تبدیلی آ گئی مگر

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ

تبدیلی آ گئی مگر

تبدیلی کا غلغلہ پاکستان میں بلند ہوا تھا لیکن یہاں کوئی سیاسی تبدیلی نہیں آئی ۔ یہاں تبدیلی، اس کا نعرہ بلند کرنے والوں کے حلق میں پھنس گئی اور فضائی کے ساتھ ساتھ سیاسی تعفن کی موجب بن گئی لیکن حقیقی سیاسی تبدیلی افغانستان میں آ گئی۔ ووٹ اور سیاست کے ذریعے وہاں حکومت تبدیل ہو گئی ۔ حامد کرزئی صاحب کے تیرہ سالہ اقتدار کا خاتمہ ہو گیا اور پختون ڈاکٹر اشرف غنی احمد زئی کی قیادت میں ملی یکجہتی کی ایسی حکومت قائم ہو گئی کہ جس میں تاجک عبداللہ عبداللہ چیف ایگزیکٹیو جبکہ ازبک رشید دوستم اور ہزارہ سرور دانش بھی نائب صدر ہوں گے۔ اسی طرح عبداللہ عبداللہ کے پینل سے پختون احمد جان نائب صدر اول کا منصب سنبھالیں گے ۔ ہم پاکستانی جو وہاں سیاسی نظام کے فقدان کی وجہ سے افغانستان کا مذاق اڑایا کرتے تھے، اس دوران خود مذاق بن گئے۔ اسلام آباد میں دھرنوں اور لاقانونیت کی وجہ سے چین جیسے ملک کے صدر یہاں کا دورہ نہ کرسکے لیکن کابل میں نہ صرف غیرملکی مہمان آرام سے آتے جاتے رہے بلکہ ان کی نئے صدر کی تقریب میں پاکستانی صدر ممنون حسین اور درجنوں غیرملکی مندوبین شریک رہے لیکن کوئی ان کا بال بھی بیکا نہ کرسکا۔ ہمارے ہاں یہ سیاسی تبدیلی آئی کہ سیاست گالم گلوچ کا دوسرا نام قرار پایا لیکن افغانستان جہاں گالی نہیں بلکہ گولی کی سیاست ہوا کرتی تھی۔ میں ایک دوسرے کے احترام کا کلچر دیکھنے کو ملا۔

ایک دوسرے کے خلاف انتخاب لڑنے والے ڈاکٹر اشرف غنی اور ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ اب ایک ساتھ حکومت چلائیں گے۔ پاکستان کے سیاسی لیڈر چار سیٹوں کی دھاندلی کا تنازع حل نہ کر سکے لیکن افغانستان کی سیاسی قیادت نے پورے ملک کے دھاندلی کی شکایت کا تنازع حل کر لیا۔ یہاں کے سیاسی لیڈر ایک دوسرے کو ’’اوئے فلاں، اوئے فلاں‘‘ کہہ کر پکارتے ہیں لیکن افغانستان میں تقریب حلف برداری کے دوران ہر لیڈر دوسرے کا نام لیتے ہوئے عزت مآب اور جلالت مآب کا لفظ ضرور لگایا کرتے تھے۔ یہاں سپریم کورٹ آف پاکستان کے احکامات پر عمل نہیں ہو رہا اور پارلیمنٹ کے ساتھ ساتھ اس کا راستہ بھی بند ہے لیکن وہاں جب چیف جسٹس آف افغانستان نئے صدر سے حلف لینے کے لئے اٹھے تو ساری قیادت نے ان کے آگے سر جھکا دیئے۔ کوئی تصور کرسکتا تھا کہ افغانستان پر تیرہ سال تک حکمرانی کرنے کے بعد بھی حکمران عزت سے زندہ رخصت ہو جائے گا لیکن آج افغانستان میں ایسا ہی ہواجبکہ پاکستان کی نمائندگی وہاں جو صدر مملکت کر رہے تھے، وہ بڑھاپے اور بے اختیاری کی وجہ سے یہ فیصلہ بھی کرنے سے قاصر تھے کہ کب تالی بجانی ہے اور کب ہاتھ نیچے رکھنے ہیں۔ پاکستان کے وزیراعظم بیرون ملک جاتے ہیں تو عزت افزائی کی بجائے وہاں پی ٹی آئی کے لوگ ان کی بے توقیری کرتے ہیں لیکن حامدکرزئی نے اختتامی اور الوداعی خطاب مکمل کیا تو ڈاکٹر اشرف غنی، عبداللہ عبداللہ، رشید دوستم اور ہال میں موجود تمام لوگ ان کے احترام میں کھڑے ہو گئے اور والہانہ انداز میں دیرتک تالیاں بجاتے رہے۔

پاکستان میں خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ سرکاری پروٹوکول کے ساتھ جلسوں میں جاکر وزیراعظم کو ڈاکو اور چور کے نام سے مخاطب کرتے ہیں لیکن افغانستان جیسے ملک کے تمام گورنر اور ممبران پارلیمنٹ رخصت ہونے والے صدر کو سلامیاں پیش کر رہے تھے۔ یہ ہوتی ہے تبدیلی جو افغانستان میں آئی اور یہی ہوتی ہےسیاسی پختہ پن، جس کا مظاہرہ افغانستان جیسی نوزائیدہ جمہوریت کی سیاسی قیادت نے کیا۔ یقینا حامد کرزئی صاحب اپنے اقتدار کے دور میں نہایت غیرمقبول اور متنازعہ ترین صدر بن گئے تھے ۔ امریکہ اور پاکستان جیسے دوستوں کے ساتھ ان کے تعلقات نہایت خراب ہوگئے تھے ۔ ملک کے اندر بھی ان کی کریڈیبلٹی بری طرح متاثر ہوئی تھی اور ان کے قریبی ساتھی بھی ان پر اعتماد کرنے کو تیار نہ تھے لیکن جس عزت و احترام سے وہ رخصت ہوئے‘ وہ شاید ہی کسی افغان حکمران کے حصے میں آیا ہو۔

حامد کرزئی نائن الیون کے بعد بون کانفرنس کے نتیجے میں پاکستان اور امریکہ کی حمایت سے افغانستان کے صدر مقرر ہوئے۔ مقررہ مدت کی تکمیل کے بعد لویہ جرگہ اور پھر انتخابات کے نتیجے میں افغانستان کے صدر منتخب ہوئے ۔ بظاہر تو ان کا دور صدارت ناکامیوں سے عبارت ہے اور پاکستانی میڈیا میں مسلسل منفی پروپیگنڈے کی وجہ سے یہاں ان کا امیج بہت خراب کردیا گیا ہے لیکن انہیں یہ رعایت دی جاسکتی ہے کہ وہ نہایت مشکل ترین دور میں افغانستان کے صدر رہے اور اس کے باوجود ان کے دور میں بعض غیرمعمولی کامیابیاں بھی افغانستان نے حاصل کیںجن میں سب سے اہم افغانستان جیسے ملک کے لئے ایک متفقہ آئین کا حصول ہے۔ ریاستی اداروں(عدلیہ، پولیس، فوج، بینکنگ، تعلیمی نظام، میڈیا وغیرہ) کی تشکیل نو کو بھی ان کی کامیابیوں میں سے اہم قرار دیا جاسکتا ہے لیکن ان کے دور کی سب سے بڑی ناکامی یہ قرار دی جارہی ہے کہ بارہ سال تک حکمران رہنے کے باوجود وہ نہ تو افغانستان میں قومی مصالحت کی منزل حاصل کر سکے اور نہ امن لا سکے ۔ وہ اپنی سیاسی جماعت بناسکے اور نہ ملکی سیاست میں جماعتوں کی سیاست کو رواج دے سکے اوریہی وجہ ہے کہ آج بھی افغان سیاست نظریات اور جماعتوں کی بجائے شخصیات کے گرد گھومتی ہے۔ وہ کرپشن کے خاتمے میں بھی ناکام رہے اور عام تاثر یہ ہے کہ جتنی غیرملکی امداد ملی، اس سے تعمیر نو کا کماحقہ کام نہ ہو سکا۔

حامد کرزئی کے دور میں پاکستان کے ساتھ افغانستان کے تعلقات عجیب و غریب مدوجزر سے گزرے۔ انہوں نے درجنوں کی تعداد میں پاکستان کے دورے کئے ۔ پاکستان صدور اور وزرائے اعظم بھی افغانستان کے دورے کرتے رہے ۔ مشترکہ کمیشن بھی بنتے اور بگڑتے رہے ۔ مشترکہ جرگہ بھی منعقد اور بے نتیجہ ثابت ہوا ۔ وہ گاہے بگاہے پاکستان کے خلاف شدید الزامات عائد کرتے رہے اور بعض اوقات تو افغانستان کے مسائل کا بنیادی ذمہ دار بھی پاکستان کو قرار دیتے رہے۔ اپنے الوداعی خطاب میں بھی انہوں نے امن کی بحالی کے حوالے سے اپنی ناکامی کے لئے امریکہ اور پاکستان کو موردالزام ٹھہرایا دوسری طرف افغانستان کے اندر بعض حلقوں کی طرف سے حامد کرزئی کو الزام دیا جاتا رہا کہ وہ پاکستان کی طرف جھکائو رکھتے ہیں ۔ بعض حلقے تو انہیں پاکستان کا ایجنٹ بھی قرار دیتے رہے ۔کچھ عرصہ قبل جب پاکستان اور امریکہ کا تنائو سامنے آیا تو حامد کرزئی امریکہ کے خلاف پاکستان کے ساتھ کھڑے ہو گئے ۔ اس کشیدگی کے دور میں جبکہ ایک روز قبل امریکی وزیرخارجہ ہیلری کلنٹن کابل کا دورہ کر کے لوٹی تھیں، حامد کرزئی نے جیو کے ساتھ انٹرویو میں کہا کہ اگر پاکستان اور امریکہ کی جنگ ہوئی تو وہ پاکستان کا ساتھ دیں گے ۔

افغانستان کے نئے صدر اشرف غنی احمد زئی پہلی مرتبہ افغان صدر بنے ہیں لیکن ان کا نام افغانوں کے لئےیاافغان سیاست سے دلچسپی رکھنے والوں کیلئے نیا نہیں۔ وہ ایک پڑھے لکھے اور اعلیٰ تعلیم یافتہ انسان ہیں۔ امریکی یونیورسٹی میں پڑھاتے رہے۔ کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔ عالمی اور علاقائی سیاست پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ حامد کرزئی حکومت کے ابتدائی دنوں میں وہ افغانستان کے وزیر خزانہ بنے اور افغان معیشت کے لئے معاشی اداروں کے قیام جیسے اقدامات کا سہرا ان کے سر پر ہے۔ بعدازاں وہ کابل یونیورسٹی کے وائس چانسلر مقرر ہوئے اور گزشتہ صدارتی انتخابات میں وہ حامد کرزئی کے مقابلے میں آئے لیکن جیت تو کیا دوسری پوزیشن بھی حاصل نہ کر سکے ۔ اب کے بار انہوں نے لمبی تیاری کی تھی اور درپردہ انہیں حامد کرزئی کی حمایت بھی حاصل تھی ۔ ماضی میں ان کے خیالات پاکستان کے بارے میں زیادہ دوستانہ نہیں تھے اور بعض پاکستانی حلقے اس ماضی کی بنیاد پر ان کے صدر بننے کو پاکستان کے لئے اچھا شگون قرار نہیں دے رہے ہیں لیکن میری معلومات کے مطابق گزشتہ چند سالوں کے دوران پاکستان کے متعلقہ حلقوں کے ساتھ ان کے تعلقات نہایت خوشگوار ہو گئے ہیں ۔ نہ صرف یہ کہ متعلقہ حلقے ان کے صدر بننے سے پریشان نہیں ہیں بلکہ ان کے انتخاب کو اچھی نظر سے دیکھتے ہیں ۔ پاکستانی پالیسی سازوں کا خیال ہے کہ اشرف غنی کی سوچ اور پالیسیوں کی سمت معلوم رہے گی، اسی لئے حامد کرزئی کے برعکس ان کے ساتھ تعلقات اور معاملات کو آگے بڑھانا آسان ہو گا۔ سوچ اور اپروچ کی یہ تبدیلی پاکستان میں ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کے بارے میں واقع ہوئی ہے۔ گزشتہ چند سالوں میں پاکستانی حکام نے شمال اور جنوب کی تفریق ختم کرکے شمال کے جن لیڈروں کے ساتھ تعلقات بہتر بنائے ہیں، ان میں ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ سرفہرست ہیں۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ

 

Comment on this post