’’گونوازگو‘‘

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ

’’گونوازگو‘‘

نیویارک میں 16 سے آج 30 ستمبر تک اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا سالانہ اجلاس تھا‘ یہ 69 واں اجلاس تھا اوراس اجلاس میں 120 سربراہان مملکت نے خطاب کیا‘ میاں نواز شریف خطاب کے لیے 24 ستمبر کو نیو یارک پہنچے‘ یہ عمران خان اور علامہ طاہر القادری کے دھرنوں کو اسلام آباد چھوڑ کر امریکا گئے‘ علامہ صاحب اور خان صاحب وزیراعظم کی روانگی سے قبل ’’گو نواز گو‘‘ کی تحریک شروع کر چکے تھے‘ یہ تحریک ملک کی گلیوں سے ہوتی ہوئی سوشل میڈیا کے گھوڑے پر سوار ہوئی اور پوری دنیا میں پھیل گئی اور جب میاں صاحب 23ستمبر کو لندن پہنچے تو پاکستان تحریک انصاف کے کارکن ’’ گو نواز گو‘‘ کے پلے کارڈ لے کر پارک لین میں کھڑے ہو گئے‘ یہ گو نواز گو کے نعرے بھی لگا رہے تھے۔ میاں صاحب 26 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے لیے آئے تو پاکستانی اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر کے سامنے بھی موجود تھے‘ یہ وہاں کئی گھنٹے گو نواز گو کے نعرے لگاتے رہے‘ میرا خیال تھا‘ ملک میں جاری بحران اور گو نواز گو کے نعروں نے میاں نواز شریف پر اثر کیا ہو گا‘ یہ سنبھل گئے ہوں گے لیکن بدقسمتی سے میاں نواز شریف کی سوچ اور طرز حکمرانی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی‘ یہ اتنے شدید بحران کے باوجود جہاز لے کر لندن اور نیویارک چلے گئے‘ یہ نیویارک میں والڈروف ہوٹل میں ٹھہرے جس کا یومیہ کرایہ 8 لاکھ روپے تھا ‘ وزیراعظم کے دورے سے قبل سرکاری دستاویز بھی آؤٹ ہو گئی جس میں انکشاف ہوا میاں نواز شریف کا اقوام متحدہ میں خطاب قوم کو تین کروڑ 90 لاکھ روپے میں پڑے گا۔

میاں نواز شریف نیویارک میں دنیا کے بڑے لیڈروں سے ملاقات بھی نہ کر سکے چنانچہ یہ دورہ کسی بھی طرح کامیاب نہیں تھا‘ وزیراعظم کو نیویارک ضرور جانا چاہیے تھا‘یہ دورہ ملکی وقار اور امیج کے لیے ضروری تھا لیکن وزیراعظم کو بہرحال اپنا شاہانہ طرز حکمرانی ضرور تبدیل کرنا چاہیے تھا‘ وزیراعظم کو پورا جہاز لے کر جانے کے بجائے کمرشل فلائٹ پر بیرون ملک جانا چاہیے تھا‘ آپ خواہ پوری بزنس کلاس بک کرا لیں مگر کمرشل فلائٹ پر سفر کریں‘ وزیراعظم اگر ہوٹل کے بجائے پاکستانی سفارت خانوں میں رہیں یا یہ پاکستانی سفیر کی رہائش گاہ میں رہ جائیں تو اس سے سفارت خانوں کی عزت میں بھی اضافہ ہوگا اور قوم کا سرمایہ بھی بچے گا‘ ہوٹل میں رہنا اگر ضروری ہو تو بھی وزیراعظم کو شاہانہ ہوٹلوں کے بجائے چھوٹے ہوٹلوں میں اقامت اختیار کرنی چاہیے‘ یہ اگر ہوٹلوں کے بل بھی ذاتی جیب یا پارٹی فنڈ سے ادا کر دیں تو اس سے بھی ان کی عزت میں اضافہ ہو گا۔ وزیراعظم سیون اسٹار ہوٹل میں ہوں یا پھر ون اسٹار ہوٹل میں یہ بہرحال وزیراعظم ہی رہیں گے‘ ان کی شان میں کمی نہیں ہو گی لیکن اس سے قوم کے کروڑوں روپے بھی بچ جائیں گے اور وزیراعظم بھی تنقید سے بچے رہیں گے‘ یہ عقل کا تقاضا بھی ہے اور وقت کا بھی۔

یہ ملک اب اس شاہانہ طرز حکمرانی سے نہیں چل سکے گا‘ آپ فوری طور پر سادگی اختیار کریں‘ آپ بجٹ میں موجود دوروں کے اخراجات میں بھی پچاس فیصد کمی کا اعلان کریں‘ کمرشل فلائٹس میں سفرکا فیصلہ کریں اور پروٹوکول اور سیکیورٹی کا شوروغوغا بھی کم کریں کیونکہ آپ نے اگر یہ فیصلے نہ کیے تو مجھے خطرہ ہے آپ کے ساتھ بھی وہی ہو گا جو ایم این اے ڈاکٹر رمیش کمار اور سینیٹر رحمن ملک کے ساتھ 16 ستمبر کو کراچی میں ہوا تھا‘ پی آئی اے کے مسافروں نے فلائٹ لیٹ کرانے پر دونوں سیاستدانوں کو جہاز سے اتار دیا تھا‘ آپ نے بھی اگراپنا طرز حکمرانی تبدیل نہ کیا تو مجھے خطرہ ہے لوگ آپ کی تقریبات کا بائیکاٹ کر دیں گے۔ آپ کے شاہانہ قافلوں کو سڑکوں پر روک لیں گے اور آپ کے جہازوں کو ائیرپورٹس سے اڑنے یا اترنے کی اجازت نہیں دیں گے اور یہ سلسلہ اگر چل پڑا تو پھر ملک میں حکمران کلاس کا کوئی شخص نہیں بچ سکے گا چنانچہ آپ اپنے آپ‘ دوسرے سیاستدانوں اور ملک پر رحم کریں‘ نیویارک جیسے مہنگے دورے نہ کریں کیونکہ یہ دورے نفرت کی آگ کو مزید ایندھن فراہم کر رہے ہیں ‘ یہ آپ اور ملک دونوں کے لیے خطرناک ہیں۔

میں میاں صاحب کو مزید دو مشورے بھی دینا چاہتا ہوں‘ عمران خان اور علامہ طاہر القادری کا دھرنا غیر قانونی اور غیر آئینی تھا‘ لوگوں نے توقع کے برعکس ان کاساتھ نہیں دیا لیکن عمران خان اب آئین اور قانون کے راستے پر چل نکلا ہے‘ یہ ملک بھر میں جلسے کر رہا ہے‘ عمران خان کے کراچی اور لاہور کے جلسے بہت کامیاب تھے‘ یہ میانوالی‘ ملتان‘ فیصل آباد اور سیالکوٹ میں بھی ماضی سے بڑے جلسے کرے گا‘ یہ اگر اسی طرح جلسے کرتا رہا‘ یہ اگر اسی طرح نظام کے قلعے پر حملہ آور ہوتا رہا تو یہ بہت جلد کامیاب ہو جائے گا‘ حکومت مڈٹرم الیکشن پر مجبور ہو جائے گی اور مڈٹرم الیکشن بحران میں مزید اضافہ کر دیں گے کیونکہ عمران خان کو حکومت بنانے کے لیے اتحاد بنانا پڑے گا اور ہمارے ملک میں اتحادی حکومتیں نہیں چلتیں لہٰذا بحران بڑھ جائے گا۔

حکومت کو یہ بھی ماننا پڑے گا عمران خان اور علامہ طاہر القادری میاں صاحبان کے اقتدار میں ’’ڈینٹ‘‘ ڈال چکے ہیں‘ لوگ عمران خان اور علامہ طاہر القادری کا ساتھ دیں یا نہ دیں لیکن لوگ اب کھلے عام کہہ رہے ہیں ’’خان غلط نہیں کہتا‘‘ اور ملکوں میں جب یہ بحث چل نکلے تو پھر معاملات مشکل ہو جاتے ہیں‘ خان اور علامہ طاہرالقادری عوام کے دلوں میں موجود نفرت کو راستہ دے چکے ہیں‘ یہ نفرت اب اس راستے پر سرپٹ دوڑے گی اور اس کا نقصان بہرحال ملک کی اشرافیہ کو ہوگا‘ ہم لوگ عمران خان اور علامہ طاہر القادری کو ضدی کہتے ہیں‘ ہم یہ کہتے ہیں ان دونوں کا ایجنڈا بھی واضح نہیں اور ان کے پاس پرانے پاکستان کا کوئی ٹھوس متبادل بھی موجود نہیں‘ یہ دونوں اس آئین کے دائرے سے باہر کھڑے ہو کر نیا پاکستان بنانا چاہتے ہیں جسے قوم نے 26 سال کی محنت کے بعد بنایا تھا اور ہم نے اس آئین کے لیے آدھے ملک کی قربانی دی تھی‘ ہم یہ بھی سمجھتے ہیں عمران خان اور علامہ طاہر القادری کامیاب ہو گئے تو نیا پاکستان صرف پنجاب تک محدود ہو جائے گا۔ سندھ‘ بلوچستان اور خیبر پختونخواہ نئے پاکستان کو قبول نہیں کریں گے اور یوں خاکم بدہن فیڈریشن ٹوٹ جائے گی‘.

یہ سارے اعتراضات اپنی جگہ لیکن یہ بھی حقیقت ہے میاں صاحب بھی عمران خان اور علامہ صاحب کی طرح ضد کر رہے ہیں‘ وزیراعظم کا ایجنڈا بھی واضح نہیں‘ ان کے پاس بھی ملک چلانے کا کوئی ٹھوس لائحہ عمل موجود نہیں‘ یہ بھی کنفیوزڈ ہیں اور اگر عمران خان اور علامہ صاحب پارلیمنٹ کے باہر دھرنا دے کر بیٹھے ہیں تو میاں صاحب اس کے اندر خیمہ زن ہیں‘ یہ ملک کو باہر سے نقصان پہنچا رہے ہیں اور میاں صاحب ملک کو اندر سے توڑ رہے ہیں‘ یہ بھی کلیئر نہیں ہیں اور وہ بھی کلیئر نہیں ہیں اور پیچھے رہ گئے عوام تو یہ بے چارے تقریروں اور دعوؤں کے کچرا گھر سے سچائی کے ٹکڑے تلاش کر رہے ہیں اور ماتم کر رہے ہیں‘ میاں صاحب کو اپنی ضد ترک کر کے بہرحال اسٹیٹس کو کے مینار سے اترنا ہو گا‘یہ جتنی جلدی نیچے آ جائیں گے‘ یہ جتنی جلدی عوام کی خدمت شروع کر دیں گے۔ ان کے لیے اتنا ہی اچھا ہو گا ورنہ دوسری صورت میں عوام انھیں واقعی نیچے کھینچ لائیں گے‘ یہ میرا انھیں پہلا مشورہ تھا‘ دوسرا مشورہ ہے آپ مہربانی کر کے وفاداری کے بجائے اہلیت کو اہمیت دیں‘ ہم بدقسمتی سے اکیسویں صدی میں بھی خاندان غلاماں کے فلسفے سے باہر نہیں آسکے‘ ہماری اشرافیہ آج بھی اہل لوگوں کے بجائے وفادار غلام تلاش کر رہی ہے‘ غلاموں کی اہلیت صرف غلامی ہوتی ہے‘ یہ صرف کورنش بجا لاتے ہیں‘ یہ پرفارم نہیں کر سکتے‘ آپ آصف علی زرداری کو دیکھ لیں‘ آپ میاں نواز شریف حتیٰ کہ عمران خان کو دیکھ لیں یہ لوگ آج بھی غلام تلاش کرتے ہیں‘ آپ کو آج بھی ان کے گرد ’’واہ جی واہ‘‘ کے علاوہ کوئی آواز سنائی نہیں دے گی‘ یہ لوگ اہم ترین عہدے اہل لوگوں کے بجائے غلاموں کو عنایت کرتے ہیں اور اس کے نتیجے میں ملک مزید کیچڑ میں پھنس جاتا ہے۔

آپ المیہ ملاحظہ کیجیے عمران خان بھی جب خیبر پختونخواہ کے لیے وزیراعلیٰ منتخب کرتے ہیں تو یہ ’’پرفارمر‘‘ کے بجائے ٹھمکے باز کا انتخاب کرتے ہیں چنانچہ اس کا یہ نتیجہ نکلتا ہے‘ عمران خان ریڈزون میں دھرنے کا ریکارڈ قائم کردیتا ہے‘ یہ کراچی اور لاہور میں تاریخی جلسے کر لیتا ہے لیکن یہ پشاور میں جلسہ کر سکتا ہے اور نہ ہی جلوس نکال سکتا ہے‘ کیوں؟ کیونکہ صوبائی حکومت نے آج تک دعوؤں کے سوا کچھ نہیں کیا؟ کیونکہ پی ٹی آئی خیبر پختونخواہ میں ڈیلیور نہیں کر سکی اور یہ اتنی ہی بڑی حقیقت ہے جتنی بڑی حقیقت میاں نواز شریف کی بیڈ گورننس اور بری پرفارمنس ہے‘ میرا میاں صاحب کو مشورہ ہے‘ آپ وفاداروں کو اختیارات دے دیتے ہیں‘ عزت نہیں دیتے جب کہ آپ اہل لوگوں کو عزت دیتے ہیں ‘ اختیارات نہیں دیتے‘ آپ اس ترتیب کو پلٹ دیں‘ آپ وفاداروں کو عزت دیں اور اہل لوگوں کو اختیار دیں ملک چل پڑے گا۔

میں اس سلسلے میں گورنر پنجاب چوہدری سرور کی مثال دیتا ہوں‘ چوہدری سرور 13سال برطانوی پارلیمنٹ میں رہے‘ یہ کامیاب ترین اوورسیز پاکستانیوں میں بھی شمار ہوتے ہیں‘ یہ یورپ اور امریکا میں پاکستان کا امیج بہتر بنا سکتے تھے‘یہ تعلیم‘ صحت اور پولیس کے شعبوں میں بیرونی امداد بھی لا سکتے ہیں اور تکنیکی معاونت بھی۔ یہ اوورسیز پاکستانیوں کو بھی ملک میں ایکٹو رول ادا کرنے پر تیار کرسکتے ہیں لیکن آپ نے ان سے یہ کام لینے کے بجائے انھیں ڈیڑھ سو سال پرانے گورنر ہاؤس میں قید کر دیا‘ آپ کو گورنر ہاؤس میں کسی بزرگ سیاستدان کو بٹھانا چاہیے تھا اور چوہدری سرور کو وزیر خارجہ بنانا چاہیے تھا یا پھر انھیں اوورسیز پاکستانیوں اور تعلیم کی وزارت دینی چاہیے تھی‘ یہ ان تینوں شعبوں میں پرفارم کر سکتے ہیں مگر آپ نے انھیں گورنر ہاؤس جیسے پنجرے میں بٹھا دیا جہاں یہ سارا دن ایچی سن کالج کے داخلوں میں چھپی کرپشن کی کہانیاں پڑھتے ہیں اور کڑھتے رہتے ہیں‘ چوہدری سرور کو بھی چاہیے یہ میاں صاحب سے کھل کر بات کریں‘ یہ سینیٹر بنیں اور میاں صاحب سے خارجہ‘ تعلیم یا اوورسیز پاکستانیوں کی وزارت کا قلم دان مانگ لیں‘ میاں صاحب مانتے ہیں تو ٹھیک ورنہ دوسری صورت میں مستعفی ہو کر ویلفیئر کے کام کریں‘ اپنی توانائیاں ضایع نہ کریں‘ میاں صاحب بھی وقت کی نزاکت سمجھیں‘ ضد چھوڑیں اور وہ کام شروع کریں جس کے لیے قوم نے انھیں تیسری اور آخری بار مینڈیٹ دیا تھا‘ آپ سیاست کو عزت دیں‘ آپ ملک میں ’’کم نواز کم‘‘ کے نعرے لگوائیں‘ ملک کو ’’گو نواز گو‘‘ کے شور میں نہ ڈبوئیں‘ یہ ملک اب مزید سستی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

 

Comment on this post