ارب پتی بننے کیلئے صرف شوق ہی کافی نہیں ہوتا

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ

ارب پتی بننے کیلئے صرف شوق ہی کافی نہیں ہوتا

چند روز پہلے وطن عزیزمیں پہلی مرتبہ ایک ایسی وکھری ٹائپ کی ’’دُرگھٹنا‘‘ ہوگئی تھی کہ پٹرولیم کی مصنوعات کی قیمتوں میں قابل ذکر حد تک بلکہ ناقابل یقین حد تک کمی کردی گئی تھی۔ اندیشہ تھا کہ اس مثبت کارروائی کی عمر کچھ زیادہ لمبی نہیں ہوگی، مہنگائی پیدا کرکے اپنی قومی آمدنی میں اضافہ کرنے سے بہتر کوئی ترکیب ہمارے حکمرانوں کے پاس نہیں ہے چنانچہ پٹرولیم مصنوعات میں یہ کمی واپس لے لی جائے گی اور مہنگائی کو بحال کردیا جائے گا۔ جیسے ہمارے بابائے جمہوریت نوابزادہ نصراللہ خان مرحوم کی بحالی ٔ جمہوریت کی تحریک کے پہلو ہی میں بحالی ٔ مارشل لا کی تحریک بھی دکھائی دیا کرتی تھی۔

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے اعلان کے چند روز بعد اس کمی کو واپس لینے اور مہنگائی بحال کرنے کی
’’دُرگھٹنا‘‘ سے ایک شعر یاد آتا ہے کہ

پارسائی کی جواں مرگی نہ پوچھ
توبہ کرنا تھی کہ بادل چھا گئے

جوش ملیح آبادی کاایک شعر ہمارے حکمرانوں کی خدمت ِ عوام اور غریب نوازی کے بارے میں بھی ہے کہ

توبہ کی پھر توبہ کی ہر بار توبہ توڑ دی
میری اس توبہ پہ توبہ توبہ توبہ کر اٹھی

ہمارے حکمرانوںسے ایک او ر دُرگھٹنا یعنی واردات یا کارکردگی بھی مثبت انداز میںہوئی ہے اور یہ کارکردگی ’’چین پاکستان اکنامکس کاریڈور‘‘ کے بارے میں کل جماعتی کانفرنس کا انعقاداور مفاہمتی انداز کا مثبت مشترکہ فیصلہ ہے کہ ملک کی تمام سیاسی جماعتیں اس اکنامس کاریڈور کو اپنی ملکیت سمجھ کر کامیاب بنانےاور بروئے کار لانے کی کوشش کریںگی۔ان اندیشوں کے منظرعام پر آنے سے کہ چین پاکستان کی اکنامکس راہداری کے منصوبے کو سیاسی جماعتوں کی تضاد بیانی اور متنازع بنانے کی کوششیں ’’کالاباغ ڈیم‘‘ کا منصوبہ بنا دیں گے یہ خواہش بھی دلوں میں ابھری تھی کہ قومی سیاست سے تعلق رکھنے والی تمام سیاسی جماعتوں میں اتفاق کے جذبات پیدا کئے جائیں اور خدا کا شکر ہے کہ یہ خواہش پوری ہوئی۔

ذہن میں آتا ہے کہ ایسی ہی کانفرنس ’’کابالاغ ڈیم ‘‘ کے منصوبے کی مخالفت کے وقت بھی منعقد کی جاسکتی تھی مگرآل پارٹیز کانفرنس کی تجویز کے پیچھے کسی وزیراعظم میاںنوازشریف کی موجودگی اور میاں محمد نوازشریف کے پیچھے کسی سابق صدر آصف علی زرداری کی موجودگی کی بھی ضرورت ہوتی ہے اور ان کے پیچھے سیاست میں مصالحت، مصلحت اور برداشت اور بردباری کے جذبات کی ضرورت بھی لازمی طور پر ہوتی ہے۔آصف علی زرداری سے بہت سی ناپسندیدہ باتیں منسوب کی جاسکتی ہوں گی مگر اس سے انکار مشکل ہوگا کہ انہوں نے وطن عزیز میں جمہوریت کو بحال کرنے، بحال رکھنے اور آگے بڑھانے میں بہت حد تک بنیادی خدمات سرانجام دی ہیں اور ان کوششوں میں اپنی سیاسی جماعت کے مفادات کو بھی دائو پرلگا دیا ہے مگر کسی بھی سیاسی جماعت کے مفادات سےزیادہ اہمیت وطن عزیز میں جمہوریت کی کسی نہ کسی حالت میں موجودگی کی ہوتی ہے۔

جمہوریت میں سب کو ساتھ لے کر چلنے سےہی سفر جاری رہتا ہے۔ سب کو ساتھ لے کر نہ چلیں تو سفر کے راستے میں کالاباغ ڈیم اور چین پاکستان اکنامکس کاریڈور کے تنازعات حائل ہوجاتے ہیں اور ان تنازعات کے ’’اٹوٹ انگ‘‘اور ’’شہ رگ‘‘ والے رویئے اپنائے جائیں تو وہ مسئلہ کشمیر بھی بنا جاتے ہیں اور ان میں ناسور کی طرح خون مسلسل اور متواتر رستا رہتا ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ ’’چین پاکستان اکنامکس کاریڈور‘‘ کے منصوبے کو عالمی سرمایہ داری نظام کے تحت چلنے والی تمام سیاسی طاقتیں پسندکریں گی کیونکہ یہ کاریڈور ایک ایسے منظر پر کھل سکتا ہے جو سرمایہ داری نظام کو بے حد پسند ہوگا۔اس منظر کے حوالے سے بتایاگیا کہ اس وقت اگر دنیاکے کسی ملک میں غربت اور امارت کے درمیان سب سے بڑی خلیج پائی جاتی ہے تو وہ ملک چین ہے جہاں ہر ہفتے ایک نیا ارب پتی وجود میں آتا ہے۔ ارب پتی لوگوں کو وجود میں لانے کا سب سے تیز ترین سلسلہ چین میں جاری ہے جہاں سب سے زیادہ لوگ انٹرنیٹ اور موبائل انٹرنیٹ کے کاروبار کے ذریعے ارب پتی بن رہے ہیں۔

توقع کی جاسکتی ہے کہ جلد از جلد ارب پتی بننے کے شوق میں زیادہ سے زیادہ لوگ چین پاکستان اکنامکس کاریڈور کو پھلانگنے کی کوشش کریں گے مگر ارب پتی بننے کے لئے صرف شوق ہی کی ضرورت نہیں ہوتی۔

"بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ

 

Comment on this post