تھرپارکر میں غذائی قلت سے بچوں کی اموات؟

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ

 تھرپارکر میں غذائی قلت سے بچوں کی اموات؟  تھرپارکر میں غذائی قلت سے بچوں کی اموات؟

ایک خبر کے مطابق تھرپارکر (سندھ) کے علاقے سول ہسپتال مٹھی میں غذائی قلت کے باعث ایک ماہ کے دوران بتیس (32) بچے فوت ہو گئے۔ بچوں کی اموات غذا کی کمی کے باعث ہوئیں۔ فوت ہونے والے بچوں میں نومولود اور دو سال کی عمروں کے بچے شامل ہیں۔یہ کس قدر اندوہناک اور شرمناک واقعہ ہے کہ جس ملک کے صاحبان اقتدار کی سکیورٹی اور پروٹوکول پر کروڑوں روپے ماہانہ خرچ ہو رہے ہیں، اسی ملک کے ایک حصے میں لوگوں کی غربت اور مفلسی کا یہ عالم ہے کہ ان کے نومولد اور چھوٹے چھوٹے بچے بھوک سے مر رہے ہیں۔ ہمارے لئے یہ ڈوب مرنے کا مقام ہے۔حضرت عمرؓ نے اپنے دور اقتدار میں کہا تھا کہ ’’اگر دریائے نیل کے ساحل پر ایک کتا بھی بھوکا مر جاتا ہے تو اس کا ذمہ دار میں ہوں‘‘ ان معصوم بچوں کی موت کا ذمہ دار کون ہے جو انسان کے بچے تھے اور بھوک سے تڑپ تڑپ کر مر گئے؟ کیا سندھ حکومت اپنے عوام سے اس قدر بے خبر اور لاپروا ہے کہ اسے پتا ہی نہیں کہ کس علاقے کے لوگوں کی کیا حالت ہے اور غریب لوگ کن مشکلات اور مصائب کا شکار ہیں؟ اسمبلیوں میں بیٹھے صاحبان بست و کشاد کو ہر وقت یہ فکر پڑی رہتی ہے کہ کسی طرح ان کی تنخواہوں میں تین سو فیصد اضافہ کیا جا سکے اور ان کی دیگر مراعات جن میں علاج معالجے سے لے کر ٹیلی فونز کے بلوں تک ہر سہولت شامل ہے، کیسے مزید وسیع ہو سکتی ہیں۔ ہر علاقے کے ایم پی اے اور ایم این اے کو علاقے کی ترقی و خوشحالی کے لئے کروڑوں کا بجٹ دیا جاتا ہے۔ وہ سب پیسے کدھر جاتے ہیں؟ اگر غریب بچوں نے اسی طرح بھوک سے مرتے رہنا ہے تو پھر ایسی حکومت اور ایسے حکمرانوں کا ہم نے اچار ڈالنا ہے؟ اور حیرت کی بات یہ ہے کہ اس قدر افسوسناک واقعے کے بعد سندھ کی کسی مقتدر شخصیت کی طرف سے کوئی اظہار افسوس یا ردعمل سامنے نہیں آیا یہ بے حسی کی انتہا ہے۔تھرپارکر کیا پاکستان کا حصہ نہیں؟ کیا وہاں کے لوگ پاکستانی نہیں؟ کیا انہوں نے موجودہ حکومت کو ووٹ دے کر کامیاب نہیں کروایا؟ وزیر اعلیٰ سندھ کو وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف سے حکومت کرنے کا سبق لینا چاہئے۔ اول تو میاں شہباز شریف کے ہوتے ہوئے پنجاب کے کسی علاقے میں ایسا کربناک واقعہ رونما ہو ہی نہیں سکتا، اور اگر خدانخواستہ ایسا کوئی ایک واقعہ بھی ہوتا تو شہباز شریف سب سے پہلے خود وہاں پہنچتے اور حالات کو درست کرنے کے لئے فوری اقدامات کرتے لیکن وزیر اعلیٰ سندھ کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔وزیراعظم میاں نواز شریف کو فوری طور پر تھرپارکر میں بھوک سے مرنے والے بچوں کے واقعے کا نوٹس لینا چاہئے اور سندھ حکومت کو اس کے بعد اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے واضح احکامات صادر کرنا چاہئیں۔
غضب خدا کا… اس ترقی یافتہ اور الیکٹرانک دور میں پاکستان ایسے زرعی ملک میں معصوم بچے بھوک سے مر رہے ہیں اور کوئی ان کی میتوں پر نوحہ کناں بھی نہیں؟ ہم نے ایتھوپیا کے بارے میں سنا تھا کہ وہاں قحط سے ہزاروں لوگ لقمہ اجل بن گئے اور آج بھی ایتھوپیا کے حالات سازگار نہیں۔ کیا ہمارے حکمران پاکستان کو ہی ایتھوپیا بنانا چاہتے ہیں؟ ابھی تو ہمارے حالات اتنے خراب نہیں ہوئے کہ معصوم بچوں کو ہم دودھ نہ پلا سکیں اور دو وقت کا کھانا نہ دے سکیں۔تھرپارکر میں مرنے والے نومولود اور دو، دو سال کے بچوں کی روحیں پوچھ رہی ہیں کہ ان کا کیا قصور تھا کہ انہیں بھوک کے بھیانک دیو کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔ کیا کروڑوں اور اربوں میں کھیلنے والے حکمرانوں کے پاس ہمارے دودھ اور کھانے کے پیسے بھی نہیں تھے؟‘‘وائے تقدیر! یہ کیا بے سروسامانی ہے؟
وزیراعظم سندھ، گورنر سندھ اور اراکین سندھ اسمبلی کو فوری طور پر ’’مقتول‘‘ بچوں کے لواحقین سے خود مل کر نہ صرف اظہار افسوس کرنا چاہئے بلکہ آئندہ اس قسم کے واقعے کی روک تھام کے لئے موثر اقدامات کرنا چاہئیں… ورنہ بقول اقبالؒ
جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہو روزی
اس کھیت کے ہر خوشہ گندم کو جلا دو!

Comment on this post