کیا امریکی چوہدراہٹ قصہ پارینہ بن چکی

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ

کیا امریکی چوہدراہٹ قصہ پارینہ بن چکی
ایک وسیع نوعیت کی لیکن بے نتیجہ بحث جاری ہے، جو زیادہ تر مغرب میں ہو رہی ہے، کہ امریکہ کا ایک ایسی دنیا میںکیا مقام ہے جو عالمی طاقت کے انتشار اور کثیر القطبیت کے ظہور سے بدل چکی ہے۔ اس حوالے سے کافی متضاد نقطہ نظر پائے جاتے ہیں کہ طاقت کی یہ تقسیم امریکہ کی عالمی بالادستی کیلئے کیا معنی رکھتی ہے اور کہیں اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ امریکہ کی حکمرانی کا دور اب قصہ پارینہ بن چکا ہے۔ متعدد مغربی تجزیہ کاروں بشمول قدامت پسندوں اور لبرلز نے ایک عالمی اجارہ دار یا پولیس والے سے محروم دنیا پر افسوس کا اظہار کیا ہے، اور اس کے نتیجے میں افراتفری پھیلنے کی پیش گوئی کی ہے۔ جب کہ دیگر نے غیر مرتکز طاقت کے دور کی آمد اور اس سے ملنے والے موقع کا خیر مقدم کیا ہے۔ یہ دور زیادہ جمہوری عالمی حکمرانی کا موقع فراہم کرتا ہے جو کثیرالطرفہ اور اصولوں پر مبنی عوامل پر منحصر ہو گی، اگرچہ تاحال یہ حقیقت کی بجائے ایک خواب ہی ہے۔ بدلتی ہوئی عالمی حرکیات کا نتیجہ ایک زیادہ پیچیدہ بین الاقوامی منظر نامے کی صورت میں برآمد ہوا ہےجہاں طاقت کے استعمال پر بڑھتی ہوئی قدغنیں عائد ہیں۔ صدر اوباما کے دائیں بازو کے ناقدین کہتے ہیں کہ صدر کی جانب سے قیادت کرنے میں ناکامی اور فوجی قوت کو استعمال کرنے میں ہچکچاہٹ امریکی طاقت کے زوال کی وجہ ہے۔ اس نوعیت کی زیادہ تر تنقید ڈرامائی طور پر بدل چکی دنیا میں امریکی طاقت کی حدود کو تسلیم نہ کرنے کی ہٹ دھرمی ظاہر کرتی ہے۔
اوباما 2010ء کی اپنی قومی سلامتی حکمت عملی میں ان حدود کو تسلیم کر چکے ہیں جس میں امریکی مقاصد کے فروغ کیلئے دیگر ممالک کے ساتھ اتحاد بنانے پر زور دیا گیا تھا۔ ہارڈ پاور (طاقت کے ذریعے کسی پر اثر انداز ہونا) کے استعمال میں محتاط روش اختیار کرنے پر اوباما کو امریکی ناقدین کی جانب سے مسلسل تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس کے سبب حال ہی میں انہیں یہ بیان دینا پڑا کہ انہیں ان شعبوں میں محتاط رویہ اختیار کرنے پر معافیاں مانگنے کی کوئی ضرورت نہیں، چاہے اس کے مثبت نتائج نہ برآمد ہوں۔ علاوہ ازیں، دنیا میں امریکہ کے کردار پر خارجہ پالیسی بحث جاری ہے۔حال میں شائع ہونے والی ایک کتاب قدرے مختلف اور اشتعال انگیز زاوئیے سے اس بحث میں کود پڑی ہے۔ دو دانشوروں رچرڈ نیڈ لیبو (کنگز کالج) اور سائمن ریچ (رٹگرز یونی ورسٹی) نے گڈ بائے ہیجمنی لکھی ہے جو مطالعہ کیلئے ایک بصیرت افروز کتاب ہے۔ کتاب میں تسلط کے بنیادی تصور پر سوالات اٹھائے گئے ہیں اور بین الاقوامی تعلقات کے زیادہ تر امریکی اسکالروں اور خارجہ پالیسی مصنفین پر کاٹ دار تنقید کی گئی ہے جنہوں نے امریکی تسلط کے منصوبے اور اس کے حق قیادت کو آگے بڑھانے کیلئے اس تصور کو پروان چڑھایا۔ مصنفین نے اسے امریکی استثنائیت کے تصورات میں مضمر گردانا، لیکن دور حاضر میں اس آرزو کو غیر حقیقت پسندانہ اور ضرر رساں بتلایا۔
انہوں نے اس موقف کا رد کیا کہ امریکی تسلط طویل عرصے سے قائم ہے اور دنیا کے لئے بھی اتنا ہی فائدے مند ہے جتنا امریکہ کیلئے ہے۔ اس کی بجائے انہوں نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ یہ عملی طور پر ایک جھوٹا دعویٰ ہے۔ امریکہ کا کبھی دنیا پر تسلط نہیں رہا سوائے ایک مختصر سے عرصے کے اور وہ بھی جزوی طور پر ہی تھا۔ مزید برآں اس نے خصوصاً اپنی فوجی مداخلتوں میں اکثر اس طرح کام کیا کہ عالمی استحکام کو برقرار رکھنے کی بجائے اسے خراب کیا۔
کتاب کا مرکزی استدلال نہایت سادہ اور دلنشیں ہے۔ عالمی استحکام کیلئے ایک اجارہ دار کی ضرورت نہیں کیونکہ اس سے منسلک تین بنیادی افعال کا بین الاقوامی برادری میں وسیع پیمانے پر اشتراک ہورہا ہے اور مختلف ریاستیں بسا اوقات غیر ریاستی عناصر کے ساتھ مل جل کر یہ افعال سرانجام دے رہی ہیں۔ پہلے عمل کو ایجنڈا مرتب کرنے کے نام سے پہچانا جاتا ہے، یعنی سماجی طاقت کی ایک ایسی قسم جو ترغیب پر منحصر ہوتی ہے اور جو قیادت کی ایک کلیدی خاصیت ہے۔
دوسرا کام معاشی تحویل داری ہے۔ اس میں شامل ہے معاشی نظم و ضبط کو مضبوط کرنا خصوصا بحران کے وقتوں میں نظم قائم رکھنا، مالی بحرانوں سے نکالنے والے ادارے کا کردار ادا کرنا اور عالمی مالیاتی نظام کو مستحکم کرنا۔ تیسرا کام عالمی اقدامات کی کفالت کا ہے۔ بین الاقوامی قوانین کا نفاذ اور تجارت و سرمایہ کاری کیلئےتحفظ اور مدد کی فراہمی اس کا حصہ ہیں۔مصنفین ایک تصور پیش کرتے ہیں کہ بین الاقوامی نظام کو سنبھالنے کیلئے کسی اجارہ دار کی ضرورت نہیں کیونکہ نظام میں کسی ایک کے بغیر کامیابی سے کام کرنے کی صلاحیت موجود ہے جیسے کہ ایشیا، یورپ اور امریکہ میں اداکاروں کے نیٹ ورکس اپنی طاقت اور اثر و رسوخ کو بڑھانے کیلئے یہ تین بنیادی کردار ادا کررہے ہیں جب کہ ساتھ ہی پالیسی تعاون کومربوط کرنے کی ضرورت کا اعتراف بھی کررہے ہیں۔کتاب کا موضوع طاقت اور اثر و رسوخ کے درمیان کھنچی ہوئی لکیر پر مبنی ہے۔ مصنفین نے طاقت کو مادی صلاحیتوں کے محدود مفہوم کے طور پر مسترد کردیا ہے کیونکہ یہ طاقت کا صرف ایک جز ہے۔ مزید برآں طاقت ہمیشہ اثر و رسوخ میں نہیں ڈھلتی۔ وہ مثال دیتے ہیں کہ امریکہ بہت زیادہ طاقت ور رہا لیکن محض کبھی کبھار ہی اثر و رسوخ کا حامل رہا ۔
مصنفین کے مطابق امریکی تسلط 20 ویں صدی کے وسط میں مختصر سے عرصے کیلئے قائم ہوا تھا لیکن 1960 کی دہائی سے وہ اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے۔ جیسے جیسے دیگر اقوام معاشی طاقت اور سیاسی استحکام حاصل کرتی گئیں امریکی تسلط کا خاتمہ ہوتا گیا۔ اگرچہ امریکہ کے پاس غیر معمولی فوجی و معاشی طاقت تھی لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ دوسرے ممالک پر اپنی مرضی چلا سکتا تھا۔ حتیٰ کہ 1990 کے اوائلی عشرے میں اپنے یک قطبی لمحے میں بھی امریکہ بین الاقوامی استحکام برقرار رکھنے میں ناکام رہا جو ایک اجارہ دار کے کرنے کا کام ہوتا ہے۔بعد کے امریکی روئیے نے طاقت اور اثر و رسوخ کے درمیان فرق کو مزید واضح کردیا۔ کتاب بتاتی ہے کہ عراق اور افغانستان میں امریکی مداخلتوں نے اس کی حیثیت کو مزید خراب کیا جس سے پتہ چلتا ہے کہ ضروری نہیں کہ طاقت ہمیشہ اثر و رسوخ بھی مہیا کرے۔ دونوں معاملات میں امریکی صلاحیت ناقص رہی، اس کے تذویراتی مقاصد ادھورے رہے اور اس کی حیثیت دوستوں و دشمنوں دونوں میں یکساں طور پر کم ہوگئی۔ اس سے پتہ چلا کہ سیکیورٹی اور بالادستی کی تلاش میں امریکہ نے دونوں کو ہی کمزور کر دیا۔
مصنفین کے مطابق اثر و رسوخ ڈالنے میں یک طرفہ کارروائیوں،دھمکیوں،امداددینےکی رشوتوں اور دباؤ کے ذریعے طاقت کے استعمال سے زیادہ جائز ترغیب اور اجتماعی اقدام موثر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ امریکی خارجہ پالیسی، جو تسلط اور ہارڈ پاور پر انحصار کے مطابق بنائی جاتی ہے، کا نتیجہ درحقیقت امریکہ کے گرتے ہوئے اثر و رسوخ کی صورت میں برآمد ہوا۔ نیز یہ روش سرد جنگ کے بعد کی حقیقتوں سے بھی مطابقت نہیں رکھتی۔ایجنڈا ترتیب دینے، معاشی تحویل داری اور کفالت کے کام کس طرح سرانجام دئیے جاتے ہیں، اس کی تفصیل بتاتے ہوئے مصنفین نے دنیا میں آنے والی ایک تبدیلی کی وضاحت کی جس میں متعدد ممالک اور اداکار مختلف طرح کا اثر و رسوخ مرتب کررہے ہیں۔ ایجنڈا ترتیب دینے میں یورپی ممالک کو موثر قرار دیا جاتا ہے۔ اگرچہ کئی امریکی تجزیہ کار فوجی طاقت پر زیادہ زور نہ دینے پر اکثر و بیشتر یورپی کمزوری کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں تاہم تاحال یورپ والوں نے اپنے تنوع کے باوجود خارجہ پالیسی میں ایک متبادل طرز کو ترقی دی ہے جس میں دھونس دھمکی یا طاقت کے استعمال کی بجائے مفاہمت، اتفاق رائے اور سفارت کاری پر زور دیا جاتا ہے۔ لیکن مصنفین نشاندہی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ برطانوی کنزر ویٹیو پارٹی اس سے بالکل مختلف ہے۔
مصنفین ایجنڈا ترتیب دینے میں یورپ کی کامیابی کی دو مثالیں بیان کرتے ہیں۔ پہلی بارودی سرنگوں پر پابندی لگانے کے معاہدے کے لئے چلائی جانے والی مہم ہے جس کی امریکہ نے مخالفت کی تھی۔ دوسری مثال یہ دی کہ کس طرح عالمگیریت کیلئے ایک زیادہ باضابطہ، کثیر طرفہ اور اصولوں پر مبنی یورپ کا حمایت یافتہ ڈھانچہ ایک لبرل، مارکیٹ پر مبنی اور ایڈہاک عالمگیریت کیلئے کی جانے والی امریکی کوششوں پر غالب آگیا۔معاشی تحویل داری پر کی گئی بحث خاص طور پر بصیرت افروز ہے۔ کتاب میں دلیل دی گئی کہ چین نے ایک کافی اہم نگراں کردار ادا کرتے ہوئے بین الاقوامی معاشی انتظام کی کلیدی ذمہ داریوں کو سنبھال لیا ۔ اس نے یہ کام ان عالمی مالیاتی عدم توازنوں سے نمٹ کر سرانجام دیا جن میں امریکہ اور یورپ کے سرکاری قرضوں کے باعث بے تحاشا اضافہ ہوگیا تھا۔ اس نے مالی بحرانوں سے نکالنے والے آخری ادارے کا کردار ادا کرتے ہوئے دیوالیہ ہونے والے امریکی بینکوں میں سرمایہ داخل کیا، کرنسی تبادلے کو مستحکم بنایا، بیرون ملک بھاری سرمایہ کاریاں کیں اور ترقی پذیر ممالک کے ساتھ امداد و تجارت کو فروغ دیا۔ یقیناً چین نے یہ سب کچھ اپنے مفادات کے حصول کیلئے کیا ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں اس کی منڈیوں اور خام مال تک رسائی بڑھ گئی جس کے ساتھ ساتھ اس کے اثر و رسوخ میں بھی اضافہ ہوا۔مصنفین نے کہا کہ واشنگٹن اور بیجنگ میں یہی فرق ہے۔ چین نے عالمی نظام کی تشکیل نو کی کوشش نہیں کی جس طرح امریکہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد کی تھی۔
بلکہ اس کی بجائے اس نے موجودہ نظام کو ہی بچانے کی کوشش کی جس طرح اس سے پہلے جرمنی اور جاپان نے کی تھی۔ اس سے مصنفین نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ امریکہ اور چین کے مقاصد باہم موافق ہیں کیونکہ بیجنگ ایک قائدانہ طاقت بننے میں دلچسپی نہیں رکھتا اور گلوبل آرڈر کو ختم کرنے کی بجائے اسے برقرار رکھنا چاہتا ہے۔مصنفین نے امریکہ کو کیا تجاویز دیں؟ انہوں نے کہا کہ امریکہ کو اپنے بعد از اجارا دارانہ کردار پر ازسرنو غور کرنا ہوگا اور کفالت کے کردار کی طرف خود کو منتقل کرنا ہوگا جس کے ذریعے امریکی مفادات کی تکمیل زیادہ بہتر طریقے سے ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ تسلط خون اور خزانے کی مد میں کافی مہنگا ثابت ہوتا ہے جب کہ اسپانسر شپ (کفالت) نسبتاً سستی اور زیادہ موثر ہوتی ہے۔ تسلط قانونی جواز کو ختم کردیتا ہے جب کہ کفالت اسے بڑھاتی ہے۔مصنفین کے مطابق بعض اوقات اوباما نے کفالت کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کی تھی جس کی مثال لیبیا ہے جہاں واشنگٹن نے ایک اتحاد کے ذریعے کام کیا ۔ لیکن انہوں نے زور دیا کہ جب تک امریکی تسلط کے حق میں دلائل دینے والی اور اس کی جنگ پرستی کو درست قرار دینے والی امریکی پالیسی ساز برادری رہنما پالیسی کے طور پر تسلط کو خیرباد نہیں کہہ دیتی، امریکہ اپنی عالمی حیثیت کو بحال کرنے کے قابل نہیں ہوسکے گا۔
بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ

Comment on this post