بین الاقوامی طاقتیں اور پاکستان

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ

بین الاقوامی طاقتیں اور پاکستان

پاکستان معرض وجود میں آنے کے بعد پہلے روز سے ہی خطے کاا ہم ترین ملک رہا ہے۔ ایشیاء کے بیشتر ممالک جبکہ بھارت، چین، ایران کی سکیورٹی اور ترقی بھی پاکستان کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ دنیا پر یہ بات واضح ہے کہ پاکستان کی سلامتی خطے کی سلامتی ہے۔ پاکستان میں عدم تحفظ خطے کیلئے کسی طرح بہتر نہیں۔ حالیہ چند برسوں میں مشرق وسطیٰ میں انتہا پسندی کی لہر جو آئی ہے اس تمام صورتحال سے پاکستان الگ نہیں رہ سکتا۔ مشرق وسطیٰ کے ممالک میں یہ تشویش پائی جا رہی ہے کہ اس خطے میں جو تشدد کی نئی لہر چل رہی ہے اس کا مقصد وہاں فرقہ ورانہ عدم استحکام پیدا کرنا ہے جبکہ دیگر عرب ممالک اسے اپنے خلاف ایک بڑی سازش تصور کر رہے ہیں اور انہیں کہیں نہ کہیں یہ محسوس ہو رہا ہے کہ اس تمام صورتحال کے پیچھے امریکہ، اسرائیل اور ان کے اتحادی ممالک ہیں۔ جن کی نظر مشرق وسطیٰ کے وسائل پر ہے۔ اس خطے کے ممالک امریکہ اور ایران کے تعلقات پر بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اس تمام صورتحال کے پیش نظر پاکستان کی اہمیت ان کے نزدیک بڑھ گئی ہے۔ ان میں سے بیشتر ممالک اپنی سکیورٹی کے حوالے سے پاکستان سے نہ صرف مشاورت بلکہ اس کے تجربات سے فائدہ اٹھانے کیلئے عملی اقدامات کرنے لگے۔ بحرین کے امیر کا دورہ پاکستان کی بڑی وجہ ان کے ملک کی سکیورٹی کے معاملات کے حوالے سے نہ صرف پاکستان کی تبادلہ خیال کرنا تھا بلکہ اس میں پاکستان سے مدد کی بھی درخواست کی گئی۔

یہاں یہ بات بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ نواز شریف جلا وطنی ختم کر کے جب پاکستان واپس آنے والے تھے تو شاہ عبداللہ نے ان سے ملاقات کے دوران واضح طور پر یہ کہا کہ کبھی امریکہ پر اعتبار نہ کرنا جو یقینا انہوں نے اپنے تجربات کی روشنی میں کہا ہو گا۔ایسی اطلاعات بھی آئیں کہ بحرین اپنے ہاں میں انسداد دہشت گردی فورس بھی بنا رہا ہے جس کے لئے وہ پاکستان سے تیکنیکی مدد لینے کا خواہاں ہے جبکہ انٹیلی جنس کے نیٹ ورک کے حوالے سے پاکستان کے تجربات سے فائدہ اٹھانے اور عملی مدد کا بھی طلبگار ہے۔ اسی طرح ایک اہم برادار اسلامی ملک جس کے پاکستان سے تعلقات ہمیشہ ایک جان دو قالب جیسے رہے ہیں اور اس نے ہمیشہ پاکستان کی ہر مشکل گھڑی میں نہ صرف حمایت کی ہے بلکہ بھرپور مدد بھی کی ہے جس کی ماضی میں بے شمار مثالیں ملتی ہیں۔ اپنے ملک میں دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان سے ان کے تجربات سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔ بالخصوص انٹیلی جنس کے نظام میں پاکستان سے بھرپور تعاون چاہتا ہے اس کے علاوہ اپنی سکیورٹی کے حوالے سے بھی پاکستان کی مدد کا خواہاں ہے اس تمام صورتحال سے پاکستان کیلئے ایک موقع بنتا جا رہا ہے کہ پاکستان نہ صرف عرب خطے کے سکیورٹی کے حوالے سے مسائل حل کرنے میں اپنا کردار ادا کرے اور اس کے بدلے عرب دنیا سے پاکستان کے مسائل حل کرنے کے لئے تعاون کرے۔ ہم اس کو ایسے بھی کہہ سکتے ہیں کہ عرب دنیا نے اپنی سکیورٹی کے حوالے سے امریکہ کے بعد پاکستان کو بھی اہمیت دینا شروع کر دی ہے۔

بحرین اپنی اینٹی ٹیرارزم فورس کے لئے افرادی قوت سمیت دیگر وسائل کے حصول کا بھی خواہشمند ہے۔اب سوال یہ ہے کہ پاکستان کی حکومت مستحکم طریقے سے چل رہی تھی عسکری و سول اداروں کے درمیان کوئی اختلا ف نہ تھا تو پھر اچانک ہمارے ملک میں بحرانی کیفیت کیسے پیدا ہو گئی اور گزشتہ دو سے تین ماہ میں ہماری حکومت اچانک کمزور کیوں ہو گئی یہ سوال میں نے اسٹیبلشمنٹ کے ایک اعلیٰ افسر سے کیا تو اس نے جواب میں کہا کہ دونوں شریف ایک پیچ پر ہیں جس پر کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے لیکن مغرب یہ کبھی نہیں چاہتا کہ پاکستان خصوصاً عرب اور بالعموم اسلامی دنیا میں اہم کردار ادا کرے جبکہ چین کی بڑھتی ہوئی اقتصادی طاقت بھی مغرب اور بھارت کے لئے انتہائی تشویش کا باعث ہے۔ کاشغر، گوادر راہداری منصوبہ بھارت کے لئے پریشانی کا باعث ہے کیونکہ اس کی تعمیر کے بعد ایک محتاط اندازے کے مطابق چین کے نقل و حمل کے اخراجات میں تقریبا 5 ہزار ڈالر فی کنٹینر کی کمی واقع ہو سکتی ہے جس سے چین کو درآمدات میں مزید فائدہ ہو گا جبکہ پاکستان کیلئے بھی یہ نہر سویز سے زیادہ مفید ثابت ہو گی ہم اس بات کو نظر انداز نہیں کر سکتے کہ پاکستان کے موجودہ عدم استحکام میں یہ محرکات کارفرما نہ ہوں۔ اب تھوڑی بات کرتے ہیں لندن پلان کے حوالے سے طاہرالقادری کینڈین شہریت کے حامل ہیں اور عمران خان طاہر القادری کے بارے میں ماضی میں کچھ اچھی رائے نہیں رکھتے تھے۔ ان کا طاہر القادری کے ساتھ ملاقاتیں کرنا اور ایک ساتھ چلنا سوالیہ نشان ہے۔ رواں سال کے آغاز سے اب تک میری عمران خان سے جتنی بھی ملاقاتیں ہوئیں وہ بہت پُر اعتماد تھے کہ سال کے آخر تک نئے الیکشن کا اعلان ہو جائے گا۔ جب ان سے یہ سوال کیا جاتا کہ یہ کیسے ممکن ہو گا تو وہ اس کے جواب میں مسکرا دیتے۔

2013ء کے عام انتخابات سے پہلے پاکستان تحریک انصاف کی قیادت اور جنرل پاشا کے درمیان رابطوں کی بات اب پوشیدہ نہیں رہی جبکہ چند روز قبل عمران خان ایک انٹرویو میں یہ بات کہہ چکے ہیں کہ ان کی زندگی میں جنرل پاشا سے صرف تین یا چار ملاقاتیں ہوئیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے ورکرز اور دوسرے درجے کی قیادت یہ بات نہیں سمجھ پار ہی تھی کہ پاکستان تحریک انصاف طاہر القادری کے ساتھ مل کر کیوں احتجاجی تحریک چلانا چاہتی ہے۔ اس کا جواب یا تو مل چکا ہے یا جلد ہی ملنے والا ہے۔ یہ بات بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ عمران خان کے واضح اہداف حکومت گرانا اور نئے انتخابات کے بعد حکومت حاصل کرنا تھا اور اگر کوئی بین الاقوامی ایجنڈا ہے یا تھا تو وہ اس سے لا علم ہو سکتے ہیں لیکن اگر لندن پلان میں کوئی ایسی پوشیدہ منصوبہ بندی تھی تو عمران خان کے علاوہ ان کے دیگر کسی مرکزی عہدیدار کو اس کا علم ضرور ہو گا۔

میرے اندازے کے مطابق کہانی ابھی باقی ہے اور حکومت اگر یہ سمجھ رہی ہے کہ بحران ٹل گیا ہے تو میں اس سے اتفاق نہیں کرتا۔ بحران کی شدت میں کمی ضرور واقع ہوئی ہے۔ اگر کوئی کہانی کا رہے وہ اس کہانی کے لئے مزید ایندھن اور مواد ضرور فراہم کر رہا ہو گا اور میں برادر انصار عباسی کی اس بات سے مکمل اتفاق کرتا ہوں کہ سینیٹ کے الیکشن سے قبل حکومت پر ایک بھرپور حملے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ تاہم اس میں ایک فرق نمایاں نظر آسکتا ہے کہ عمران خان اور طاہر القادری کزن تو ر ہیں گے لیکن دھرنا ہمسائیگی ختم ہو جائیگی اور دونوں اپنی الگ الگ تحریک چلائیں گے۔ عمران نے تو شہر شہر جلسے شروع کر دیئے ہیں جبکہ قادری صاحب بھی سیاست میں آنے اور انقلاب مارچ کو دھرنا تحریک میں بدلنے کا اعلان کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ اب شہر شہر دھرنا ہو گا۔ جس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ دھرنے والوں کے ستم کا شکار اسلام آباد آئندہ دنوں میں دوسرے شہروں کو بھی تکلیف میں دیکھے گا۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ 

 

Comment on this post