سفرِ منزلِ شب یاد نہیں لوگ رخصت ہوۓ کب یاد نہیں اوّلیں قُرب کی سرشاری میں کتنے ارماں تھے جو اب یاد نہیں دل میں ہر وقت چبھن رہتی تھی تھی مجھے کس کی طلب یاد نہیں وہ ستارہ تھی کہ شبنم تھی کہ پھول ایک صورت تھی عجب یاد نہیں کیسی ویراں ہے گزرگاہِ خیال جب سے...
Read more/image%2F0866857%2F20191020%2Fob_6684aa_china-pakistan-economic-corridor-2.jpg)