وزیر اعظم اقوام متحدہ میں؟

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ

وزیر اعظم اقوام متحدہ میں؟

وزیر اعظم نواز شریف ایسے وقت اور ایسے قومی و بین الاقوامی ماحول میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرنے نیو یارک آ رہے ہیں کہ جہاں ان کو اپنے مختصر اور مشکل دورہ اقوام متحدہ کے دوران قدم قدم پر چیلنجز کا سامنا ہو گا۔ میری دو ٹوک رائے میں یہ چیلنجز نواز شریف کی ذات اور حکومت کو نہیں بلکہ پاکستانی قوم کو درپیش ہیں بہت سی مشکلات تو ملک میں سیاسی محاذ آرائی اور آئین و نظام سے بالاتر ہو کر دھرنے کے جنون میں گروہی سیاسی مفادات اور ملکی مفادات میں فرق کا خیال نہ رکھنے والوں نے پیدا کی ہیں۔ جہاں ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان کی شعلہ بیانی اور دھرنا حکمت عملی نے نواز شریف حکومت کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے وہاں اس سے کہیں زیادہ نقصان پاکستان کے عالمی امیج کو پہنچا ہے۔ نواز شریف حکومت کے بعض جوشیلے حامیوں کی جوابی شعلہ بیانی نے بھی منفی اثرات پیدا کئے ہیں۔ پاکستان میں لگی ہوئی ’’مباحثوں کی منڈی‘‘ کے ناگوار شور میں اضافہ کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پرایک اور بحث کو جنم دے دیا ہے کہ کیا پاکستان قابل اعتماد ملک ہے یا پھر خدانخواستہ بدامنی، دہشت گردی، معاشی بدحالی اور کمزور حکومتی نظام کے باعث ’’ناکام مملکت‘‘ کا سفر طے کررہا ہے؟ اعلٰی فوجی عہدوں پر ترقی و تبدیلی سے ایک بہتر تاثر ابھرا ہے لیکن ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان کو مل کر بھی اس نقصان کا ازالہ کرنے میں بڑا وقت لگے گا۔ مختصر یہ کہ پاکستان کے عالمی امیج اور قومی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ جبکہ عالمی صورت حال بھی پاکستان کے لئے موافق نہیں اور جنوبی ایشیا کا علاقائی تناظر بھی ہم پاکستانیوں کے لئے کوئی بہتر تصویر پیش نہیں کرتا۔

وزیر اعظم نواز شریف کا دورہ اقوام متحدہ میں اس بار نہ تو امریکی صدر اوباما سے کوئی ملاقات ممکن نظر آتی ہے نہ ہی پاک۔ بھارت تعلقات میں ڈائیلاگ کے لئے ماضی میں دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم کی ملاقات کی روایت کا کوئی وجود نظر آرہا ہے۔ بھارت نے ہی پاک۔ بھارت ڈائیلاگ کو معطل کیا تھا لہٰذا بھارت کو ہی بتانا ہے کہ وہ ڈائیلاگ شروع کرنا چاہتا ہے اور کب کہاں شروع کرے گا؟ امریکہ کی توجہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہ امریکہ پر ہے۔ بھارت۔ امریکہ تعلقات اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لئے یہ دورہ امریکہ ہو رہا ہے لہٰذا واشنگٹن سے رابطے اور ڈائیلاگ کا یہ موقع نہیں بلکہ آبی وسائل، ڈیم اور دیگر منصوبوں میں امریکہ اور عالمی مالیاتی اداروں کی دلچسپی کو بھی دھرنا سیاست نے فی الوقت روک لگادی ہے۔ لہٰذا وزیر اعظم نواز شریف کے نیویارک میں مختصر قیام کے دوران اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے علاوہ تین سے پانچ ممالک کے سربراہان حکومت سے ملاقاتیں، امریکی وزیرخارجہ سے ملاقات، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے ملاقات سے آگے کا ایجنڈا اور پروگرام نظر نہیں آتا۔ ایران، آسٹریلیا اور دیگر ممالک کے وزرائے خارجہ اور سربراہان وفود سے ملاقاتوں کی ذمہ داریاں مشیر خارجہ سرتاج عزیز نبھائیں گے اور ماحولیاتی تبدیلی کی کانفرنس میں شریک ہوں گے سیکرٹری خارجہ اعزاز چوہدری اقوام متحدہ کے ماحول اور سفارت کاری کا بڑا تجربہ رکھتے ہیں مگر جب خود ہمارے سیاستدان احتجاج اور دھرنا کی سیاست میں ملکی تجارت، زرمبادلہ، سفارت، اورعالمی تقاضوں کو نقصان کی پروا کئے بغیر اپنے مطالبات اور دھرنے میں مصروف رہنے کے حق پر تو زور دیتے ہیں مگر قومی حفاظت کی ذمہ داری اٹھانے کا ذکر بھی نہیں کرتے۔

ملک میں کنفیوژن، عدم استحکام اور دھرنے کی کشیدگی کا فائدہ اٹھا کر اگر دہشت گرد بحریہ کے جہاز اور اسلحہ پر خدانخواستہ قبضہ کرلیں اور ملک کو نقصان بھی ہوجائے تب بھی وہ ذمہ دار نہیں ہیں۔ یہ کیسی پاکستانیت ہے؟ پاکستان میں دھرنے سے پیدا انتشار کا فائدہ اٹھا کر دہشت گردوں نے اس قدر خطرناک صورت حال پیدا کر دی کہ جہاں پاکستان کی بحریہ کے مسلح جہاز کو دہشت گردی اور اغوا کے لئے استعمال کرکے دوسرے ملکوں کے بحری جہازوں پر حملے کی سازش تیار ہو جائے تو قومی دفاع اور مفاد سے منہ موڑ کر دھرنا جاری رکھنا کیا معنی ہے؟ امریکی ذرائع ابلاغ نے اس خوفناک سازش کی جو مزید تفصیلات بتائی ہیں اس کے لئے پاکستان کے سیکورٹی حکام کا حوالہ بھی دیا ہے اس منصوبے اور کوشش کے حوالے سے بعض حلقے یہ کہتے سنے جا رہے ہیں کہ پاکستان قابل اعتبار ایٹمی ملک نہیں ہے۔ دنیا کے دوسرے حصوں میں لوگ ڈائیلاگ کے ذریعے مسائل کے حل میں لگے ہوئے ہیں اور ہم ہیں کہ ڈائیلاگ سے انکار کر کے دھرنا، شعلہ بیانی، انتقام اور دھمکیوں اور جوابی دھمکیوں کے ذریعے مطالبات اور مسائل حل کرنا بہتر سمجھتے ہیں۔ اسکاٹ لینڈ کے عوام نے گزشتہ دنوں پرامن ریفرنڈم کے ذریعے یہ فیصلہ کر لیا کہ وہ برطانیہ کے ساتھ ہی رہیں گے اور آزاد نہیں ہوں گے مگر ہم تمام خطرات سے منہ موڑ کر احتجاج میں مصروف ہیں۔ اتنی مشکل گھڑی میں تو برداشت اور اتحاد سے عمل کی ضرورت ہے تاکہ قوم کو سنگین خطرات سے بچاسکیں۔ صرف کسی ایک سیاسی حریف کی حکومت کو ختم کرنے کے لئے ملک و قوم کو دائو پر لگانے سے نہ تو مسائل حل ہوں گے نہ ہی انسانی حقوق اور جمہوریت کی فتح ہو گی۔

بہرحال اقوام متحدہ کے سنجیدہ حلقوں میں پاکستانی بحریہ کے جہاز کے اس واقعہ سے تشویش پائی جاتی ہے دبی زبان سے ذکر بھی ہو رہا ہے اور اس واقعہ کو آئندہ کے اقدامات کے لئے جواز بنا لینے کی تیاری بھی نظر آ رہی ہے۔ وزیر اعظم نواز شریف اپنے قیام نیو یارک کے دوران مذکورہ بالا صورت حال کے حوالے سے چیلنجز کا سامنا کریں گے۔ وہ ستمبر کے اختتام سے قبل پاکستان واپس لوٹنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ

 

Comment on this post