سرکاری اداروں پر واجبات کی سزا

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ

سرکاری اداروں پر واجبات کی سزا

سوئی گیس کے تین کروڑ روپے کے واجبات ادا نہ کرنے پر کراچی کے جناح اسپتال کی گیس فراہمی روک دی گئی، جس کے بعد اسپتال میں موجود رہائشی علاقوں میں رہنے والے ڈاکٹروں اور عملے نے اپنے اپنے گھر کا چولہا جلانے کے لیے تو متبادل انتظام کر لیا ہو گا مگر سزا داخل مریضوں کو ملی جن کے لیے اسپتال میں کھانا تیار نہ ہو سکا۔

واپڈا، کے الیکٹرک، محکمہ سوئی گیس اور سرکاری اداروں کو پانی فراہم کرنے والے سرکاری اداروں کی طرف سے سرکاری اداروں کو جاری کیے جانے والے نوٹسوں اور پھر فراہمی منقطع کر دیے جانے کی خبریں شایع اور نشر ہوتی ہیں تو عوام حیران ہو جاتے ہیں کیونکہ ہر سرکاری ادارے کے پاس بجلی، گیس، پانی اور سرکاری گاڑیوں کے لیے پٹرول خریدنے کا سالانہ بجٹ ہوتا ہے اور یہ مختص بجٹ اس کے طریقہ کار کے تحت ہی خرچ ہوتا ہے۔

سرکاری اداروں میں لگے ہوئے ٹیلی فون کے بلوں کی ادائیگی کے لیے بھی انھیں بجٹ ملتا ہے مگر اس کے باوجود ہر سرکاری ادارے پر یہ یوٹیلیٹی سہولیات فراہم کرنے والے سرکاری اداروں کے لاکھوں سے کروڑوں روپے تک کے بقایا جات چڑھے ہوئے ہیں جس کے بعد عوام کو یہ خبر دی جاتی ہے کہ واجبات ادا نہ کرنے پر کسی ادارے کی بجلی کاٹ دی جاتی ہے تو کسی کو پانی اور گیس کی فراہمی روک دی جاتی ہے اور بعض سرکاری خصوصاً پولیس کی گاڑیوں کو ادھار پٹرول و ڈیزل دینا بند کر دیا جاتا ہے۔

سرکاری اداروں کے افسروں کو بجلی اور گیس سے زیادہ فکر پٹرول و ڈیزل کے بلوں کی ادائیگی کی ہوتی ہے کیونکہ اس طرح وہ سرکاری گاڑی کی سہولت سے ذاتی طور پر محروم ہو جاتے ہیں اور بجلی و گیس کٹ جانے سے وہ زیادہ متاثر نہیں ہوتے اور انھیں اداروں میں نہ آنے کا جواز مل جاتا ہے جب کہ سرکاری گاڑی کے بغیر وہ اور ان کے اہل خانہ رہ نہیں سکتے۔

سرکاری دفتروں سے زیادہ فکر افسروں کو اپنی سرکاری رہائش گاہوں کی رہتی ہے کہ وہاں کی بجلی، گیس، پانی اور ٹیلی فون کے بل ضرور ادا ہوتے رہیں تا کہ وہ اور ان کے اہل خانہ پریشان نہ ہوں۔

سرکاری اداروں کے نچلے درجے کے اہلکاروں کو جنھیں سرکاری کالونیوں میں گھر ملے ہوئے ہیں وہاں بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی کا مسئلہ رہتا ہی ہے مگر ان کے ادارے سرکاری کالونیوں میں بجلی و گیس کے بل باقاعدگی سے ادا نہیں کرتے تو وہاں بجلی و گیس بھی اکثر کٹتی رہتی ہے۔

سرکاری افسروں کو اپنے یوٹیلیٹی بلوں کی ادائیگی کی فکر تو رہتی ہے مگر اپنے دفتروں یا نچلے عملے کے رہائشی علاقوں کی بالکل فکر نہیں ہوتی۔ سرکاری اداروں کو یوٹیلیٹی بل سرکاری اداروں کو اور پٹرول کے بل نجی پٹرول پمپ والوں کو ادا کرنا پڑتے ہیں۔ اس لیے افسروں کو سرکاری اداروں سے کمیشن نہیں ملتا اور ہر سرکاری ادارے میں خصوصی طور ٹھیکیداروں کو بل فوری مل جاتے ہیں کیونکہ وہاں کمیشن طے ہوتا ہے، پولیس محکمہ بلدیات، صحت اور تعلیم میں نچلے عملے کی تنخواہیں دیر سے دی جاتی ہیں، کیونکہ ان پر بھی افسروں کو کمیشن نہیں ملتا اور ہر جگہ افسر اپنی تنخواہ کی فکر زیادہ رکھتے ہیں۔

بعض پٹرول پمپ مالکان جن سرکاری گاڑیوں کو پٹرول فراہم کرتے ہیں ان پمپوں پر افسران جو سلپ جاری کرتے ہیں وہ صرف سرکاری گاڑی کے لیے نہیں ہوتی بلکہ ان کے دوستوں، عزیزوں، بڑے افسروں اور میڈیا کے لیے بھی ہوتی ہیں اور بعض مفت میں ملی ان سلپوں پر پمپوں میں پٹرول کے لیے نقد رقم بھی حاصل کر لیتے ہیں ، جن کے پاس اپنی گاڑی نہیں ہوتی۔

محکمہ پولیس کی گاڑیوں کو سرکاری پٹرول برائے نام ملتا ہے اور انھیں پولیس موبائلوں کے لیے پٹرول رشوت لے کر بھروانا پڑتا ہے، مگر پولیس افسروں کی کاروں اور جیپوں کے لیے کبھی پٹرول مسئلہ نہیں ہوتا کیونکہ پٹرول سلپ اور بل بھی ان ہی کے دستخطوں سے جاری ہوتے ہیں۔ ملک بھر میں واپڈا اور کراچی میں کے الیکٹرک نجی سرکاری اداروں اور گھروں دکانوں کو بجلی فراہم کرتے ہیں اور اب بجلی اور گیس تو ایسی قیمتی چیزیں بن چکی ہیں جن کے بغیر کوئی رہ نہیں سکتا اور بجلی اور گیس کے بل نجی صارفین ترجیحی طور پر ادا کرنے پر مجبور کر دیے گئے ہیں۔

کے الیکٹرک چند سو روپے کے بقایا جات پر بجلی کاٹنے کے لیے عام صارف کے پاس گاڑی بھیج دیتی ہے مگر لاکھوں روپے واجبات ہو جانے پر بھی سرکاری دفتروں خصوصاً پولیس دفاتر کی بجلی منقطع نہیں کرتی اور یہ بقایا جات کروڑوں روپے ہو جانے کا انتظار کرتی ہے۔ سوئی گیس بھی بجلی کی طرح ایک اہم ضرورت ہے جس کے صارفین کو سدرن گیس سے اتنی شکایتیں نہیں ہیں، جتنی صارفین بجلی کو کے الیکٹرک سے ہیں۔ ملک بھر میں واپڈا سوئی سدرن گیس اور فراہمی آب کے اداروں میں پھر بھی صارفین کی شنوائی ہو جاتی ہے مگر کے الیکٹرک ملک کا وہ سب سے بااثر نجی ادارہ ہے، جہاں صارفین مجبور و مظلوم ہیں جن کی کوئی شنوائی نہیں بلکہ ان کی دہائی پر ہماری اعلیٰ عدالتیں توجہ دیتی ہیں نہ نیپرا کے الیکٹرک کے خلاف شکایت سنتی ہے۔

واجبات بڑھانے میں کے الیکٹرک کا طریقہ واردات منفرد اور ظالمانہ ہے جس کی نظر میں تمام نجی صارفین چور ہیں اور آج تک ہماری سندھ حکومت، سپریم و ہائی کورٹ تو کیا صدر مملکت اور وزیر اعظم بھی کے الیکٹرک کی دھاندلیوں اور من مانیوں کا تدارک نہیں کراسکے ہیں۔

نجی صارفین کو کے الیکٹرک کے جاری کردہ بل تو اضافی اور متنازعہ ہیں ہی مگر تمام سرکاری اداروں کو بھی یہ شکایت ہے کہ کے الیکٹرک اضافی بل بھیج رہا ہے جن کی ادائیگی سرکاری اداروں کے لیے ممکن نہیں کیونکہ ان کا بجلی کا بل محدود ہوتا ہے۔ کراچی کے بلدیاتی ادارے کے الیکٹرک کی من مانیوں کا زیادہ شکار ہیں۔ واٹربورڈ جیسا اہم ادارہ بھی کے الیکٹرک کی لوڈشیڈنگ سے محفوظ نہیں جس کی سزا عوام کو ملتی رہتی ہے۔

سابق حکومت میں ملک کے ریلوے اسٹیشنوں کی واپڈا بجلی کاٹ دیتا تھا اور مسافر راتوں کو اندھیرے میں اپنی مطلوبہ بوگیاں ڈھونڈتے رہتے تھے۔ گزشتہ دنوں کراچی میں بجلی کی اضافی لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے ٹرینوں کو پانی نہ مل سکا تو ٹرینوں کو بغیر پانی ہی روانہ کیا گیا جس سے مسافروں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔

ملک کے حساس اداروں کی بجلی کاٹے جانے کی خبریں نہیں آتیں کیونکہ وہاں یوٹیلیٹی بلوں کی بروقت ادائیگی کی جاتی ہے۔ وہاں مختص فنڈ ادھر ادھر خرچ نہیں کیا جاتا اور وہاں ہر کام ڈسپلن کے تحت ہوتا ہے جب کہ ملک کے کسی اور سرکاری ادارے میں ایسا ڈسپلن رائج نہیں ہے وہاں صرف کمیشن لے کر بلوں کی ادائیگی کا اصول مقرر ہے۔ حکومتی محکموں میں اوپر سے نیچے تک یہی ہو رہا ہے اور یوٹیلیٹی بل باقاعدگی سے اور واجبات ادا نہ کرنے والے افسروں کے خلاف کبھی کارروائی ہوتی ہے نہ عدم ادائیگی کی وجہ پوچھی جاتی ہے۔

یوٹیلیٹی سروسز فراہم کرنے والے تمام اداروں کے سرکاری دفاتر پر لاکھوں سے لے کر کروڑوں روپے تک کے واجبات واجب الادا ہیں مگر انھیں کوئی فکر نہیں ہے۔ تھانوں اور پولیس دفاتر پر بھی ہر ادارے کے واجبات ہیں مگر سرکاری ادارے بھی پولیس سے ڈرتے ہیں اور ان کے لیے صرف عوام رہ گئے ہیں جنھیں من مانے اضافی بل بھیجے جاتے ہیں اور ادائیگی میں تاخیر پر فوری کارروائی کی جاتی ہے۔ بجلی کے قانونی کم اور غیر قانونی اضافی واجبات کی وصولی میں کے الیکٹرک واپڈا سے بھی آگے نکل گیا ہے اور فلمی انداز کے اشتہاروں کے ذریعے نجی صارفین کو ڈرایا جا رہا ہے مگر یہ دھمکیاں سرکاری اداروں کے لیے نہیں ہیں۔

محمد سعید آرائیں

 

 

Comment on this post