سیاست کے سینے میں دل؟

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ

سیاست کے سینے میں دل؟

آخر وہی ہوا جس کا دہشت گردوں کو ڈر تھا۔ وزیراعظم نواز شریف اور وزیر داخلہ کے درمیان چار ماہ کی "غلط فہمیوں"کے بعدصلح ہو گئی جس کا ثبوت دونوں کے درمیان ملاقات کی جاری کی گئی تصویر ہے۔ ےہ تصویر دیکھ کر دہشت گرد سوچ رہے ہوں گے کہ اب ہمارا کیا بنے گا۔ےہ دہشت گرد آئے روز وزیراعظم اور آرمی چیف کی ملاقاتوں کی تصاویر سے پہلے ہی پریشان تھے اور اس دوران وزیر داخلہ چودھری نثار جو قومی ایکشن پلان کے نگرانِ اعلیٰ بھی ہیں اُن کے ایک بار پھر فعال ہونے کی خبر آگئی۔ اب دہشت گردی کے واقعات میں کمی آئے گی اور دونوں کی ناراضگی کے عرصے میں جو ہوا وہ اللہ کی رضا۔ شُکر ہے حکومت اور وزیر داخلہ کے درمیان امن مذاکرات کا طالبان کے ساتھ مذاکرات والا حشر نہیں ہوا۔

عوام کے لئے ایک اور خوشخبری بھی ہے۔ خصوصاََ پنجاب کے عوام  جان کر خوش ہوں گے کہ اُن کے ہر دلعزیز وزیر قانون رانا ثنا ءاللہ نے ایک بار پھر اپنے عہدے کا حلف اُٹھا لیا ہے۔ ماڈل ٹاﺅن میں پولیس گردی کے باعث 14 افراد کے قتل پر اُن سمیت وزیر اعلیٰ شہباز شریف اور وزیراعظم نواز شریف کے خلاف قتل کی ایف آئی آر کو بہت پہلے ہی عدالتی حکم پر منسوخ کر دیا گیا تھا۔ جس کے بعد ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ کو مقتولین کے ورثاءنے مسترد کر دیا اور اب ایک دوسری مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے رانا ثناءاللہ کو بری الذمہ قرار دے کر رانا ثناءاللہ کو انکا بنیادی انسانی حق دلوا دیا یعنی وزارت قانون پنجاب۔ پنجاب کے عوام خوش قسمت ہیں کہ انہیں ایک کُل وقتی وزیر قانون مل گیا ہے۔

اتنی قسمت تو پاکستانی قوم کی نہیں کہ جس کے پاس کوئی کل وقتی وفاقی وزیر قانون بھی نہیں ، رانا ثناءاللہ کے دوبارہ وزیر قانون بننے کے بعد اب انشاءاللہ ماڈل ٹاﺅن کے اصلی قاتل بھی پکڑے جائیں گے۔ کم ازکم ےہ تو ثابت ہو گیا کہ رانا ثناءاللہ ماڈل ٹاﺅن کے مقتولین کے قاتل نہیں۔ اب اصل قاتلوں کی تلاش اور ان کو سزا دلوانے کی ذمہ داری تو پنجاب پولیس اور صوبے کے موجودہ وزیر داخلہ کرنل ریٹائرڈ شجاع خانزادہ کی ہے جن کی پولیس نے قاتلوں کے خلاف ثبوت اکٹھے کر کے انہیں سزائیں دلوانی ہیں۔ ایسے میں ےہ دلیل دینا کہ رانا ثناءاللہ کو سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے قاتلوں کی گرفتاری اور سزا تک دوبارہ وزیر بننے سے انکار کرنا چاہئے تھا، کتنا مناسب ہے۔ لوگ خواہ مخواہ سڑکوں پر ہونے والے قتل عام، چاہے پولیس کے ہاتھ ہی ہوا ہو، اس کا الزام حکومتوں اور وزیروں پر لگا دیتے ہیں۔ اب ایک وزیر لوگوں سے اس بات کے ووٹ تو نہیں لیتا کہ ان کی جان و مال کو تحفظ دیا جائے۔

ویسے بھی عوام کے ووٹ سے تو صرف رکن صوبائی اسمبلی ہی بنا جاتا ہے وزارت تو وزیر اعلیٰ کی دین ہوتی ہے اور اسی طرح وزارت اعلیٰ صوبائی اسمبلی کے اراکین عطا کرتے ہیں ،اس میں سانحہ ماڈل ٹاﺅن میںمارے جانے والے عام لوگوں کے ووٹ کی کیا اہمیت۔ جہاں تک عدالتی کمیشن کی مخفی رکھی جانے والی رپورٹ کا تعلق ہے تو ایسے کمیشنوں کے اراکین کو ان کا معاوضہ بروقت ادا کر دیا جاتا جس کے بعد اس رپورٹ کو عوام کے سامنے لانا ےا نہ لانا حکومت کا قانونی اختیار ہے۔ ایک عدالتی کمیشن یقین کسی وزیر کو اسکے عہدے سے ہٹا کر ملزم کے کٹہرے میں کھڑا نہیں کر سکتا۔تاہم سرکاری ملازمین پر مشتمل ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم ایک ملزم کو کٹہرے سے نکال کر وزارت کا قلمدان سنبھالنے کا سرٹیفیکیٹ ضرور جاری کر سکتی ہے۔

اس قانونی اور اخلاقی منطق کے پیروکار کو پنجاب کی وزارت قانون کا قلمدان نہ دیا جائے تو اور کون سا عہدہ مناسب ہو گا۔سرکاری ملازمین پر مشتمل اس مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کو رانا ثناءاللہ کو معصوم ثابت کرنے میں کامیابی پرسول اور فوجی اعزازات سے نوازا جانا چاہئےے۔ بیوقوف عوام ےہ سمجھتے رہے کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیمیں قاتلوں کی تلاش کے لئے بنائی جاتی ہیں۔ حالانکہ اتنی اعلیٰ تربیت ےافتہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیمیںہی کسی حکمران جماعت کے وزیر قانون کو معصوم ثابت کرنے جیسے مشکل اور خطرناک ترین کام انجام دے سکتی ہیں۔ اب جبکہ اتنا مشکل کام ہو ہی گیا ہے تو امید ہے کہ ےہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم اب سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے مقتولوں کے قاتلوں کو پکڑ کر انہیں عدالت سے سزا دلوانے کا معمولی کام بھی جلد ہی مکمل کر لے گی۔

رانا ثناءاللہ بھی بحیثیت وزیر قانون پنجاب اور ماڈل ٹاﺅن کے مقتولین کو انصاف دلوانے کے لئے زیادہ مﺅثر کردار ادا کر سکیں گے۔ ایسا کرنا ان کی قانونی اور اخلاقی ذمہ داری بھی ہے۔ویسے تو ماڈل ٹاﺅن سانحے کو روکنا بھی ان کی قانونی اور اخلاقی ذمہ داری تھی مگر افسوس کہ ان کا زیادہ وقت ےہ ثابت کرنے میں لگ گیا کہ ےہ قتل ان کی ہدایت پر نہیں ہوئے۔ اب صرف اتنا ثابت کرنا رہ گیا ہے کہ بطور وزیر اس سانحے میں ان سے کوئی مجرمانہ غفلت بھی نہیں ہوئی۔ اس کام کے لئے بھی وہ سرکاری ملازمین پر مشتمل ایک اور مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے سکتے ہیں۔ جہاں تک اخلاقی ذمہ داری کا تعلق ہے تو اس سے وہ پہلے دن سے انکاری ہیں شاید اسی لئے وزیر اعلیٰ کو انہیں عہدے سے ہٹانا پڑا تھا۔اب بھی اگر وہ اخلاقیات کی بحث میں پڑ جاتے تو پنجاب کی وزارتِ قانون کا قلمدان خالی ہی رہتا۔ آخر جو قانون انہوں نے پڑھا ہے وہ کسی اور نے کہاں پڑھا ہوگا۔

انکی غیر حاضری میں طویل عرصے سے رُکی ہوئی قانون سازی بھی دوبارہ شروع ہو جائے گی۔ انگریزی میں وزارت کا حلف اٹھانے کا یہ فائدہ تو ہوتا ہے کہ انگریزی زبان سے نابلد ہمارا ضمیر مطمئن رہتا ہے۔

عوام کو ایک بار پھر میڈیا کے ذریعے ان مباحثوں میں الجھا کر اصل معاملات سے توجہ ہٹائی جا رہی ہے۔ کسی زمانے میں جب ریاستی پاکستان ٹیلی وژن کے خبرنامے پر وزیراعظم کی ویڈیو نشر نہیں ہوتی تھی تو سیاسی افواہیں گردش کرتی تھیں۔ میڈیا کی تصاویر کے ذریعے جمہوریت اور وزیراعظم کے وجود کو ثابت کرنے کی وہ روایت آج نجی میڈیا میں بشمول ٹی وی چینلوں کے قائم ہے۔ چاہے وہ وزیراعظم اور وزیر داخلہ کی صلح ہو، وزیر اعظم اور آرمی چیف کے ایک صفحہ پر ہونے کی بات ہو، ےا کسی وزیر کے معصوم ہونے سے متعلق مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ ہو، بیانات اور تصاویر کا تسلسل جمہوریت کے تسلسل سے جڑا ہے۔

ان تصویروں میں چہروں کے تاثرات فوٹوگرافروں کی موجودگی کے احساس کا پتا دیتے ہیںاور اس احساس کا بھی کہ کم از کم ان تصویروں میں ان کے چہرے مسکراتے نظر آئیں اور لوگ پریشان حکمرانوں کی پریشانی بھانپ کر خود بھی پریشان نہ ہو جائیں۔ ایسی دکھاوے کی حکومتی سرگرمیوں نے قانون، اخلاقیات اور ضمیر کی سیاست کو پس پشت ڈال دیا ہے۔ نہ تو ایک وزیر داخلہ چار مہینے تک نظر انداز کیے جانے پر پشیمان ہوتا ہے اور نہ ہی ایک صوبائی وزیر 14افراد کے پولیس کے ہاتھوں قتل پر اخلاقی دباﺅ محسوس کرتا ہے۔رانا ثناءاللہ کی ماڈل ٹاﺅن کے سانحے میں قانونی و اخلاقی ذمہ داری یا غیر ذمہ داری اور سیاست کے سینے میں دل کا ہونا دونوں ہی ثابت نہیں ہو سکے۔

 

بہ شکریہ روزنامہ نوائے وقت

Comment on this post