اعلانِ بغاوت کی خواہش

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ

اعلانِ بغاوت کی خواہش

قومیں جب تخت یا تختہ والی جنگوں میں اُلجھ کر منقسم ہوجائیں تو نفرت سے بھری آنکھیں سچ دیکھنے کے قابل ہی نہیں رہتیں۔ چین کے صدر اسلام آباد میں دیے دھرنوں کی وجہ سے اپنا دورۂ پاکستان ملتوی کرنے پر مجبور ہوئے تو نقصان یقینی طور پر پوری قوم کا ہوا۔ نواز حکومت اور اسے چاہنے والے مگر اس دورے کے التواء پر سینہ کوبی کرتے ہوئے اپنے سیاسی مخالفین کے کندھوں پر اس کی پوری ذمے داری ڈالنے میں مصروف ہو گئے۔

عمران خان اور ان کے متوالے بھی شرمندہ نہ ہوئے۔ پورا زور تو پہلے صرف یہ بات ثابت کرنے پر لگا دیا کہ چینی صدر کا دورٔہ پاکستان ہر گز طے نہ ہوا تھا۔ ایسا کرتے ہوئے تحریک انصاف میں شامل دو سابق وزرائے خارجہ نے ہرگز اپنی قیادت کو یہ بات سمجھانے کی جرأت نہ دکھائی کہ چینی قیادت جنوبی ایشیاء کے دورے پر نکلے تو پاکستان کو نظرانداز کرتے ہوئے صرف بھارت پر توجہ دینے سے ہمیشہ ہچکچاتی رہی ہے۔ نومبر 1996 میں اس وقت کے صدر فاروق لغاری نے اپنی ہی جماعت کی وزیر اعظم کو برطرف کر دیا تھا۔ چینی صدر اس کے باوجود بھارت کا دورہ ختم کرنے کے فوراََ بعد پاکستان آئے۔ یہاں انھیں پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب بھی کرنا تھا۔

قومی اسمبلی کی عدم موجودگی میں انھوں نے صرف سینیٹ کے اراکین سے خطاب کیا اور اپنی پوری تقریر میں اس بات پر اصرار کرتے رہے کہ پاکستان کو سیاسی استحکام کی شدید ضرورت ہے۔ اپنے طویل تر اقتصادی معاملات کو ذہن میں رکھتے ہوئے اس ملک کو اپنے ازلی دشمن بھارت کے ساتھ تعلقات کو بھی ہر ممکن حد تک پرامن رکھنے کی کوشش کرنا چاہیے۔ مجھے آج بھی اچھی طرح یاد ہے کہ ہمارے ہاں دفاعی اور خارجہ امور کے اپنے تئیں ماہر بنے دانشوروں کو یہ تقریر پسند نہیں آئی تھی۔ چین مگر اپنا یار ہے اور اس پر جاں نثار ہے اس لیے چینی صدر کی تقریر کو اس کبوتر کی مانند نظر انداز کر دیا گیا جو بلی کو دیکھ کر اپنی آنکھیں بند کر لیتا ہے۔

اس مرتبہ عمران خان اور ان کے متوالے مگر وہ کبوتر نہیں بنے۔ بڑی ڈھٹائی سے بلکہ یہ اعلان کر دیا گیا کہ ’’غیر ملکی معاہدوں کے ذریعے بھاری کمیشن‘‘ لینے کا عادی شریف خاندان اس دورے کے التواء پر پریشان اس وجہ سے ہوا کہ مجوزہ دورے کے دوران 34 ارب ڈالر کی حد تک ممکن کاروباری معاہدوں کے بغیر انھیں ’’اپنا کمیشن‘‘ کھوتا ہوا محسوس ہوا۔ ہمارے سادہ لوح عوام کو یہ اطلاع بھی دی گئی کہ چین مجوزہ رقم بھاری سود پر ہمیں دراصل قرض کی صورت دے رہا تھا۔ قوم کا بچہ بچہ پہلے ہی غیر ملکی قرضوں کے گرداب میں گردن تک پھنسا ہوا ہے۔ بہتر ہوا کہ وہ قرضوں کے مزید بوجھ سے محفوظ ہو گئے۔

پاکستان جیسے بے وسیلہ مگر بے تحاشہ آبادی کے بوجھ تلے ملکوں نے خوش حالی کے راستے صرف براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی بدولت ڈھونڈے ہیں۔ صرف بھارت ہی کو نگاہ میں رکھیں تو وہاں 1990 کی دہائی سے شہری متوسط طبقوں کے چہروں پر کچھ رونق نظر آنا شروع ہوئی تو اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ نرسمہا راؤ کے وزیر خزانہ ہوتے ہوئے من موہن سنگھ نے نہرو کے متعارف کردہ قوم پرست سوشلزم کو متروک قرار دے دیا اور افسر شاہی کے پرمٹ راج کو ختم کرتے ہوئے غیرملکی سرمایہ کاری کو آسان بنایا گیا۔ جنوبی ہند کے تامل برہمنوں نے انگریزی زبان اور اسے شارٹ ہینڈ اور ٹائپ رائٹر کے ذریعے کاغذوں پر منتقل کرنے کی عادت برطانوی آقاؤں سے بہت عرصہ پہلے سیکھ لی تھی۔ اس مہارت نے انھیں کمپیوٹر کے استعمال کا آسانی سے عادی بنا دیا۔

انگریزی زبان اور Keyboard سے دیرینہ آشنائی نے بنگلور کو کمپیوٹر سے متعلقہ کاروبار کا امریکا کی نام نہاد سیلیکون ویلی کے بعد دوسرا بڑا مرکز بنا دیا اور پھر تیزی سے پھیلے Call Centers جن کی بدولت لاکھوں نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو روزگار ملے اور اتنی آمدنی جوان کے خاندانوں کو بہت تیزی سے نچلے متوسط طبقے کی مسلسل اداسی اور پریشانی سے نکال کر متوسط طبقے کی روایتی راحتوں تک لے گئی۔ پاکستان کے شہری طبقات بھی ایسی راحتوں سے صرف اسی صورت متعارف ہو سکتے ہیں اگر ہمارے ہاں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے بے تحاشہ امکانات پیدا کیے جا سکیں۔

ایسے امکانات کو ٹھوس صورتوں میں دُنیا کے سامنے لانا مگر ایک کٹھن عمل ہے اور اجتماعی طور پر ہم شارٹ کٹس ڈھونڈنے کے عادی ہیں۔ معاشی معاملات کی پیچیدگیوں کو سنجیدگی سے سمجھنا اور خلقِ خدا کو سمجھانا ہمیں بالکل پسند نہیں۔ زندگی کو ہم سیاہ و سفید کے خانوں میں تقسیم کر کے سادہ بیانیہ گھڑتے ہیں اور حکیمِ حاذق کی طرح معاشی خوش حالی کے بے تحاشہ نسخے ہمیں منہ زبانی یاد ہیں۔

پچھلی چند دہائیوں سے خلقِ خدا میں سب سے زیادہ مقبول نسخہ یہ دکھائی دے رہا ہے کہ کوئی سچا اور بہادر رہ نما ہمارے ملک کا بادشاہ بن جائے۔ وہ حکمران اشرافیہ کا بے رحمانہ احتساب کرے۔ حکومتوں میں اپنی باریاں لے کر سیاست دانوں نے قوم کا جو پیسہ لوٹ کر غیر ملکوں میں جمع کر رکھا ہے اسے واپس لایا جائے۔ بدعنوان سیاستدانوں نے یہاں اور غیر ملکوں میں اپنی اور بے نامی جو جائیدادیں بنا رکھی ہیں ان کا سراغ لگا کر بحقِ سرکار ضبط کر لی جائیں۔ غیر ملکی بینکوں میں چھپایا ہوا لوٹ کا مال ناجائز ذرایع سے بنائی جائیدادوں کی فروخت کے بعد ملنے والی رقوم کے ساتھ مل کر پاکستان کو بے پناہ سرمایہ فراہم کر دے گا۔

یہ سرمایہ اکٹھا ہو جانے کے بعد ہمیں ورلڈ بینک اور IMF کی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔ ہمارے حکمران کشکول لے کر غیر ملکی دوروں پر نہیں جایا کریں گے۔ اس طرح ہم حقیقی معنوں میں ایک آزاد اور خود مختار قوم بن جائیں گے جہاں عوام کو ٹیکس دینے کی شاید ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔ اشیائے صرف سستی ہو جائیں گی۔ بجلی گھر گھر پہنچ جائے گی اور 24 گھنٹے موجود رہے گی۔ اس کے نرخ بھی بہت کم ہوں گے۔ قصہ مختصر دودھ اور شہد کی نہریں بہنا شروع ہو جائیں گی۔

ایک عام سا رپورٹر ہوتے ہوئے معاشیات جیسے گھمبیر علم کی مبادیات بھی میں کبھی پوری طرح سمجھ نہیں پایا۔ اپنی اس کمزوری کے باوجود گزشتہ دو ہفتوں سے میں بڑی جانفشانی سے گوگل کے سرچ انجن کے ذریعے پاکستان جیسے کئی ممالک کی حالیہ تاریخ کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے صرف وہ ماڈل ڈھونڈتا رہا جہاں کسی سچے اور بہادر لیڈرنے بدعنوان سیاستدانوں سے قوم کی لوٹی ہوئی دولت واپس لے کر اپنے ملک میں معاشی خوش حالی کے معجزے برپا کر دیے۔ اپنی تمام تر کاوشوں کے باوجود میں ابھی تک کوئی ایک ایسا ملک بھی ڈھونڈ نہیں پایا۔ اس کالم کے ذریعے مجھے اپنے انقلابی دانشوروں سے التجا بس اتنا کرنا ہے کہ میری اس ضمن میں رہ نمائی فرمائیں تا کہ اپنی عمر کے اس حصے میں خود پر نازل ہوئی بزدلی اور کاہلی سے جان چھڑا کر اسلام آباد میں لگے دو میں سے کسی ایک کنٹینر پر پہنچ کر بلند آواز سے بغاوت کا اعلان کر سکوں۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’ایکسپریس

 

Comment on this post