سیلاب کی تباہ کاری اور ہماری ذمے داری

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ

سیلاب کی تباہ کاری اور ہماری ذمے داری

اگست کے اوائل ہی میں اگرچہ میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ نے پاکستان میں سیلاب کی پیش گوئی کردی تھی تاہم اس کے باوجود حکومت سوائے آگاہی مہم کے تحت محض اشتہار چلانے اور عوام کو اپنی مدد آپ کے تحت حفاظتی اقدام و انتظام کی ترغیب ہی دیتی رہی اور سیلاب سے بچاؤ کی خاطر اس دوران حکومت کی جانب سے مستقل بنیادوں پر کیے جانے والے کسی بھی قسم کے کوئی ٹھوس اقدام اٹھائے گئے اور جب سیلاب سر پر آگیا اور اس نے اپنی غارت گری دکھانی شروع کی تب روایتی انداز میں حکومتی مشنری حرکت میں آئی لیکن اب ہمیشہ کی طرح بہت دیر ہوچکی تھی۔

طوفانی بارشوں اور بھارت کی جانب سے آبی جارحیت کے سبب لاکھوں کیوسک پانی کی وجہ سے تاریخ کا جو بدترین سیلاب آیا اس کی تباہی، بربادی اور ویرانی ہمارے سامنے ہے، دیہات کے دیہات صفحہ ہستی سے مٹ گئے، مکانات ملیامیٹ اور بستیاں ویران ہوگئیں، کھیت کھلیان تباہ اور سرسبز و شاداب اراضی برباد ہوگئی، قیمتی انسانی جانوں کا ناقابل تلافی نقصان ہوا اور مویشی بھی مرگئے اور پورا نظام زندگی مکمل مفلوج ہوکر رہ گیا اور ملکی معیشت کو بھاری نقصان پہنچا، کھڑی فصلیں تباہ اور بچیوں کے جہیز بھی سیلاب میں بہہ گئے۔

اگرچہ جب بھی ہمارے ملک میں سیلاب آتا ہے تقریباً ایسے ہی مناظر چہار سو ہوتے ہیں تاہم اس بار ان مناظر میں قدرے شدت ہے کیونکہ ایسا شدید اور تباہ کن سیلاب بیس سال بعد آیا ہے جس نے بے شمار درد انگیز کہانیوں اور المناک واقعات کو جنم دیا ہے۔ 1973 سے چند سال کے وقفے سے آنے والے مسلسل تباہ کن سیلابوں سے متاثر ہونے کے باوجود افسوس صد افسوس ہم نے ان سے بچاؤ اور نمٹنے کے کوئی ٹھوس اور موثر اقدامات کیے نہ ہی کوئی حکمت عملی ہی وضع کی، سیلابی پانی کو نئے آبی ذخائر میں محفوظ کرنے کے لیے کسی قسم کی کوئی پالیسی نہیں بنائی۔

دنیا کے وہ ممالک جہاں سیلاب اسی طرح تباہی و بربادی مچاتا ہے انھوں نے جدید ٹیکنالوجی اور انجینئرنگ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے ملک میں بڑے بڑے ڈیمز، بیراج اور آبی ذخائر تعمیر کرکے نہ صرف سیلابی پانی کی غارت گری سے ہمیشہ کے لیے چھٹکارا حاصل کرلیا بلکہ اس پانی کو جمع کرکے اپنے لیے سودمند بنا لیا، گویا کل جو سیلابی پانی ان کے لیے موت اور بربادی کا پیغام لایا کرتا تھا وہی پانی اب ان کے لیے زندگی، نعمت اور دیگر فوائد کی نوید لاتا ہے لیکن ہمارا ملک تاحال ایسے حیات بخش نظام کے ثمرات سے محروم ہے، جس کی وجہ سے سیلاب ہمارے لیے اتنی بڑی زحمت بن جاتا ہے اور یہ آزمائش ایک عذاب کی سی کیفیت اختیار کرلیتی ہے۔

اگر بڑے پیمانے پر ڈیم، بیراج اور آبی ذخائر تعمیر کیے جاتے، دریاؤں کو گہرا کرکے ان میں زیادہ پانی برداشت کرنے کی صلاحیت پیدا کی جاتی تو آج سیلاب نے جو تباہی و بربادی مچائی ہے ممکن ہے اس کی نوبت نہ آتی اور ہمیں ملکی و قومی سطح پر نقصان پہنچنے کے بجائے الٹا فائدہ ہوتا کیونکہ ہم اس بیش قیمت پانی کو ہر سال ذخیرہ کرکے محفوظ کرسکتے اور توانائی کے بحران کے خاتمے، بجلی کی پیداوار میں اضافے اور دیگر زرعی و تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کرسکتے ہیں لیکن اس ضمن میں کوئی منصوبہ بندی نہ ہونے کے سبب ہمیں دیگر نقصانات کے ساتھ ساتھ بھارتی آبی جارحیت کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔

جو اربوں روپے اب سیلابی نقصانات کے مداوے کے لیے خرچ کیے جا رہے ہیں بہتر تھا کہ وہ سیلابی پانی ذخیرہ و محفوظ کرنے کے منصوبوں ڈیم، بیراج اور آبی ذخائر کی تعمیر پر خرچ کیے جاتے۔ اگر ہم آبی ذخائر کو محفوظ کرنے کی صلاحیت حاصل کرلیں تو دیگر فوائد کے ہمراہ عین ممکن ہے کہ بھارت آیندہ کبھی بگلیہار ڈیم کا پانی پاکستان کی جانب ہی نہیں چھوڑے کیونکہ باصلاحیت ہونے کے بعد یہی پانی ہمارے لیے بیش قیمت ہوجائے گا اور ہمیشہ کی طرح اس قدر تباہی و بربادی پھیلانے کے بجائے ہماری ترقی بالخصوص توانائی کے بحران پر قابو پانے کا اہم محرک ثابت ہوگا اور آج کی اس تخریبی صورتحال کی نسبت ہمیشہ تعمیری صورتحال کا باعث ہوگا اور زندگی کی رنگا رنگی پیدا کرنے اور حیات نو بخشنے والی یہ صورتحال بھارت کو کبھی گوارہ نہ ہوگی، ساتھ ہی بیوروکریسی پر کرپشن کی رسیا ہونے اور بدعنوانی سے فنڈز ہضم کرنے کا تاثر بھی ختم ہوجائے گا۔

ہمارے دریائے ستلج، بیاس، راوی سب کے راستے بھارت میں ہیں، عام حالات میں تو وہ ہمارا پانی روکنے کے نت نئے منصوبے تراشتا رہتا ہے، تاہم جب بارشوں کی زیادتی کی وجہ سے سیلابی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے تو وہ اس سیلابی ریلے کا رخ بڑی مہارت سے پاکستان کی جانب موڑ دیتا ہے اور جب یہی پانی غارت گری کرتا ہے تو وہ بڑی معصومیت سے ہمیں امدادی سرگرمیوں کی آفر بھی کرتا ہے، اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ بھارت میں تقریباً 350 ڈیم ہیں اور ہمارے پاس چھوٹے بڑے کل 41 ڈیم ہیں لہٰذا ہمارے پاس مزید ڈیم بنانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔

اس کے علاوہ ہیڈ تریموں، تونسہ بیراج، سکھر بیراج اور گدو بیراج سمیت تمام بیراجوں میں پانی کو ذخیرہ کرنے کی گنجائش بڑھانے اور انھیں مزید کشادہ کرنے کی اشد ضرورت ہے اور ان صلاحیتوں کے حصول کے لیے ہم بالعموم دنیا کے دیگر ترقی یافتہ ممالک اور بالخصوص اپنے قریبی دوست ممالک چین اور ترکی وغیرہ سے مدد لے سکتے ہیں۔ ہمیں اپنے ملک کی سیلابی تاریخ سے سبق حاصل کرنے کی ضرورت ہے جوکہ ہم نے کبھی نہیں کیا، ضرورت اس امر کی ہے کہ فلڈ کمیشن کی سفارشات اور 2010 کے عدالتی کمیشن کی تجاویز پر بھی عملدرآمد کیا جائے، یہ یقیناً معاون ہیں۔

بہرحال ہماری حکومتوں کی کوتاہیوں اور نااہلیوں سے قطع نظر اس وقت ملک و قوم سیلاب کی وجہ سے جس آزمائش میں مبتلا ہے اس میں حکومت سمیت ہم سب پر بڑی بھاری ذمے داریاں عائد ہوتی ہیں، کوئی بھی حکومت تنہا بڑے پیمانے پر ہونے والی تباہی پر قابو نہیں پاسکتی، یہ وقت متحد و منظم ہوکر سیلابی مشکلات سے نبرد آزما ہونے کا ہے، سیاسی، مذہبی، فلاحی و رفاہی تمام جماعتوں کو ذمے داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے میدان عمل میں اترنا ہوگا۔ یہ وقت قوم کے امتحان کا ہی نہیں بلکہ ان سیاسی و مذہبی جماعتوں کے امتحان کا بھی ہے جوکہ ہمیشہ عوام کی ہمدرد ہونے کی دعویدار اور مخلص ہونے کا دم بھرتی رہی ہیں۔

سیلاب متاثرین کی مدد کے ضمن میں پاک فوج کا کردار یقیناً مثالی اور قابل تعریف ہے، قوم کو بچاتے ہوئے ہمارے جوانوں نے خود اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے جام شہادت نوش کیا اور ہمیشہ کی طرح ملک و قوم کی خاطر کسی بھی قربانی سے دریغ نہ کرنے کی مثالی روایت کو قائم رکھا ہے۔ ہماری تاریخ ایثار و قربانی اور غم خواری کی روشنی سے منور ہے، مسلمان کے لیے یہ ہرگز روا نہیں کہ اپنے بھائیوں کی مشکلات اور پریشانیوں سے بے نیاز رہے اور بے اعتنائی برتے یا محض ایک تماشائی بنا رہے، مومن تو آپس میں بھائی بھائی ہیں، ایک دوسرے کے لیے پیکر رحم ہیں، ایک دوسرے کے ولی ہیں، مومن ایک دوسرے سے رحم، محبت اور مہربانی میں ایسے ہیں گویا بدن کا ایک عضو تکلیف زدہ ہو تو پورا جسم اس کا درد و کرب محسوس کرتا ہے اور دین تو نام ہی خیر خواہی کا ہے۔

ڈاکٹر محمد طیب خان   

 

Comment on this post