شاہ فیصل کی زندگی کے چند دلچسپ واقعات

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ

شاہ فیصل کی زندگی کے چند دلچسپ واقعات

ک سرکاری دورے پر شاہ فیصل برطانیہ تشریف لے گئے۔ کھانے کی میز پر انتہائی نفیس کراکری کے ساتھ چمچ اور کانٹے بھی رکھے ہوئے تھے۔ دعوت شروع ہوئی۔ سب مدعوین نے چمچ اور کانٹے کا استعمال کیا لیکن شاہ فیصل نے سنت نبوی کے مطابق ہاتھ ہی سے کھانا تناول کیا۔ ضیافت کے اختتام پر کچھ صحافیوں نے شاہ سے چمچ استعمال نہ کرنے کے بارے میں دریافت کیا۔ شاہ فیصل نے کہا کہ میں اس چیز کا استعمال کیوں کروںجو آج میرے منہ میں ہے اور کل کسی اور کے منہ میں جائے گا۔ یہ ہاتھ کی انگلیاں تو میری اپنی ہیں۔ یہ تو ہمیشہ میرے ہی منہ میں جائیں گی۔ اس لیے میں اپنے ہاتھ سے کھانے کو ترجیح دیتا ہوں۔ ایک دفعہ امریکی صحافیوں کا وفد سعودی عرب دورے پر آیا۔ وہ وہاںایک ہفتہ ٹھہرا۔ دورانِ قیام وفد کے ارکان نے خود اور اخبارات کے ذریعے سعودی عرب میں امن و امان کی صورت حال کا بغور جائزہ لیا۔ انہوں نے اس چیز کو شدت سے محسوس کیا کہ سعودی عرب میں چور ی کرنے والے کے ہاتھ سزا کے طور پر کاٹ دیے جاتے ہیں۔ انہیں لگا یہ سزا سراسر زیادتی اورانسانی تقاضوں کے خلاف ہے۔ وفد کو یہ بھی معلو م ہو کہ دوسرے جرائم میں مجرموں کو سرعام کوڑوں کی سزا دی جاتی ہے۔ سعودی عرب میں اسلامی سزائوں کے نفاذ نے تو امریکی صحافتی وفد کی نیندیں اڑا دیں کیونکہ امریکہ میں تو ایسی سزائوں کا تصور بھی نہیں تھا۔ دوران قیام ایک دن ان کی ملاقات شاہ فیصل سے بھی طے تھی۔ ملاقات کے دوران ایک صحافی نے شاہ فیصل سے ان سزائوں کا ذکر کیا کہ اتنی سخت سزائیں آپ نے کیوں نافذ کر رکھی ہیں۔ یہ تو سراسر انسانی حقوق کے خلاف ہے؟ صحافی کے اس چبھتے ہوئے سوال سے شاہ فیصل کے چہرہ پر کوئی شکن دیکھنے میں نہ آئی بلکہ انہوں نے اس صحافی کی بات کو آرام اور تحمل سے سنا۔ جب وہ صحافی اپنی بات مکمل کر چکا تو شاہ فیصل چند سیکنڈ خاموش رہے۔ صحافی نے سمجھا کہ اس نے شاہ کو لاجواب کردیا ہے۔ توقف کے بعد شاہ فیصل گویا ہوئے اور اس صحافی کو مخاطب کرکے کہا کہ کیا آپ لوگ اپنی ازدواج کو بھی ساتھ لے کر آئے ہوئے ہیں۔ کچھ صحافیوں نے ہاںمیں سرہلائے۔ اس کے بعد شاہ نے کہا ابھی آپ کا دورہ ختم ہونے میں چند دن باقی ہیں۔ آپ اپنی ازدواج کے ہمراہ شہر کی گولڈ مارکیٹ میں چلے جائیں اور اپنی خواتین کو کہیں کہ وہ اپنی پسند سے سونے کے زیورات کی خریداری کریں۔ ان سب زیورات کی قیمت میں اپنی جیب سے ادا کروں گا۔ اس کے بعد وہ زیورات پہن کر آپ سعودی عرب کے بازاروں اور گلیوں میں آزادانہ گھومیں پھریں۔ ان زیورات کی طرف کوئی میلی آنکھ سے بھی دیکھ نہیں پائے گا۔ دو یوم کے بعد آپ کی امریکہ واپسی کی فلائٹ ہے۔کیا وہ زیورات پہنے ہوئے آپ اور آپ کی خواتین بلا خوف و خطر اپنے اپنے گھروں کو چلے جائیں گے؟ جب شاہ فیصل نے صحافیوں سے یہ پوچھا تو ہر ایک دوسرے کا ہونقوں کی طرح منہ تکنے لگا۔ شاہ نے دوبارہ استفسار کیا تو چند صحافیوں نے کہا نہیں۔ بلاخوف وخطر ائیرپورٹ سے نکل کر گھر پہنچنا تو درکنار ہم ائیرپورٹ سے باہر قدم بھی نہیں رکھ سکتے۔ تو شاہ فیصل نے جواب دیا کہ سعودی عرب میں اتنی سخت سزائوں کا اطلاق ہی آپ کی پریشانی کا جواب ہے۔ امید ہے کہ انسانی حقوق کی پاسبانی کرنے والوں کے خدشات دور ہوگئے ہونگے۔ ٭…٭…٭ 

Comment on this post