خبردار آگے مزید خطرہ ہے

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ

خبردار آگے مزید خطرہ ہے

یہ معاملہ صرف جعلی ڈگریوں کا نہیں ہے۔ اصلی کہانی کچھ اور ہے، شعیب شیخ اس اسکینڈل کا مرکزی کردار نہیں۔ مرکزی کردار کا بے نقاب ہونا ابھی باقی ہے۔ پاکستانی میڈیا میں اتنی سکت نہیں کہ اصلی کردار کو بے نقاب کرسکے ہوسکتا ہے کہ اصل کردار کو پاکستانی میڈیا نہیں بلکہ غیر ملکی میڈیا بے نقاب کرے۔ جس دن نیویارک ٹائمز نے جعلی ڈگریوں کا کاروبار کرنے والی نام نہاد آئی ٹی کمپنی ایگزیکٹ کے بارے میں ایک تحقیقاتی رپورٹ شائع کی اس دن مجھے بار بار وہ صاحب یاد آئے جنہوں نے کچھ عرصہ قبل مجھے شعیب شیخ سے ملنے کی دعوت دی تھی۔

میں نے تو مسکرا کر اس دعوت کو نظر انداز کردیا لیکن میرے کئی صحافی دوستوں نے ان صاحب کے توسط سے شعیب شیخ کے ساتھ ملاقاتیں کیں اور موصوف کے ٹی وی چینل میں شمولیت ا ختیار کرلی، جن صاحب کا میں ذکر کررہا ہوں ان پر بہت سے لوگوں کو شک ہے کہ وہ شعیب شیخ کے فرنٹ مین تھے لیکن فی الحال کسی کے پاس کوئی دستاویزی ثبوت موجود نہیں۔ میرے پاس بھی سوائے چند تصویروں کے کوئی ثبوت نہیں لیکن مجھے یہ ضرور معلوم ہے کہ بہت سے سینئر صحافیوں نے محض ان صاحب کی وجہ سے شعیب شیخ کے بارے میں کسی تحقیق کی ضرورت محسوس نہ کی اور آنکھیں بند کرکے ایک نیا ٹی وی چینل جوائن کرلیا۔ عام تاثر یہ ہے کہ اکثر صحافیوں نے محض بڑی بڑی تنخواہوں اور مراعات کی خاطر شعیب شیخ کی ملازمت اختیار کرلی۔

کچھ بڑے ناموں کے بارے میں یہ دعویٰ درست ہوسکتا ہے لیکن کچھ نوجوان صحافی ایسے بھی تھے جنہیں پاکستان کی خدمت اور پاکستان سے محبت کے نام پر ایک نئے سفر کے آغاز کا خواب دکھایا گیا اور یہ خواب دکھانے والا شعیب شیخ نہیں بلکہ کوئی اور تھے۔ کچھ سینئر صحافی ایسے بھی تھے جنہوں نے ماضی میں بڑی بڑی تنخواہوں اور مراعات کو ٹھکرا دیا تھا لیکن اس مرتبہ انہیں ایک ایسے ٹی وی چینل اور اخبار کا خاکہ بنا کر دکھایا گیا جس کا ادارتی کنٹرول صرف کارکن صحافیوں کے پاس ہوگا۔ پاکستان میں تیزی سے کمزور ہوتی ہوئی صحافتی اقدار کو بچانے کے لئے ہمارے کچھ ساتھیوں نے اپنی عمر بھر کی جدوجہد سے بنائی گئی ساکھ کو دائو پر لگادیا لیکن شعیب شیخ کے ہاتھوں میں لگنے والی ہتھکڑیوں نے اس ساتھیوں کے خواب چکنا چور کردئیے۔ ان میں سے بہت سے ایسے ہیں جنہوں نے اپنے پرانے میڈیا گروپ شعیب شیخ کی وجہ سے نہیں بلکہ کسی اور کی وجہ سے چھوڑے۔ انہیں دھوکہ شعیب شیخ نے نہیں بلکہ کسی اور نے دیا۔

ہوسکتا ہے کہ شعیب شیخ اپنے اصل سرپرستوں اور شریک کاروں کے نام بھی بتادے۔ پھر کیا ہوگا؟ پاکستانی ریاست کے لئے قانون کی بالا دستی کو ممکن بنانا ایک بہت بڑا چیلنج تو نہیں بن جائے گا؟ کل رات حکومت کے ایک انتہائی باخبر وزیر نے تشویش بھرے لہجے میں کہا کہ ایگزیکٹ کا معاملہ اتنا سادہ نہیں جتنا نظر آرہا ہے۔ اس ایک اسکینڈل کے پیچھے کئی اسکینڈل چھپے ہوئے ہیں اور پاکستان کے دشمن کوشش کریں گے کہ اس اسکینڈل کی آڑ میں ہمارے ملک کو بدنام کیا جائے۔

ایگزیکٹ اسکینڈل کی صاف و شفاف انکوائری وقت کا اہم ترین تقاضا ہے۔ شعیب شیخ نے صحافیوں کو ادارتی خود مختاری کے خواب دکھائے لیکن عدالتوں میں اپنے سینے پر’’بول‘‘ کا تمغہ سجا کر پیش ہوتا رہا جو کسی ادارتی دھوکے سے کم نہیں تھا۔ آنے والے دنوں میں یہ اسکینڈل ایک نیا رخ اختیار کرے گا اور کچھ حکومتی و کاروباری شخصیات کے بارے میں بھی کئی سوالات کھڑے ہوجائیں گے۔ اس سارے معاملے میں اصل فیصلہ تو عدالت کو کرنا ہے لیکن جب تک حتمی فیصلہ نہیں ہوتا کوئی ایسا راستہ ضرور نکالا جانا چاہئے کہ نئے ٹی وی چینل اور اخبار کے ملازمین کو تنخواہ ملتی رہے۔ انہیں تنخواہ نہیں ملے گی تو یہ سڑکوں پر آئیں گے اور صحافتی تنظیمیں ان کی غلطیوں کو نظر انداز کرکے ان کے معاشی مسائل کی طرف متوجہ ہوجائیں گی۔

آنے والے کچھ دن صرف ایک ٹی وی چینل کے لئے نہیں بلکہ مجموعی طور پر پورے میڈیا کے لئے بڑے مشکل دکھائی دے رہے ہیں۔ ایگزیکٹ اسکینڈل کے پیچھے چھپے اسکینڈلز میں ملوث کئی طاقتور لوگوں نے یہ کوشش شروع کردی ہے کہ اس اسکینڈل کی انکوائری شعیب شیخ سے شروع ہو کر شعیب شیخ پر ختم ہوجائے۔ کچھ مہربان شعیب شیخ کو صولت مرزا بنانا چاہتے ہیں اور ایسی صورت میں ایک بہت بڑا طوفان برپا ہوسکتا ہے۔ کچھ ریاستی اور غیر ریاستی عناصر اس طوفان کی تیز ہوائوں کا رخ تبدیل کرنے کے لئے میڈیا کے اندر لڑائی جھگڑا پیدا کرنے کی کوشش کریں گے۔ بہتر یہ ہے کہ میڈیا کے ادارے مل بیٹھ کر جلد از جلد اپنا ایک ضابطہ اخلاق وضع کر لیں۔ یہ ضابطہ اخلاق میڈیا کی گرتی ہوئی ساکھ کو سہارا دے گا کیونکہ ایک مضبوط میڈیا ہی پاکستان کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ فی الحال تو میڈیا مضبوط ہے اور نہ ہی آزاد۔

پاکستان میں میڈیا کی آزادی پارلیمنٹ اور عدلیہ کی مضبوطی سے جڑی ہوئی ہے۔ جب تک پارلیمنٹ اور عدلیہ حقیقی معنوں میں آزاد نہیں ہوں گے ۔ میڈیا بھی آزاد نہیں ہوسکتا۔ حقیقی آزادی کی ان منزلوں کا حصول صرف اور صرف آئین و قانون کی بالا دستی قائم کرکے ممکن ہے۔ پاکستان میں قانون سب کے لئے برابر ہوناچاہئے۔ پاکستان کے سب علاقوں اور سب اداروں پر آئین نافذ ہونا چاہئے۔1973ء کا آئین ہمارا واحد متفقہ قومی دستاویز ہے۔ اس آئین کی پاسداری میں ہمارے مسائل کا حل مضمر ہے۔ افسوس کہ اس آئین کے ساتھ غداری کرنے والے کو پاکستان کی اعلیٰ ترین عدالت غاصب قرار دے تو غاصب گرفتار نہیں ہوتا بلکہ آزادانہ گھومتا پھرتا رہتا ہے لیکن کسی سیاستدان کو کرپشن یا قتل کا الزام لگا کر قید میں ڈال دیا جاتا ہے اور کئی کئی سال تک یہ الزام ثابت ہی نہیں ہو پاتا۔

ابھی بھی وقت ہے، ہم سنبھل جائیں اور ماضی کی غلطیوں سے کچھ سبق سیکھ لیں تو مزید تباہی سے بچ سکتے ہیں۔ پچھلے چند ماہ کے واقعات کا تجزیہ کریں تو اگلے چند ماہ کی ایک دھندلی سی تصویر دکھائی دے گی۔ پچھلے چند ماہ کے دوران لاہور میں دہشت گردی کے بڑے واقعات ہوئے، کراچی کے علاقے صفورا گوٹھ میں بے گناہ اسماعیلیوں کا قتل عام ہوا اور مستونگ میں غریب پشتونوں کا خون بہا کر بلوچستان میں نسلی تصادم کی فضا پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔ ہماری حکومت کو ان تمام واقعات میں بھارت کا ہاتھ نظر آ رہا ہے۔ ہمیں انتظار ہے کہ بھارت کے خلاف ٹھوس ثبوت سامنے لا کر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو متوجہ کیا جائے جو کچھ پچھلے چند ماہ میں ہوا اگلے چند ماہ میں ان واقعات کا تسلسل قائم رکھنے کی کوشش کی جائے گی۔ نیا بجٹ پیش ہونے کے بعد دشمنوں کی خونریزی کے ساتھ ساتھ کچھ سیاسی دوستوں کی بے چینی میں اضافہ بھی نظر آرہا ہے۔ دشمن کی سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لئے ہمیں جس اندرونی اتحاد کی ضرورت ہے اس کا ایک چھوٹا سا مظاہرہ پاک چین اقتصادی راہداری کے راستے پر اتفاق رائے تھا لیکن اس اتفاق رائے کو برقرار رکھنا بہت ضروری ہے کیونکہ اگلے کچھ مہینے پاکستان کے لئے بہت سخت نظر آتے ہیں۔

"بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ

 

Comment on this post