خطبہ حج اور پاکستان کا چہرہ

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ

خطبہ حج اور پاکستان کا چہرہ

دنیا بھر کے کروڑوں فر زندان اسلام کی طرح پاکستان میں بھی خطبہ حج ذوق و شوق سے سنا گیا۔ اس خطبے کی حیثیت محض رسمی نہیں، رسول اکرم ﷺ کے آخری خطبہ حج کے حوالے سے اس کی اہمیت اور فضیلت زمان و مکان کی حدود قیود سے ماورا ہے۔
امام صاحب کے الفاظ ہیں:

انتہا پسند اسلام کے دشمن ہیں۔

قتل گناہ کبیرہ ہے۔خارجیوںنے فساد برپا کر دیا۔

بے گناہوں کے قاتل دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔

مسلم ممالک میں چلنے والی بعض تحریکیں انسانیت دشمن ہیں۔

عدل اور احسان ہی سے مسلم امہ کو مسائل سے نکالا جا سکتا ہے۔

عالم اسلام اپنی سیاسی اور فوجی قوت کو اکٹھا کرے۔

مسلم حکمران اسلام دشمنوں سے آہنی ہاتھوں سے نبٹیں۔

داعش والے ناحق غلط کام کرتے ہیں

حکمران یہ نہ بھولیں کہ وہ اللہ کے سامنے جوابدہ ہیں۔

نوائے وقت کے مبسوط اداریئے کی موجودگی میں اس خطبہ حج پر مزید تبصرہ و تشریح ممکن نہیں لیکن میں اس کے ان حصوں کی طرف توجہ دلانے کی کوشش کروں گا جن کا تعلق ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگی سے ہے۔ مجھے حضور اکرم ﷺ کے الفاظ یاد آ رہے ہیں جو اسی جگہ پر ادا کئے گئے کہ عربی کو عجمی پر ، کالے کو گورے پر، آقا کو غلام پر کوئی فضیلت حاصل نہیں، سبحان اللہ! میرے نبی نے وی وی پی آئی کلچر کے خلاف کتنے سو برس پہلے فتوی ارشاد فرما دیا۔ ہم صدیوں تک ہٹو بچو کی صدائیں سنتے رہے ہیں مگر وہ کہاں گئے جن کے لئے یہ منادی کی جاتی تھی، رہے نام اللہ کا، آج صرف ظل الہی کے لئے ہی ہٹو بچو کے ہوٹر نہیں بجتے، ایک ایک حکومتی اہل کار اپنی جگہ پر ظل الہی بنا بیٹھاہے، جس کے پاس دولت ہے، طاقت ہے، دھونس ہے۔ وہ اپنے آپ کو کسی عالم بالا کا فرد سمجھتا ہے اور اسے خدا کی مخلوق حقیر نظر آتی ہے، خدائی کے یہ چھوٹے چھوٹے دعویدار تھانے میں منشی ہیں یا مال خانے میں پٹواری یا کسی اسمبلی کے رکن یا کسی کابینہ میں وزیر یا کسی صوبے کے گورنر یا وزیر اعلی یا ملک کے وزیر اعظم، ان کی اکڑفوں دیکھی نہیں جاتی، کسی کی گردن میں سریا ہے، کوئی اپنی ناک کے نیچے دیکھنا پسند نہیں کرتا، کسی کو بھوکی ننگی مخلوق سے گھن آتی ہے۔

یہ رویہ اصل میں انسانوں کے درمیان تفریق کا باعث ہے اور اسی رویئے کی ایک شکل یہ ہے کہ کچھ لوگ اپنے آپ کو خدا کے مقرب خاص اور دوسروں کو جہنمی خیال کرتے ہیں، کفر کے فتووںکا بازار گرم ہے، کوئی گروہ اٹھتا ہے اور وہ حکومت، پارلیمنٹ، عدالت اور پورے ملکی نظام کیخلاف بغاوت کر دیتا ہے۔ کوئی سول نافرمانی کی کال دے دیتا ہے کوئی گردنیں مارنے کا حکم دیتا ہے، کوئی چاہتا ہے کہ ایک منتخب حکومت ، پارلیمنٹ اور پورا نظام تہس نہس کر دیا جائے۔ کاش! یہ لوگ خطبہ حج کے ارشادات پر غور کر سکیں اور اسلامی ممالک کے حکمرانوں کو بھی خدا توفیق دے کہ وہ عدل اور احسان کا نظام نافذ کریں، مساوات جس کا نیا نام میرٹ رکھ دیا گیا ہے، اسے لاگو کریں۔ حق، صرف حقدار کو ملے تو ظلم کی بنیاد ہی ختم ہو جائے گی اور معاشرے میں ترقی کے یکساں مواقع کو فروغ حاصل ہو گا۔

ہم پاکستان کے تناظر میں بات کریں تو پہلا نکتہ یہ ذہن نشین رہنا چاہئے کہ یہ مملکت خداداد ہے، اسے اسلامی نظام کی تجربہ گاہ اور مثال بننا تھا۔ یہاں جمہور کی حکمرانی کا حق تسلیم کیا جانا چاہئے تھا، خدا خدا کر کے ہم اس سمت میں گامزن ہیں، پچھلی دو حکومتیں انتخابی مینڈیٹ کے تحت وجود میں آئی ہیں اور اب یہاں کوئی دوسری طاقت شب خوں مارنے کی سوچ نہیں رکھتی، فوج نے جنرل کیانی کے دور سے عہد کر رکھا ہے کہ وہ جمہوریت کو چلنے دے گی، اب تک فوج اس عہد پر قائم ہے، مگر اب خود سیاسی قوتیں ہی جمہوریت کی گاڑی کو پٹری سے اتارنا چاہتی ہیں، تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک نے ایک منتخب حکومت اور اس کے تحت قائم نظام کو تلپٹ کرنے کی بے انتہا کوشش کر دیکھی ، ابھی تک اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اگر جمہوری قوتیں باہم متحد رہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ سسٹم کو کوئی سنگین خطرہ درپیش ہو۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ گورننس کی خرابیاں ضرور ہیں اور سب کو احساس ہے کہ یہ خرابیاں دور ہونی چاہئیں لیکن اس کا یہ طریقہ نہیں کہ حکومت ہی کا گلا گھونٹ دیا جائے۔ ہمارے الیکشن سسٹم میں خرابیاں، ہمارے دفتری سسٹم میں خرابیاں، ہمارے عدالتی سسٹم میں خرابیاں، ہمارے تعلیمی سسٹم میں خرابیاں ہی خرابیاں ہیں، ہماری معیشت دگر گوں ہے، ہمارا انرجی سیکٹر اصلاحات کا متقاضی ہے مگر حکومت وقت کو جو محدود وسائل میسر ہیں، ان کے اندر اصلاح احوال کی کوششیں جاری ہیں، حکومت یا تو ہاتھ پہ ہاتھ دھرے ٔبیٹھی ہو،تو پھر اس پر اعتراضات جائز ہیں مگر سامنے کی بات ہے کہ اس حکومت کو ابھی ایک سال ہو اہے ا ور ایک سال میں آپ اس سے پوری پانچ سال کی ٹرم کی کارگزاری کا تقاضا نہیں کر سکتے۔

یہی حال انتہا پسندی اور دہشت گردی کا ہے، یہ لوگ اپنے علاوہ کسی کو مسلمان ہی نہیں مانتے۔ وہ بلا تفریق ہر پاکستانی کا خون بہا رہے ہیں۔ وہ پاک فوج کی، قیدیوں کی گردنیں اڑاتے ہیں اور ان کے سروں سے فٹ بال کھیلتے ہیں۔انہوں نے مسجدوں، مدرسوں، مزاروں، بازاروں، چرچوں کو بارودی بموں کا نشانہ بنایا، سرکاری اور دفاعی تنصیبات اور ہیڈ کوارٹرز تک کو تباہ کرنے کی کوشش کی، ان کے مذموم عزائم یہی تھے کہ وہ ملک کے دفاع کو مفلوج کر کے رکھ دیں اور دنیا کے ان شکوک و شبھات کو تقویت پہنچائیں کہ پاکستان کا ایٹمی اسلحہ غیر محفوظ ہاتھوں میں ہے، امریکی اور نیٹو افواج ہمارے پڑوس افغانستان میں پنجے جمائے بیٹھی ہیں اور وہ اس لمحے کی منتظر ہیں جب وہ کسی بہانے پاکستان پر چڑھ دوڑیں جیسے وہ عراق اور افغانستان کے خلاف جارحیت کا ارتکاب کر چکی ہیں۔

خطبہ حج کا ایک نکتہ یہ ہے کہ مسلم حکمرانوں کو باغی تحریک اور انتہا پسندوں سے سختی سے نبٹنا چا ہئے، پاکستان نے بحمدا للہ ضرب عضب کا وار کیا ور بھرپور طریقے سے کیا، اب دہشت گردوں کو کوئی جائے اماں نہیں ملتی۔ لے دے کے اب سیاسی انتہا پسندوں کے خطرات باقی ہیں، وہ لوگ جو جمہوریت کو نہیں مانتے، صرف دھونس چلانا چاہتے ہین یا وہ عناصر جو قومی دھارے میں شامل ہو کر دہشت گردی کے خاتمے کی کوششوں کا ساتھ دینے کو تیار نہیں، یاوہ پاک فوج کے شہیدوں کو شہید ماننے کو تیار نہیں۔ اور ان کی ہمدردیاں کھلے عام انتہا پسندوں اور دہشت گردوں کے ساتھ ہیں۔

ہمیں خطبہ حج کی روشنی میں یک جہتی کا ثبوت دینا ہو گا،حکومت کو ہر ممکن سختی کا سلوک کرنا ہو گا اور ساتھ ہی ساتھ عوام کو مطمئن رکھنے کے لئے اسلامی فلاحی جمہوری پارلیمانی نظام جاری وساری کرنا ہو گا تا کہ عوام کے مصائب کا خاتمہ ہو اور وہ کسی انتہا پسند کے ورغلانے میں نہ آئیں۔ یہی ہماری راہ نجات ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’نوائے وقت

 

Comment on this post