روہنگیا میں نسل کشی کی تصویر کشی

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ

روہنگیا میں نسل کشی کی تصویر کشی

اِن لوگوں نے چودہویں صدی میں اراکان میں اپنی پہلی حکومت قائم کی اور 1784ء تک یہ ایک آزاد ملک تھا۔پھر یوں ہوا کہ جیسے دنیا ہی بدل گئی، برمیوں نے اراکان پر قبضہ کرلیا اور اراکانی باشندوں پر ظلم و ستم کی طویل داستان رقم کرنے کاسلسلہ شروع ہوگیا۔ اراکان کے عوام کیلئے امتیازی قوانین بناکر اُن پر عرصہ حیات تنگ کردیا گیا،اُن کی جائیدادیں چھین لی گئیں، شہریتیں ختم کردی گئیں اور اراکانیوں کو اپنے ہی ملک میں بے ریاست اور بدیسی بناکر رکھ دیا گیا۔ آئینی اور قانونی ’’اصلاحات‘‘ کے نام پر ان لوگوں کو زندہ درگور کرنے کا سلسلہ شروع ہوا، اراکانی باشندوں سے زبردستی بیگار لیا جانے لگا،اُن کے دو سے زیادہ بچے پیدا کرنے پر پابندی لگادی گئی، پابندی کی خلاف ورزی پر زچہ بچہ کی زندگی خطرے میں ڈال دی جاتی، ریاست کو بتائے بغیر وہ ایک جگہ سے دوسری جگہ سفر بھی نہ کرسکتے تھے، یوں ان کا اپنا ملک ہی ان کیلئے قید خانہ بنادیا گیا، بہانے بہانے سے ہزاروں افراد کو تہہ تیغ کرکے ان کی سینکڑوں آبادیوں کو نذرآتش کر دیا گیا۔

اراکانیوں کی نسل کشی کا یہ سلسلہ کم و بیش ڈھائی سو سال سے جاری تھا، لیکن اس ظلم و ستم اور جبر کی اِس بدنما ، بدبودار اور داغدار واقعات سے بھری تاریخ کا سب سے المناک باب سال دو ہزار تیرہ کے بعد اُس وقت دوبارہ رقم ہونا شروع ہوا، جب کئی دہائیوں پر پھیلی فوجی حکومت کا خاتمہ ہوا اور مغرب نے برما پر لگی اقتصادی اور فوجی پابندیاں اٹھا لیں۔ کہا گیا کہ علاقے میں صرف نسلی فسادات ہورہے ہیں لیکن اگر یہ فسادات تھے بھی تو مکمل طور پر یکطرفہ تھے، جس میں قتل صرف اراکانی ہورہے تھے، گھر صرف اراکانیوں کے لٹ رہے تھے، زندہ صرف اراکانیوں کے بچوں کا جلایا جارہا تھا اور فسادات کی آڑ میں تاریخ کی بدترین نسل کشی ہورہی تھی اور اس نسل کشی میں نشانہ اراکانی باشندے بن رہے تھے۔ یہ اراکانی کون ہیں؟

یہ اراکانی روہنگیا مسلمان ہیں، جو کبھی اس علاقے کے مالک تھے، یہاں کے حکمران تھے، یہاں کے کھیتوں میں ہل جوت کر سونے جیسے خوشے اگانے والے کسان تھے، اور یہاں دریاؤں اور سمندروں میں کشتیاں چلا کر روزی کمانے والے ملاح تھے۔ عالمی میڈیا اور علاقائی طاقتوں نے روہنگیا مسلمانوں کے اس المیے کو کبھی اندرونی معاملہ قرار دے کر خاموشی اختیار کی تو کبھی علاقائی فسادات قرار دے کر پردہ پوشی کرنے کی کوشش کی، لیکن یہ فسادات نہیں تھے بلکہ واضح طور پر اراکانی باشندوں کی نسل کشی تھی۔ روہنگیا مسلمانوں کے بچوں کو چن چن کر قتل کیاجارہا تھا، اُن کے جوانوں کو پکر پکڑ کر زندہ جلایا جارہا تھا، اُن کی خواتین کی عصمتیں تار تار کرکے اُن کے نازک اعضا تیز دھار آلات سے کاٹے جارہے تھے اور اُن کے بزرگوں کی کھالیں کھینچ کر اُن میں بھس بھرا جارہا ہے۔ کیا ان واقعات کو فسادات کہا جاسکتا ہے؟ کیا عالمی برادری بتاسکتی ہے جوابا روہنگیا مسلمانوں نے کتنے ’’برمی بدھ بھکشوں‘‘ کے گلے کاٹے، کتنے بدھ بچوں کے سینے پھاڑے گئے، کتنی بدھ بھکشو خواتین کی عزتیں لٹیں؟ کتنے بدھ بھکشو خاندانوں کو اُن کے گھروں سمیت زندہ نذر آتش کیا گیا؟ یقینا اندھی بہری اور گونگی دنیا کے پاس اِن تلخ، کڑوے اور کسیلے سوالات کا کوئی جواب نہیں۔

دنیا کی سب سے مظلوم قوم پر اُن کی اپنی ہی زمین تنگ کی گئی تو انہوں نے اپنے علاقوں سے نکل کر دوسرے علاقوں میں ہجرت کرنے پر عافیت سمجھی ، لیکن ان روہنگیا مسلمانوں پر صرف ان کی اپنی اراکانی زمین ہی تنگ نہیں پڑی تھی بلکہ جب ان لوگوں نے سمندری راستے سے محفوظ علاقوں کی طرف نکلنا چاہا تو پہلے تو یہ لوگ قصاب نما انسانی سمگلروں کے ہاتھ چڑھے، جنہوں نے روہنگیا مسلمانوں کو لوٹ کر بے رحم سمندری موجوں کے حوالے کردیا یا پھر قتل کرکے ساحلوں پر دفن کردیا۔ صرف ملائشیا کے ساحلوں پر 139 اجتماعی قبریں دریافت ہوچکی ہیں، جہاں ہزاروں روہنگیا مسلمانوں کو دفن کیا گیا اور جو لوگ ’’خوش قسمتی‘‘ سے ’’محفوظ‘‘ علاقوں تک پہنچنے میں کامیاب بھی ہوگئے تو وہاں بنگلہ دیش اور دیگر ممالک نے انہیں قبول کرنے کے بجائے واپس سمندر میں دھکیل دیا۔ اب صورتحال یہ ہے کہ ہزاروں روہنگیا بچے، خواتین، جوان اور بوڑھے سمندر کی فرعونی موجوں کے رحم و کرم پر ہیں، بھوک پیاس سے بے حال ہیں، بھٹک رہے ہیں، بلک رہے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے ہی ملک میں بدھ مت کے پیروکاروں کے ظلم کا شکار ہوئے، انہوں نے اپنی آنکھوں سے اپنے آشیانوں کو بکھرتے دیکھا، اپنوں کو دم توڑتے دیکھا، جان بچا کر پناہ کی تلاش میں جب دوسرے ملکوں کا رخ کیاتو کسی نے انہیں قبول کرنے کی حامی نہ بھری، اب کھلے سمندر میں انسانی سمگلر اِن مسلمانوں کی بے بسی کو خرید رہے ہیں اور بھاری رقمیں بٹوری جارہی ہیں۔ دربدر روہنگیا مسلمانوں کے پاس جہاں رقم ختم ہوجائے تو یہ ’’گدھ‘‘ ان روہنگیا مسلمانوں کے بچوں اور عورتوں کی عصمتوں کو بھنبھوڑنا شروع کر دیتے ہیں اور پھر اُن کے خالی ’’پنجر‘‘ کھوکھلے برتنوں کی طرح سمندروں میں پھینک دیتے ہیں۔

قارئین کرام!! اتنا ظلم ہونے کے باوجود دنیا کی اس اہم ترین مسئلے پر خاموشی بدترین مجرمانہ فعل نہیں تو اور کیا ہے؟ افسوس کوئی این جی او اِس انسانی المیے پر بولتی ہے نہ ہی کسی سرکارکو اِس پر کچھ کہنے کی ہمت ہوتی ہے۔ مسلمانوں کا خون بہنے پر او آئی سی کا اسلام زندہ ہوتا ہے نہ ہی بلکتی انسانیت پر اقوام متحدہ کا ضمیر جھرجھری لیتا ہے،لٹی عصمتوں کی سربریدہ لاشوں پر عرب سے لبیک کی صدا آتی ہے نہ ہی نومولود بچوں کی قطار اندر قطار مسلی جانے والی کلیوں پر عجم کا سینہ شق ہوتا ہے۔ یہ تو سوشل میڈیا ہی ہے، جہاں دلوں کو دہلادینے والے ظلم کے مناظر موجود ہیں،یہ تصویریں خود بول رہی ہیں کہ روہنگیا کے مسلمانوں کے ساتھ کیا بیت رہی ہے؟ ورنہ کسی بڑے سے بڑے مصورِ غم کے موئے قلم میں بھی اتنی ہمت، قوت اور صلاحیت نہیں کہ وہ تاریخ کی اس بدترین نسل کشی کی تصویر کشی کرسکے، خود کالم نگار کو یہ مناظر دیکھنے کا یارا نہیں، ایسے میں روہنگیا کی اصل داستان کیسے لکھی جائے؟

بہ شکریہ روزنامہ نوائے وقت

Comment on this post