فقیدالمثال گمنام ہیروز

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ

فقیدالمثال گمنام ہیروز

پچھلے کالم میں اپنے نہایت قابل اور ہمارے پروگرام کے اہم رُکن ڈاکٹر محمد عالم کا تذکرہ کیا تھا۔ یہ نہ صرف Computational Fluid Dynamics کے علم کے ماہر تھے بلکہ ان کو کوہ پیمائی کا بھی بے حد شوق تھا۔ انھوں نے اور ڈاکٹر طاہر رسول نے، جو انجینئر اعجاز احمد کھوکھر کے رفیق کار اور نہایت قابل انجینئر تھے اور جنھوں نے پروگرام کی کامیابی میں اہم رول ادا کیا تھا، ایک کوہ پیمائی کا کلب قائم کیا۔ میں نے ان کو ایک عمدہ چھوٹی عمارت بنوا دی تھی۔ کوہ پیمائی کا اعلیٰ سامان میرے نہایت عزیز دوست و مددگار جرمن نژاد ڈاکٹر ہائنز مے بُس (Dr. Heinz Mebus) نے مفت فراہم کر دیا تھا۔ ڈاکٹر عالم، ڈاکٹر طاہر رسول، ہمارے چند اور رفقائے کار اور اسلام آباد کے مشہور دندان ساز ڈاکٹر انیس الرحمٰن کے ساتھ شمالی علاقوں کی سیر کرتے تھے۔ انھوں نے وہاں کی اعلیٰ تصاویر کھینچی تھیں جو کلب کی عمارت کی رونق تھیں۔

میں نے نہ صرف اپنی پروجیکٹ و پروگرام کے اہم مقاصد کی طرف پوری توجہ دی تھی بلکہ اپنے اسٹاف کے آرام اور سہولتوں پر بھی پوری توجہ دی تھی۔کہوٹہ ایک شہر بن گیا تھا۔ اسٹاف کے رہنے کے مکانات و اپارٹمنٹس، یوٹیلیٹی اسٹور، سوئمنگ پول، پولٹری، بٹیر اور ڈیری فارمز،شادی ہال، کرکٹ گرائونڈ، فٹبال گرائونڈ، ٹینس کورٹ، اسکوائش کورٹ وغیرہ مہیا کئے تھے۔ یہی نہیں بلکہ خواتین کے لئے ہفتہ میں بسیں ایک دن اسلام آباد اور پنڈی بھی جاتی تھیں۔ عام ضروریات اور ایمرجنسی کے لئے فوراً ٹرانسپورٹ مل جاتی تھی۔ بعد میں وہاں رائڈنگ کلب بھی جناب تاجور نے بنوا دیا تھا۔ کہوٹہ میں درخت، ڈیم، اعلیٰ سڑکوں کی تعمیر، صفائی کا انتظام، سڑکوں کی دیکھ بھال اور مرمت کا کام میرے نہایت قابل، اہل، تیز رفتار جناب سجاول خان نے کیا تھا۔ یہ جناب زاہد علی اکبرخان کے ساتھ آئے تھے۔ جنرل زاہد کے جانے کے بعد جناب اَنیس علی سیّد (سرویئر جنرل آف پاکستان) نے ڈی جی اسپیشل ورکس آرگنائزیشن (SWO) کا چارج لیا۔ یہ نہایت نفیس، قابل، نرم مزاج اور کام میں ماہر انجینئر تھے۔ ان کے دور میں ہی کہوٹہ کی تعمیرات کا تمام کام ہوا۔ میں نے انہی کے ساتھ جا کر جنرل ضیاء کے چیف آف اسٹاف جنرل میاں عبدالوحید کو وہ تاریخی خط دس دسمبر 1984ء کو دیا تھا جس میں ایٹم بم کی تیاری اور ایک ہفتہ کے نوٹس پر دھماکہ کرنے کی اطلاع دی تھی اور جنرل ضیاء نے مجھے گلے لگا کر پیشانی چوم لی تھی۔ جناب وحید، جناب انیس صاحب کے کورس میٹ اور بہت پیارے دوست تھے اور بہت قابل افسر تھے۔ جناب انیس صاحب کے دور میں بھی جناب سجاول صاحب ان کے دست راست تھے اور تمام کام ان کی نگرانی میں ہوتا رہا۔ سجاول صاحب قدآور، نہایت اچھی شخصیت کے مالک تھے اور کام میں کسی قسم کی تاخیر یا خرابی قبول نہ کرتے تھے۔ میرا اصول یہ تھا کہ میں ان کے ساتھ پورے پلانٹ کا دورہ کرتا تھا۔ ہم ضروریات کے تمام کاموں کی لسٹ بنا لیتے تھے اور سجاول صاحب ان کو فوراً کرا دیتے تھے۔ اپریل 1998ء میں جب ایک اہم ٹیسٹ کرنے والے تھے تو ہم نے کہوٹہ کے قریب لانچنگ سائٹ بنائی تھی کیونکہ ہمارے لئے یہ سیکورٹی کے لحاظ سے اور ہر قسم کی سہولت قریب ہونے کی وجہ سے بہت مناسب جگہ تھی۔ لانچنگ سے دو دن پہلے ایک اعلیٰ افسر جو خود کو عقل کل سمجھتے تھے اور اکثر اچانک اُلٹے سیدھے فیصلے کر لیتے تھےکو یہ خیال آیا کہ میزائل جب داغا جائے گا تو پنڈی پر سے گزرے گا اور اگر یہ وہاں گر گیا تو بہت نقصان پہنچ سکتا ہے، ہمیں سائٹ تبدیل کرنے کو کہا گیا۔ ہمارے لئے یہ بہت بڑی پرابلم بن گئی۔ ان صاحب کو سمجھایا کہ اگر میزائل میں خرابی ہوتی ہے تو لانچنگ کے وقت یا فوراً بعد ہوتی ہے اور چند سیکنڈ میں یہ میزائل تین سو کلو میٹر سے بھی اونچا چلا جاتا ہے، اگر اس دوران میزائل پھٹ جائے تو اس کے اتنے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ہو جاتے ہیں کہ ان کے گرنے سے کچھ نقصان نہیں ہوتا۔ بہرحال ہمیں ٹلّہ جہلم سے میزائل فائر کرنا پڑا۔ راستہ بے حد خراب تھا، بجلی کے تار، درختوں کی شاخیں، کٹا پھٹا راستہ، ان حالات میں اتنے لمبے میزائل اور اتنا بھاری سامان کولیجانا جوئے شیر لانے کے برابر تھا۔ سجاول صاحب نے چوبیس گھنٹہ، نان اسٹاپ، اپنی ٹیم کے ساتھ کام کیا، راستہ بنایا، تار ہٹائے، درختوں کی شاخیں کاٹیں اور تمام سامان جائے وقوع پر پہونچا دیا۔

اس سامان میں میزائل، لانچرز، ایندھن اور بہت سا سامان تھا۔ ہمارے تقریباً پچاس ساٹھ لوگ وہاں گئے ان کے ٹھہرنے کا بندوبست، کھانے کا بندوبست سب کچھ سجاول صاحب نے نہایت ہی ہنر مندی اور خوش اسلوبی سے کر دیا۔ اس علاقہ میں سانپ تھے۔ جب ٹینٹ میں لوگ صبح ناشتہ کررہے تھے تو ڈاکٹر ہاشمی کے پیروں کے پاس سے زہریلا کریٹ گزر گیا۔ اس کی ہاشمی صاحب کو کاٹنے کی جرأت نہیں ہوئی، ڈر گیا کہ کہیں لینے کے دینے نہ پڑ جائیں۔ 6 اپریل 1998ء، علی الصبح، نماز فجر کے بعد میں اپنے رفقائے کار کے ساتھ کوسٹر میں پنڈی آفس سے منزل مقصود کی جانب روانہ ہوا، ہم وہاں ساڑھے چھ بجے پہنچ گئے۔ ڈاکٹر ہاشمی، ڈاکٹر مرزا، انجینئر نسیم خان، انجینئر بدرالاسلام نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ تمام تیاری مکمل کر لی تھی۔ ہم میزائل لانچ کرنے کو تیار تھے مگر وہاں موجود افسر صاحب نے روکے رکھا۔ سات بج کر بیس منٹ پر ہمیں اطلاع ملی کہ ہمیں تاخیر کرانے کا مقصد سندھ میں سونمیانی رینج سے ثمر مُبارک مند نے M-II کی کاپی فائر کرنا تھی جو فیل ہو گئی اور میزائل لانچنگ پیڈ پر گر گیا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ پہلے ثمر مبارک مند سے میزائل فائر کروا کر تاریخ میں لکھوا دیں کہ پاکستان کا پہلی بیلسٹک میزائل انھوں نے فائر کیا تھا لیکن اللہ تعالیٰ کا اپنا نظام ہے اور وہی کاموں کی سر انجامی میں فیصلہ اپنے ہاتھ میں رکھتا ہے۔ جب مجھے اس سازش کا علم ہوا تو بہت غصّہ آیا۔ ہمارا وقت ساڑھے سات بجے کا تھا، میں نے فوراً حکم دیدیا کہ میزائل فائر کر دیں۔ اس وقت صبح کے 7:23 ہوئے تھے۔ بٹن دباتے ہی میزائل چند سیکنڈوں میں 360 کلومیٹر خلا میں چلا گیا، وہاں اس کا وارہیڈ علیحدہ ہوا اور بلوچستان میں 1300 کلومیٹر دور اپنے ٹارگٹ کے قریب گرا۔ وہاں فوج کا ایک دستہ موجود تھا، ہیلی کاپٹر سے بھی وہ معائنہ کر رہے تھے۔ انھوں نے تحریری رپورٹ میں تصدیق کی کہ وارہیڈ ٹارگٹ کے بالکل قریب گرا تھا۔ اس طرح اس روز پاکستان ایک میزائل قوّت بن گیا۔ جب مشرق وسطیٰ کے اہم اسلامی ملک کے وفد کے ساتھ وزیر اعظم نواز شریف، افواج پاکستان کے تینوں سربراہوں کے ہمراہ کہوٹہ تشریف لائے تھے تو انہیں یہ میزائل اور ان میں موجود ایٹمی صلاحیت دکھائی گئی تو وہ حیران رہ گئے۔

یہاں ایک اہم واقعہ آپ کو بتانا چاہتا ہوں جہلم اور ٹلّہ رینج کور کمانڈر منگلا کے انڈر آتی ہے، اس وقت وہاں کا کور کمانڈر مشرف تھا۔ میں نے ازراہ خوش اخلاقی اس کو فون کیا کہ ہم آپ کے علاقہ سے لمبی مار کے، ایٹمی ہتھیار لیجانے والی، بیلسٹک میزائل فائر کرنے والے ہیں میں آپ کو دعوت دیتا ہوں کہ آئیں اور یہ لانچنگ دیکھیں۔ اس نے کہا مجھے چیف جنرل جہانگیر کرامت نے اس کی اطلاع دی ہے اور نہ ہی دعوت دی ہے کہیں وہ ناراض نہ ہو جائیں۔ میں نے کہا میں ان کو بتا دوں گا کہ میں نے دعوت دی ہے، جنرل کرامت بہت نرم مزاج، کم گو اور اچھے افسر ہیں انھوں نے اجازت دیدی۔ دوسرے دن صبح سات بجے جنرل مشرف اپنے ہیلی کاپٹر میں آئے، مجھ سے میرے ساتھیوں جن میں جناب چوہان (سابق سرجن جنرل پاکستان آرمی اور پھر ہمارے میڈیکل ڈویژن کے سربراہ) بھی شامل تھے ملاقات کی۔ ہم اوپر ایک چھت پر بیٹھ گئے جہاں سے ہر چیز بہت صاف نظر آ رہی تھی۔ جب مشرف نے ہم سے گفتگو شروع کی تو اس کے منہ سے شراب کی بو آ رہی تھی، میں نے کہا کہ ایسے مبارک دن اس حالت میں آنا مناسب نہیں ہے اس کو یہ بات بُری لگی اور بعد میں جب یہ آرمی چیف بن گیا تو اس نے ملکی مفاد کے قطعی برعکس یہ بیانات دیئے کہ وہ میزائل ٹیسٹ فیل ہو گیا تھا اور وارہیڈ اپنے ہدف پر نہیں پہنچا۔ اگر یہ فرض کر لیا بھی جائے کہ ایسا ہوا ہو تو کیا ایک ملک کے سربراہ کو یہ زیب دیتا ہے کہ وہ اس قسم کے ملک دشمن بیانات دے۔ بہرحال عقل ہوتی تو یہ بات سمجھ میں آتی۔ بعد میں ٹلّہ کے مقام پر میں نے فوج کے لئے اعلیٰ سہولتیں بنوا دیں جس کا آج بھی تمام فوجی جو وہاں ہتھیار ٹیسٹ کرنے جاتے ہیں بے حد شکریہ ادا کرتے ہیں۔

جب میزائل اپنے ٹارگٹ پر جالگا تو میں نے وزیر اعظم کو فون کیا کہ ماشاء اللہ میزائل ٹیسٹ کامیاب رہا، مُبارک ہو، وہ اس وقت لاہور تھے۔ انھوں نے کہا کہ میں 10 بجے ایوان وزیر اعظم آجائوں اور ویڈیو فلم لے آئوں۔ ہم لوگ وہاں سے واپس آئے اور میں وزیر اعظم کے پاس گیا اور ویڈیو فلم لے گیا۔ سب نے وہ ویڈیو فلم دیکھی اس وقت وہاں مشاہد حسین سید، سعید مہدی اور چند دوسرے لوگ تھے۔ یہ مباحثہ ہوا کہ کیا اس کو ٹی وی پر دکھایا جائے۔ جناب مشاہد حسین سید غالب آئے اور فیصلہ ہوا کہ ایک بجے کے خبرنامہ میں یہ فلم دکھائی جائے گی۔

اس کے فوراً بعد وزیر اعظم نیشنل ڈیفنس کالج (اب یونیورسٹی بن گئی ہے) گئے اور وہاں اپنے خطاب میں تمام عسکری افسران اور عوام کو اور پوری دنیا کو ہماری اس کامیابی کی خبر سنا دی۔ پورے ملک میں جشن کا منظر تھا۔

صدر رفیق تارڑ سعودی عرب میں تھے وہاں تمام اسلامی ممالک کے سربراہوں نے ان کو آکر مُبارکباد دی۔ ہمارے میزائل کے ٹیسٹ نے ہندوستان کے جارحانہ ارادوں کو ٹھنڈا کردیا کیونکہ یہ میزائل موبائل لانچر پر نصب تھا اور اس کے ذریعہ ہندوستان کے اہم ہدف نشانہ بنائے جا سکتے تھے۔ اس کے ایک ماہ بعد جب ہم نے ایٹمی دھماکے کئے تو دونوں ممالک کے درمیان آئندہ بڑی جنگ کے خطرات ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم ہو گئے۔ میزائل کی لانچنگ کی تیاری میں جناب سجاول کا رول نہایت کلیدی اور قابل تحسین تھا۔ اس کے علاوہ 1983ء کے اوائل سے اواخر تک ہم نے جتنے ایٹمی کولڈ ٹسٹ کئے ان کی تیاری بھی جناب سجاول خان نے کی تھی۔ اللہ تعالیٰ ان کو اور ان کے اہل و عیال کو تندرست و خوش و خرم رکھے۔ عمر دراز کرے۔ آمین۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ

 

Comment on this post