'پاکستان میں ہمارا کچھ بھی نہیں

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ

'پاکستان میں ہمارا کچھ بھی نہیں
'پاکستان میں ہمارا کچھ بھی نہیں

قریباً تین دہائیوں سے پاکستان دنیا میں پناہ گزینوں کا سب سے بڑا مسکن تصور کیا جاتا ہے۔

پڑوسی ملک افغانستان میں عرصہ دراز سے جاری لڑائیوں اور جنگ کے باعث مقامی لوگوں کی بڑی تعداد نے پاکستان ہجرت کی۔

سن 2001 میں افغانستان پر امریکی قیادت میں حملے سے اب تک تقریباً 38 لاکھ مہاجرین واپس اپنے گھروں کو لوٹ چکے ہیں۔

لیکن پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے کا کہنا ہے کہ اب بھی پاکستان میں سولہ لاکھ سے زائد رجسٹرڈ جبکہ لگ بھگ دس لاکھ سے زائد افغان پناہ گزیں غیر قانونی طور پر مقیم ہیں۔

اس دوران پاکستان میں افغانوں کی نسلیں پیدا ہوئیں اور پروان چڑھیں لیکن یہ شدید غربت اور غیر یقینی صورتحال میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

ایسی ہی ایک کہانی دارالحکوت اسلام آباد کی نواحی کچی آبادی کے رہائشی بارہ سالہ اول گل کی ہے جو کبھی سکول نہیں گیا اور ایک قریبی سبزی منڈی میں مزدوری کرتا ہے۔

گل ایک مشہور کرکٹر بن کر اپنے ملک کی نمائندگی کرنے کا خواہش مند ہے۔

'میری سرزمین افغانستان ہے اور پاکستان میں ہمارا کچھ بھی نہیں'۔

پاکستان میں موجود پناہ گزین افغان آبادی افغانستان میں ہونے والے متعدد تنازعات کی میراث ہے۔

سن 1979، افغانستان میں سوویت یونین کے آنے پر بھی لاکھوں افراد نے پاکستان ہجرت کی، جس کے بعد تقریباً ایک دہائی تک وہاں خون ریز جنگ جاری رہی۔

سوویت یونین کے انخلاء کے بعد ملک قبائلی سرداروں کی آپسی لڑائی کی نظر ہو گیا جس کے باعث مزید افراد نے پاکستان کی راہ لی۔

پھر 1996 میں جب طالبان اقتدار میں آئے تو ان کے سخت مذہبی نظریات نے لوگوں کو مزید دہشت زدہ کر دیا اور اس موقع پر پاکستان میں بہت سے پناہ گزینوں نے واپسی کا سوچنا ترک کر دیا۔

وہ شاید خود کو پاکستان میں اجنبی محسوس کرتے ہوں لیکن ان کا کہنا ہے کہ ان کا ملک جنگ زدہ اور شدید غربت کا شکار ہے۔

تاہم ملک میں پناہ گزینوں کی بڑھتی آبادی کے ساتھ پاکستان کے شہریوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے اور اس صورتحال میں حکومت پر پناہ گزینوں کو واپس بھیجنے کا دباؤ بڑھ گیا ہے۔

ایک عام تاثر ہے کہ افغان پاکستان میں جرائم اور دہشت گردی لے کر وارد ہوئے جہاں انہیں ملازمت کے حصول اور اپنے بچوں کو سکول بھیجنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

 

 

Comment on this post