تھر کا المیہ

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ

تھر کا المیہ تھر کا المیہ

قحط نے صحرائے تھر کو پوری طرح جکڑ لیا، زمین پانی اور بچے دودھ کو ترس گئے۔ خشک سالی اور بروقت طبی امداد نہ ملنے کے باعث اب تک130 سے زاید بچے جاں بحق ہو چکے ہیں۔ یقین نہیں آتا کہ اس جدید دور میں بھی لوگ قحط سالی اور حکمرانوں کی بے حسی کی بھینٹ چڑھ سکتے ہیں۔ ایک طرف حکمرانوں کے متاثرہ علاقوں کے دورے، وعدے اور بلند بانگ نعرے ہیں، دوسری طرف حقیقت یہ ہے کہ صحرائے تھر کے ہزاروں دیہات اب تک حکومتی امداد سے محروم ہیں اور وہاں کے باسی حکمرانوں کی راہ تَک رہے ہیں۔ میڈیا میں آنے والی رپورٹس کے مطابق متاثرین کے لیے مختص گندم محکمہ خوراک کے گوداموں میں پڑی سڑتی رہی، جس کے باعث اتنے بڑے پیمانے پر اموات ہوئیں۔

اس ساری صورت حال کا جائزہ لیا جائے تو اس انسانی المیے کی ذمے دار سندھ حکومت معلوم ہوتی ہے۔ ان کی موت کی وجوہ دنوں یا ہفتوں میں پیدا نہیں ہوئیں، بلکہ ایک عرصے سے یہ لوگ اپنی زندگی کی بھیک مانگتے رہے، بھوک و افلاس کے مارے لوگ اپنی جانیں دیتے رہے، سندھ کے حکمران خواب غفلت کی نیند سوتے رہے۔ سندھ فیسٹول کے نام پر ثقافت کا جشن منانے اور اربوں روپے اُڑانے والی سندھ حکومت کو بلکتے بچوں کی صدائیں نہ سنائی دیں۔ منتخب نمایندوں کو اپنی چمکتی گاڑیوں، ٹھنڈے گھروں اور دفتروں میں عوام کی بھوک اور پیاس کا احساس تک نہ ہوا۔ سب کچھ پہلے سے معلوم ہونے کے باوجود ڈھنڈورا پیٹا جا رہا ہے کہ ہمیں کسی نے بروقت اطلاع نہیں دی۔ ووٹ لینے والے تو نہ جاگے، لیکن ووٹ دینے والے ابدی نیند سو گئے۔ اگر 2013ء کے انتخابات کا جائزہ لیا جائے تو اس علاقے سے پیپلز پارٹی کو بھاری کامیابی حاصل ہوئی تھی۔ یہاں کے عوام نے بھی روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے لگانے والی پیپلزپارٹی کو ووٹ دیا تھا۔ اس علاقے سے پیپلز پارٹی کے 3 صوبائی اسمبلی کے ارکان، جب کہ ارباب رحیم گروپ کا صرف ایک رکن منتخب ہوا۔ پی ایس 63 سے دوست محمد راہموں، پی ایس 61 سے مہیش کمار ملانی، پی ایس 62 سے مخدوم خلیل الزماں منتخب ہوئے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ حکمران جماعت کے ارکانِ اسمبلی نے تھر پار کی صورت حال پر کبھی بھی سندھ اسمبلی میں آواز نہیں اٹھائی۔

الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میںسب سے پہلے ایکسپریس نیوز نے تھر پار کر میں بھوک و افلاس سے ہونے والی اموات کی خبریں نشر اور شایع کیں، جس کے بعد سندھ حکومت جاگ گئی۔ اس سے قبل اسے بھوک و افلاس کے شکار بے بس بچوں کا کبھی خیال ہی نہیں آیا۔ اگر سندھ کے عوام اور اس کی ثقافت سے اتنی ہی محبت تھی تو پھر عوام کو غذائی قلت میں بے یار و مددگار کیوں چھوڑ دیا؟ اب میڈیا پر فوٹو سیشن کے لیے ان غربت کے مارے ہوؤں کے لیے امداد کی بھاری کھیپ پہنچ جائے گی اور پھر دعوے کیے جائیں گے کہ ہم سے زیادہ عوام کا خیر خواہ کوئی نہیں۔ ہم ہی عوام کے مصائب کے غم میں مبتلا ہیں اور ان کے حقوق کے لیے دن رات ایک کیے ہوئے ہیں۔ اس وقت یہ ہمدردی کہاں تھی جب غذائی قلت تھر میں ڈیرے ڈال رہی تھی ، جب سہولتوں کے فقدان اور بنیادی ضروری اشیا نہ ہونے کی وجہ سے بچے مر رہے تھے۔ اگر اس وقت ہی عوام کی داد رسی کی ہوتی تو تھر میں انسانی بحران اتنی شدت اختیار نہ کرتا، اور نہ ہی اتنے بڑے پیمانے پر جانیں ضایع ہوتیں۔

وزیر اعلیٰ سندھ گندم کی تقسیم میں غفلت کا اعتراف کر رہے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ہی انھوں نے ایک تحقیقاتی کمیٹی بھی بنا دی ہے جو وقتی طور پر بلا ٹالنے کے مترادف ہے۔ اس طرح کی تحقیقاتی کمیٹیوں کی حقیقت سے کون واقف نہیں۔ ان کی تحقیقات کی روشنی میں ذمے داروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہو گی، کاغذات کا پیٹ بھرنا اور وقت گزاری کے لیے اس طرح کی کمیٹیاں قائم کی جاتی ہیں۔ حکومت سندھ کو اپنی ناکامی کا برملا اعتراف کرنا چاہیے کہ ایک طرف عوام کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ کراچی سمیت سندھ کے مختلف علاقوں میں آئے دن لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔ دہشت گرد دندناتے پھر رہے ہیں اور انسانی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں، لیکن صوبائی حکومت عوام کے جان و مال کا تحفظ کرنے میں ناکام ہے۔ دوسری طرف اب بھوک و افلاس، بڑھتی مہنگائی کی وجہ سے غربت آسمان پر پہنچ گئی ہے اور قوت خرید ختم ہو رہی ہے۔ جب کہ حکمران طبقہ غریب قوم کے ٹیکسوں پر عیاشیاں کر رہا ہے۔ عوام کا استحصال برسوں سے جاری ہے، کیوں کہ اس نظام کی وجہ سے ہی کرپٹ لوگ اوپر آتے ہیں۔

وزیر اعظم نواز شریف نے تھر کے متاثرین کے لیے ایک ارب روپے کی امداد کا اعلان کیا ہے۔ سندھ میں انتظامی مشینری کی ناکامی کے بعد وفاق کو چاہیے کہ تھر کے قحط زدگان کی امداد کے لیے کیے گئے اعلانات پر عمل در آمد یقینی بنائے۔ کیوں کہ صوبائی حکومت سے کسی خیر کی توقع رکھنا فضول ہی معلوم ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ اس واقعے میں ذمے داران کا تعین کر کے انھیں سخت سزائیں ملنی چاہئیں، تا کہ آیندہ کوئی بھی اس طرح کی غفلت کے ارتکاب سے قبل 10 دفعہ سوچے۔ عوام یہ سوچنے میں حق بجانب ہیں کہ حکمرانوں کو ان کی کوئی پرواہ نہیں، اسی لیے وہ انھیں بے یارو مددگار چھوڑ دیتے ہیں۔ حکومتی ادارے کب جاگیں گے اور کیا کبھی اپنی ذمے داری کا احساس از خود کریں گے؟ اس سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں۔

عثمان حسن زئی 

 

Comment on this post