دینی مدارس پر اعتراض کیوں؟

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ

دینی مدارس پر اعتراض کیوں؟

جب برصغیر پاک و ہند میں مسلمانوں کی حکومت تھی اس وقت دینی اور دنیاوی تعلیم کے نام پر دو الگ الگ نظام نہیں تھے بلکہ ایک ہی نظام تھا، اس نظام تعلیم نے مسلمانوں کے دینی تقاضے بھی پورے کیے اور دنیاوی تقاضے بھی۔ یہ نظام تعلیم کئی صدیوں تک کامیابی سے جاری رہا اس نظام تعلیم نے اس دور میں بڑی نامور شخصیات پیدا کی جن کے افکار و خیالات سے ہم آج بھی روشنی حاصل کررہے ہیں۔

مغرب کے نزدیک دینی اور دنیاوی علوم جدا جدا ہیں اس لیے انگریزوں نے اپنی آمد کے بعد تعلیم کو دینی اور دنیاوی دو حصوں میں تقسیم کردیا اور برصغیر پاک و ہند میں ایسا نظام تعلیم متعارف کرایا جو ان کے سیاسی مقاصد کی تکمیل کرتا تھا۔ بقول اقبال:

گلہ تو گھونٹ دیا اہل مدرسہ نے تیرا

کہاں سے آئے صدا لا الٰہ الا اﷲ

ایسے حالات میں مسلمانوں کے لیے اس کے سوا کوئی راستہ نہ تھا کہ وہ ایک خالص دینی تعلیم کے قیام پر توجہ دیتے، یہ ایک دفاعی حکمت عملی تھی جو اس وقت اختیار کی گئی تھی جس کا مقصد اسلامی علوم اور فنون کا تحفظ کرنا تھا۔

قیام پاکستان کے بعد ہونا یہ چاہیے تھا کہ ہم اپنی ضروریات اور تقاضوں کو مد نظر رکھ کر دینی اور دنیاوی نظام تعلیم کو ہم آہنگ کرنے کی کوشش کرتے بد قسمتی سے ہم نے ایسا نہیں کیا آج بھی ہمارا نظام تعلیم دینی اور دنیاوی نظام تعلیم کے دو متوازی حصوں میں تقسیم ہے۔

پاکستان میں بعض عناصر دینی مدارس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں ان کے نزدیک دینی مدارس کی اس افادیت سے کسی ذی شعور شخص کو انکار نہیں ہے کہ ان مدارس کا علم کے فروغ بالخصوص نچلے طبقے میں علم کی روشنی پھیلانے میں جو کردار ہے اسے فراموش نہیں کیا جاسکتا لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ یہ نظام تعلیم جہاں اپنی ایک افادیت رکھتاہے وہاں اس میں چند خامیاں بھی ہیں جنھیں نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔

دینی مدارس کے نظام تعلیم کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ اس نظام تعلیم میں آزادی فکر پر پابندی ہوتی ہے سوچ اور فکر پر پابندی کی بدولت طالب علم کا ذہن ایک جگہ آکر ٹھہر جاتا ہے، طلبا میں خیالات کی قوت سے جنم لینے والے سوالات پیدا ہونے کے امکانات ختم ہوجاتے ہیں جس کے باعث ان میں عملی زندگی میں مسائل اور بحران کا تجزیہ کرنے اور ان کی اصل وجوہات کی شہ تک پہنچنے اور ان کا حل نکالنے کی صلاحیت سے محروم ہونا ہے۔ یوں وہ ایک سود مند شہری نہیں ہوتے۔

ان مدارس کی دوسری بڑی خامی یہ ہے کہ بیشتر دینی مدارس کسی نہ کسی فرقے (مسلک) سے منسلک ہوتے ہیں جب ایک فرقہ اپنے آپ کو حق پر سمجھتا ہے یا سمجھا جاتا ہے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے نزدیک دوسرا فرقہ گمراہ ہوجاتا ہے یا سمجھا جاتا ہے۔ یہ سوچ اور فکر فرقہ پرستی کے فروغ کا باعث بنتی ہے۔

تیسری بڑی خامی یہ ہے کہ یہ مدارس جدید علوم پڑھانے اور مختلف شعبہ زندگی کے ماہرین پیدا کرنے کے بجائے مساجد کے لیے امام اور مدارس کے لیے معلم پیدا کر رہے ہیں یہ طبقہ اپنی عملی زندگی میں برائے راست پیداواری عمل میں حصہ نہیں لیتا ان کے مالی وسائل کا انحصار زیادہ تر عطیات اور زکوٰۃ وغیرہ پر ہوتا ہے اس لیے یہ قومی معیشت پر بوجھ ہوتے ہیں۔دینی سوچ اور فکر رکھنے والے دینی مدارس کے مخالفین کے تمام الزامات اور خدشات کو رد کرتے ہیں اور اسے مغرب کا پروپیگنڈا قرار دیتے ہیں جس کا مقصد مغرب کے ان مقاصد کی تکمیل کرنا ہے جس کی رو سے وہ ان روشنی کے مینار کا خاتمہ چاہتا ہے جس کی وجہ سے اسلام کی شمع روشن ہے۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ وطن عزیز میں لاکھوں کی تعداد میں اسکول، ہزاروں کی تعداد میں کالج اور سیکڑوں کی تعداد میں یونی ورسٹیاں ہیں جس میں پڑھنے والے بچوں کی 98% تعداد ان ہی اداروں کا رخ کرتی ہے اور وہ جو بننا چاہتے ہیں بن جاتے ہیں، پھر چند ہزار دینی مدارس پر نظر کیوں لگی ہوئی ہے۔

ان کے لیے اتنی پریشانی اور غم کیوں ہے؟ اس بات کو سمجھنے کے لیے کسی کا سقراط، بقراط اور افلاطون ہونا ضروری نہیں۔ کسی بھی تعلیمی نظام میں نصاب کی حیثیت روح کی ہوتی ہے۔ جب دینی مدارس میں نصاب کی تبدیلی کا مطالبہ کیا جاتا ہے تو اس کا ایک ہی مقصد ہوتا ہے کہ نصاب میں تبدیلی کی آڑ لے کر مدارس کے تعلیمی نظام سے اس کی روح کو نکال دیا جائے یعنی اسلام کی اس شمع کو بجھا دیا جائے۔

دینی مدارس کے تعلیمی نظام پر یہ اعتراض کہ اس میں آزادی فکر پر پابندی ہوتی ہے اس میں یہ بات سمجھنے کی ہے کہ ہر قوم آزادی رائے میں کسی چیز پر رائے اس وقت تک لیتی ہے جب تک کہ وہ اپنی لا علمی کی وجہ سے غلط اور صحیح رائے میں تمیز کرنے سے قاصر ہوتی ہے، اسلام میں کیوں کہ اس بات کا تعین ہوچکا ہے کہ کیا چیز صحیح اور کیا چیز غلط ہے یعنی اس کا فیصلہ ہوچکا ہے لہٰذا اسلامی احکامات، تعلیمات اور عقائد پر آزادی رائے کا حق حاصل نہیں ہے۔

دینی مدارس کے طلبا پر یہ الزام کہ دینی مدارس کے طلبا ذہنی لحاظ سے جمود کا شکار ہوتے ہیں اور معاشرے کے لیے سود مند شہری نہیں ہوتے یہ الزام قطعی غلط ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دینی مدارس کے طلبا میں اجتماعی زندگی کا شعور دنیاوی تعلیم حاصل کرنے والے طالب علم سے زیادہ ہوتا ہے۔

دینی مدارس پر یہ اعتراض کہ یہ فرقہ واریت کو فروغ دیتے ہیں۔ جس سے معاشرے میں تصادم کی فضا پیدا ہوجاتی ہے ملک کی معاشی ترقی رک جاتی ہے معاشرہ تنزلی کا شکار ہوجاتا ہے۔

جہاں تک فرقہ پرستی کے فروغ کا تعلق ہے بعض اندرونی اور بیرونی عناصر اپنے سیاسی مقاصد کی تکمیل کے لیے چند مفاد پرست عناصر کی سرپرستی کرکے اس کو فروغ دیتے ہیں فرقہ پرستی کو فروغ دینے کے عمل کا دینی مدارس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

دینی مدارس کا ہدف ہمیشہ مسلم سوسائٹی میں دینی تعلیم، عبادات، اسلامی اقدار و روایات، دعوت تبلیغ، مساجد اور مدارس کے قیام کا سلسلہ قائم رکھنا رہا ہے ۔

ان سے یہ سوال کرنا کہ دینی مدارس ڈاکٹر، انجینئر اور سائنس دان کیوں پیدا نہیں کر رہے ہیں قطعی غیر منطقی بات ہے۔ یہ سوال ان طبقات سے کیا جانا چاہیے جنھوں نے ان شعبوں میں ماہرین فراہم کرنے کی ذمے داری قبول کررکھی ہے جو ان کاموں پر قومی دولت کا بڑا حصہ صرف کر رہے ہیں۔

غور طلب بات یہ ہے کہ عام تعلیمی اداروں نے بہت سے نامور اسکالر معاشرے کو فراہم کیے ہیں مگر یہ ادارے معاشرے کو ایسے عالم دین فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں جن پر معاشرے کے افراد اعتبار کرسکیں۔

یہ ہے دونوں جانب کا موقف کس کا موقف درست ہے اس کا فیصلہ پڑھنے والوں پر چھوڑتا ہوں۔

میری ذاتی رائے میں دینی اور دنیاوی نظام تعلیم کی جو تفریق انگریزوں نے پیدا کی تھی اسے اب ختم ہوجانا چاہیے اور پورے ملک میں یکساں نظام تعلیم رائج کیا جانا چاہیے۔ ایک ایسا نظام تعلیم اور نصاب تعلیم ہو جو فرقہ واریت سے پاک ہو۔ مختلف مکاتب فکر میں ہم آہنگی میں معاون ہو۔

جبار قریشی

 

Comment on this post