جمہوریت! اب کس سے خطرہ ہے؟

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ

جمہوریت! اب کس سے خطرہ ہے؟

میاں نواز شریف بڑی حد تک مطمئن ہو گئے۔ ان سے استعفیٰ لئے بغیر دھرنوں کے غبارے سے ہوا نکل گئی۔ دھرنوں کے اندرونی اور بیرونی پروڈیوسروں اور ڈائریکٹروں نے اپنے مقاصد حاصل کر لئے۔ مہرے یا کردار، عزت، وقعت، شرافت اور وقار تو کھو بیٹھے لیکن تین ماہ سے میڈیا کے افق پر چھائے رہ کر مقبولیت کے گھوڑوں پر سوار ہو گئے اور اب جلسوں کی صورت میں غریبوں کو مروا یا تڑپا کر اور خود تقاریر کر کے اپنا شوق پورے کر رہے ہیں۔ یوں قوی امکان ہے کہ عنقریب میاں نواز شریف دوبارہ روایتی بادشاہت کی طرف لوٹ جائیں۔ لیکن کیا جمہوریت کو اب کوئی خطرہ نہیں؟ میرے نزدیک صرف جمہوریت نہیں بلکہ ملکی سلامتی کو بھی خطرات کا سامنا ہے اور رہے گا۔ وجہ صاف ظاہر ہے۔ خطرات کی وجوہات کی نہ تنقیح ہوئی ہے اور نہ حل ڈھونڈا گیا ہے بلکہ ملک مزید ایسے جذباتی ابھار میں آ گیا ہے کہ عقل، دلیل اور استدلال کی بنیاد پر تجزیہ کرنا اور رائے دینا مزید مشکل ہو گیا ہے ۔ فتوے، تہمت، الزام اور دھمکی کے ساتھ ساتھ اب گالی کا کلچر بھی عام ہو گیا ہے۔ کچھ عرصہ قبل سرحدی صوبوں یا علاقوں کے بعض حصوں تک لاقانونیت محدود تھی لیکن اب ریاست کی علامت ہر ادارے کے خلاف عوامی نفرت میں قومی سطح پر اضافہ ہو گیا اور تماشہ یہ ہے کہ بغاوت اور نفرت کے ان جذبات کو بیداری اور شعور کا نام دیا جارہا ہے ۔تاہم اس جذباتی فضا میں جمہوریت اور ملک کو لاحق خطرات کی چند اصل وجوہات کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں۔ دیکھتے ہیں کیا ردعمل سامنے آتا ہے اور کوئی ان عوامل کی طرف دھیان دینے کی کوشش کرتا ہے یا نہیں۔

٭ پاکستانی قوم میں منافقت کی شرح بہت زیادہ ہے۔ سچ کے نام پر جتنا جھوٹ یہاں بولا جاتا ہے۔ بہادری کے نام پر بزدلی کے جو مظاہر یہاں دیکھنے کو ملتے ہیں، فرشتوں کے روپ میں جتنے شیطان یہاں پھرتے ہیں، دنیا کے کسی اور ملک میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ ہم بحیثیت قوم اخلاقی انحطاط اور زوال کے شکار ہیں۔ یہاں ظرف کی بڑی کمی ہے۔ جس کو طاقت و اختیار ملتا ہے، وہ آپے سے باہر ہو جاتا ہے۔ یہاں کسی سے شہرت اور عزت بھی ہضم نہیں ہو پاتی۔ ہم میڈیا والوں کو تھوڑی سے عزت ملی تو ہم آپے سے باہر ہو گئے جس کے نتیجے میں ہم حاصل کردہ تھوڑی بہت عزت اور مقام بھی کھو بیٹھے۔ عدلیہ تک کو اگر بالادستی حاصل ہو تو دوسرے کے دائرے میں گھسنے سے گریز نہیں کرتا۔ ان حالات میں فوج جیسا طاقتور ادارہ کیونکر اپنی آئینی حد پر قناعت کرے۔ یہاں قوم کے جذبات سے کھیلنے والے بہت ہیں لیکن قوم کی اخلاقی تربیت کرنے والا کوئی نہیں رہا۔ مولوی سیاست کرنے لگا ہے اور وہ بھی یہی منافقت والی سیاست جبکہ استاد کو اس قابل ہی نہیں چھوڑا گیا۔ یوں جمہوریت اور ملک کو خطرات سے نکالنے کے لئے ضروری ہے کہ قوم کی اخلاقی تربیت پر توجہ دے کر اس سماج کو دیمک کی طرح کھانے والی منافقت اور کم ظرفی کے قومی مرض پر قابو پایا جائے۔ اس کے لئے استاد اور عالم کو اپنے اصل کام کی طرف لوٹنا ہو گا۔ لیکن وہ اپنے اصل کام کی طرف تب لوٹ سکے گا جب خود اس کو ریاست کی طرف سے اس کا جائز مقام جو سب سے برتر ہے اور اہمیت دلائی جائے۔

٭ یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان ایک سیکورٹی اسٹیٹ ہے۔ اس وقت بھی پاکستان کی دونوں سرحدوں پر فوج جنگ میں مصروف ہے۔ مشرقی سرحد کا دشمن پاکستان کے سائز سے بہت بڑا ہے۔ اس پس منظر میں پاکستان کی فوج آبادی اور وسائل کے لحاظ سے بہت بڑی اور صاحب وسائل ہے (اگرچہ ہندوستان کے مقابلے میں تعداد اور وسائل دونوں کے لحاظ سے بہت کم ہے) یہاں اگر کوئی ادارہ حقیقی معنوں میں ادارے کی تعریف پر پورا اترتا ہے تو وہ فوج ہے۔ اس تناظر میں فوج کو مداخلت سے روکنے کے لئے ضروری ہے کہ سیاسی قیادت صاحب کردار ہو لیکن افسوس کہ وہاں کردار نام کی چیز کی بڑی کمی نظر آتی ہے۔ جو سیاستدان جھوٹا، کرپٹ، لالچی، خودغرض یا بے وفاہو اور جو خود جی ایچ کیو اور اس کے اداروں کے سہارے اقتدار تک رسائی کا متمنی ہو، جو اپنی قوم اور ساتھی سیاستدانوں کے مقابلے میں تو فرعو ن ہو لیکن کسی خفیہ ایجنسی کے معمولی اہلکاروں یا کسی غیرملکی سفارتکار سے اقتدار کی بھیک مانگتا ہو، وہ کبھی بھی محض آئین کے زور پر سویلین کی بالادستی کو یقینی نہیں بنا سکتا۔ مستثنیات ہر میدان کی طرح سیاست میں موجود ہیں لیکن بحیثیت مجموعی سیاسی قیادت کا یہی حال ہے اور اس تناظر میں جمہوریت اور ملک کو خطرات سے نکالنے کے لئے سیاسی قیادت کو صاحب کردار بننا پڑے گا۔

٭ پاکستان میں سیاستدانوں کے ہاں کیلیبر (Caliber) اور اہلیت کا بھی بہت فقدان ہے ۔یہاں سیاست صرف چالبازی، چرب زبانی یا پھر سیاسی دائو پیچ پر عبور کا نام رہ گیا ہے۔ مطالعہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ جب نیٹو سپلائی پر پابندی کا معاملہ گرم تھا تو میں نے پاکستان کے تقریباً تمام بڑے لیڈروں بشمول نواز شریف و عمران خان سے بات کی لیکن کسی کو یہ معلوم نہیں تھا کہ حقیقت میں نیٹو کو پاکستان کے راستے کیا چیزیں سپلائی ہورہی تھیں اور پابندی سے امریکی کتنے متاثر ہوئے ہیں ۔ اب اگر سیاستدان مطالعے، مشاہدے اور محنت کے ذریعے اپنی اہلیت کو بہتر نہیں بنائیں گے اور میرٹ کی بنیاد پر مناصب دے کر ملکی اداروں کو صحیح سمت میں نہیں چلائیں گے تو صرف آئینی اور اخلاقی جواز کے ساتھ ان کو زیادہ دیر تک اختیار نہیں دیا جائے گا۔ مستثنیات یہاں بھی ہوسکتی ہیں اور خصوصا سیکنڈ یا تھرڈ لائن میں پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے اندر بڑی تعداد میں قابل، ذہین اور اہل لوگ موجود ہیں لیکن پارٹیوں کے مختار بننے والے لیڈروں میں بحیثیت مجموعی جس کے ساتھ بھی ایشوز پر گفتگو کی جائے تو ان کی اہلیت اور وژن کو دیکھ کر سر پیٹنے کو جی چاہتا ہے۔

٭ ہمارے ہاں سیاسی جماعتیں قطعاً ہوم ورک نہیں کرتیں۔ قومی سطح پر پیپلز پارٹی کی حالت زار ہم گذشتہ دور میں دیکھ چکے اور ابھی سندھ میں ملاحظہ کر رہے ہیں ۔ مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے اتنے طویل عرصے سے اقتدار میں رہنے کے باوجود کسی بھی ایشو پر ہوم ورک نہیں کیا، اس لئے آج سوائے موٹروے اور میٹرو کے کہیں بھی یہ حکومت نظر نہیں آتی۔ تحریک انصاف نے ہوم ورک کے بڑے دعوے کئے تھے لیکن خیبر پختونخوا میں یہ کہیں نظر نہیں آئی۔ ایک سال کے دوران تین وزراء بدلے گئے۔ خیبر پختونخو ا میں حکومت کی بدحالی کسی بھی دوسرے صوبے کی حکومت سے کم نہیں اور ہوم ورک نہ ہونے کا یہ عالم تھا کہ صوبے کی تاریخ میں شاید پہلی مرتبہ گذشتہ سال کا بجٹ پورا خرچ نہیں کیا جا سکا۔ دور جدید میں گورنینس نہایت ٹیکنیکل کام بن گیا ہے اور ہر شعبہ میں تخصص کے بغیر کام نہیں چلایا جا سکتا۔ اس لئے سیاسی جماعتوں کو اگر جمہوریت عزیز ہے تو انہیں اپنی جماعتوں میں ادارے بنا کر ہر شعبے کے حوالے سے ہوم ورک کرنا ہو گا۔

٭ حقیقت یہ ہے کہ جمہوریت کے نام پر اپنے وجود کو قائم رکھنے والی پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے اندر خود جمہوریت نہیں ہے۔ پیپلز پارٹی زرداری صاحب، مسلم لیگ (ن) شریف برادران، تحریک انصاف عمران خان صاحب، اے این پی ولی خان خاندان، پختونخوا میب محمود خان اچکزئی، جے یو آئی (ف) مولانا فضل الرحمان اور ایم کیو ایم الطاف حسین کی ذاتی جاگیروں کی حیثیت رکھتی ہیں۔ برائے نام مشاورتی ادارے ضرور قائم ہیں اور بعض جماعتوں میں نمائشی انتخاب کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے جبکہ بعض لیڈر مشاورتی فورمز پر نمائشی تنقید کا موقع بھی دیتے ہیں لیکن ہر کوئی جانتا ہے کہ ہر لیڈر اپنی اپنی پارٹی کے اندر قادر مطلق ہے۔ جماعت اسلامی میں کسی خاندان کی اجارہ داری نہیں اور سید منور حسن یا سراج الحق جیسے غریب لوگ بھی مرکزی امیر منتخب ہو جاتے ہیں لیکن یہاں مرکزی امیر کو غیرمعمولی اختیارات حاصل ہیں اور یہاں اکابرین کے فکر اور فقہ سے اختلاف کو برداشت نہیں کیا جاتا۔ یوں جمہوریت کے بچائو کے لئے ضروری ہے کہ سیاسی جماعتیں اپنے اندر جمہوریت لے آئیں۔

پہل حکمران اور بڑی جماعتوں کو کرنی ہوگی۔ سب کو یاد رکھنا چاہئے کہ اگر جمہوریت کے نام پر شریف خاندان، زرداری خاندان، عمران خان یا پھر کسی اور لیڈر کی بادشاہت قائم رہتی ہے تو قوم کو اس کے ختم ہونے اور کسی بندوق بردار کی آمد سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ طاقت، اقتدار اور اختیار کی خواہش انسانی جبلت میں شامل ہے اور جب کارکن و عام آدمی کی رائے شامل نہ ہو تو پھر کسی کو کیا پڑی ہے جو کسی لیڈر کی بادشاہت کے لئے کسی بندوق بردار کی مزاحمت کرے۔ جس جمہوریت میں مشرف کے وزیر زاہد حامد وزیر خاص ہوں جبکہ پیر صابر شاہ اور غوث علی شاہ اپنے لیڈر سے ٹیلی فون پر بات کرنے کو ترسے اور جہاں اسٹیٹس کو کی سب سے بڑی علامت شاہ محمود قریشی باغی جبکہ جاوید ہاشمی داغی قرار پائے، وہ جمہوریت کتنی دیر چل سکتی ہے؟

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ

 

Comment on this post