہو کے بیل کی طرح جوت دیا گیا ہے۔ وہ بس گھوم گھوم کر چکر کھا رہا ہے۔ رو رہا ہے۔ مر رہا ہے۔ وہ ہر چند سال کے بعد نئے جلادوں کو منتخب کر کے اپنی زندگی کو مزید برباد کرنے کا ساما ن مہیا کر دیتا ہے۔ اس کے لیے کچھ بھی تبدیل نہیں ہوتا۔ یہ عذاب ہے۔ یہ سازش ہے۔ ہم اس کو برداشت نہیں کریں گے۔ اب برداشت ختم ہو گئی ہے۔ ہم نے ان سب کے منہ بند کر دینے ہیں جو ہماری اس جدوجہد کے خلاف بولیں گے۔ اب صرف وہی بولے گا جو اس سرزمین کا حقیقی وارث ہے۔ جس کو اس سے اصل پیار ہے۔

لہٰذا اب ہمارا مطالبہ صرف اور صرف ایک ہے جس سے ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ اس استحصا لی نظام کو ہم نے ختم کرنے کی ٹھان لی ہے۔ یہ ختم ہو کر رہے گا۔ اب یہ ملک یہا ں کے غریب کے لیے ہوگا اور بس‘‘

(یہ اقتباس ہٹلر کے ابلاغ و تشہیر و پروپیگنڈا کے سربراہ جوزف گوئبلز کی ایک تحریر ’’ہمارا مطالبہ‘‘ سے لیا گیا ہے جو اس نے 1927 میں فسطا ئیت کے دفاع کے ماحول بنانے کے لیے لکھا)

آپ سے دوسری درخواست ہے کہ اب آپ سوچ کر پڑھیے اور پاکستان کی سیاست پر نظر دوڑائیے۔

طلعت حسین

 

Comment on this post