حکومت کا جانا ٹھہر گیا ہے

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ

حکومت کا جانا ٹھہر گیا ہے

اگر اتوار کی شام کو ہونے والی کور کمانڈر کانفرنس کے بعد نقارہ بج اٹھتا اور اگر حکومت کو رخصت کا کہہ دیا جاتا تو کسی کو حیرت نہ ہوتی کیونکہ شدید اضطراب، تنائو اور کشیدگی کا شکار یہ ملک کسی بھی صورتِ حال کے لئے خود کو تیار کر چکا تھا۔ میٹنگ کے اندر کیا ہوا یہ تو کسی کو معلوم نہیں لیکن ایسا لگتا ہے کہ جنرل صا حبان دیکھو اور انتظار کرو کا کھیل کھیلتے ہوئے ڈگمگاتی، لڑکھڑاتی ہوئی حکومت کو کچھ ڈھیل دے کر چاہتے ہیں کہ یہ مزید حماقتیں کرتے ہوئے اپنی تباہی کا خود ہی سامان کر لے۔ یہ بھی تاثر ابھرتا ہے کہ ابھی انہوں نے شب خون مار کر نواز شریف حکومت کو اس اذیت اورجگ ہنسائی سے نجات دلانے کی مہربانی کو قدرے موخر کر دیا ہو۔ جو بھی وجہ ہو یہی خیال کیا جا رہا ہے کہ جنرلوں نے خطرے کی گھنٹی بجا دی اور ہلکان ہوتے ہوئے بھاری مینڈیٹ سے کہا کہ مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال سے گریز اور وقت ضائع کئے بغیر ان مسائل کا کوئی سیاسی حل تلاش کیا جائے۔ ستم ظریفی دیکھیں کہ یہ مشورہ ایسے ہی ہے جیسے آئی سی یو میں پڑے ہوئے کسی جاں بلب مریض سے کہا جائے کہ وہ باہر میدان میں جا کر جمناسٹک کا مظاہرہ کرے۔ ایک وزیر ِ اعظم، جس کے ایک لفظ پر بھی علامہ طاہر القادری اور عمران خان اعتماد کرنے کے لئے تیار نہیں اور ایک سیاسی بھنور میں پھنسی بے دست و پا حکومت سیاسی مفاہمت کا بیٹر ا کیسے اٹھاسکتی ہے؟ اور جیسے کہا جاتا ہے:"غریب کی جورو، سب کی بھابی"۔ حکومت کو کمزور اورلاچار پا کر ہر کوئی اپنا الو سیدھا کرنے کی کوشش میں ہے۔

وحشیانہ طاقت کے استعمال سے پی ٹی آئی اور پاکستان عوامی تحریک کے احتجاج کو کچل دینا حکومت کے پاس آخری آپشن تھا لیکن یہ بھی ناکام ہو چکا ۔ ان کے کارکن، مرداور عورتیں، پنجاب بھر سے منگوائی گئی پولیس کے سامنے سینہ تان کر کھڑے ہیں۔ مظاہرین پر کبھی کسی فوجی آمر نے بھی اس طرح طاقت کا کھلا استعمال نہیں کیا تھا۔ وکلا تحریک کے دوران جنرل مشرف کو کون سی گالی نہیں دی گئی، اُن پر کون سا الزام نہیں لگایا گیا لیکن ان کی طرف سے اس تشدد کا عشرِ عشیر بھی نہیں کیا گیا جس کا مظاہرہ مو جودہ حکو مت نےکیا۔ اس کے باوجود ہم اسے جمہوریت اور اُسے آمریت کہتے ہیں!

اس وقت، اس تاریخ ساز لمحے میں، پاکستان عوامی تحریک کے کارکن ہیرو بن کر میدان میں موجود ہیں۔ یہ لوگ کس چیز سے بنے ہوئے ہیں؟ نہ ان پر سورج کی گرمی کا اثر ہوتا ہے، نہ بارش کا اور نہ برسائی گئی بدترین آنسو گیس اور ہلاکت خیز ربڑ کی گولیوں کا۔ اسلام آباد کی تاریخ کے بدترین ریاستی تشدد کے باوجود یہ لوگ اپنے قدموں پر مضبوطی سے جمے رہے۔ کوئی چیز بھی ان کے پائے استقلال میں لرزش پیدا نہ کر سکی۔ بھوکے پیاسے، نیند اور آرام سے بے نیاز، جان ہتھیلی پر رکھے اُس قیامت خیز رات (جو تمام پاکستان نے آنکھوں میں گزار دی اور ان پر قیامت گزر گئی) یہ لوگ ریاستی جبر کے سامنے سینہ سپر رہے۔ اس وقت تک تین افراد ہلاک اور 500 کے قریب زخمی ہو کر دارلحکومت کے اسپتالوں میں زیر ِ علاج ہیں۔ حکومت غصے سے دانت پیس رہی ہے کیونکہ اس نے اپنے ترکش کا آخری تیر بھی چلا دیا لیکن حریف کا بال بھی بیکانہ ہوا۔ کور کمانڈر کانفرنس کاطے شدہ وقت سوموار کو تھا لیکن جب ایمرجنسی میں یہ اتوار کی شام کو بلائی گئی تو تمام قوم نے دم سادھ لی، تاہم جنرلوں نے ضبط کرتے ہوئے حکومت کو مشورہ دیا اور متنبہ بھی کیا۔۔۔ مشورہ یہ کہ مسئلہ جلد حل کیا جائے اور تنبیہ یہ کہ طاقت کا استعمال نہ کیا جائے۔ چنانچہ حکومت، ’’نہ پائے ماندن، نہ جائے رفتن "کی مثل لاچار، آخری دموں پر۔ یونانی ڈرامہ نگار یوری پیڈیس نے کہا تھا۔۔۔" جسے دیوتا تباہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں، اُس سے حماقتیں سرزد ہوتی ہیں۔‘‘ اس وقت ہم حماقتیں نہیں، پاگل پن دیکھ رہے ہیں۔ اپنے فرائض سرانجام دینے والے صحافیوں کو بے دردری سے مارا گیا۔ ماضی میں صحافیوں کو کسی "نادیدہ" ہاتھ سے خطرہ ہوتا تھا لیکن اب تو کیمرہ مین اور رپورٹرز کو گاڑیوں سے نکال نکال کر لاٹھیوں سے مارا گیا۔

فی الحال رخصت ہوتی ہوئی حکومت کی آخری فعالیت یہی ہے۔ عاصمہ جہانگیر اور محمود خان اچکزئی اس طرح غم سے نڈھال ہو رہے ہیں جیسے کہ یہ جمہوریت اور آمریت کے درمیان کوئی معرکہ ہو۔ کیا شریف خاندان کا تمام حکومت پر تسلط جمہوریت کہلاتا ہے؟ کیا اقتدار اور دولت کے درمیان ناجائز تعلق جمہوریت کہلاتا ہے؟ جیسے ستم ظریفی میں کوئی کمی رہ گئی ہو، آصف علی زرداری بھی مانند ِ آہو سبک رفتاری سے آئے اور جمہوریت کے تحفظ کے لئے ہرن کا گوشت کھاتے پائے گئے۔ قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف، سید خورشید شاہ کا رنگ آئین اور جمہوریت کے تحفظ کے لئے تقریر کرتے وقت سرخ (مزید) ہو جاتا ہے… خدا خیر کرے۔

اگر جمہوریت کا مطلب ہمیشہ استحقاق یافتہ طبقے کی حکمرانی ہے تو پھر بہتر ہے کہ ہم اس سے جان چھڑا لیں۔ ہو سکتا ہے کہ ڈاکٹر قادری کی جمہوریت کی تشریح حکمران طبقے اور اشرافیہ کو پسند نہ آئے لیکن یہ کچلے اور پسے ہوئے مظلوم عوام کی خواہشات کی آئینہ دار ہے۔ طاہر القادری کو ئی فاشسٹ، انارکسٹ یا نظام کو ختم کرنے والی کوئی تباہ کن قوت نہیں بلکہ وہ آئین اور قانون کو سمجھنے اوراس کی پاسداری کرنے والے رہنما ہیں۔ وہ صرف یہ کہہ رہے ہیں کہ عوام کی اکثریت کو سماجی انصاف اور زندگی گزارنے کے بہتر مواقع فراہم کئے بغیر جمہوریت صرف کاغذی کارروائی ہے کیونکہ یہ عوام کی بجائے صرف مراعت یافتہ طبقے کے مفادات کا ہی تحفظ کرتی ہے۔ ان کی جمہوریت کی تشریح امراء کے دیوان خانوں کی گھٹی ہوئی فضا میں نہیں ہوتی ، یہ مزدور اور دہقان کے پسینے کی خوشبو سے مہکتی ہے۔ علامہ صاحب سماجی اصلاحات کی بات کرتے ہیں۔ ان کی جمہوریت اسلامی فلاحی ریاست کے تصور کے قریب تر ہے۔ وہ اقبال کے مارکسی تصور والے اشعار سے عوام کے دل گرماتے ہیں۔۔۔"اٹھو میری دنیا کے غریبوں کو جگا دو۔۔۔ کا خ ِ امراء کے درودیوار ہلا دو۔"ان کا پیش کردہ انقلابی منشور عوام کی خواہشات کا آئینہ دار ہے۔ وہ برداشت، رواداری اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کی بات اور ببانگِ دہل تکفیری عقیدے کی نفی کرتے ہیں اور آج سے پہلے ہمارا معاشرہ ان تصورات سے تہی دامن تھا۔

اس وقت پاکستان میں بائیں بازو کی تحریکیں تقریباً دم توڑ چکی ہیں۔ کبھی پی پی پی نے بائیں بازو کا سوانگ رچایا تھا لیکن اب یہ بھی ختم ہو چکا ۔ آصف علی زرداری کی قیادت میں اس کا پی ایم ایل (ن) سے امتیاز ختم ہو چکا ہے اور پی ایم ایل (ن) سرمایہ داروں، تاجروں اور صنعت کاروں کی جماعت ہے۔ اس وقت کسی کو یہ بات اچھی لگے یا بری، پنجاب میں ترقی پسندی کے جذبات اور رجحانات کی نمائندگی طاہرالقادری ہی کر رہے ہیں۔ صرف ان کی زبان پر ہی وہ باتیں جن کے بارے میں دوسرے لب کشائی کی جسارت بھی نہیں کرتے۔۔۔ بلکہ بہت سوں کو ان کا فہم بھی نہیں۔ ان کے ساتھ کندھے سے کندھا ملائے سنی اتحاد کونسل اور مجلسِ وحدت المسلمین کے قائدین کھڑے ہیں اور یہی اس وطن میں اسلام کی حقیقی اور اصلی نمائندگی ہے۔ بہت دیر سے یہ سیاسی منظر سے غائب تھے لیکن نواز حکومت کے خلاف ہونے والے احتجاجی مظاہرے ان کو بھی زبان دے رہے ہیں۔ اس طرح ایسا لگتا ہے کہ ملک انگڑائی لے کر جاگ رہا ہے۔ پاکستان کا مستقبل طلوع کی کشمکش میں ہے۔ اب اس چراغ کو سود و زیاں کی آندھیاں گلُ نہیں کر سکتیں۔ نواز شریف ماضی کے ہیرو تھے جن کو جنرل ضیا اور جنرل جیلانی نے پی پی پی کے خلاف میدان میں اتارا تھا۔ اب مدت ہوئی وہ زمانہ لد گیا ہے۔ اب فوج کے سامنے کچھ نئے مسائل ہیں ، جیسا کہ طالبان کے خلاف جنگ اور اس جنگ میں موجو دہ حکمرانوں کی قطعی ضرورت نہیں۔ آج نہیں تو کل، ان کا کھیل ختم ہونے والا ہے۔ اب صرف دیکھنا یہ ہے کہ اس ڈرامے کا ڈراپ سین کیسے ہوتا ہے کیونکہ اس میں دلچسپی کی صرف یہی بات رہ گئی ہے۔ جہاں تک ریاستی جبر کے سامنے سینہ تان کر کھڑے پاکستان عوامی تحریک کے باہمت کارکنوں کا تعلق ہے تو ان کے لئے جوش ملیح آبادی کا ایک ہی شعرکافی ہے

کچھ اور یوں ہی الٹے رہو سآستین کو
الٹی ہے آستیں تو پلٹ دو زمین کو

بہ شکریہ روزنامہ "جنگ


 

 

Comment on this post